غزل: وہ پیٹھ پیچھے مجھے اک کمینہ کہتا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
ازقلم: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ
وانم باڑی، تمل ناڈو

جو روبرو مجھے عمدہ نگینہ کہتا ہے
وہ پیٹھ پیچھے مجھے اک کمینہ کہتا ہے
مرے پسینےکوپانی بھی وہ نہیں کہتا
بہاؤں خون تو اُس کو پسینہ کہتا ہے
زباں کی لاج ہے، جس کو دبا کے رکھنے میں
وہ اُس کو شان سےپھیلا کے سینہ کہتا ہے
سُنا ہےلاشوں پہ سجتے ہیں تختِ شاہ یہاں
وہ تربتوں کوترقی کا زینہ کہتا ہے
ابھی کُھلا بھی نہیں کوئی بادباں اُس کا
جسے توغرق شدہ اک سفینہ کہتا ہے
بڑا حکیمِ ہےوہ شخص، اس کی قدر کرو
جوآدمی کوخدائی خزینہ کہتا ہے
سمجھ رہے ہیں کچھ احباب بزدلی اس کو
رفیقیؔ جس کو ادب کا قرینہ کہتا ہے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

غزل: دیکھا جو اس نے پیار سے میں تو سنور گئی

نتیجہ فکر: گل گلشن، ممبئی بھٹکی ہوئی نگاہ تھی مجھ پر ٹھہر گئیدیکھا جو اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔