بلڈوزر کی دہشت بمقابلہ اپنوں کی انانیت اورمن مانی

تحریر: اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی گزشتہ دنوں وطن عزیز کے ریاست اتر پردیش میں ایک بہت ہی دل دہلادینے والا واقعہ پیش آیا جس کی مثال آزاد بھارت کی تاریخ میں ابھی تک کہیں دیکھی نہیں گئی۔ دن دھاڑے حکومت وقت نے قانون اور انصاف کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے سماجی طور پر ایک متحرک … Read more

موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داری

تحریر: اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی جس تیزی سے وطن عزیز میں مسلمانوں کے حالات بد سے بدترین ہوتے جارہے ہیں اس تناظر میں دیکھا جائے تو مستقبل بہت تاریک نظر آرہا ہے۔ کوئی روز ایسا نہیں گذر رہا ہے جس میں مسلمانوں کے تعلق سے ایک نیا شوشہ نہ چھوڑا جارہا ہو۔ گزشتہ تین … Read more

غزل: وہ ترستا پھر رہا ہے ایک اک دانے کو آج

ازقلم: اسانغنی مشتاق رفیقی جب کبھی کرتا ہوں میں، ظلم و ستم پر احتجاجلوگ کہتے ہیں رفیقیؔ کو نہیں کچھ کام کاج سچ کو سچ ہی بولتا ہوں، جھوٹ میں کہتا نہیںحیف پاگل کہہ رہا ہے اُس پہ یہ میرا سماج شہر کا حاکم ہمیشہ مجھ سے رہتا ہے خفامیں کبھی دیتا نہیں اُس کی … Read more

غزل: یوں کدھر جاتے ہیں لوگ

نتیجہ فکر: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ محو حیرت ہوں، ازل سے یوں کدھر جاتے ہیں لوگلوٹ کر کوئی نہ آیا، کس سفر جاتے ہیں لوگسامنے گلشن ہے یا پھیلا ہوا صحرا کوئیکچھ خبر اِن کو نہیں ہے، یوں کدھر جاتے ہیں لوگجب میں حاتم ہوں نہ گھر میرا ہے کعبہ کی طرحمیرے دروازے پہ آکر کیوں … Read more

قدرت کے فیصلے اور مکافات عمل

تحریر: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ،وانم باڑی انگریزی میں ایک کہاوت ہے: "Man proposes but God disposes” جس کا مطلب ہے انسان ایک چیز سوچتا ہے، تجویز کرتا ہے، خدا دوسرا سوچتا ہے،فیصلہ کرتا ہے۔ یعنی انسان چاہے کچھ بھی طے کرے، منصوبہ بندی کرے، لائحہ عمل مرتب کرے،ہوگا وہی جو خدا چاہتا ہے اور اس کی … Read more

غزل: کیا ہوئیں باشا

اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی تمھارے سر کی تُرکی ٹوپیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑے رُومال، اُجلی لُنگیاں وہ کیا ہوئیں باشاچبوترے جو کبھی پہچان تھے اچھے مکانوں کےبڑے لوگوں کی اُجلی داڑھیاں وہ کیا ہوئیں باشاوہ اُجلی چادریں اور کالے بُرقعے سیدھے سادے سےاور اُن میں سمٹی سمٹی بیبیاں وہ کیا ہوئیں باشابڑوں سے بات … Read more

تمل ناڈو میں سماجی انصاف کے لیے کوششیں تیز۔۔۔

وزیر اعلیٰ ایم۔کے۔اسٹالن بھارتی سیاست کا اہم کردار بن کر اُبھر رہے ہیں تحریر: اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی ہندوستانی سیاست آج کل ایک عجیب چوراہے پہ کھڑی ہے۔ بڑے بڑے سیاسی پنڈت بھی تذبذب میں مبتلاہیں اور صاف پیشن گوئی کرنے سے قاصر ہیں۔ کچھ لوگ دھڑلے سے کہہ رہے ہیں کہ ہندوستان کی … Read more

وناش کالِ ویپرت بدھی

جرعات: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ، وانم باڑی ظلم اب حد سے پار ہونے لگا ہے۔ جدھر دیکھیں اُدھر کمزوروں اور لاچاروں پر فاشسٹ عناصر بھوکے شکاریوں کی طرح ٹوٹ پڑ رہے ہیں۔ معاشرے پر فسادیوں اور شرپسندوں کا غلبہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ مظلوموں کو فریاد اور ماتم کرنے کا یارا بھی نہیں … Read more

غزل: شاید کٹا ہوا ہے تعلق رقیب سے

خیال آرائی: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ جب سے وہ تشنہ لوٹے ہیں کوئے حبیب سےانداز اُن کے لگنے لگے ہیں عجیب سےتزئین کی ہے اُن کی خدائے جمیل نےیہ جان لو گے، اُن کو جو دیکھو قریب سےلہجے میں اُن کے اب وہ شرارت نہیں رہیشاید کٹا ہوا ہے تعلق رقیب سےاک میں ہی مبتلا ہوں … Read more

غالب کی زمین میں: طنز و مزاح پر مبنی غزل

خیال آرائی: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ جب سے اُن کے گھر کے آگے بیوٹی پارلر کُھلارات دن رہنے لگا ہے شیخ جی کا در کُھلابوڑھے بھی بن ٹھن کے اب لگنے لگے ہیں نوجواںجب سے میرے گاؤں میں ممتاز کا دفتر کُھلااِن کم انگ اور آؤٹ گوئنگ کی ملی تفصیل جوپیچھے ہر مس کال کے ہے … Read more