سیاست و حالات حاضرہ

بلڈوزر کی دہشت بمقابلہ اپنوں کی انانیت اورمن مانی

تحریر: اسانغنی مشتاق رفیقی، وانم باڑی

گزشتہ دنوں وطن عزیز کے ریاست اتر پردیش میں ایک بہت ہی دل دہلادینے والا واقعہ پیش آیا جس کی مثال آزاد بھارت کی تاریخ میں ابھی تک کہیں دیکھی نہیں گئی۔ دن دھاڑے حکومت وقت نے قانون اور انصاف کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے سماجی طور پر ایک متحرک شخصیت کو نہ صرف اہل و عیال کے ساتھ گرفتار کر کے پابند سلاسل کردیا بلکہ ان کے خوبصورت مکان کو بلڈوزر کے سہارے مسمار کر کے زمین کے برابر کر دیا۔ اسی پر بس نہ کرتے ہوئے اس ظلم و تشدد اور بربریت کی کاروائی کو ٹی وی چینلوں پرلائیودکھلا کر اقلیتوں میں خوف و ہراس پیدا کر نے کی کامیاب کوشش بھی کی گئی۔ بے بنیاد الزامات لگا کر کی گئی ظلم و تشدد کی اس انتہا کے بین السطور میں جو داستان ہے وہ بس اتنی ہے کہ صاحب مکان یعنی ملزم، ارباب اقتدار کے سامنے سینہ سپر ہو کر ان کے غلط کو غلط کہنے کا جذبہ رکھتے تھے اور سوال کھڑا کرتے تھے۔ کرسی اور اقتدار کے گھمنڈ میں مبتلا جاہ پرست یہ بات کیسے برداشت کرتے کہ کوئی اُن پر انگلی اٹھائے اور اُن کے آگے کھڑے ہوکر احتجاج کا نعرہ بلند کرے سو انہوں نے نہ صرف آواز بلند کرنے والے کو بلکہ اس کے اہل و عیال کو بھی اس بات کی سزا دے کر یہ خاموش پیغام دیا ہے کہ ان کے راستے میں رکاوٹ کھڑی کرنے والوں کا انجام کیا ہوگا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ بالا واقعہ بربریت کی وہ انتہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن کیا مقتدر طبقے کے اس گھناؤنے فعل پر صرف مذمت کر کے یاسڑکوں پر احتجاجی نعرے لگا دینا اس کے لئے کافی ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمیں اس پر سب سے پہلے اپنا احتساب کرنا ہے کہ جو الزام لگا کر ایک مظلوم پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے کیا ہم اپنے معاشرے اور سماج میں ایسے ہی ظلم کرنے کے عادی نہیں ہیں۔ ہمارے درمیان غلط کو غلط کہنے والوں اور سوال کھڑے کرنے والوں کو کس نظر سے دیکھا جاتا ہے کس طرح اُن پر بہتان اور الزمات لگا کر عوام میں ان کے تعلق سے بد گمانیاں پیدا کی جاتی ہیں، کس طرح انہیں نظر انداز کر کے ان کی شخصیت کو مسمار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس کا نظارہ ہم آئے دن دیکھتے رہتے ہیں۔ فاشسٹوں نے جو کیا اگر وہ ظلم ہے اور بے شک ظلم ہے تو ہمارے اپنے معاشرے اور سماج میں اس طرح کی جو کاروائیاں ہوتی ہیں وہ کس ذمرے میں رکھی جائیں۔

اقتدار اور کرسی کا نشہ اتنا خطرناک ہوتا ہے کہ اس میں مبتلا انسان اپنی حقیقت بھول جاتا ہے اور خود کو خدا اور قانون سے بالاتر سمجھ لیتا ہے، پھر نہ اس کو مظلوم کی آہ سنائی دیتی ہے نہ آنسو دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی کرسی اور اقتدار کی خاطر وہ ضرورت پڑنے پر انسانیت کی دھجیاں بکھیرنے سے بھی نہیں ہچکچاتا۔ اس کے نزدیک ایسے وقت میں اس کا سب سے بڑا دشمن اس کے فیصلوں پر احتجاج کرنے والا اور سوال کھڑا کرنے والا ہوجاتا ہے اور وہ اپنے دشمن کو کسی بھی زاویے سے بخشنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اگر ہم اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں تو خود ہمارے درمیان ایسے کئی چہرے ملیں گے جو ذرا سی اقتدار اور کرسی کی خاطرانصاف اور ایمان سے بے پرواہ ہوکر کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔

ہمارے سیاسی سماجی اور فلاحی اداروں میں کرسیوں پر براجمان ہمارے نام نہاد قائدین کا سلوک ان کے ناقدین اور ان پر سوال کھڑے کرنے والوں کے ساتھ کیسا ہوتا ہے؟ اگر ہم تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو ہماری آنکھیں حیرت سے پھیل سکتی ہیں کہ ان میں اور موجودہ ملک کے اقتدار پر قابض متشدد طبقے میں شاید ہی کوئی فرق ہو۔ یہ طاقت کے بلڈوزر سے اپنے مخالفین کی زندگی اجیرن کر تے ہیں اور یہ سماج اور معاشرے میں اپنے اندھ بھگتوں کے بل بوتے پر انہیں رسوا اور ذلیل کر کے انہیں قوم کا غدار باور کر اکے، ان کی خانگی زندگی میں ایسے حالات پیدا کر کے کہ وہ خود میں ہی الجھ کر رہ جائیں اور خاموشی اختیار کرلیں، ان کی زندگیاں مسمار کردیتے ہیں۔ جو زخم طاقتور،بلڈوزر کے بل پر لگاتا ہے ممکن ہے وہ کچھ عرصے بعد بھر جائے لیکن جو زخم ہمارے اپنے نام نہاد قائدین اپنے مخالفین اور ناقدین پر اپنے عیاریوں اور مکاریوں سے لگاتے ہیں وہ اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ زندگی بھر رستے رہتے ہیں۔

یہاں سب سے بڑا سوال یہ ابھرتا ہے کہ کیا سوال کھڑے کرنا اور تنقید کرنا کوئی بڑا جرم ہے۔ ممکن ہے وطن عزیز میں اقتدار پر قابض طبقہ ایسا سمجھتا ہو لیکن سچائی کے علم برادری کا دعویٰ کرنے والوں کا بھی اگر یہی ماننا ہے تو اس پر کیا کہا جاسکتا ہے۔ دین اسلام میں خادم اور مخدوم کا کوئی تصور نہیں ہے،یہاں ہر شخص ایک ہی دائرے میں شمار ہوتا ہے اور ہر کوئی ایک دوسرے کا خادم ہوتا ہے۔ اس نہج پر ایک دوسرے کی غلطیوں پر تعمیری تنقید کرنا اور سوال کھڑا کرنا کوئی جرم نہیں بلکہ ایک کا دوسرے پر حق کہلاتا ہے۔ اگرکوئی غلط کر رہا ہے یا اصول اور ضوابط سے ہٹ کر من مانی کر رہا ہے تو اس کو روکنا اس پر نکیر کرنا اور اس کے آگے سوال کھڑے کرنا فرض کے درجے میں آتا ہے۔ لیکن افسوس سیاسی اقتدار سے تو ہم محروم ہوگئے لیکن جن سماجی اور فلاحی اداروں پر ہماری اجارہ داری ہے وہاں موجود مقتدر طبقہ نہ صرف خود کو خدائی فوجدار سمجھتا ہے بلکہ اپنے آپ کو بنیادی انصاف اور قانون کے اصولوں سے ماورا بھی سمجھتا ہے۔ اپنی کرسی اور عہدے کو اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے محفوظ کرنے کی جستجو میں ایسے ایسے حیلے تراشتا ہے کہ الاماں الحفیظ۔ ابھی حال ہی میں ایک فلاحی تعلیمی ادارے کے تعلق سے یہ بات علم میں آئی کہ وہاں عہدوں پر قابض طبقے نے صرف اس لئے کہ ادارے میں کوئی سوال کرنے والا، ناقد داخل نہ ہوجائے اپنی موجودہ اکثریت کے بل بوتے پر کمال ہوشیاری اور عیاری سے ایک ایسا اصول وضع کر لیا جس سے اُن کے مخالفین پر ادارے کی بنیادی رکنیت کے دروازے بھی بند ہوگئے اور اُس طبقے کی آئندہ نسلوں کے لئے ادارے کی کرسیاں قانونی طور پر محفوظ ہوگئیں۔ بظاہر اس سے اسلام کا کوئی اصول ٹوٹتا ہوا تو نہیں دکھائی دیتا لیکن بین السطور میں انصاف اور سچائی کی جو دھجیاں اڑیں اُس پر شاید ہی کسی کی نظر پہنچے۔

غلط کوئی بھی کرے کسی کے بھی نام پر کرے کسی بھی عنوان پر کرے ہر حال میں غلط ہی ہے۔ حکومت وقت جو غلطیاں کر رہی ہے اس کے لئے ایک نہ ایک دن خدا کی عدالت میں اسے ضرور جواب دینا ہے اور اسی طرح اگر ہمارے درمیان کا کوئی فرد اسی قسم کی غلطیاں کررہا ہے بھلے سے اس کے ظلم کے نشان نظر نہ آتے ہوں،مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خدا کے دربار میں جوابدہی سے چھوٹ جائے گابلکہ اسے دہری جوابدہی سے گذرنا پڑے گا، ایک غلطی کی جوابدہی دوسری جان بوجھ کر کی گئی غلطی کی جوابدہی ۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے