اصلاح معاشرہ

قدرت کے فیصلے اور مکافات عمل

تحریر: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ،وانم باڑی

انگریزی میں ایک کہاوت ہے:

"Man proposes but God disposes”

جس کا مطلب ہے انسان ایک چیز سوچتا ہے، تجویز کرتا ہے، خدا دوسرا سوچتا ہے،فیصلہ کرتا ہے۔ یعنی انسان چاہے کچھ بھی طے کرے، منصوبہ بندی کرے، لائحہ عمل مرتب کرے،ہوگا وہی جو خدا چاہتا ہے اور اس کی قدرت چاہتی ہے۔ ازل سے یہ بات مشاہدے سے ثابت ہوچکی ہے کہ انسان چاہے کتنا ہی طاقتور اور سمجھ بوجھ والا کیوں نہ ہو، قدرت کے سامنے اس کی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔ایسا بھی ہوا اور زمانے نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ لوگ جواپنی دانشوری کے گھمنڈ میں وقت کو اپنی مٹھی میں رکھنے کا دعویٰ کرتے تھے آن کی آن میں وقت کے آگے جھولی پھیلانے پر مجبور ہوگئے۔ جن کے تخت و تاج کی چکا چوند کبھی سورج کی کرنوں کو شرمادیتی تھی، اُن پر ایک دور ایسا بھی آیا کہ اُن کے چہروں سے گرد پوچھنے والا کوئی نہیں رہا، بے یار و مددگار زندگی کے صلیب کو کاندھوں پر ڈھوئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوگئے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اپنے مکر و فریب سے انسانوں کی بڑی بڑی آبادیوں کو جہنم بنایا، عزت داروں کی عزت کو تار تار کیا تھا، جب قدرت ان کے ساتھ مکر کرنے پر آئی تو ان کی دولت و جائدادیں ہی نہیں عزتیں تک کوڑیوں کے بھاؤ چوراہوں پر نیلام ہوگئیں۔ کچھ لوگ اقتدار کے نشے میں اس قدر چور ہوئے کہ انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنوا کر اس پر فخر کرنے لگے پھر اُن پر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اُن کی کھوپڑیوں کی راکھ بھی اُن کے لواحقین کو میسر نہ ہو سکی۔

بلندیوں پر کھڑے ہوکر زمین میں بسنے والے اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھنے والے، ہواؤں کے بازو لگا کر ملکوں ملکوں گھومنے والے،خلاؤں پر کمندیں ڈالنے والے، سمندروں کا سینہ چیر کر اس کی تہوں سے نایاب موتیوں اور گم شدہ خزانوں کو نکالنے والے اور اپنی ان کامیابیوں اور کامرانیوں کو اپنے عقل و دانش ہمت وطاقت کا نتیجہ سمجھ کر اس پر بے جا غرور و تکبر پالنے والے جب زمین کی ایک ہلکی سی جنبش سے بے نام و نشان ہوجاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ خاک کے یہ پتلے کتنے کمزور اور بے بس ہیں۔

غرور و تکبر، بڑائی و بلندی، جاہ و جلال اگر کسی کو زیب دیتا ہے تو وہ صرف خالق کائنات کو ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی ان صفتوں کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ در حقیقت جھوٹ کہتا ہے، بکواس کرتا ہے، مکر کرتا ہے،خود کو بھی فریب دیتا ہے اور ساری دنیا کو بھی فریب دیتا ہے۔عجیب بات ہے مسلسل مشاہدے کے باوجود آج بھی انسانوں کی اکثریت قوت و اقتدار، طاقت و دولت کے تھوڑے سے حصول کے ساتھ فخر و غرور، تکبر و مکر، کے کار لاحاصل میں مبتلا ہوکر خود بھی نقصان اُٹھاتی ہے اور نہ صرف اپنے ہم عصروں کو بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے بھی تباہی کا سامان کر جاتی ہے۔ بالخصوص اقتدار کا نشہ ایسا نشہ ہے کہ سب کچھ دیکھنے اور سمجھنے کے باوجود اس میں مبتلا انسان، ہوش میں آکر اپنی حیثیت پہچاننے کو ذلت سمجھتا ہے۔ کرسی پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے کے لئے مکر و ریا کی ایسی ایسی چالیں چلتا ہے کہ شیطان بھی شرما جائے، صرف اپنے حد تک نہیں اپنی نسلوں میں بھی اقتدار کو محفوظ کرنے لئے رائج اصول و ضوابط میں من مانی تحریف کرتا رہتا ہے۔ کبھی جغرفیائی حدود کی پابندیاں لگا کر، تو کبھی رنگ و نسل، ذات پات کا بکھیڑا کھڑا کر کے،کبھی ظاہری تعلیم کی دہائی دے کر تو کبھی مخصوص عمر کی حد بندی لگا کر اصحاب استعداد اور اقتدار کے صحیح حق داروں کو کرسی سے دور رکھنے کی کامیاب کوشش کرتا ہے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ قدرت اس کی ایسی طفلانہ حرکتوں کو دیکھ کر کیسے مسکرا رہی ہے۔

قدرت کے علاوہ ایک اور چیز بھی ہے جو انسان پر اثر انداز ہوتی ہے وہ ہے خود اُس کے اعمال۔ انسان جو کچھ کرتا ہے وہ کسی نہ کسی شکل میں اس پر یا اُس کی نسلوں پر واپس پلٹتا ہے۔ ایسا ہونا ضروری نہیں ہے لیکن اکثر لگتا ہے ایسا ہی کچھ ہورہا ہے۔ اسے مکافات عمل کہتے ہیں۔ شرعاً اِس بات کی کیا حیثیت ہے یہ الگ بحث ہے۔ لیکن اکثر مشاہدہ میں جو بات آتی ہے اُسے دیکھ کر یقین ہونے لگتا ہے کہ ایساہی کچھ ہے۔ بالخصوص ظالم اور ظلم کے حوالے سے،جس نے ظلم کیا اس کا انجام اکثر بہت برا ہوا ہے لیکن جو ظالم کے ساتھ کھڑا رہا یا اس کو اخلاقی حمایت دی یا جس نے ظلم پر خاموشی اختیار کی اس کا انجام بھی دردناک رہا ہے۔ تاریخ کے صفحات ایسے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔

پہلی عالمی جنگ اور پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا بھر میں نئی صف بندیاں ہوئیں جس کے نتیجے میں کچھ قومیں ترقی کے بام پر پہنچ گئیں تو کچھ قعر مَذلت میں گر گئیں۔ اس پورے منظر نامے میں رنگ بھرنے کا کام کچھ ایسی طاقتوں نے انجام دیاجو اقتدار کی ہوس میں اندھی ہوکر اچھے اور برے کی تمیز کھو چکی تھیں، ظلم جن کا ہتھیار اور فتنہ فساد جن کی فطرت تھی۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا نے دیکھا کہ کیسے مجبوروں اور بے کسوں پر ظلم ڈھایا گیا، انصاف کے نام پر سروں سے چھت چھینے گئے، مدد اور رہنمائی کے نام پر ڈاکے ڈالے گئے۔ ایک شخص یا کسی چھوٹے سے گروہ کے جرم کو ایک پوری قوم پر تھوپ کر اُسے ذلت و رسوائی کے مہیب غاروں میں ڈھکیلا گیا،خوشحال، سرسبز و شاداب ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ نام نہاد خوف دکھا کر، تباہی و بربادی کا ہوا کھڑا کرکے بڑے بڑے رہنماؤں کو کبھی سولی پر لٹکایا گیا تو کبھی سڑکوں پر جانوروں کی طرح کھینچ کر بے دردی سے مارا گیا۔ طاقت، اقتدار اور دولت کے گھمنڈ میں انسانیت کے ایسے پرچخے اڑائے گئے کہ چنگیز و ہلاکو جیسے سفاک بھی اگر دیکھ لیتے تو شرم سے پانی پانی ہوجاتے۔

لیکن دھیرے دھیرے اب منظر نامہ تبدیل ہونے لگا ہے۔ لگتا ہے عمل کا دائرہ مکمل ہوکر مکافات عمل کے محور سے پھر ایک دائرہ بننے کا عمل شروع کرچکا ہے۔کل جو ظالموں اور غاضبوں کے ساتھ ان کے قدموں سے قدم ملا کر مجبوروں اور بے کسوں پر ظلم و جبر کی نئی روایتیں لکھ رہے تھے آج وہ مجبور اور تنہا مدد کے لئے چلاتے پھر رہے ہیں اور ان کے ساتھی دور سے ان کے جلتے گھروں سے آگ تاپ رہے ہیں۔ یہ تو شروعات ہے، دائرہ مکمل ہونے کے لئے دہائیاں درکار ہیں، دنیا دیکھے گی اور ضرور دیکھے گی کہ کس طرح مکافات عمل سے منظر نامے تبدیل ہوتے ہیں۔ انسانوں کی طویل مدتی منصوبوں پر قدرت کا فیصلہ قہر بن کر گرے گا۔ مغرور قومیں اورمغرور لوگ وقت کی چکی میں پس کر بے نام نشاں ہوں گے۔ اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے کرسی پر پکڑ کو مضبوط کرنے والے تاریخ کے اندھیرے غاروں میں ایسے مدفن ہوں گے کہ ان کے تربت پرچراغ جلانے کو خود ان کی نسلیں عار محسوس کریں گی۔

کاش یہ ساری باتیں ہماری سمجھ میں آجائیں اور ہم نوشتۂ دیوار پڑھ لیں۔۔۔