مذہبی مضامین

مسئلہ حجاب ہے یا کچھ اور؟

تحریر: غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

کرناٹک کے شہر اڈوپی سے اٹھا حجاب تنازعہ ان دنوں پورے ملک میں چھایا ہوا ہے۔ہائی کورٹ میں شنوائی پوری ہوچکی ہے اور فیصلہ کبھی بھی سنایا جاسکتا ہے۔اس تنازعے کے دوران بہت کچھ ایسا بھی دیکھنے کو ملا جس کی شاید بہت سارے لوگوں کو امید نہیں رہی ہوگی لیکن ہمیں اندازہ تھا کہ ہندتوا کی نئی تجربہ گاہ بنی ریاست کرناٹکا میں یہ معاملہ آسانی سے حل نہیں ہوگا بلکہ اسے ملکی سطح کا ایشو بنایا جائے گا، جیسا خدشہ تھا ویسا ہی ہوا، کرناٹک حکومت، سنگھی میڈیا اور متعصب برادران وطن کی کرم فرمائیوں سے یہ معاملہ اب حجاب سے کئی قدم آگے بڑھ چکا ہے۔اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ اس حساس معاملے پر کیا فیصلہ سناتا ہے۔

مسئلہ صرف حجاب کا نہیں ہے!

آج بھلے ہی اسکول یونیفارم کے نام پر حجاب وبرقع پہننے سے روکا جارہا ہے لیکن بات صرف اسکول کیمپس یا کلاس روم میں حجاب پہننے ہی کی نہیں ہے، بلکہ اس سے کہیں آگے اس نظریے کی ہے جو ہر ایسی چیز کی مخالفت کرتا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کا شعار وپہچان مانی جاتی ہے۔

زیادہ دن نہیں گزرے جب فلم اندسٹری سے تعلق رکھنے والی دو مسلم اداکاراؤں، ثنا خان اور زائرہ وسیم نے شوبز کی گناہوں سے بھری دنیا کو خیر آباد کہا اور بے حیائی کی دنیا چھوڑ کر حیا وشرم کی چادر سے خود کو کو ڈھانک لیا۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے فیصلے کا احترام کیا جاتا مگر فلم انڈسٹری، متعصب میڈیا اور تنگ نظر لبرلوں نے زائرہ اور ثنا کی آڑ میں اسلام اور علما پر نشانہ سادھنا شروع کردیا۔کتنی حیرت کی بات ہے کہ جو لوگ Demaand of script کے نام پر اداکاراؤں کو برہنہ ہونے پر مجبور کرتے ہیں، اجنبی مردوں کے ساتھ intimate scene کراتے ہیں وہی بے حیا لوگ اپنی مرضی سے پہنے گیے مہذب لباس پر اعتراض کر رہے تھے۔ایک طرف یہی لوگ Right to privacy کے نام پر لڑکیوں کو ماڈل، ائیر ہوسٹس اور اداکارہ بنا کر ان کے جسم کو نمائش کا ذریعہ بناتے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی اس بدنام زمانہ کام کو چھوڑ کر عزت دارانہ زندگی جینے کا فیصلہ کرتا ہے تو فوراً ہی لبرل گینگ اس کے خلاف مورچہ کھول دیتا ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ یہ گینگ اسی وقت سرگرم ہوتا ہے جب کوئی اداکار/اداکارہ اسلام کے دامن میں پناہ لے، اگر کوئی ہندو دھرم کا چولہ پہن لے تو یہ اسے بڑی عزت واحترام سے یاد کرتے ہیں۔تاریخ میں ایسے کئی اداکار/اداکارائیں گزری ہیں جنہوں نے شوبز کی دنیا چھوڑ کر سادھو واد اختیار کیا تو لبرل گینگ نے اسے ان کی روحانیت قرار دیا لیکن اسلام اپنانے کی صورت میں یہی چیز دقیانوسیت قرار دی جاتی ہے۔

موجودہ تنازع اور اعتراضات

یہ تنازع اڈوپی شہر کے ایم جی ایم کالج سے شروع ہوا جہاں کچھ مسلم بچیوں نے نہایت سمجھ داری اور پروٹوکول کے ساتھ پرنسپل سے مل کر کلاس روم میں حجاب پہننے کی اجازت مانگی۔پرنسپل صاحب نے واضح طور پر انکار تو نہیں کیا لیکن پہننے کی اجازت بھی نہیں دی۔مطالبہ بڑھتا گیا تو کالج انتظامیہ نے ظاہری رواداری کا چولہ اتار کر باقاعدہ حجاب پر پابندی عائد کردی۔زبانی پابندی پر تسلی نہیں ہوئی تو باحجاب بچیوں کو اسکول آنے اور کلاس اٹیند کرنے سے روک دیا گیا۔شروع میں بچیوں کے والدین نے مفاہمت کے لیے کالج انتظامیہ سے بات چیت کی اور انہیں سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن کالج انتظامیہ نے کسی بھی طرح کی چھوٹ دینے سے صاف انکار کردیا۔عاجز آکر بچیوں کے والدین ہائی کورٹ پہنچے اور کورٹ سے حجاب پہننے کی اجازت مانگی۔ہائی کورٹ نے اس معاملے کو تین ججوں کی بڑی بینچ کو ریفر کردیا جہاں شنوائی مکمل ہوچکی ہے اور اب فیصلے کا انتظار ہے۔

میڈیا کی جانب دارانہ رپورٹنگ اور حکمراں بی جے پی لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات نے اسے فرقہ وارانہ ایشو بنادیا۔جیسے ہی یہ مدعا سرخیوں میں آیا تو فرقہ پرستوں کے ساتھ ساتھ لبرل گینگ بھی میدان میں اتر آیا۔اب حجاب پر کچھ اس طرح کے اعتراض کیے جارہے ہیں:
1۔من چاہے لباس کا مطالبہ اسکول یونیفارم کی خلاف ورزی ہے۔
2۔حجاب خالص مذہبی لباس ہے اس سے مذہبی کشاکش بڑھے گی۔
3۔حجاب کا مطالبہ اسکول انتظامیہ کے اختیارات میں دخل اندازی ہے۔
4۔حجاب کی آڑ میں مسلم تہذیب کو مسلط کرنا ہے۔

حجاب اور دستور ہند !!

حجاب اور پردہ خالص اسلامی احکام میں سے ہیں۔سورہ نور کی آیت نمبر 31 اور 60 جبکہ سورہ احزاب کی آیت نمبر 53 اور 59 میں احکام پردہ نازل ہوئے ہیں۔جن کی رُو سے ایک مسلمان خاتون کو اجنبی مردوں کے سامنے پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس لحاظ سے پردہ وحجاب ہمارے لیے قرآنی ہدایات میں سے ہے جس پر عمل کرنا ہمارے لیے لازم وضروری ہے۔مسلمانوں کو اس سے روکنا ان کا شرعی حق پامال کرنا ہے۔اگر دستور ہند کی روشنی میں دیکھا جائے تو دستور کی دو دفعات بھی مسلم خواتین کو حجاب وپردے کا حق دیتی ہیں، ان میں سے ایک ہے؛
Right to privacy
اور دوسری ہے؛
Right to Religion
دونوں حقوق دستور ہند کی دفعہ 14 اور دفعہ 25(1) کے تحت ہر ہندوستانی کو حاصل ہیں۔ایسے میں یہ سوال پوری شدت سے اٹھایا جانا چاہیے کہ بنیادی حق ہوتے ہوئے بھی کسی تعلیمی ادارے کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ یونیفارم کے نام پر کسی سے اس کی پرائیویسی اور مذہبی آزادی کے خلاف لباس پہننے پر مجبور کر سکے۔ممتاز قانون داں پروفیسر فیضان مصطفےٰ کہتے ہیں:
"اسکول کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنا کوئی ڈریس کوڈ طے کرے لیکن اسے طے کرنے میں وہ کسی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے۔”

حالیہ تنازع میں حکومت و انتظامیہ نے دو-طرفہ نا انصافی سے کام لیا ہے، ایک طرف مسلمانوں کے مذہبی حقوق میں دخل اندازی کی ہے تو دوسری طرف دستوری آزادی کو بھی چھیننے کی کوشش کی گئی ہے۔

رہا دوسرا اعتراض کہ حجاب وبرقع سے مذہبی کشاکش بڑھے گی، یہ اعتراض سن کر ہنسی آتی ہے کہ یہ اعتراض وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے پورے ایجوکیشن سسٹم کو اپنے مذہبی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔تعلیم شروع ہونے سے پہلے سرسوتی دیوی کی پرارتھنا، ہندو بچے/بچیوں کا تِلک اور بندی لگانا۔سِکھ بچوں کا پگڑی پہننا، مختلف تقریبات میں ہندو مذاہب کے دیوی دیوتاؤں کے پروگرام کرانا، ان کے سوانگ پر مشتمل ناٹک کرانا، بچوں کو رام، بھیم، ہنومان بنانا۔ہولی، دیوالی وغیرہ کو سیلی بریٹ کرنا، کسی کلاس وغیرہ کے افتتاح پر ناریل پھوڑنا، ہندوانہ منتر پڑھنے جیسے کام بالکل عام اور رائج کر دئےگیے ہیں۔کیا یہ سارے امور کسی ایک خاص مذہب کی نشانی اور پہچان نہیں ہیں؟

مسلمانوں نے تو آج تک یہ اعتراض نہیں کیا کہ کسی ایک کمیونٹی کے مذہبی امور اسکول میں کس لیے ادا کیے جاتے ہیں مگر مسلمان بچیوں نے صرف اپنے لیے حجاب کا مطالبہ کردیا تو آج سب کو مذہبی کشاکش کا ڈر ستا رہا ہے؟

بقیہ دو اعتراضات بھی لایعنی ہیں، جب اسکول انتظامیہ کو کسی کے fundamental Rights کی خلاف ورزی کا حق ہی نہیں ہے تو اپنے حقوق کا مطالبہ اسکول انتظامیہ کے اختیارات میں دخل اندازی کس طرح مانا جاسکتا یے؟
چوتھے اعتراض کا جواب بھی دوسرے اعتراض کے جواب میں پوشیدہ ہے کہ حقیقتاً تعلیمی نظام پر ہندو سماج کے رسم ورواج کا غلبہ ہے، کسی مسلم بچی کا حجاب یا مسلم لڑکے کا ٹوپی پہننا ان کا ذاتی عمل ہے۔کسی غیر مسلم لڑکے/لڑکی پر اسے تھوپا نہیں جارہا ہے کہ مسلم تہذیب مسلط کرنے کا الزام لگایا جاسکے۔

حکومت کی بدنیتی اور فرقہ پرستوں کی شرانگیزی

پچھلے کچھ وقت سے کرناٹک ہندتوا کی نئی تجربہ گاہ بنتا جارہا ہے۔ایک زمانے میں کرناٹک کی پہچان یہاں کی تعلیم اور تعلیمی اداروں سے ہوا کرتی تھی لیکن جب سے بی جے پی کو سیاسی عروج ملا تب سے اس ریاست میں فرقہ واریت کا زہر بڑھتا جارہا ہے۔حالیہ تنازع بھی اسی فرقہ واریت کا ایک نمونہ ہے۔یہ معاملہ مسلم بچیوں اور کالج انتظامیہ کے درمیان تھا، غیر مسلم طلبہ اور سیاسی پارٹیوں سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا لیکن اسے حکومت کی بدنیتی اور مسلم دشمنی نہ کہیں تو کیا کہیں کہ اس کے ایک وزیر نے مطالبہ حجاب کو طالبان سے جوڑ کر فرقہ واریت پھیلانے اور حجاب کے جواب میں ہندو طلبا کے بھگوا گمچھا/شال پہننے کی دھمکی دی ڈالی۔اس دھمکی کے اگلے ہی دن ہندو لڑکے لڑکیوں نے بھگوا شال پہننا اور بھڑکاؤ نعرے بازی کرنا شروع کردی۔سوشل میڈیا پر ایسے کئی ویڈیو وائرل ہوئے جہاں فرقہ پرست تنطیموں کے کارکنان بھگوا شالوں کا پیکٹ لیکر کالج پہنچے اور ہندو طلبا میں یہ گمچھے تقسیم کئے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ بچے اور ان کے والدین اس معاملے کیوں ٹانگ اڑا رہے ہیں؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندو دھرم میں بھگوا گمچھا/شال پہننے کا رواج ہی نہیں ہے اس لیے محض مسلمانوں کی ضد میں یہ سب کرنا صرف اور صرف مسلم دشمنی کا اظہار ہے۔
دوسری بات یہ کہ ہمیں ہندو بچوں کے بھگوا گمچھے اور شال پہننے سے کوئی دقت نہیں ہے، ضد میں ہی سہی کم از کم ان لڑکیوں کے کندھوں پر چھوٹا موٹا حجاب تو آہی گیا۔اگر وہ یہ لباس پہننا چاہیں تو شوق سے پہنیں، کسی مسلمان کو کوئی اعتراض نہیں، بلکہ اگر وہ قبول کریں تو مسلم طلبہ خود انہیں یہ شالیں اور گمچھے گفٹ کر سکتے ہیں۔دقت ہندو بچوں کے اس رویے سے ہے جو انہوں نے مانڈیا کالج میں دکھایا جب مسکان نامی برقع پوش مسلم لڑکی کو تنہا دیکھ کر اسے گھیر لیا گیا اور چِڑھانے/ہراساں کرنے کے لیے جے شری رام کے نعرے لگائے۔شرپسندوں کے اس جھنڈ نے مسکان کو ڈرانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن اس باہمت لڑکی نے ان غنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کی غنڈئی کے جواب میں اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرکے اپنے آہنی جذبات اور مومنانہ غیرت کا اچھا مظاہرہ کیا۔

یہ کون سا دھرم ہے؟

ملک کا ہر امن پسند شہری یہ ویڈیو مناظر دیکھے اور بتائے کہ اکیلی لڑکی کو دیکھ کر اسے گھیرنا، بے ہنگم نعرے بازی کرنا، اپنے بھگوان کا نام لیکر کسی لڑکی پر حملہ آور ہونا کون سادھرم اور کہاں کی تہذیب ہے؟

فرقہ پرست تنظیمیں آئے دن جس عظیم تہذیب کی ڈینگیں مارتی ہیں کیا وہ یہی تہذیب ہے؟

اس معاملے کا سب سے افسوس ناک پہلو حکومت کی مجرمانہ چشم پوشی رہی، اس نے سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کسی شرپسند پر کوئی کاروائی نہیں کی۔
حکومت اور اس کی حلیف تنظیمیں اپنے مفسدانہ ایجنڈے کے لیے اسکول کالج کے لڑکے/لڑکیوں کو استعمال کر رہی ہیں جس کا نتیجہ ان بچوں کی تعلیمی بربادی کی صورت میں آئے گا۔اس لیے ان بچوں کے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو شرپسندوں کا آلہ کار بننے سے روکیں ورنہ ان بچوں کی تعلیم بھی برباد ہوگی اور مستقبل بھی!
عوامی جذبات کا استعمال کرنے والے لیڈر کبھی اپنے بچوں کو ایسے مواقع پر سامنے نہیں لاتے ہمیشہ غریب، دبے کچلے اور جذباتی لوگوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور کام نکلنے کے بعد بے یار ومدد گار چھوڑ دیا جاتا ہے۔

کورٹ کا ممکنہ فیصلہ اور اس کے نتائج

پہلے پہل یہ معاملہ ہائی کورٹ گیا تھا جہاں اسے تین ججوں کی بڑی بینچ کو ریفر کردیا گیا۔تینوں ججوں نے خاصی توجہ کے ساتھ گیارہ دن تک فریقین کے دلائل سنے۔دوران شنوائی ایک موقع ایسا بھی آیا جب حکومت کی نیت کا کھوٹ اور اس کی منشا صاف ظاہر ہوگئی۔چیف جسٹس نے حکومت کے وکیل سے پوچھا؛
"اگر کالج انتظامیہ لڑکیوں کو حجاب پہننے کی اجازت دے دیتی ہے تو حکومت کو تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا؟
اس پر حکومت کی پیروی کر رہے ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ یہ وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔یعنی حکومت کی نیت اس معاملے میں صاف نہیں ہے۔وہ اس معاملے میں کالج انتظامیہ کی آڑ میں چھپ رہی ہے ورنہ حجاب کے مسئلے پر خود حکومت کی منشا اچھی نہیں ہے۔حکومت کی نیت کا فساد تو اس وقت بھی ظاہر ہوگیا تھا جب ایک عبوری حکم کی آڑ لیکر مسلم استانیوں تک کو حجاب اتارنے پر مجبور کیا گیا۔حکومت کا اقلیتی محکمہ اظہار وفاداری میں اتنا تیز نکلا کہ اس نے مسلم اداروں تک میں بھی حجاب پر پابندی نافذ کرکے اپنی اپنی ضمیر فروشی کا کھلے بندوں اظہار کرنے میں ذرہ برابر شرمندگی محسوس نہیں کی۔
اب سب کی نگاہیں کورٹ کے فیصلے پر جمی ہوئی ہیں۔کورٹ کا ممکنہ فیصلہ کچھ اس طرح ہوسکتا ہے:
کالج انتظامیہ کا یونیفارم طے کرنے کا حق تسلیم کرتے ہوئے اسکول کیمپس اور درس گاہوں میں حجاب وبرقع پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
مسلمانوں کے مذہبی حق اور دستوری آزادی تسلیم کرتے ہوئے حجاب وبرقع کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ درمیانی راستہ اختیار کرتے ہوئے کچھ شرائط کے ساتھ مخصوص دائرے میں صرف حجاب کی اجازت دے دی جائے۔

بہرحال یہ سب ممکنہ پہلو ہیں، ہوسکتا ہے کہ ان سے الگ کوئی اور فیصلہ آجائے۔حالانکہ گذشتہ کچھ عرصہ سے جس طرح مسلم مسائل پر جانب دارانہ فیصلے آئے ہیں اس کی وجہ سے مسلمان شکوک وشبہات کا شکار ہیں۔اگر کورٹ کا فیصلہ بابری مسجد فیصلے کی طرح ہوا تو یہ مسلمانوں کے لیے بے حد پریشان کن اور نئی مشکلات پیدا کرنے والا ہوگا۔
اس ممکنہ فیصلے کی آڑ لیکر بی جے پی اور آر ایس ایس کی حلیف جماعتیں جو طوفان بدتمیزی برپا کریں گی اس کی ایک جھلک مانڈیا کالج میں نظر آچکی ہے۔موافق فیصلہ آنے کے بعد تو ان سے کسی شرافت کی امید ہی نہیں کی جاسکتی۔

_اس فیصلے کا اثر صرف کرناٹک ہی نہیں بلکہ پورے ملک پر پڑے گا۔شرپسند گروہ اسی بہانے فتنہ وفساد کا نیا محاذ کھول دیں گے۔ابھی صرف اسکول/کالج کا معاملہ ہے مگر شرپسند گروہ آگے چل کر عوامی مقامات پر بھی حجاب وبرقع پر فتنہ انگیزی کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھیں گے۔

حالیہ تنازع میں اس بات کا خدشہ بھی بنا ہوا ہے کہ حجاب کے حق میں فیصلہ ہوا تو کیا حکومت و انتظامیہ ایمان داری کے ساتھ اس فیصلے کو نافذ بھی کریں گے یا نہیں؟
آزاد بھارت میں ایسی کتنی مثالیں موجود ہیں جب ایسے قوانین اور فیصلوں کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا جن کے نفاذ سے مسلمانوں/اقلیتوں کی بھلائی وابستہ تھی، یا جن کے نفاذ سے اکثریت کی ناراضی کا خدشہ تھا یا ان کے بڑے چہروں کے زد میں آنے کا امکان ہوسکتا تھا۔
حالیہ تنازع میں کرناٹک حکومت کا رویہ معاندانہ ہی رہا ہے، اس لیے مسلم تنظیمیں ابھی سے آگے کی قانونی تیاری کرکے رکھیں تاکہ مخالف فیصلہ آنے کی صورت میں اس کو قانونی طور پر کاؤنٹر کیا جاسکے اور موافق فیصلہ آنے کی صورت میں پر امن طریقے سے اس کا نفاذ کرایا جا سکے۔