نعت رسول

زمیں کے حاکم و سلطاں ہو یا گداے فلک

بر زمین رضآ بریلوی

نتیجہ فکر: محمد اشرفؔ رضا قادری
مدیر اعلی سہ ماہی امین شریعت

تمہارے پاؤں کے ذرّے ستارہائے فلک
تمہارے نازنیں لب کی ہنسی ضیائے فلک

جو ان کی عظمت و رفعت سے خوب واقف ہے
ہے ہیچ ان کی نگاہوں میں اعتلائے فلک

زمین مسکن و مدفن ہے سرورِ دیں کا
کہو نصیب پہ اپنے نہ کھِلکھِلائے فلک

مکینِ گنبدِ خضریٰ مدد کو آئیں گے
ہمارے درمیاں گر کوئی گل کھِلائے فلک

رسولِ پاک کے احساں تلے دبے ہیں سبھی
زمیں کے حاکم و سلطاں ہو یا گدائے فلک

نظارے گنبدِ خضریٰ کے دیکھنے والے
بھلا وہ دیکھے گا کیا اب نظارہائے فلک

شہِ مدینہ کی مدحت میں زندگی گذرے
عطا ہو نعت کی توفیق اے خدائے فلک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے