شعیب رضا

عرس نظامی اختتام پذیر ملک کے کونے کونے سےزائرین نے شرکت کی

سنت کبیر نگر: 9 دسمبر، ہماری آواز
علماء کرام ومشائخ عظام کی تقاریر اور شعراء کی نعت و منقبت سے سامعین پوری رات فیضیاب ہوتے رہے صبح آٹھ بجے قل شریف میں ملک وملت کےلیے دعا کی کئی
خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ نظامیہ اگیاشریف سنت کبیر نگر میں عرس نظامی سابقہ روائت کے مطابق شریعت مطہرہ کی روشنی میں منایاگیا صبح بعد نماز فجر قرآن خوانی اور گل پوشی کا پروگرام ہوا دن میں نعتیہ مشاعرہ ہوا جس میں نعت کے ساتھ بارگاہ خطیب البراہین میں منقبتیں بھی پیش کی گئیں
بعد نماز ظہر شہزادہ خطیبِ البراہین حبیب العلماء حضرت علامہ مولانا الحاج الشاہ صوفی مفتی محمد حبیب الرحمن صاحب سجادہ نشین خانقاہ نظامیہ کی قیادت میں چادر شریف کاجلوس نکلا جس خانوادہ خطیب البراہین کے سارے افراد کے ساتھ عقیدت مندوں نے شرکت کی نعت و منقبت پڑھتے ہوئے نعرہ تکبیر کے چھاؤں میں روضہ حضور خطیب البراہین تک پہو نچے اور چادریں پیش کی گئیں اور ملک وملت کے فلاح وبہبود کے لیے دعا کی گئی اس بعد قرب وجوار اور ملک کے کونے کونے سے آۓ دیگر عقیدت مندوں نے بھی اپنی اپنی چادریں بارگاہ خطیب البراہین میں پیش کیں۔

بعد نماز جامعہ برکاتیہ حضرت صوفی نظام الدین لہرولی بازار کے طلباء نے نعت و تقریر کا پروگرام پیش کیا پروگرام کے روح رواں حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ نظامی کی صدارت مولانا حبیب الرحمن صاحب قبلہ باندہ کی نگرانی میں عرس نظامی کے جلسے کاآغاز ہوا جس کی نظامت حسب روائت حضرت علامہ کمال احمد علیمی جمدا شاہی بستی حضرت مولانا اشتیاق احمد چشتی نے کی پروگرام کو خطاب کرتے ہوانگلینڈ سے آۓ ہوۓ عالمی شہرت کے حامل عالم دین حضرت علامہ فروغ القادری مصباحی نے کھا حضور خطیب البراہین عالم باعمل تھے آپ نے اپنی ساری زندگی امت مسلمہ کے بکھرے زلف برہم کو سنوار نے میں لگا دیاعلم حاصل کیا اور پوری زندگی فروغ علم دین کے‌لیے کوشش کرتے رہے تقریبا دو دہائیوں تک بلا معاوضہ علم دین کا درس دیتے رہے خود پوری زندگی پڑھتے رہے اور لوگوں کو حصول علم کےلیے تلقین کرتے رہے مگر آج امت مسلمہ کا تعلیم سے رشتے ٹوٹ چکا خاص کر ہندوستانی مسلمان تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے ہوگیاہے کل جس کتابوں کو ہمارے بزرگوں نے لکھا تھا ہوناتو یہ چاہئیے تھا کہ مسلمان اس کو پڑھتے فائدہ اٹھاتے مگر آج ہم ان کتابوں سے کافی دور ہوچکے ہیں آج ہماری کتابوں کا مطالعہ یہو دی کر رہے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے عرس میں آۓ ہوۓ زائرین سے اپیل کی کہ آپ لوگ اپنی اولاد دوں کو تعلیم یافتہ بنائیں بغیر علم کے نہ تو آپ عزت حاصل سکتے ہیں اور نہ ہی اقتدار حضور خطیب البراہین کی زندگی کا سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ علم کے نور سے اپنے سینے کو منور کریں۔
ازھر ہند الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور کے استاذ خطیب ایشیاء یورپ حضرت علامہ مسعود احمد برکاتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور خطیب البراہین اپنے معاصرین میں اپنی مثال آپ تھے آپ نے اپنے کمائی کا بیشتر حصہ مدارس و مساجد کی تعمیر اور غریبوں کی خبر گیری خرچ کیا آپ نے حضور حافظ ملت سے صرف تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ سادگی کے ساتھ قوم وملت کا بے لوث خادم ھونا سیکھا اور اپنے آپ کو علم کی روشنی میں اس قدر نکھارا کہ خود آپ کے استاذ آپ پر ناز کرتے تھے اور حافظ ملت آپ کو کتابوں کی چلتی پھرتی لائیبریری کہتے تھے۔
حضرت علامہ مفتی اختر حسین علیمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور خطیب البراہین مسلک اعلی حضرت کے سچے ترجمان تھے۔
حضرت علامہ کمال احمد علیمی نظامی استاذ دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور خطیب البراہین شریعت و طریقت کے حسین سنگم تھے اگر ایک طرف شریعت کے میدان میں ہزاروں کی تعداد میں علماء مشائخ اور مبلغین آپ کے شاگرد کی شکل میں موجود ہیں تو طریقت کے میدان لاکھوں کی تعداد میں مریدین آپ کے خلوص کا خطبہ پڑھ رہے ہیں۔
حضرت علامہ مولانا محمد حبیب الرحمن صاحب قبلہ باندہ نے کھا کہ آج حضور خطیب البراہین کے فیضان کی جھما جھم برسات ہورہے ہےوہ اللہ کے ولی تھے انکی نگاہ کیمیا اثر نےنہ جانے کتنے لوگوں کےدل کی دنیا بدل دی۔
حضرت علامہ مولانا محمد طاھر القادری مصباحی شیخ الحدیث دارالعلوم اہل سنت غوثیہ نظامیہ حسنی بستی نے اپنے‌خطاب میں کہا کہ حضور خطیب البراہین ایک گمنام آبادی میں پیدا ہونے کے باوجود بھی عالم اسلام ااپنی ایک عظیم پہچان بنائی اور اپنے معاصرین میں ممتاز رہے یہ جو کچھ بھی ہے سب سنت نبویہ پر عمل کا نتیجہ ہے۔
حضرت علامہ محمد علی نظامی بستوی نے کہا کہ خطیب البراہین علم وعمل کے بے تاج بادشاہ تھے۔
اس کے علاوہ حضرت مفتی شمس الدین بستوی،مولانا محمد علی فیضی ،مولانا منظر وسیم مصباحی بھی خطاب کیا۔
اس کے علاوہ مفتی شکیل الرحمن مصباحی مفتی عبدالرحمن مصباحی جامعہ امجدیہ گھوسی مولانا شبیر احمد امرڈوبھا حضرت مفتی یامین کوٹہ راجستھان حضرت قاری رئیس القادری گورکھپور مولانا شمس الحق مصباحی سنولی قاری محمد غیاث الدین خان نوری مغلہاں قاری محمد طیش صاحب جمدا شاہی قاری امیر حسن نظامی جمدا شاہی مفتی امتیاز احمد قادری نظامی سدھارتھ نگر کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں صرف علماء کرام حفاظ شعراء نے شرکت کی۔
پر گرام کے اخیر میں دارالعلوم اہل سنت غوثیہ رضویہ اگیاشریف سے فارغ ہونے والے 44طلباءکی دستار بندی علماء مشائخ کے ہاتھوں دی گئی اس موقع پر دارالعلوم کے صدر المدرسین نبیرہ خطیب البراہین حضرت علامہ محمد سعید صاحب قبلہ نظامی اوردیگر اساتذہ موجود رہے۔
صبح آٹھ بجے قل شریف کے بعد حضرت علامہ سید اشفاق احمد صاحب قبلہ کی رقت انگیز دعاؤں پر پروگرام کا اختتام ہوا۔
اس عرس میں صاحب سجادہ کی جانب سے لنگر عام کا انتظام رہا اس کے علاوہ علاقے کےلوگوں نے اپنے اپنے اعتبار سے زائرین کے لیے چاۓ ناشتہ کھانا وغیرہ کا انتظام کیا
عرس کے انتظام وانصرام نبیرگان خطیب البراہین حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ نظامی جنرل سکریٹری آل انڈیا بزم نظامی حضرت مولانا ثناء المصطفیٰ نظامی پرنسپل جامعہ برکاتیہ حضرت صوفی نظام الدین حکیم رضاء المصطفیٰ نظامی وغیرہ دیگر خانوادہ کے لوگوں نے اہم کردار ادا کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے