تحفظ ناموس رسالتﷺ کی خاطر الحاج محمد سعید نوری نے کیا کچھوچھہ شریف، مبارک پور اشرفیہ، گھوسی، بریلی شریف، پیلی بھیت شریف، مارہرہ شریف، دہلی، اجمیر شریف، باسنی ناگور شریف کا دورہ

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

از قلم: ظفرالدین رضوی

ناموس رسالت مآب ﷺ کی حفاظت ہر مومن پر فرض ہے ایک مومن کیلئے اس سے بڑا اعزاز اور خوش نصیبی کیا ہوسکتی ہے کہ وہ تحفظ ناموس رسالت تحریک کا حصہ ہو۔
قارئین کرام جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ گستاخان رسول کی ایک لمبی فہرست ہے اسی فہرست میں ایک ایسا نام بھی شامل ہوچکا ہے جس کی کوئی اوقات نہیں ہے اس ملعون شخص کو شیطان وسیم رضوی کہتے ہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ خبر بھی موصول ہورہی ہے کہ اس ملعون نے تبدیلئی مذہب بھی کرلیا ہے ہمیں اس سے کوئی سروکار بھی نہیں وہ کہیں بھی کچھ بھی بن جائے ویسے بھی وہ مسلمان تھا بھی نہیں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا حرامی ہوتا ہے۔عرض یہ کرنا ہے کہ اس ملعون کی خباثیں اس وقت وطن عزیز کے تانے بانے کو نقصان پہونچانے میں لگی ہوئی ہیں اس نطفۂ حرام کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے کروانے کیلئے محافظ ناموس رسالت اسیر مفتئ اعظم الحاج محمد سعید نوری صاحب بانی و سربراہ رضا اکیڈمی و مرکزی جنرل سکریٹری ٹی این آر بورڈ دن ورات ایک کئے ہوئے ہیں اور اس وقت ملکی سطح پر دانشوران قوم وملت،علم وحکمت کی ریڑھ کی ہڈی کہے جانے والے ادارے اور خانقاہوں کے سجادگان،نامور وکلاء سے رابطہ کرنے کی غرض سے دورے پہ ہیں۔آپ کے ساتھ رضااکیڈمی کے قومی ترجمان مولانا محمد عباس رضوی اور راقم الحروف سب سے پہلے آپ نے تارک السلطنت حضور مخدوم پاک کچھوچھہ مقدسہ کی بارگاہ میں حضور معین المشائخ حضرت مولانا سید معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی صدر آل انڈیا سنی جمعۃ العلماء کی معیت میں حاضری دی اور درگاہ کمیٹی کے ذمہ داران سے ملاقات کی اس کے بعد الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور تشریف لے گئے وہاں پر ذمےدار اساتذہ بالخصوص حضرت علامہ مفتی بدر عالم مصباحی،مفتی زاھد سلامی اور المجمع الاسلامی میں رئیس الاساتذہ حضرت العلام محمد احمد مصباحی و محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین مصباحی سے ملاقات کی،بعدۂ گھوسی کے مشہور ادارہ شمس العلوم میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں علمائے اہلسنت کے ساتھ عوام کی ایک خاصا تعداد موجود تھی اس موقع پر قائد ملت کا شاندار استقبال کیا گیا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت الحاج محمد سعید نوری صاحب نے کہا کہ دشمنان اسلام کان کھول کر یہ سن لیں کہ ہم اپنا سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں مگر اپنے نبی کی توہین ہرگز برداشت نہیں کریں گے ہم دیکھ رہے ہیں کہ گستاخان رسول کی سرکوبی کے لئے امت کا ہر فرد اپنے اپنے حصے کا چراغ روشن کررکھا ہے تحفظ ناموس رسالت کیلئے رضااکیڈمی کی جدو جہد تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو مسلمانوں کے فکری وعملی اتحاد سے منور ہے عاشقان رسول نے ہردور میں اپنے خون سے اس تاریخ کو روشن کیا ہے اور جب بھی اس سلسلے میں جس نے بھی سر اٹھایا ہے تو پوری مستعدی کے ساتھ عاشقان رسولﷺ نے متحد ہوکر اس کا مقابلہ کیا ہے،یہ بھی یاد رہے کہسرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر حملہ کرنے کی جس نے بھی ناپاک جرأت کی تو اکابرین امت نے اس کا ڈٹ کر تعاقب کیا اور اس وقت تک سکون کی سانس نہیں لی جب تک اس فتنے کا قلع قمع نہیں ہوگیا۔سامعین نے بڑی گرمجوشی کے ساتھ آپ کے خطاب کو سنا اور یہ عہد کیا کہ جب تک ہمارے جسموں میں خون کا ایک قطرہ باقی رہیگا ہے ہم اپنے نبی کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کریں گے۔صلاۃ وسلام اور دعاء پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔محافظین ناموس رسالت کا قافلہ مزار حضور صدرالشریعہ،حضور شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی،۔مفتی غلام جیلانی۔مفتی غلام ربانی فائق اعظمی علیھم الرحمۃ والرضوان پر پہونچ کر تحفظ ناموس رسالت بل کی کامیابی کی دعاء کی۔شام چار بجے یہ قافلہ گھوسی سے کچھوچھہ مقدسہ کیلئے روانہ ہوا راستے میں نماز عصر ومغرب ادا کی گئی عشاء کا وقت ہوتے ہوتے قافلہ دیار مخدوم پاک میں پہونچ گیا جہاں پر حضرت رئیس ملت کی شہزادی کا عقد مسعود بڑے دھوم دھام کیساتھ اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں قرب وجوار کے مخدوم زادوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی پہلے طعام و کلام کا دور چلا بعدۂ عقد مسعود کی محفل سجائی گئی قرآن کریم کی تلاوت سے محفل کا آغاز ہوا نعت و منقبت کا دور چلا اس کے بعد شہزادۂ شہید راہ مدینہ حضور معین المشائخ حضرت علامہ مولانا الشاہ معین الدین اشرف اشرفی الجیلانی کچھوچھوی نے نکاح پڑھائی۔رات بارہ بجے حضور قائد ملت اسیر مفتئ اعظم الحاج محمد سعید نوری صاحب اور رضااکیڈمی کے قومی ترجمان مولانا محمد عباس رضوی یہ دونوں حضرات اہلسنت والجماعت کی راجدھانی بریلی شریف کیطرف روانہ ہوئے اور راقم الحروف اپنی والدہ کی عیادت کی غرض اپنے آبائی گاؤں روانہ ہوا۔
واضح رہے کہ حضور قائد ملت الحاج محمد سعید نوری صاحب نے یہ عزم مصمم کر رکھا ہے کہ جب تک تحفظ ناموس رسالت بل ملک کے پارلیمنٹ (ایوان بالا) میں پاس نہیں ہوجاتا تب تک خاموش نہیں بیٹھیں گے اس کیلئے چاہے جو بھی قربانی دینی پڑی۔الحاج محمد سعید نوری صاحب بریلی شریف میں اکابرین علمائے کرام اور خانقاہ رضویہ کے سجادگان بالخصوص نبیرۂ اعلیٰ حضرت شہزادۂ مفسر اعظم پیرطریقت حضرت علامہ مفتی الحاج الشاہ محمد منان رضا خان منانی میاں سے ملاقات دور چلا انہیں کی سرپرستی میں پریس ہال میں شاندار کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں حضور منانی میاں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ دشمنان اسلام اس وقت بےلگام ہوچکے ہیں ان کے منہ پر تالا لگانے کیلئے ہمیں عدلیہ کا سہارا لینے کی سخت ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رضاا کیڈم ی پر جس طریقے سے فرقہ پرست عناصر نے مہاراشٹر کے کچھ جگہوں پر ١٢ نومبر کو ہوئے فرقہ وارانہ فساد کا جو الزام لگایا ہے وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے ہم اس طرح کی بکواس کو سرے سے خارج کرتے ہیں ہم ان فرقہ پرستوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ رضااکیڈمی اور اس کے سربراہ تنہا نہیں ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور آگے بھی کھڑے نظر آئیں گے اس موقع پر مولانا شہاب الدین رضوی نے کہا ہم تن من دھن کیساتھ رضااکیڈمی کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔کانفرنس کے اختتام کے بعد نوری صاحب پیلی بھیت شریف کیلئے روانہ ہوئے وہاں پر مخصوص حضرات سے ملاقات کرنے بعد دوبارہ بریلی شریف کیلئے روانہ ہوگئے۔دوسرے دن خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ مقدسہ پہونچے برکاتی شہزادگان نے گرم جوشی کے ساتھ آپ کا استقبال کیا اور اپنی دعاؤں سے نوازتے ہوئے رضااکیڈمی کے بانی و سربراہ کی خدمات جلیلہ کی سراہنا کی مخدوم زادوں نے رضااکیڈمی کی حمایت وتائید کرتے ہویے کہا کہ ہم رضااکیڈمی کے ساتھ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں گے۔مولانا محمد عباس رضوی نے مخدوم زادگان کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ وہ کیا دبے جس پہ حمایت کا و پنجہ تیرا۔ شیر کو خطرے میں لاتا نہیں کتا تیرا۔برکاتی سہارا لیتے ہوئے یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوا اور دیکھتے دیکھتے دھلی ہوتا ہوا ہندوستان کی روحانی راجدھانی اجمیر معلیٰ پہونچ گیا۔سب سے پہلے انجمن سید زادگان خدام خواجہ کے جنرل سکریٹری حضرت سید عبدالواحد چشتی عرف انگارہ شاہ کی قیادت میں دربار غریب نواز علیہ الرحمہ میں حاضری دی اور دربار غریب نواز میں تحفظ ناموس رسالت بل کا مسودہ پیش کی ہند کے راجہ کی بارگاہ میں اس بل کی کامیابی کی دعاء کی گئی۔بعدۂ حضرت انگارہ شاہ کی صدارت میں تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں انجمن سید زادگان نے اس بل کی بھرپور حمایت و تائید کرتے ہوئے الحاج محمد سعید نوری صاحب کو ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا۔اس کے بعد محافظ ناموس رسالت اسیر مفتئ اعظم الحاج محمد سعید نوری صاحب نے بانسنی ناگور شریف کیلئے اپنا سفر شروع کیا یہاں پر جوش خروش کے ساتھ آپ کا استقبال کیا گیا۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

پروفیسر گوپی چند نارنگ کی رحلت پر تعزیتی نشست کا سہ ماہی ادب عالیہ کی جانب سے انعقاد

نارنگ صاحب کی موت سے اردو ادب یتیم ہو گیا: ڈاکٹر فریاد آزرؔ نئی دہلی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔