مذہبی مضامین

انسان کی زندگی

ازقلم: رجب علی قادری فیضانی

انسان کی زندگی دو طرح کی ہوتی ہے پہلی دنیوی زنـدگـی جو تھوڑے زمانے تک باقی رہ کر ختم ہو جاتی ہے خالق حقیقی و مالک حقیقی نے جتنا زمانہ اس کے لئے مقرر فرمایا ہے اس سے ایک سیکنڈ گھٹ نہیں سکتی نہ بڑھ سکتی ہے دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو اسے گھٹا بڑھا دے …
انسان کی دوسری زندگی اخروی زندگی ہے جو ہميشہ ہمیش رہنے والی ہے دنیوی زندگی کی طرح اس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے کہ کسی جگہ پہنچ کر اس کی انتہا کا حصول ہو جائے اس دائمی زندگی کا عیش و عشرت دنیوی زندگی کے کامیاب ہونے پر منحصر ہے اور ہر مومن پر فرض ہے کہ ہر عاقل و بالغ مومن کو چاہئے کہ اپنی دنیوی زندگی کو کامیاب بنانے کی غرض سے ہر ممکن کوشش عمل میں لائے اور ہر وقت ہر آن اس زندگی کی درستگی کی جانب متوجہ رہے … اب سوال یہ ہے کہ دنیوی زندگی کو کس طرح کامیاب بنائے اس کی کامیابی و کامرانی کا آلہ کیا ہے .. اس سوال مزکورہ کا جواب // المختصر // یہ ہے کہ کامیابی کا طریقۂ تشکیل صرف یہ ہے کہ دنیوی زندگی میں انسان کے دو تعلق ہے ایک خالق سے دوسرا مخلوق سے … ان دونوں تعلقات کو انسان تازیست اس طریقے سے قائم رکھے جس طریقے سے سید الانبیاءﷺ نے قائم رکھا اور سید الانبیاءﷺ نے جن طریقوں کے متعلق ہدایت و رہنمائی فرمائی ان سب طريقوں کو اپنا نصب العین بنایا جائے۔

تمام باتوں کا خلاصئہ کلام یہ ہے کہ آج دنیا میں مسلمانوں کو جگہ جگہ شکست کا منہ دیکھنا پڑ رہا ہے وہ مسلمانوں کی ایمان کی کمزوری کا سبب ہے۔

تاریخ کو اوراق گواہ ہیں سید الانبیاءﷺ کے زمانے میں اصحاب نبیﷺ کی جنگ آرائی میں کبھی بھی شکشت پزیرائی نہیں ہوئی کیونکہ اصحاب نبیﷺ کے پاس روحانی و ایمانی طاقتیں تھی نہ کہ چار آئینہ کے مثل مسلح اور اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اصحاب نبیﷺ کا ایمان کس قدر مضبوط تھا کہ جنگ و غزوہ میـں کھجوروں کی شاخوں سے ہی فتح و نصرت سے ہمکنار ہو جاتے تھے اور آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم روحانی و ایمانی طاقتوں سے مجرد ہیں اور جسمانی طاقتوں سے لبریز ہیں جس کے بنا پر ہم شب و روز کفار و مشرکین کے سامنے شکست کے منہ کا نوالا بنتے نظر آتے ہیں کیونکہ عصر حاضر کے مسلمانوں نے دین و شریعت کو ترک کرکے مذہب اغیار کو گہوارہ زندگی بنالیا۔

کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں

میرے اسلامی بھائیوں جاگو بس کرنا کچھ نہیں صرف قرآن کریم کے اس فرمان کو لازم پکڑ لو ..
//لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ .. //ترجمہ// رسول اللہ ﷺ کی زندگی تمہارے لئے زنـدگـی گزارنے کا بہترین طریقہ ہے// اور قرآن کریم کے اس فرمان کا مصداق بن جاؤ .. دنیا کے تمام کفارو مشرکین کی طاقتیں تمہارے سامنے دم توڑتی نظر آئے گی۔

پہنچے پہنچنے والے تو منزل مگر شہا
اُن کی جو تھک کے بیٹھے سرِ راہ لے خبر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے