اصلاح معاشرہ سائنس و فلسفہ مذہبی مضامین

عالمی یوم ماحولیات اور اسلام

5/ جون عالمی یوم ماحولیات ہے۔ ماحولیات کا دن منانے کا مقصد ماحول کی بہتری اورآلودگی کے خاتمے سے متعلق شعور و آگہی پیدا کرنا ہے۔سنہ 1973 سے ہر سال 5 جون کو اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام کی قیادت میں منایا جاتا ہے۔اس مختصر تعارف کے بعد اب اس حوالے سے اسلامی نظریہ کیا وہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
_ اللہ تعالی نے اس کائنات عالم کی تخلیق فرمائی اور نظام کائنات کو اس کی فطرت کے مطابق جاری و ساری فرمایا۔ یعنی کائنات کی ہر چیز اپنی اپنی فطرت کے مطابق اپنے اپنے محور پر رواں دواں ہیں – ہر لمحہ تغیر پزیر یہ کائنات حادث ہونے کے باوجود اس وقت مضبوط و مستحکم اور مربوط نظام کے ساتھ اپنی جگہ قائم و دائم ہے۔ اگر اس کے فطری عوارضات و لوازمات اور متوازن قدرتی وسائل و مواد میں دخل اندازی یا چھیڑ چھاڑ نہ کیا جائے تو یہ اپنی عین فطرت کے مطابق زیادہ صحت مند اور بیحد نفع بخش ہوگی۔ کیوں کہ قدرت نے ضرورت کے حساب سے اس میں سارے ضروری ریسورسز متوازن مقدار میں رکھی ہے، جس میں کسی خارجی یا داخلی عوامل کے ذریعے خرد برد یا اس کے وسائل و موارد میں اصراف، اس کے نیچورل میکانزم میں اثر پذیر ہوتے ہیں اور اس کے نظام میں بگاڑ کا باعث بنتے ہیں اور بن رہے ہیں۔ مثلاً کرہ ارض پر 50 بلین ٹن کاربن گیس بڑھ چکی ہے۔ فطرت کے وضع کردہ لاتعداد حیاتیاتی نظام ان گیسوں کو بہ آسانی اپنے اندر جذب کر لیتی اگر کاربن گیس کی افزودگی اور کرۂ ارض کا حیاتیاتی سسٹم دونوں اپنی فطرت پر باقی ہوتے۔آج صنعتی اور زرعی شعبوں میں برتی جانے والی شدید غفلت کی وجہ سے ماحولیاتی تبدیلیوں اور زمین کے درجۂ حرارت میں اضافے کے اثرات انتہائی شدید ہوچکی ہیں، جس کی وجہ سے خشک سالی کے واقعات اور اچانک سیلاب کافی زیادہ دیکھنے میں آنے لگے ہیں۔ممکنہ طور پر انسانوں نے جن امور میں بے توجہی غفلت برتی ہے اور ماحولیاتی مسائل و خدشات کو جنم دییے، ان میں چند یہ ہیں۔زمینی اور فضائی ماحولیات کے لیے موجودہ خطرات کی فہرست:

  1. آلودہ ہوا
  2. زمینی تشدد
  3. بہاولی آبادی: زیادہ آبادی کی وجہ سے زمینی مناظر کی تغیر، خاکی اراضی کی کمی اور جنگلوں کی کاٹ وغیرہ کا سبب بنتی ہے۔
  4. تبدیلیِ آب و ہوا کا عدم توازن
  5. آبادی کی بڑھتی تعداد کے ساتھ قدرتی حیوانات و نباتات کے ساتھ ہلاکت خیز سلوک۔
  6. ماحولیاتی جنگجوئی:جنگ، ہتھیاروں کے استعمال، جنگی صنعتی ترقی اور جنگی فضائی برنامجیں ماحولیاتی نظام پر برا اثر ڈال رہی ہیں۔
  7. ماحولیاتی حوادث
  8. اقتصادی توسعہ
  9. خزانہ خیزی
  10. طاقت کا استعمال
  11. نظام محیط زیست کی تباہی۔ Ecosystem Degradation۔
  12. فضائی تنقید: فضائی تنقید کے باعث فضائی آلودگی، ریڈیو اور ٹیلی ویژن انٹیناوں کی تعداد کا بڑھنا، جگہوں کی تقسیم میں تبدیلی، وحشی جانداروں کے لیے قدرتی ٹھکانوں کی کمی اور خاکی حفاظتی حدود کی خرابی شامل ہیں۔
  13. آبادی کی بڑھتی ضرورت
  14. زمینی بندوبست
  15. نسلی خطرے: مختلف جانداروں اور پودوں کی خطرناک نسلوں کا وجود ماحولیاتی تناسب کو منجمد کرسکتا ہے۔ ایکوسسٹموں کی تنفیذ، بیماریوں کے پھیلاؤ، اور غیر قانونی شکار ان خطرات میں شامل ہیں۔
  16. نظامی کاموں کا استعمال:نظامی کاموں جیسے بندوبستی کارروائیاں، سپاہیوں کا استعمال، ٹیسٹ رینجز، اور فضائی کاموں کا استعمال بھی ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
  17. بیابانی کا مسئلہ:یہ عموماً خشک رواں علاقوں میں پانی کی کمی، خاکی اراضی کی بروئے کار لینے کی ناکامی، جنگلوں کی تخریب، اور آبادی کی بڑھتی تعداد کے بنیادی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
    یہ چھیڑ چھاڑ کرنے والے کوئی اور نہیں ہے بلکہ یہ حضرت انسان ہی ہیں، جن کے فائدے کے لیے ہی اللہ تعالی نے یہ پوری کائنات بنائی ہے۔ اور انہیں یہ شعور بھی بخشا ہے کہ وہ کس طرح اس کائنات کے ماحولیات کو نقصان پہنچائے بغیر مستفیض و مستفید ہو سکتے ہیں –

نیز ایسا ہی اللہ تعالی نے انسانوں کو فطرت پر پیدا فرمایا۔ اور وہ فطری تقاضوں پر قائم ہیں- اور پوری دنیا میں امن و سکون کے ساتھ فلاح و بہبود کا بول بالا ہو- اس کے لیے اللہ تعالی نے فطری ضابطہ حیات یعنی اسلام جیسا دین و مذہب اور قرآن جیسا قانون فطرت جو سب سے اچھی اور سچی کتاب ہے عطاء فرمائی ہے- قرآن وہ کتاب مقدس ہے اور ہمہ گیر دستور العمل ہے جو قیامت تک کے لئے ہر شخص اور ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو کافی و وافی ہے۔
ان سب کے باوجود چوں کہ اللہ تعالی نے انسانی جبلت میں عجلت پسندی اور خود غرضی کے ساتھ بے صبری بھی پیدا کی ہے، جس کی وجہ سے یہ اشرف المخلوقات انسان بے شمار غلطیاں کرتا رہتا ہے۔ جس سے ماحولیات میں تبدیلیاں آتیں ہیں- نتیجتاً کہیں خشک سالی اور قحط سالی آتی ہے۔ تو کہیں موسلا دھار بارش، باڑھ اور سیلاب٫ آتے ہیں – تو کہیں زلزلہ آتا ہے اور کہیں چکرواد طوفان آتا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکت و تباہی ہوتی ہے- اللہ تعالی نے جس فطری سماج و معاشرہ کی تشکیل کے لیے انبیاء و رسل کو بھیجا۔ اور نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر جس دین کی تکمیل کی ہے- وہ دین، دین اسلام ہے- اور جب تک وہ دین فطری حسن کے ساتھ مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ تھا- مسلمان ہر دن ترقّی کررہا تھا- اور پوری دنیا میں امن و سکون کے ساتھ فلاح و بہبود کے پھول کھل رہے تھے-
لیکن مرور زمانہ کے ساتھ جب سے عقیدہ توحید و رسالت اور دین و سنت میں حذف و اضافہ کر کے اور بے جا تاویلات کے ذریعے تحریف و تحویل کا سلسلہ شروع ہوا – تب سے ہی مسلمان خرافات میں الجھ کر اسلامی علم و عمل سے دور ہو کر کمزور ہونے لگے- اور پھر سال در سال مسلمان مزید انتشار کا شکار ہو کر کمزور سے کمزور تر ہوتے چلے گئے-
اور یہود و نصاری کے ساتھ کفار و مشرکین بھی صنعت و حرفت کے ساتھ علم و ہنر میں بھی طاقتور ہوتے چلے گئے- ان وجوہات سے انسانی سماج و معاشرہ میں جو حیاء سوز برائیاں آئیں ہیں- وہ ہمارے سامنے ہیں- کہ انسانی ہمدردی اور انسانیت کا درس دینے والا انسان درندہ صفت وحشی جانور بن گیا ہے- وہ انسان جو انسانوں کی تکلیف سے غمزدہ ہوتا تھا – آج وہ انسانوں کو مصائب و آلام میں سسکتا ہوا دیکھ کر خوش ہوتا ہے-
چاہے کرۂ ارض میں درآئ آلودگیوں سے پیدا ہوئیں تباہ کاریاں ہوں- یا انسانی سماج و معاشرہ میں درآئ برائیاں ہوں- جس سے دو چار ہو کر آج انسانیت سسک رہی ہے- یہ سب انسانوں کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوئی ہیں- الامان والحفیظ –
اللہ تعالی قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (41) ( سورہ روم )
ترجمہ – فساد پھوٹ بڑا ہے خشکی یعنی زمینوں پر اور تری یعنی سمندروں میں- انسانوں کی غلط کرتوتوں کی وجہ سے- تاکہ اللہ تعالی انہیں ان کے بعض برے اعمال کا مزا چکھائے- کہ وہ اپنے برے کاموں سے باز آجائیں-
آیت کریمہ سے واضح ہے کہ دنیا میں خواہ زمین کے اوپر ہو یا سمندر کے نیچے جو فساد بیا ہے
وہ ہمارے ہی غلط کاریوں کی وجہ سے ہی ہے- اور اُن غلط کاموں کی سزا اللہ تعالیٰ جو ہمیں دیتا ہے- وہ ریکشن رد عمل کے طور پر دیتا ہے- تاکہ ہم اپنے غلط کاموں کا رد عمل دیکھ کر وہ غلط کام کرنا چھوڑ دیں- یعنی ہم اپنی اصلاح کریں- گناہوں سے باز آجائیں-
سب سے پہلے ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دینی چاہیے کہ کرۂ ارض کو آلودگیوں سے پاک کرنے کے لیے کثرت سے شجر کاری کریں( پودھے لگائیں ) کہ شجر کاری آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کریمہ ہے- نیز انسانی سماج و معاشرہ کو گناہوں سے پاک کرنے کے لیے جو اچھے تعلیمی ادارے ہیں اسے فروغ دیں اور جہاں تعلیمی ادارے نہیں ہیں وہاں اچھے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں تاکہ کم از کم متوسط درجے تک کی صد فیصد تعلیم کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے- اور علم و ہنر کی دنیا میں ہمارا بھی سکہ چلے- ان شاءاللہ العزیز۔

تحریر: محمد شہادت حسین فیضی
9431538584

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے