مذہبی مضامین

شادی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں!!

تحریر: فہیم جیلانی مصباحی معصوم پوری
ایڈیٹر: آفیشل ویب سائٹ "ہماری فکر” مرادآباد
رابطہ نمبر؛ 8477866532

شادی ،بیاہ ، نکاح، بیوی ،شوہر، سسرال، میکا جیسے الفاظ جب سامنے آتے ہیں تو اچانک بہت سے لوگ اپنے آپ میں گھبرا کر ایک ہی تصور کرتے ہیں کہ شادی ایک بندھن ہے ۔ اور شوہر بیوی کے سامنے بھیگی چوہیا بن کر اس کی ہر بات میں ہامی بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر پاتا، اور عورت یہ سوچتی ہے کہ مجھے ایک طرح سے قیدی بنا کر غلامی کے بندھن میں جکڑا جا رہا ہے،
بہت بار ایسا بھی سوچا جاتا ہے کہ شادی سے پہلے ہی انسان جو چاہے کر سکتا ہے بعد میں نہیں ۔ شادی سے ترقی کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ شادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ مختلف قسم کے لوگ مختلف سوچ۔ بہت سے لوگ صرف شادی اس لیے نہیں کرتے کہ اگر اب شادی کر لی تو بعد میں کچھ نہیں کر پائیں گے۔ ایسی سوچ رکھنے والے آپ کو ممکن ہے کہ آپ کے آس پڑوس میں بھی مل جائیں ۔
اسی طرح کا ایک واقعہ کہ
دس سال پہلے میری نگاہوں نے ایک ایسا انسان بھی دیکھا (جس کی عمر تقریباً ستائیس سال تھی) کہ جب اس سے کہا گیا کہ شادی کب کر رہے ہوں؟ تو اس نے جواب دیا کہ ابھی تو مجھے بہت کچھ کرنا ہے،ابھی میں نے دیکھا ہی کیا ہے۔ مجھے ترقی کرنی ہے۔ اس کے بعد ہی شادی کروں گا ورنہ بیوی بچوں میں الجھ کر رہ جاؤں گا۔ خیر جب سے لے کر اب تک دس سال مکمل ہوئے ۔ لیکن نہ اسے ترقی ملی اور نہ ہی اس نے شادی کی۔
آخر اس طرح ترقی کرنے کی سوچ ہمارے ذہنوں میں ڈالی کس نے؟ وہ کونسی ترقی ہے جو شادی کے بعد حاصل نہیں ہو سکتی؟؟
ترقی حاصل کرنا بہت اچھی بات ہے، شادی سے پہلے ترقی کروں۔ لیکن یہ سوچنا کہ شادی کے بعد ہم کچھ نہیں کرسکتے ، بیوی بچوں میں الجھ کر رہ جائیں گے ۔ یہ کیسی بات ہوئی؟
جب کہ ایسی سوچ لے کر بہت سے نوجوانوں نے اپنی عمریں گوا دی ۔ اور انہیں کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔
کاش!!! ایسی سوچ رکھنے والے یہ بھی جان لیتے کہ
شادی بہت سی ترقی کی راہوں کو ہموار کرتی ہے۔ تو وہ اس طرح اپنی زندگی کو تباہ و برباد نہ کرتے۔
قارئین!! ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی بارہا اپنے فرامین کے ذریعے نکاح و شادی کی ترغیب و اہمیَّت کو بیان فرمایا۔
چنانچہ ارشاد فرمایا : جو شخص میری فِطرت (یعنی اسلام) سے محبت کرتا ہے اُسے میری سنّت اختیار کرنی چاہئے اور نکاح بھی میری سنّت ہے۔ اور ارشاد فرمایا : نکاح میری سنّت ہے تو جس نے میری سنّت پر عمل نہ کیا وہ مجھ سے نہیں ۔
اور ایک حدیث میں ہے کہ جس نے نکاح کیا بے شک اس نے اپنا آدھا دین بچا لیا اب باقی آدھے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرے۔
شادی میں کامیابی کے بہت سے راز پوشیدہ ہیں انہی میں سے ایک یہ کہ نکاح نگاہ کو جُھکانے والا اور شرم گاہ کا محافظ ہے۔
ابھی گذشتہ دنوں شادی شدہ زندگی کو لے کر ایک بڑا خلاصہ ہوا کہ شادی کرنا مرد اور خواتین دونوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم کردیتا ہے۔ ہم بتادیں یہ دعویٰ فن لینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ تحقیق کے مطابق شادی شدہ خواتین میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 65 فیصد تک جبکہ مردوں میں 66 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ فن لینڈ کی ٹیورکو یونیورسٹی کی اس تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ شادی سے ہر عمر کے مرد اور خواتین میں خون کی شریانوں کے مسائل سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے اور اس کی وجہ شادی شدہ افراد کی صحت مند زندگی گزارانا، زیادہ دوست اور سوشل سپورٹ حاصل ہونا ہوتا ہے۔
جریدے امریکن اسٹروک ایسوسی ایشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی کہ شریک حیات سے اچھا تعلق فالج سے بچاﺅ کے امکانات پر اثرانداز ہوتا ہے،
شادی سے انسان کا اکیلاپن دور ہوتا ہے۔
شادی شدہ انسان اپنی صلاحیتوں کے مطابق مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتا ہے۔
جب کہ شادی کا لفظی مطلب ہی خوشی ہے ۔
شادی سے نہ صرف دنیا میں ترقی ملتی بلکہ آخرت میں بھی اس کا اجر ملتا ہے۔ تم نیک نیت کے ساتھ اپنے اہلِ و عیال کے لیے جو بھی کماتے ہو اس پر بھی تمہیں اجر ملتا ہے
اگر شادی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہوتی تو اللہ قرآن مجید میں اپنے محبوب کو اس کا حکم نہ دیتا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
ترجمہ:۔ ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا تھا۔
اور اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں انسان کو چار شادی کرنے کی اجازت عطا فرمائی۔
اور خود نبی ﷺ نے اس کو اپنی سنت بتایا
اور نبی ﷺ کی ہر سنت پر عمل کامیابی ہی کی تو دلیل ہے۔
اسی طرح اور بھی بے شمار شادی کی فضیلتیں ہے۔
جب شادی اتنی فضیلتوں کی حامل اور بے شمار دنیاوی ترقی اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے تو آخر تم کون سی ترقی چاہتے ہو؟؟؟
میں آخر میں یہی کہوں گا کہ شادی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں!

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button