تاریخ کے دریچوں سے عقائد و نظریات مذہبی مضامین

کرسمس کی تاریخی اور شرعی حیثیت

تحریر: ابوعمر غلام مجتبیٰ مدنی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو الله تعالیٰ نے اپنی قدرت کا شاہکار بنا کر دنیا میں بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور معجزات بھری زندگی عطا کرکے ادھیڑ عمر میں آسمانوں پر اٹھا لیا ان کے فضائل میں مختصراً اتنا ہی کافی ہے کہ
حضرت عیسیٰ ان پانچ اولو العزم رسل میں سے ہیں جو تمام ملائکہ و مرسلین اور تمام مخلوقات الٰہیہ میں سے سب سے افضل ہیں ۔
پوری دنیا میں 25 دسمبر کو ان کی ولادت کی خوشی منائی جاتی ہے جس کو کرسمس کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے قطع نظر اس کے کہ کرسمس کے نام پر کیا خرافات و واہیات افعال ہوتے ہیں یہاں دو اعتبارات تاریخی اور شرعی اعتبار سے کرسمس کی حیثیت جانتے ہیں۔
پہلی: حیثیت تاریخی
25 دسمبر تاریخ ولادت ہے یا نہیں اس کے بارے میں بائبل میں حضرت عیسیٰ روح الله کی ولادت کی تاریخ کا تذکرہ ہے ہی نہیں ، اور ناہی کسی دوسرے مستند ذرائع سے ان کی تاریخِ ولادت معلوم ہوتی ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تو پھر کرسمس کا لفظ کہاں سے آیا ؟؟
کرسمس (Christmas) دو الفاظ کرائسٹ (Christ) اور (Mass) کا مرکب ہے ۔ کرائسٹ (Christ) مسیح (علیہ السّلام) کوکہتے ہیں اور ماس (Mass) اجتماع ، اکھٹاہونا ہے ۔ یعنی مسیح کے لئے اکھٹا ہونا ، مسیحی اجتماع یا یومِ میلاد مسیح علیہ السّلام یہ لفظ تقریباً چوتھی صدی کے قریب قریب پایا گیا ، اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا ۔ دنیا کے مختلف خطوں میں کرسمس کو مختلف ناموں سے یاد کیا اور منایا جاتا ہے ۔ مسیح علیہ السّلام کی تاریخ پیدائش بلکہ سن پیدائش کے حوالے سے بھی مسیحی علماء میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا اسے 25 دسمبر کو ، مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا 6 جنوری کو اور جرمنی کلیسا 19جنوری کو مناتا ہے ۔ کرسمس کا تہوار25 دسمبر کو ہونے کا ذکر پہلی مرتبہ شاہِ قسطنطین (جو کہ چوتھی صدی عیسوی میں بت پرستی ترک کرکے عیسائیت میں داخل ہو گیا تھا) کے عہد میں 325 عیسوی میں ہوا ۔ یاد رہے کہ صحیح تاریخ پیدائش کا کسی کو علم نہیں ۔ تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے 20 مئی کو منا یا جائے ۔ ان کے علاؤہ بھی کافی سارے اقوال پائے جاتے ہیں ۔
البتہ عیسائی مذہب میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ
حضرت عیسی علیہ السلام سال کے آخر مہینے یعنی موسم سرما میں پیدا نہیں ہوئے تھے ۔کیونکہ کرسچن مذہب کے مطابق جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے تھے تو اس وقت چرواہے کھلے میدان میں اپنے جانوروں کے ساتھ رہا کرتے تھے اور اپنے جانوروں کی حفاظت کیا کرتے تھے جبکہ دسمبر میں اس علاقے میں ایسا ہونا بہت مشکل ہے ۔اس علاقے میں موجود چرواہے ہمیشہ اپنے ریوڑ کو پہاڑی علاقوں اور کھیتوں میں لے جاتے تھے اور 15 اکتوبر سے پہلے ان کو انکے حفاظتی باڑوں میں بند کر دیتے تھے تاکہ انہیں سردی اور برسات کے موسم سے بچایا جا سکے جو کہ 15 اکتوبر کے بعد شروع ہو جاتا تھا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش دسمبر کے مہینے میں نہیں ہوئی تھی ۔کیونکہ دسمبر کے مہینے میں شدید سردی ہوتی ہے ۔
اسی مؤقف کی تائید قرآن پاک سے بھی ملتی ہے جیسا کہ
سورۃ مريم آیت نمبر 25 میں ولادتِ عیسیٰ علیہ السلام کے وقت حضرت مریم سے فرمان ہے
وَهُزِّىۡۤ اِلَيۡكِ بِجِذۡعِ النَّخۡلَةِ تُسٰقِطۡ عَلَيۡكِ رُطَبًا جَنِيًّا ۞
اور آپ اس کھجور کے درخت کو اپنی طرف ہلائیں تو آپ کے اوپر ترو تازہ پکی کھجوریں گریں گی
اس کا مطلب کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت کھجوروں کے پکنے کے موسم میں ہوئی جو کہ گرمیوں کا موسم ہے ،
بہرحال خود مذہبِ عیسائیت کے شدید اختلاف اور موسمِ گرما کے اتفاق سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ 25 دسمبر یومِ ولادت یعنی کرسمس کا دن نہیں بنتا ۔
دوسری: حیثیت شرعی
مسلمانوں کا کرسمس کی تقریبات میں شامل ہونا ، سوشل میڈیا پر یا بنفسِ نفیس شریک ہوکر مبارک باد دینا اس کی شرعاً کہاں تک اجازت ہے ؟
بعض اوقات مجبوری ظاہر کی جاتی ہے کہ پڑوسی ہے یا کُلیگ ہیں ساتھ کام کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ اگر ان کو وِش نا کیا تو برا مانیں گے ایسی صورت میں تو غیر مسلموں کی خالصۃً مذہبی تقریبات میں شریک ہونا اور اس کی مبارک دینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے کیونکہ یہ اعمال کرنا ان کے ساتھ مذہبی اعمال میں مشابہت ہے جبکہ حدیث مبارک میں آتا ہے
من تشبہ بقوم فھو منھم
جس نے جن کے ساتھ مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے
اور اگر ان تقریبات کو دل میں اچھا گمان کر کے اس کی تائید و تعظیم کی نیت سے شریک ہوا مبارک باد دی تو اس صورت میں تو حکمِ کفر ہے جیسا کہ البحر الرائق میں ہے:

"والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لايجوز” أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام، بل كفر، وقال أبو حفص الكبير – رحمہ الله -: لو أن رجلًا عبد الله تعالى خمسين سنةً، ثم جاء يوم النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضةً يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله،
نیروز اور مھرجان کے نام پر ھدایا و تحائف دینا حرام ہے ، بلکہ بعض صورت میں کفر جیسا کہ ابو حفص کبیر کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص پچاس سال تک اللّہ پاک کی عبادت کرتا ہے اس کے بعد نیروز کے دن کچھ مشرکین کو اس دن کی تعظیم کے ارادے سے انڈا تحفہ دیتا ہے تو اس نے کفر کیا اور اس کے اعمال اکارت ہوگئے ۔
بعض لوگ یہاں پر اعتراض کرتے ہیں کہ یہ تو انسانیت کے بھی خلاف ہے کہ کسی کو مبارک بھی نا دی جائے
ان سے یہی کہا جائے گا کہ سلطنتِ اسلامیہ میں اقلیت کو ان کے حقوق دیے گئے ہیں ان کی عام دیگر تقریبات شادی بیاہ وغیرہ میں شریک ہونے کا حکم یہ نہیں جبکہ ان کے خالصۃً مذہبی تہوار میں شریک ہونا جن میں اکثر اوقات کفریہ افعال بھی ہوتے ہیں ایسے تہوار میں شریک ہونے کی اجازت قطعاً نہیں اگر شرکیہ افعال نا بھی ہوں تو ان مذہبی تہوار میں شامل ہونے سے ان کے مذہبی نظریات کی تائید و حمایت شریک ہونے کے فعل سے لازم آتی ہے اسی سے شریعت نے منع فرمایا ہے کہ کفار کے عقائد کی نا تو ظاہراً تائید کی جا سکتی ہے نا ہی ایسے فعل و عمل کے ذریعے جس سے تائید و تعظیم لزوماً ثابت ہو اسی لیے ان کے مذہبی تہوار میں شرکت کی اور ان کو ان کے تہوار کی مبارکباد دینے کی اجازت نہیں دی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے