مذہبی مضامین

تقریر،تبلیغ کا ایک مؤثر ترین ذریعہ

تحریر :محمد رجب علی مصباحی، گڑھوا ،جھارکھنڈ

اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور دعوت و تبلیغ کے ذرائع میں سےایک مؤثر ترین ذریعہ تقریر ہے،جس کے ذریعے قوم اور معاشرے میں دینی احکام بآسانی پہنچائےجا سکتے ہیں اور کم وقت میں خواندہ اور کم پڑھے لکھے لوگ شرعی احکام سے رو شناس ہو سکتے ہیں۔
تقریر کا دور آج کی ایجاد نہیں بلکہ زمانہ رسالت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے چلا آرہا ہے،خود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اپنی تقریر کے ذریعہ لوگوں کی رشدوہدایت فرمائی اور انہیں راہ راست پر گامزن فرمایا،ان کے بعد کے ذوات مبارکہ نے یہ عظیم ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لی اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے منصوبے اور مشن کو فروغ دیاجس کا ثمرہ یہ کہ اسلام جو ایک مہذب مذہب ہے،ہم تک پہنچا۔
آج کے پر فتن دور میں لوگوں کی رشد وہدایت اور انہیں صراط مستقیم کا پر گامزن کرنا موجودہ دور کے علماے عظام کی عظیم ذمہ داری ہے، جو الحمد للہ! علماے کرام جداگانہ طریقوں سے اسے انجام دے رہے ہیں.،اس کےلیےوہ قابل مبارکباد اور لائق تحسین ہیں، رب تعالیٰ ان کے عمر و اقبال میں سربلندی عطا فرمائے ۔آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین علیہ الصلاۃ و التسليم

آج زمانہ علمی اور عملی اعتبار سے کس زوال و انحطاط کا شکار ہے،یہ ارباب علم و دانش سے مخفی نہیں،آج بھی بہت ایسے افراد ہیں جنہیں حرام و حلال،جائز و ناجائز کی تمیز نہیں،وہ شرعی احکام سے کوسوں دور ہوتے ہیں،اس کی وجہ مدارس اور اسکولز کا فقدان ہے یا شوق و جذبہ کی قلت یا مال و دولت کی عدم فراہمی،جن کے باعث وہ شرعی اوامر و نواہی سے بے بہرہ ہوتے ہیں،ایسے حالات میں اگر ان کے پاس کچھ سکھنے کا موقع ہوتا ہے تو وہ ہیں ہمارے جلسے،جہاں ہزاروں افراد دور دراز مقامات سے سفر طے کرکے ہمارے بیانات سننے اور سیکھنے کے لیے آتے ہیں۔
اور یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ آج کے دور کے علما و فضلا اپنے معاشرے اور سماج کے علمی اور عملی کیفیات و حالات سے واقف ہیں،ان سے پوشیدہ نہیں ۔
اب میں علماے عظام کی بارگاہ میں بڑے ادب کے ساتھ عرض گزار ہوں کہ ایسے حالات میں ہمیں کیسی تقریر کرنی چاہیے؟کیا "کامڈیل تقریر” جس کے باعث جلسے کا قیمتی اوقات صرف ہنسنے اور ہنسانے میں ضائع اور برباد ہو جاتے ہیں،سے لوگ ضروری عقائد و مسائل سے واقف ہوں گے؟
کیا ایسی تقریر سے لوگوں کے دل کی دنیا بدلے گی؟
کیا ایسی تقریر سے ایمان کو تقویت ملے گی؟کیا ایسی تقریر سے لوگ اعمال صالحہ کی طرف راغب ہوں گے؟
میں کچھ نہیں کہوں گا، آپ خود فیصلہ فرمائیں کیوں کہ آپ صاحب علم و فضل ہیں۔
آپ غور فرمائیں کہ اگر حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ایسی تقریریں فرماتے تو کیا اسلام کی رعنائیاں باقی رہتیں،اسلام کا فروغ و استحکام ہو پاتا؟لوگوں کے ایمان چٹان سے بھی زیادہ پختے ہوپاتے جس کے سامنے بڑے بڑے گھن بھی ہزیمت قبول کرنے پر مجبور ہوجائے؟ میری ناقص سے نہیں ہوپاتا،اگر دین متین کی اشاعت ہوئی اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے تو ان کی تقریر کی اثر انگیزی اور متانت و سنجیدگی ہے۔
یاد رکھیں! میرا مقصد کسی مقرر کو نشانہ بنانا نہیں،ان کا احترام میرے دلوں میں محفوظ ہے،اور کیوں نہ ہو؟اس ناچیز کو بھی آپ کی دعاؤں سے جابجا اسٹیجوں پر لب کشائی کا موقع ملتا ہے اور اپنی کم علمی اور کوتاہ فہمی کے مطابق احکام شرعیہ پہنچانے کی کوشش کرتا ہے،الحمد للہ رب العالمین ۔
لیکن رونا اس وقت آتا ہے جب ایک عوام آپ کے آنے، جانے اور نذرانے کے انتظام و انصرام میں خوب تگ و دو کرکے روپئے اکٹھے کرتی ہے اور پھر وہ سب پیسے آپ کے ” کامیڈی” کے بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور بے چارے تہی دامن آئے تھے خالی ہاتھ جانا پڑتا ہے۔
اور ہاں! یہ صرف ان کی کمی نہیں بلکہ ہماری عوام کی بھی کوتاہی ہے، ہماری عوام بھی ویسی ہی تقریر پسند کرتی ہے جو ہنسی اورمذاق پر مشتمل ہو جو ان کی نادانی کا ثمرہ ہے،
میں عوام سے کہوں گا کہ آپ نہ سوچیں کہ انہیں صرف کامیڈی ہی آتی ہے اور کچھ نہیں،بلکہ وہ تو علم کے سمندر ہوتے ہیں جو چاہے بولوالیں،ان شاء اللہ تعالیٰ وہ آپ کی امید پر کھرے اتریں گے اور آپ کی علمی تشنگی کو ضرور بجائیں گے۔ظاہر سی بات ہے کہ ایک ایسا کارخانہ جس میں مختلف اشیا موجود ہوں،وہاں اپنے مطلوبہ چیز کا نام لینا ہوتا ہے تب بھی آپ کی چاہت کی چیز مل پائے گی، ویسے ہی یہ علما ہیں ان سے آپ اپنے معاشرے اور سماج کی ضرورتوں کے مطابق ان سے تقریر کا مطالبہ کریں ان شاء اللہ جن کے پاس آپ کی چاہت کے مطابق تقریر ہوگی وہ آپ کی دعوت قبول کریں گے ورنہ”اذھبوا الی غیری” کہتے ہوئے دوسرے کی طرف رہنمائی فرمائیں گے۔
اس لیے علما کے ساتھ ساتھ عوام سے بھی التجا ہے کہ حالات کے تقاضے کے مطابق مضامین کا انتخاب فرمائیں جن سے عوام کے اندر ایمان راسخ ہواور عمل کا جذبہ بھی۔
میرا ناقص مشورہ یہ ہے کہ دعوت کے وقت ہی حالات و کیفیات کے بارے میں پوچھ گچھ کرلیں پھر ان کے مطابق عنوان کا انتخاب فرمائیں،ان شاء اللہ تعالیٰ آپ کی تقریر رنگ لائے گی اور لوگ آپ سے خوب استفادہ کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے