علما و مشائخ

خانوادہ رضویہ کا درخشندہ ستارہ

ازقلم: غلام اختر رضا المعروف محمد ہاشم القادری

اس خاکدان گیتی پر ہر دور میں ان گنت ایسی عظیم ہستیاں جلوہ بار ہوتی رہی ہیں جن کے گیسوئے علم و حکمت کی خوشبو سے پوری دنیا عطر بیز ہوتی رہی ہے انہیں عظیم ہستیوں میں سے سرکار اعلی حضرت، حضور مفتی اعظم ہند، حضور حجت الاسلام، حضور مفتی اعظم ہند، حضور مفسر اعظم ہند، حضور تاج الشریعہ علیھم الرحمہ ہیں جنہوں نے اپنی خدمات جلیلہ سے ایک عالم کو فیضیاب کیا.
عصر حاضر میں انہیں نفوس قدسیہ کے چشم و چراغ نبیرہ سرکار اعلی حضرت خلیفہ حضور تاج شریعیت حضرت علامہ مفتی محمد ارسلان رضا خاں قادری رضوی ازہری دامت برکاتھم ہیں جو اپنے ابا و اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خدمت دین میں مصروف عمل ہیں
خانوادہ اعلی حضرت میں ایک سے ایک علم و فضل کے لعل و گہر ہیں لیکن چونکہ میرے ممدوح حضور ارسلان میاں دام ظلہ عالی ہیں اسی لئے حضرت ہی کے متعلق چند شطور قلم بند کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں
مسلمانان ہندو پاک پر دو عظیم خاندان کا بڑا احسان ہے ایک خاندان شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کا اور دوسرا خاندان اعلی حضرت کا- خاندان شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمۃ میں بڑے بڑے محدث، مفسر، محقق، مدبر، مفتی، فقیہ، مصنف، مؤلف ہوئے ہیں لیکن آج اس خاندان میں علم کا کوئی نشان نہیں ہے ، یہ مقولہ عوام و خواص میں بہت مشہور معروف ہے کہ علم و دولت زیادہ مدت تک کسی خاندان میں نہیں رہتی- اور یہ مقولہ صرف خاندان شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اگر ہم بنظر عمیق اپنے اطراف و اکناف کا تجزیہ کریں تو سینکڑوں مثالیں مل جائے گی کتنے علما، محدثین، مفسرین، مفکرین تشریف لائے مگر آج ان کی اولادیں علم کی دولت سے محروم ہیں کتنے خانوادے ایسے ہیں جو اپنے ابا و اجداد کے صحیح وارث نہ ہوپانے کے سبب منظر سے اوجھل ہیں
ایسے سینکڑوں خانوادوں کے درمیان اگر کوئی ایسا خانوادہ ہمیں نظر آتا ہے جس کے خدمات دو صدیوں پر محیط ہے اور علم و فضل، تقوی و پرہیزگاری، قضا و افتا، درس و تدریس، تصنیف و تالیف، تقریر و بیان، اور تحقیق و تنقید میراث بنکر چلی آرہی ہے تو ہندو پاک بر صغیر میں وہ نمایاں خانوادہ "خانوادہ رضویہ” بریلی شریف ہے جس میں صدیوں سے علم و فضل و کمال کی لا زوال دولت موجود ہے اور آج بھی وہی سلسلۂ علمی و روحانی اور میکدہ عرفاں کا چشمہ جاری و ساری ہے
سیدی حضور ارسلان میاں دام ظلہ علینا بھی اسی چمنستان کے گل ریحاں ہیں جو اپنے علم و فضل و کمال کی خوشبو سے آج پوری دنیائے سنیت کو معطر و مشکبار کر رہے ہیں
آپ کی ذات اوصاف حمیدہ کی جامع اور محتاج تعارف نہیں- صرف ہند ہی نہیں بلکہ بیرون ہند بھی متعارف ہے آپ کی تعریف و توصیف راقم نے اکابرین کی زبانی سماعت فرمائی- آپ کو جو مقبولیت جوانی ہی میں حاصل ہوگئی وہ دیگر کو آخری عمر میں نہیں مل پاتی- حضور صدر الافاضل علیہ الرحمہ کنز الایمان کے حاشیہ پر تحریر فرماتے ہیں کہ عام مقبولیت ان کے محبوبیت کی دلیل ہے اِنَّ الَّذِيْنَ آمِنُوْا وَ عَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ سَیِجْعَلُ لَھُمُ الرِّحْمٰنِ وُدّاً۔۔ میرے ممدوح میں بدرجہ اتم یہ وصف پایا جاتا ہے کہ اللہ نے لوگوں کے دلوں میں اُن کی محبت ڈال دی ہے۔۔

چند روز قبل جنت نشاں بریلی شریف میں چند احباب کے ساتھ حاضری ہوئی محب گرامی حضرت مولانا فضیل الرضا صاحب بریلی شریف کے ذریعہ حضور سیدی ارسلان میاں دام فیوھم کا دیہات میں جمعہ کی نماز کے بعد ظہر کی نماز پڑھنے کے تعلق سے فتوی پڑھنے کو ملا ماشاء اللہ و بفضلہ تعالیٰ ایسا جامع اور دلائل سے مزین و مبرہن فتوی دیکھ کر حضرت کی شخصیت سے بہت زیادہ متاثر ہوا اس فتوے میں حضور سرکار اعلی حضرت کا فیضان حضور حجت الاسلام کی حجت حضور تاج الشریعہ کے فتوے کی جھلک نظر آرہی ہے

نوٹ۔۔۔ کچھ ایسے لوگ ہیں جو دیہاتوں میں جاکر نماز جمعہ کے ساتھ نماز ظہر کی جماعت کے ترک کا تعلیم دیتے ہیں اسی کے متعلق رضوی دارالافتا بریلی شریف میں ایک استفتاء آیا جس کا حضرت نے مدلل و مفصل اقوال فقہاء سے مزین ارشادات سرکار اعلی حضرت مبرہن جواب تحریر فرمایا تھا۔۔)

افسوس ہے ان حاسدین مرکز پر جو مرکز کے علم و فضل کو دیکھنے کی تاب نہیں رکھتے اور مرکز کے حسد و جلن میں مرکز کے موقف کے خلاف لوگوں کو تعلیم دے کر اپنی دنیا و آخرت برباد کر رہے ہیں
حسد سے ان کے سینے پاک کر دے
کہ بد تر دق سے بھی یہ سل یا غوث
ایک مصباحی صاحب نے حضور سیدی ارسلان میاں دامت برکاتھم کے فتوے پر اعتراض کیا
اور حضرت نےمصباحی صاحب کے اعتراض کا جامع و مدلل جواب بھی تحریر فرمایا اور ساتھ ہی مصباحی محقق صاحب کی گرفت کرتے ہوئے "قولہ ، اقول” سے ایسی تردید فرمائی کہ وہ صاحب دوبارہ پلٹ کر جواب نہ دے سکے ، حضرت کا یہ فتوےٰ لائق مطالعہ ہے جس کے خوبیوں کو راقم بیان کرکے سے قاصر ہے میں تو بس یہی کہوں گا کہ
عطائیں مقتدر غفار کی ہیں

کچھ کم فہم یہ سمجھتے ہیں کہ سرکار اعلی حضرت ، حجت الاسلام ، مفتی اعظم ہند، حضور تاج الشریعہ علیھم الرحمہ تشریف لے گئے تو بریلی سے علم اٹھ گیا لیکن انہیں معلوم نہیں کہ ابھی بریلی شریف میں حضور سیدی ارسلان میاں جیسی شخصیتیں موجود ہیں جو شریعت مطہرہ کا کھلواڑ نہیں ہونے دیں گے
حضور قائد ملت دامت برکاتھم حضور ارسلان ملت دام ظلہ عالی جیسی عظیم شخصیتیں جو اپنے ابا و اجداد کے روایت کے امین ہیں اور دینی ، ملی ، سماجی ، فلاحی ، رفاہی امور میں سرگرم ہیں۔
حضور سیدی ارسلان میاں دام ظلہ عالی باصلاحیت شخصیت کے حامل ہیں فقہ و افتا میں دقیق نظر رکھتے ہیں تفقہ فی الدین کے اعلی میعار پر فائز ہیں۔
رب قدیر حضرت کو سلامت رکھے۔
فقط

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے