خواجہ غریب نواز

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلی تیرا

تحریر: محمد مجیب احمد فیضی
استاذ /دارالعلوم محبوبیہ رموا پور کلاں اترولہ بلرام پور یوپی

ذی الحجہ کا عظیم مہینہ تھا، جس پاک مہینہ اور محترم مہینہ میں فرزندان تو حید حج کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
مکۃ المکرمہ جیسی عظیم سر زمین پر ہنگامۂ محشر کا سا سماں تھا. اللہ رب العزت کے فرمان "اتمواالحج والعمرۃ” کی تعمیل اور رب کی رضا وخوشنودی کے خاطر فرزندان توحید امنڈتے ہوئے سیلاب کے مثل جوق در جوق اس پاک گھر میں سر نیازخم تسلیم کئے ہوئے تھے۔ایک ہی صدا تھی، ایک ہی ترانہ تھا ،جس سے مکہ شریف کی پاک فضائیں اور اس کی ستھری گلیاں گونج رہی تھی جو ہر کس وناکس کے زبان پر جاری تھا اور وہ ترانہ تھا ،
"اللھم لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک "
اللہ عزوجل کے یہ تقوی شعار و وفار شعار بندے اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اس کے ایک حکم پر دنیا اور اس کی زیب وآرائش سے بے نیاز ہو کر مناسک حج کی ادائیگی میں مصروف عمل تھے،لیکن ایک خلش تھی جو باربار دلوں کو مضطرب کر رہی تھی، اور وہ روضۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری ، کیوں کہ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی در کی حاضری ہی تو اصل مراد اور مقبولیت کا صحیح معنوں میں پروانہ ہے ۔
آخر کار وہ عظیم گھڑی آ ہی گئی جس کا شدت سے انتظار تھا، جب حجاج کرام حج جیسے عظیم عبادت کے ارکان اور اس کی فرائض کی ادائے گی سے فارغ ہو کر اپنی اپنی سواریوں پر اپنا مال ومتاع لاد کر ،عشق ومستی میں سر شار ہو کر روضۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب قافلہ در قافلہ کوچ کرنے لگے، اور اپنے غمخوار آقا تاجدار مدینہ سرور قلب وسینہ کی بارگاہ میں اپنی عقیدت ومحبت کا خراج پیش کرنے لگے، ان ہی میں ایک معمر، خوب رو، خوش قامت ،عاشق صادق ،عاشق زار جس کی عمر اس وقت تقریبا چالیس اور پچاس برس کے بیچ رہی ہوگی ،اور حالت یہ تھی کہ ننگے سر، نم آنکھیں اور کثرت سفر کے باعث پاؤں میں چھالے اور ورم آگئے تھے، لیکن صورت یہ بتا رہی تھی کہ یہ اللہ والے ہیں، مدنی آقا کی بارگاہ بے کس پناہ میں اپنا اپنا درد دل بیان کر رہے تھے مگر رب کا یہ مخلص بندہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عاشق صادق اپنی تمام تر پریشانیوں کو دباکر اور لوگوں سے ذرا ہٹ کر اپنے اس بے نیاز رب کی بارگاہ صمدیت میں مصروف عبادت تھے، تب تک روضۃ النبی سے ایک بڑی پیاری اور دلکش صدا آئی ،معین الدین تم میرے دین کے معین ہو ،محافظ ہو ،جاؤ میں نے تمہیں ہندوستان کی بادشاہت اور ولایت عطا کی!! اس طرح آپ کو خدمت دین بجا لانے کا حکم ملا۔

وطن عزیز ہندوستان کی حالت نہ گفتہ بہ تھی، سر زمین ہند میں ایک درازعرصہ سے کفر وشرک ،ظلم وجبر، قتل وغارت گری کا بازار گرم تھا، ہر چہار جانب ایک واحد خدا کو چھوڑ کر لوگ بے شمار معبودان باطلہ کی پرستش میں منہمک ہو کر گمنام سے ہو گئے تھے، لوگ اخلاق وکردار کے پشتی کا مکمل طور پر شکار ہو گئے تھے، ایسے میں ایک خدا واحد کے توحید کی طرف بلانا اور ان بے شمار بندگان خدا کو جو برسہا برس سے کفر و شرک جیسے ناپاک دلدل میں پھنسے ہوئے تھے ان کو وہاں سے نکالنا اور انہیں نور ہدایت میں لانا واقعی ایک دشوار کن امر تھا، جس سے کسی خردمند کو انکار کی گنجائش نہیں، چنانچہ ایسے لوگوں کو نور ہدایت سے روشناس کروانے ،اور انہیں ظلم وستم سے بچانے، کفر وشرک سے نجات دلانے اور ان کے عقائد واعمال کو درست کروانے میں بزرگان دین میں ایک نہایت ہی نمایاں اور ممتاز نام حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیری
رحَمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ کی ولادت با سعادت537/ھجری مطابق 1142/ ۶ کو سجستان”یا سیستان کے علاقہ سنجرمیں
ایک پاکیزہ دیندار اور علمی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کا نام حسن ،اور آپ نجیب الطرفین سید ہیں۔ آپ کے والد ماجد کا نام نامی اسم گرامی حضرت غیاث الدین رحمۃ اللہ علیہ تھا،آپ شہر کے رئیس اور پیشہءتجارت سے تعلق رکھنے کے ساتھ ایک بااثر شخصیت کے مالک تھے۔آپ کے والدہ ماجدہ کا اسم گرامی ام الورع تھا جو بی بی ماہ نور سے مشہور ہیں،آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب والدہ ماجدہ کی طرف سے حضرت سیدنا امام حسن مجتبی اور والدء بزرگوار کی طرف سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سےجا ملتا ہے اسی لئے آپ نجیب الطرفین کے صفت بالا سے متصف ہوئے۔
آپ کے مشہور القابات میں سے معین الدین ،غریب نواز،سلطان الھند اور عطائے رسول شامل ہیں۔

حصول علم

حصول علم کے لئے آپ نے شام ، بغداد اور کرمان کا بھی سفر اختیار فرمایا، نیز کثیر بزرگان دین سے اکتساب فیض بھی کیا، جن میں آپ رحمۃ اللہ علیہ کے پیر ومرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی رضی المولی عنہ، اور پیران پیر روشن ضمیر شہباز لامکانی قندیل نورانی حضرت غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کے اسماء قابل ذکر ہیں۔

بھارت میں آپ ورود مسعود

چنانچہ آپ نبی کی عطا سے سر زمین ہند تشریف لائے اور اجمیرشریف (راجستھان) کو اپنا مستقل مسکن بناتے ہوئے وہیں سے دین متین کی ترویج واشاعت کا آغاز فرمایا ۔خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ کے دینی خدمات کا سب سے اہم کار نامہ یہ ہے کہ آپ رَضی اللہ عنہ نے اپنے اخلاق ،کردار اور گفتار سے اس خطے میں اسلام کا بول بالا فرمایا۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ آپ کے اخلاق سے متاثر ہو کر کفر کی تاریکیوں سے نکل کر نور اسلام میں داخل ہوئے، یہاں تک کہ بڑے بڑے شرکش ظالم وجابر بھی آپ کے اخلاق کریمانہ دیکھ کر آپ کے حلقہء ارادت مہں شامل ہو گئے۔
ہند میں خواجہ غریب نواز کی آمد مسعود ایک بابرکت اسلامی،روحانی اورسماجی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ آپ ہی کے طفیل سے ہند میں سلسلہ چشتیہ کا آغاز ہوا۔ آپ نے اصلاح عمل کے ذریعے اپنے تلامذہ وخلفا کی ایک ایسی جماعت تشکیل دی جس نے ہندوپاک کے کونے کونے میں خدمت دین کا عظیم فریضہ سر انجام دیا۔
"دہلی "میں آپ کے خلیفہ حضرت شیخ قطب الدین بختیارکاکی رحمۃ اللہ علیہ نے
اور ناگور میں شیخ حمید الدین ناگوری رحمۃ اللہ نے خدمت دین کے فرائض سر انجام دیئے۔
اور خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کے اس مشن کو مزید عروج تک پہونچانے میں آپ کے خلفا کے خلفا نے بھی بھر پور حصہ لیا،حضرت بابا فرید گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے پاکپتن کو، شیخ جمال الدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ نے ہانسی کو، اور شیخ نظام الدین اولیاء نے دہلی کو اصلاح وتبلیغ کا مرکز بنا کر اس مشن کو بڑھا کر دین متین کی خدمت سر انجام دی۔
حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے نہ صرف وعظ ونصیحت دعوت وتبیلغ ہی کے ذریعہ خلق خدا کی خدمت کی بلکہ اپنی لاجواب تحریر وتالیف اور تصنیف کے ذریعہ بھی اشاعت دین اور خلق خدا کی اصلاح کا فریضہ انجام دیا۔ آپ کی تصنیفات میں انیس الارواح ،کشف الاسرار ،گنج الاسرار اور دیوان معین کا تذکرہ ملتا ہے۔حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ نے ہند کی سر زمین پر تقریبا ۴۵ سال تک دین متین کی خدمت سر انجام دی اور ہند کے ظلمت کدے میں اسلام کے اجالے کو خوب پھیلایا۔ آپ کا وصال ۶/رجب المرجب ۶۴۷/ھجری میں اجمیر (راجستھان ) میں ہوا اور یہیں مزار شریف بنا۔آج بر اعظم ہند وپاک میں جو اسلام کی بہاریں نظر آرہی ہیں اس میں خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ کے سعی بے مثال کا بہت بڑا حصہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے