شاہ رخ خان کا تھوک جہاد

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)
ازقلم: محمد شعیب رضا نظامی فیضی
چیف ایڈیٹر: ہماری آواز

میں مولوی آدمی جس کی دوڑ بس مسجد اور مدرسہ تک ہی ہونی چاہیئے اسے کیا معلوم کون ہے لتامنگیشکر اور کون ہے شاہ رخ خان؟ لیکن کیا ہے کہ میں مولوی تھوڑا فارورڈ قسم کا ہوں۔ اخبار کے کسی تراشے یا سوشل میڈیا کے کسی کونے میں کسی کا نام اور اس کے ساتھ زیادتی کا کوئی کالم دیکھ لیتا ہوں تو (اپنی وسعت کے مطابق) تحقیق کیئے بغیر چین نہیں آتا۔
ایسا ہی کچھ دو چار ماہ قبل ہوا جب ایک لڑکا ڈرگز کے کیس میں جیل گیا اور جس کی ضمانت کئی دنوں تک نہ ہوسکی، نام تھا آرین خان ولدیت شاہ رخ خان۔ خان ہونے لگا کہ شاید مسلمان ہو مگر نشیڑیوں سے ہمارا کیا سروکار؟؟؟ ہم نے توجہ نہ دی مگر ایک دو دنوں بعد معاملہ نے طول پکڑنی شروع کردی جب یہ حقائق سامنے آنے لگے کہ آرین خان کو بلاوجہ صرف مسلم ہونے کی وجہ سے پھنسایا گیا۔ لیکن پھر بھی میری نظروں میں ایک مجرم مجرم ہی رہتا ہے پھر چاہے اس کی گرفتاری کسی بھی وجہ سے کیوں نا ہوئی ہو۔ ہاں! تکلیف تو اس بات سے ہوئی کہ آرین خان کے ساتھ ڈرگزیوں کو فوری طور پہ رہا کردیا گیا تھا جبکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وہ اور اس کے سبھی ساتھی یکساں طور پہ قید کیئے جاتے۔ بہرحال میں نے اس ظلم و زیادتی تو نہیں کہوں گا مگر انتظامیہ کے دوغلہ پن پر نہ کچھ لکھا اور نہ ہی کہیں کسی ردعمل کا اظہار کیا۔ کیوں کہ اولاً میری اور میری شریعت کی نظروں میں بہرحال آرین مجرم تھا جس کی حمایت روا نہیں اور دوسری بات یہ بھی تھی کہ ایک منجھے مجھائے قلم کار جناب خان سمیع اللہ صاحب نے ایک تحریر میں انتظامیہ کے دوغلے پن پر سوال اٹھاکر ہمارے فریضہ کو کفایتی طور پہ ادا کردیا تھا۔ جس میں انھوں نے شاہ رخ خان کو آئینہ بھی دکھایا تھا اور انتظامیہ و میڈیا اور فرقہ پرستوں کے دوغلے پن کی مخالفت کی تھی۔
مگر آج پھر ایک بار خبروں کی سرخیوں میں اسی آرین کے باپ کا نام چھایا ہوا ہے۔ اس بار معاملہ ایک جنازے میں اس کی شرکت بنی۔ ایک انسان کی موت پر اگر دوسرا انسان دکھی اور غم گین نہ ہو تو کہیں نہ کہیں اس مردہ کے جنازہ سے پہلے انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہوتا ہے۔ انسانیت کے اسی بقا کی خاطر شاہ رخ لتامنگیشکر کے آخری رسومات میں پہنچے۔ اور ان کے جنازے پر پھول پیش کر کچھ دعا پڑھی اور جھک کر پھونکا جیسا کہ عام طور سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ دعا کرکے پھونکتے ہیں۔

حالاں کہ دعا کیا تھی؟ کیسی تھی؟ اس پر جائز ناجائز کی بحث کو قلم انداز کرتے ہوئے یہ بتانا مقصد ہے کہ ایسا معاشرہ میں رواج اور چلن ہے کہ ہندو بھی مسلمانوں کے جنازے میں شریک ہوتے اور نماز جنازہ تک انتظار کرتے ہیں نماز سے فراغت کے بعد وہ اپنی آستھا اور عقیدے کے مطابق ہاتھ جوڑ کر پراتھنا کرتے ہیں اور کچھ لوگ مٹی بھی قبر پہ ڈال دیتے ہیں۔ اسی طرح مسلم پڑوسی بھی ہندوؤں کے آخری رسومات میں شرکت کرتے ہیں، اور یہ بھی دوسروں کے طریقے سے گریز کرتے ہوئے مرنے والے کو تعزیت پیش کرکے چلے آتے ہیں۔ جس سے کسی کوئی اعتراض نہیں ہوتا ہے۔ در حقیقت یہی چیزیں تو ہمارے ملک کی تہذیب کو دنیا بھر میں ممتاز کرتی ہے مگر گزشتہ چند سالوں سے نفرت کی ایسی ہوا چلی ہے کہ جمہوریت کی چوتھی ستون کہلانے والی میڈیا اور دیگر فرقہ پرستوں کو شاہ رخ خان کا دعا کرکے پھونکنا "تھوکنا” دکھائی دیتا ہے۔ جی،ہاں! سدرشن چینل کا اینکر جو اپنی بدتمیزی اور نفرت بیانی میں کوئی ثانی نہیں رکھتا اس نے کل پورا ایک شو کیا جس کی ہیڈنگ اس نے "شاہ رخ خان کا تھوک جہاد” رکھی۔


افسوس صد افسوس! مسلم دشمنی میں یہ لوگ اتنے گر چکے ہیں کہ ان کو ہر جگہ جہاد اور جہادی نظر آتا ہے۔ ہر طبقے کا ہر ذی شعور شخص جانتا ہے اسلام میں جہاد ایک مقدس عبادت کا نام ہے۔ مگر نفرت کے ان سوداگروں کا کیا جو "لڑکا-لڑکی” کے افیئر کو "لوجہاد” کا نام دے دیتے ہیں، کورونا کے وبائی صورت حال میں پھنسے لوگوں کی مدد کرنے کے بجاے ان کی مجبوری کو "کوروناجہاد” کا نام دے دیتے اور اب حد تو یہ ہے کہ یہ دعا کرنے کو "تھوک جہاد” کا نام دینے سے باز نہیں آتے۔۔۔
سدرشن چینل کو اینکر کو کبھی ہمارے یہاں مغرب کے وقت آکر دیکھنی چاہیئے کہ آج بھی ہماری مسجدوں کے باہر غیرمسلم خواتین اور بچے لائن لگا کر کھڑے رہتے کہ نمازی لوگ باہر نکلیں گے تو دعا کرکے دم کردیں گے اور ان کی آستھا ہوتی ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے گھر میں اگر کوئی بیمار ہو تو اسے شفا مل جاتی ہے۔ مگر ان نفرتیوں کو نہ تو ملک سے کوئی سروکار ہے نہ ترقی سے نہ بھائی چارہ گی اور نہ ہی دھرم و مذہب سے۔ وہ دن رات بس اپنی مفاد میں لگے رہتے ہیں پھر چاہے اس کے لیے انھیں دنگا اور فساد ہی کیوں نا کرانا پڑے۔ ویسے انسانیت کے نام پر ان کلنکت لوگوں کو بولنے، لکھنے اور سنانے کو بہت کچھ ہے۔ مگر ہمیں اپنا معیار اخلاق کا ہر وقت پاس و لحاظ ہے۔

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About محمد شعیب رضا نظامی فیضی

عالمی شہرت یافتہ ویب پورٹل ہماری آواز کے بانی و ڈائریکٹر گورکھ پور(یو۔پی۔) کے قدیم ترین قصبہ گولابازار سے تعلق رکھنے والے جناب مولانا محمد شعیب رضا صاحب ہیں۔ جواں سال قلم کار اور درجن بھر کتابوں کے مصنف و مؤلف ہونے کے ساتھ ساتھ موصوف ایک کامیاب ویب ڈیزائنر بھی ہیں۔ ہماری آواز

Check Also

وقت رہتے حکومت کی شاطرانہ چال کو سمجھے مدارس اسلامیہ

ازقلم: آصف جمیل امجدی حکومت ہند کی ہمیشہ سے مدارس اسلامیہ پر شاطرانہ نگاہ رہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔