جرعات: اسانغنی مشتاق رفیقیؔ، وانم باڑی
ظلم اب حد سے پار ہونے لگا ہے۔ جدھر دیکھیں اُدھر کمزوروں اور لاچاروں پر فاشسٹ عناصر بھوکے شکاریوں کی طرح ٹوٹ پڑ رہے ہیں۔ معاشرے پر فسادیوں اور شرپسندوں کا غلبہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ مظلوموں کو فریاد اور ماتم کرنے کا یارا بھی نہیں رہا۔ زخموں پر زخم لگانے کے نت نئے طریقے، نفسیاتی طور پر مجروح کرنے کے لئے ہر لمحہ ایک نئی چال، اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں سے لے کر زمینی سطح پر ایستادہ انصاف کے نام نہاد خیموں کی ملی بھگت سے ایک ایسی حکمت عملی نماعیاری تشکیل پاچکی ہے جس کے تحت مظلوم پر ہی ظالم کا ٹھپہ لگا کر اس پر حد نافذ کردی جارہی ہے۔کوئی سنوائی نہیں، کوئی داد رسائی نہیں،پھر بھی کوئی ہمت کر کے ظالموں کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے، انہیں ظلم سے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو فوراً سے پیشتر اُس کو غدار اور باغی کہہ کر داخل زنداں کر دیا جارہا ہے۔ یہ نظارہ وطن عزیز کے ہر کوچے ہر نکڑ میں، مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک ہر جگہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ایک دور تھا جب کہا جاتا تھا کہ وطن عزیز کے شمال میں برسوں کی کوششوں سے معاشرے میں جو زہر سرایت کرایا جا چکا ہے ویسا جنوب میں مشکل ہے لیکن حالیہ کچھ سانحوں کے بعد یہ خوش فہمی بھی ختم ہوگئی۔ فسطائی طاقتیں بڑی تیزی سے یہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھا چکی ہیں اور سماج کے ایک بڑے حصے کو بڑے ہی میٹھے انداز میں شدت پسند قوم پرستی کا پاٹھ پڑھا کر اپنا دائرہ وسیع کرچکی ہیں۔ جنوب کی وہ آبادیاں جو اپنی وسعت نظری اور بھائی چارگی کے لئے مشہور تھیں آج فسطائیت کے زیر اثر تنگ نظری اور نفرت کے طوفانی جزیرے بنتی جارہی ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے فضاؤں میں بھی خوف و ہراس پیدا ہوکر گھٹن بڑھنے لگی ہے۔
سنسکرت میں ایک کہاوت ہے ”وناش کالِ ویپریدھا بدھی“ جس کا مطلب ہے، جب کسی کی تباہی کا وقت آتا ہے تو اس کا دماغ اس کے برعکس سوچتا ہے جو اُسے کرنا چاہئے۔ افسوس وطن عزیز کی موجودہ فضا پر یہ کہاوت بڑی حد تک صحیح بیٹھ رہی ہے۔ ملک اندرونی طور پر بد ترین معاشی اتھل پتھل کا شکار ہے، کساد بازاری شیطان کی سینگ کی طرح بڑھتی ہی جارہی ہے، بے روز گاری کی شرح میں دن بہ دن سونامی کی طرح اضافہ ہورہا ہے، اخلاقی اعتبار سے معاشرہ بدترین گراوٹ کا شکار ہے، رشتوں کا اعتبار مجروح ہوچکا ہے، ماں باپ اور بزرگ افراد اب بوجھ شمار ہونے لگے ہیں، بھائی بھائی میں بھائی بہن میں میاں بیوی میں دوستوں کے مابین محبت اور الفت عنقا ہوتا جارہا ہے۔ زنا بالجبر اور ذرا ذرا سی بات پر قتل و خون روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ رشوت کا چلن عام ہے، دولت کی ہوس اتنی بڑھ چکی ہے اس کے لئے آدمی کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہو جارہا ہے۔ ایک طرف معاشرے کا عیار طبقہ مزدوروں اور غریبوں کا خون چوس چوس کر اپنی تجوریاں بھرتا چلا جارہا ہے تو دوسری طرف معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں غربت سرطان کی طرح پھیلتی جارہی ہے۔ سیاست دان اقتدار کی ہوس میں اندھے ہوکر اچھے برے کی تمیز کھو چکے ہیں اور کرسی کی خاطر ضمیر و ایمان بیچنے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ نام نہاد مذہبی طبقہ خدا ئی ٹھیکیدار بن کرا پنا دھرم خطرے میں ہے چلّاچلّاکر اپنا الو سیدھا کرنے میں لگا ہوا ہے، بھلے سے اس کی وجہ سے انسانیت کی دھجیاں کیوں نہ اُڑ جائیں۔ اور باہر، ملک کے اطراف ہمارا اصلی دشمن اپنا گھیرا تنگ کرتا جارہا ہے، ہمارے قدرتی وسائل کو للچائی نظروں سے دیکھتے ہوئے اس پر قبضہ کرنے کے لئے شب و روز تگ و تاز کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اور یہاں ملک میں مقتدر طبقہ معاشرے کے بڑے حصے کو اقلیتوں کے خلاف بھڑ کا کر انہیں اُن کے مذہب اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کا نام نہاد خوف دلا کر کرسی پر اپنی پکڑ مضبوط کرنے میں لگا ہوا ہے۔ مقتدر طبقے اور اس کے بھگتوں کو نہ ملک کے معاشی مسائل کی فکر ہے اور نہ اصل دشمنوں کی ریشہ دَوانیوں کا ہوش، انہیں تو بس یہاں کے اقلیتوں کو ہر حال میں نت نئے انداز میں نت نئے مسائل کھڑا کر کے تنگ کرتے رہنا ہے، ان پر زندگی دوبھر کرتے رہنا ہے، ان کے سکون کودرہم برہم کرتے رہنا ہے۔ اس سے ان کے جذبہء نفرت کو جو تسکین ملتی ہے وہی ان کے لئے سب کچھ ہے۔افسوس وہ نہیں جانتے کہ ان کا یہ جذبہء نفرت انہیں وکاس کی طرف نہیں، جیسا کہ انہیں سمجھایا گیا ہے، کسی اور ہی طرف لے جارہا ہے۔
ان حالات میں اقلیتوں کو پھونک پھونک کر قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان کی ایک ہلکی سی لرزش بھی ان کے خلاف ایک محاذ کھڑا کرسکتی ہے۔ ملک میں اکثریت کا ایک بڑا طبقہ جو خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے انہیں اپنا ہم نوا بنانے کی مسلسل کوشش کریں۔ ٹکراؤ کے راستے سے گریز کرتے ہوئے قانون و انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے آواز بلند کریں لیکن فسطائی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بننے سے چوکنّا رہیں۔ یہ ضرور یاد رکھیں کہ ظلم کی رسی کو ڈھیل ضرور ملتی ہے لیکن قدرت جب پکڑنے پر آتی ہے تو ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں دیتی۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے،جب نفرت و عداوت کے بے ھنگم شور میں پیار و محبت کے مدھر سُر دبنے لگیں، بغض و حسد کی آندھیوں میں بھائی چارگی کے دیئے تھرتھرانے لگیں، امن و آشتی کے روشن میناروں پر فساد و شر کے شیاطین اندھیاروں کے گھٹائیں لے کر یلغار کرنے لگیں،انسانی آبادی کی فضاؤں میں اذاں کی آوازوں مندر کی بھجنوں اور گرجا کی گھنٹیوں کے بجائے بھوک سے بلکتے بچوں، سہاگ کے لئے روتی عورتوں اور جوان بیٹوں کی لاشوں پر بین کرتی ماؤں کی دلخراش چیخیں بلند ہونے لگیں تو سمجھ لینا چاہئے قدرت اپنے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کے لئے آمادہ ہوچکی ہے۔ عیار ی ومکاری کے لاٹھیوں پر بہت جلد صداقت کا عصا بجلی بن کر گرنے والا ہے اور پھر نفرت و عداوت، بغض و حسد، فساد و شر کے شیاطین وقت کے نیل میں ڈوب کرعبرت کے نشان بن جائیں گے۔