پروانچل

حضرت مبارک خان شہید درگاہ کے احاطے پر چلا جی۔ڈی۔اے۔ بلڈوزر

گورکھپور: ہماری آواز (نامہ نگار) 29 دسمبر// گورکھپور کے جس عیدگاہ کیمپس میں میلہ دیکھنے کے بعد ہندی ادب کے شہنشاہ منشی پریم چند نے اپنی کلاسیکی کہانی عیدگاہ لکھی تھی اور جہاں سیکڑوں سالوں سے ہندو-مسلم اتحاد کی علامت سمجھی جانے والی درگاہ حضرت مبارک خان شہید کے عرس کا میلہ لگتا ہے،آج اسی میدان اور وہاں بنے منچ پر جی۔ڈی۔اے۔ اور ضلعی انتظامیہ نے قریبی عارضی تعمیر پر تجاوزات آپریشن کے لئے تین تھانوں کی پولیس فورس کی موجودگی میں بلڈوزر چلا دیا۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ منگل کی صبح جی۔ڈی۔اے۔ کے عہدیدار بغیر کسی محصول کے محکمہ اور مجسٹریٹ کے بلڈوزر لے کر درگاہ کمپلیکس پہنچے اور وہاں ریلنگ توڑنا شروع کردیا۔ اس دوران سٹی مجسٹریٹ ابھینو رنجن سریواستو نے موقع پر پہنچ کر امن و امان کی صورتحال کو سنبھالا۔ قانونی عمل کو آگے بڑھانے کے لئے جوائنٹ مجسٹریٹ / ایس۔ڈی۔ایم۔ (صدر) گورو سنگھ سوگروال کو فوری طور پر طلب کیا۔
تاہم درگاہ کمیٹی کی جانب سے ایڈوکیٹ محمد سعود احمد نے کہا کہ جی۔ڈی۔اے۔ اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یہ کارروائی بغیر کسی پیشگی اطلاع اور نوٹس کے کی گئی ہے، ہم نے ضلعی انتظامیہ سے کچھ وقت مانگا تھا کہ ہم اپنے کاغذ پیش کرسکیں لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں سنی، انھوں نے بلڈوزرز کے ذریعہ یہاں لگے ہوئے ٹین سیٹ اور قیمتی سامان گرادیا۔
درگاہ کے صدر اقرار احمد نے بتایا کہ یہ درگاہ تمام مذاہب کے عقیدے کا مرکز ہے، یہاں بڑی تعداد میں عقیدت مند آتے ہیں۔ نیز عید اور بقرہ عید کے موقع پر سیکڑوں نمازی یہاں نماز ادا کرنے کے لیے آتے ہیں، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے یہ کارروائی کرنا سراسر غلط ہے۔
وہیں سٹی مجسٹریٹ ابھینو رنجن سریواستو نے کہا کہ یہ اراضی جی۔ڈی۔اے۔ کی ہے اور اس زمین کو آزاد ہونے کے بعد منشی پریم چند پارک میں توسیع کی جائے گی۔
جوائنٹ مجسٹریٹ/ ایس۔ڈی۔ایم۔ (صدر) گورو سنگھ سوگروال نے اس معاملے میں دونوں فریقوں کے کاغذات دیکھنے کے بعد کہا کہ محصولات کے ریکارڈ میں شامل زمین بنجر ہے اور حکومت بہادر کے کھاتے میں درج ہے جبکہ درگاہ کمیٹی مذکورہ اراضی پر اپنا دعویٰ پیش کررہی ہے۔
فی الحال، جی۔ڈی۔اے۔ کی طرف سے اراضی تجاوزات کو اپنا معاملہ پیش کرنے کا وقت دیا گیا ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button