ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور ، کنز الایمان دہلی ، ماہ نامہ اعلی حضرت بریلی شریف ، سنی دنیا بریلی شریف جیسے موقر اور معیاری اردو مذہبی ماہ نامے اپنی پرانی ساکھ اور شناخت قائم رکھتے ہوئے مکمل آب و تاب کے ساتھ تسلسل سے شایع ہو رہے ہیں۔ اردو ادبی رسائل کی بات کریں تو اس کا دامن اب بھی بہت کشادہ ہے۔ ماہ ناموں میں ”آج کل“ ، ”اردو دنیا“ ، ”الحسنات“ رام پور ، ”ایوان اردو“ دہلی، بچوں کا ماہ نامہ ”امنگ“ ، ” بچوں کی دنیا“ ، ”شگوفہ“ ، ”گل بوٹے“ ، ”تحریر نو“ ، ”شاعر“ ، ”کتاب نما“ دہلی ، ”معارف“ اعظم گڑھ، ”انشاء“ ، ”تہذیب الاخلاق“ علی گڑھ جیسے مشہور و معروف رسالوں کو لاکھوں کی تعداد میں قارئین ملنا بھی ایک باعث فخر اور خوش کن بات ہے۔ دنیا بھر میں اردو پڑھنے والوں کی تعداد 20 کرور سے زائد ہے۔ یہ تعداد جرمنی ، فرانس اور ایران کی مجموعی آبادی سے بھی زائد ہے۔ بھارت میں اردو بولنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ( لگ بھگ 100 ملین) بستی ہے۔ اردو پاکستان کی دفتری اور سرکاری زبان ہے۔ بر صغیر کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں %13 ، بحرین میں %11 ، افغانستان میں %8 ، ماریشس میں %6 لوگ اردو بولتے اور لکھتے ہیں۔
حیرت ہے، اردو بولنے والوں کا تناسب ہند و پاک کے بجائے خلیجی عرب ممالک (یو اے ای ، عمان ، سعودی ، بحرین وغیرہ) میں زیادہ ہے۔ امریکہ ، برطانیہ ، انڈونیشیا ، فرانس ، اسپین اور جرمنی میں اردو والوں کا حلقہ روز افزوں بڑھ رہا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں اردو کا نمبر دسواں ہے۔ دوسرے نمبر پر موجود ہندی بھاشا بھی کئی معنوں میں اردو کی سگی بہن ہے؛ بلکہ کئی معنوں میں اردو اس کی ماں ہے۔ چوتھے نمبر پر عربی ہے ، جو اردو کا ہم رسم زبان ہے۔ مطلب یہ کہ اردو کا مستقبل بہت روشن ہے، اردو خواں طبقہ کی تعداد دوسری کئی زبانوں کی بہ نسبت بڑھ رہی ہے۔
اس کے با وجود عالمی پیمانے پر پرکھا جائے تو پھر بھی اردو کا اشاعتی تناسب بہت پیچھے دکھائی دے رہا ہے۔ تعداد کے اعتبار سے اشاعت ، معیار اور تنوع میں کئی گنا اضافے کی ضرورت ہے۔
تنہا ایران میں پندرہ سو سے زائد رسائل فارسی زبان میں ہر ماہ شایع ہوتے ہیں اور پڑھے جاتے ہیں۔ فرانسیسی (فرینچ) میں یہ تعداد دو ہزار سے آگے جاتی ہے۔ دنیا میں پڑھنے کا رجحان کم ضرور ہوا ہے ، رکا نہیں ہے۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو کا دامن ظاہری اسباب سے مالا مال نہیں۔ مطلب نہ سرکاری سرمایہ ڈھنگ سے مل پاتا ہے نہ ہی یہ زبان کار و بار اور معاش سے جڑ پائی ہے۔ نتیجتا فروغ و اشاعت مذہبی حلقوں اور علماے اسلام پر منحصر ہو گئی؛ پر یہاں اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اردو زبان برصغیر میں اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ پروان چڑھتی جائے گی۔ اور "الاسلام یعلو و لا یعلی”۔ اسلام بڑھتے رہے گا ، گھٹے گا نہیں۔ ؔ
نو مید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
خوشی اور فخر کی بات ہے کہ بھارت میں پچھلے چند سالوں سے اہل سنت و جماعت کا ، رسائل و جرائد کی اشاعتی میدان میں غلبہ رہا ہے۔ ماہ نامہ پیغام شریعت دہلی ، ماہ نامہ جام میر بلگرام شریف ، ماہ نامہ ارشدیہ ممبئی ، دو ماہی الرضا پٹنہ ، سہ ماہی پیغام مصطفٰی ﷺ اتر دیناج پور ، سہ ماہی پیام بصیرت سیامڑھی ، سہ ماہی مسلک اعلی حضرت مظفر پور ، سہ ماہی ہماری آواز مظفر پور ، سہ ماہی عرفان رضا مراد آباد ، سہ ماہی امین شریعت ، سہ ماہی المختار کلیان سمیت دو درجن سے زائد رسائل جاری ہو کر دنیا بھر میں پڑھے گئے۔ اور ابھی ابھی سہ ماہی شعیب الاولیاء کی رسم اجرا ہوئی۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ارباب علم و ادب نے اپنی علمی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور سینئر اساتذہ کے ساتھ ساتھ جونیئر اور نو آموز فن کاروں نے بھی فن پاروں اور لطائف رو سناش کرائے۔
(اپنے ایک طویل مضمون کا اقتباس)
قارئین…!
تازہ شمارہ ”سنی دنیا بریلی شریف“ (فروری ، مارچ) آپ کی اسکرین پر حاضر ہے۔ اس ماہ نامہ کی سرپرستی اور نگرانی قاضی القضاة حضرت علامہ مفتی عسجد رضا خان صاحب قبلہ فرماتے ہیں۔ سارے مضامین عمدہ ہیں۔ ایڈیٹر محترم ادیب شہیر حضرت مولانا عبد الرحیم نشتر فاروقی صاحب نے انتخاب مضامین میں بہت جگر سوزی سے کام لیا ہے۔ موصوف نے جہانِ علم و ادب میں ایک عرصہ بتایا ہے، جس کا تجربہ رسالے کے صفحہ صفحہ سے جھلکتا ہے۔ 102 صفحات پر مشتمل شمارے میں تیس سے زائد بیش قیمتی متنوع تحریریں شامل ہیں۔ مطالعہ کے بعد ایڈیٹر اور ادارتی ٹیم کو تاثر ضرور لکھیے!
تبصرہ: انصار احمد مصباحی
9860664476 / aarmisbahi@gmail.com