ائمہ کرام

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ (قسط اوّل)

تحریر: ڈاکٹر فیض احمد چشتی

قارئینِ کرام : کوفہ (عراق) وہ مبارک شہر ہےجسےستّر اصحابِِ بدر اور بیعتِ رضوان میں شریک تین سوصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے شرفِ قیام بخشا ۔ ((طبقات کبریٰ، 6/89))

آسمانِ ہدایت کے ان چمکتے دمکتے ستاروں نے کوفہ کو علم و عرفان کا عظیم مرکز بنایا ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اِسے کنز الایمان (ایمان کا خزانہ) اور قبۃُ الاسلام (اسلام کی نشانی) جیسے عظیم الشان القابات سے نوازا گیا ۔

جب 80 ہجری میں امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو اس وقت شہر کوفہ میں ایسی ایسی ہستیاں موجود تھیں جن میں ہر ایک آسمانِ علم پر آفتاب بن کر ایک عالم کو منوّر کر رہا تھا ۔ ((طبقات کبریٰ، 6/86، اخبار ابی حنیفۃ صفحہ 17))

نام و نسب : آپ کا نام نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان کوفی تیمی ہے۔(اخبار ابی حنیفہ واصحابہ صفحہ ١٦،چشتی)

ولادت : آپ کی ولادت کے تعلق سے تین روایتیں ملتی ہیں:٦١ھ،٧٠ھ اور ٨٠ھ ۔لیکن اکثر مؤرخین کا قول یہ ہے کہ آپ کی ولادت ٨٠ھ میں عراق کے دارالحکومت کوفہ میں عبدالملک بن مروان کے دور حکومت میں ہوئی۔((الخیرات الحسان، فصل ٣ صفحہ ٥٩))

تعلیم و تربیت : امام اعظم کوفہ ہی میں پروان چڑھے،جب ہوش سنبھالا تو خاندانی پیشہ تجارت میں مشغول ہوگئے،اسی دوران کوفہ کے مشہور امام حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی،انھوں نے آپ کی ذہانت وفطانت کو پہچان لیا اور آپ کو علم کی تحصیل اور علما کی مجلسوں میں شریک ہونے کی ترغیب دلائی،ابتداءً آپ نے علم کلام کی طرف توجہ فرمائی اور اس میں کمال حاصل کرلیا،ایک مدت تک بحث ومناظرہ میں مشغول رہنے کے بعد آپ کو یہ احساس ہوا کہ عوام ، خواص ، علما،حکام،قضاۃ اور زہاد کو سب سے زیادہ فقہ کی ضرورت ہے؛چناں چہ آپ نے علم کلام سے توجہ ہٹالی،آپ کے اس خیال کو اس واقعہ سے مزید تقویت ملی کہ ایک دن آپ کے پاس ایک عورت آئی اور پوچھا کہ سنت طریقے پر طلاق دینے کی کیا صورت ہے؟آپ خود نہ بتاسکے اور اس سے کہا کہ حضرت حماد سے پوچھ لو،وہ جو بتائیں گے مجھے بھی بتادینا،چناں چہ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔امام اعظم کو اس واقعہ سے بڑی غیرت آئی اور آپ امام حماد کے حلقۂ درس میں شریک ہوگئے۔ ((الخیرات الحسان فصل ٣ صفحہ٧١))

علم حدیث کےلیے سفر : آپ نے علم حدیث کے حصول کے لیے تین مقامات کا بطورِ خاص سفر کیا ۔ آپ نے علم حدیث سب سے پہلے کوفہ میں حاصل کیا کیوں کہ آپ کوفہ کے رہنے والے تھے اور کوفہ علم حدیث کا بہت بڑا مرکز تھا۔ گویا آپ علم حدیث کے گھر میں پیدا ہوئے، وہیں پڑھا، کوفہ کے سب سے بڑے علم کے وارث امام اعظم خود بنے ۔
دوسرا مقام حرمین شریفین کا تھا۔ جہاں سے آپ نے احادیث اخذ کیں اور تیسرا مقام بصرہ تھا ۔

اساتذہ و شیوخ : آپ نے تقریبًا 4 ہزار مشایخ سے علم حاصل کیا،جیسا کہ علامہ ابن حجر ہیتمی شافعی رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں : ھم کثیرون،لایسع ھذا المختصر ذکرھم،وقد ذکر منھم الامام أبوحفص الکبیر أربعة آلاف شیخ،وقال غیره:له أربعة آلاف شیخ من التابعين،فما بالك بغیرھم ۔ ((الخیرات الحسان، فصل ٧ صفحہ ٧٩،چشتی))
ترجمہ : آپ کے شیوخ بہت ہیں،یہ مختصر ان کے ذکر کی گنجائش نہیں رکھتا،امام ابوحفص کبیر نے چار ہزار مشایخ کا ذکر کیا ہے،دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ چار ہزار تو تابعین میں سے ہیں،تو غیر تابعین کتنے ہوں گے؟
آپ کے بعض اساتذہ کے اسما درج ذیل ہیں : ⬇
(١)حضرت حماد بن سلیمان(٢)حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر(٣)حضرت اسماعیل بن عبدالمالک(٤)حضرت ابوہند حارث بن عبدالرحمٰن ہمدانی(٥)حضرت حسن بن عبید اللّٰه رضی اللّٰه عنھم اجمعین۔ ((تبییض الصحیفه صفحہ ١٩))

تدریس : آپ کے استاذ گرامی حضرت حماد بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد ان کی مسند تدریس پر ان کے صاحبزادے متمکن ہوئے،لیکن فقہ وافتا میں مہارت نہ ہونے کی وجہ سے تلامذہ کو تشفی نہ مل پاتی،لہٰذا ابوبکر نہشلی سے گزارش کی گئی تو انھوں نے انکار کر دیا،پھر حضرت ابوبردہ سے درخواست کی گئی تو انھوں نے بھی قبول نہ کیا،پھر سارے تلامذہ نے مل کر امام اعظم سے التماس کیا تو آپ نے ان کی بات مان لی اور فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ علم مٹ جائے۔چناں چہ آپ نے اپنے استاذ گرامی کی مسند تدریس کو رونق بخشی،جب یہ خبر لوگوں میں عام ہوئی تو ہر طرف سے تشنگان علم آپ کے حلقہ تدریس میں جمع ہونے لگے ۔ ((مناقب اعظم صفحہ نمبر ٨٣،چشتی))

تلامذہ : آپ رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار کے قریب شاگرد تھے جن میں چالیس افراد بہت ہی جلیل المرتبت تھے اور وہ درجۂ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ وہ آپ کے مشیرِ خاص بھی تھے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں : ⬇

(١) امام ابو یوسف(٢)امام محمد بن حسن شیبانی(٣)امام حماد بن ابو حنیفہ(٤)امام زفر بن ہذیل(٥)امام عبد ﷲ بن مبارک (٦)امام وکیع بن جراح(٧)امام داؤد بن نصیر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ۔

علاوہ ازیں قرآن حکیم کے بعد صحیح ترین کتاب صحیح البخاری کے مؤلف امام محمد بن اسماعیل بخاری اور دیگر بڑے بڑے محدثین کرام رحمہم ﷲ آپ کے شاگردوں کے شاگرد تھے ۔

تصانیف : آپ کی چند مشہور کتابیں درج ذیل ہیں : ⬇

(١)الفقه الأکبر(٢)الفقه الأبسط(٣)العالم والمتعلم(٤)رسالة الإمام أبي حنيفة إلی عثمان البتّی(٥)وصية الامام أبي حنيفة.((ملتقطا،نزھۃ القاری،ج:١،ص:١٨٤))

آپ کا علمی مقام : آپ کا علمی ، فقہی اور اجتہادی مقام بہت ارفع و اعلیٰ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کی علمی رفعت وعظمت کی بشارت دی ہے،جیسا کہ امام ابونعیم اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف”حلیۃ الاولیاء” میں درج ذیل حدیث نقل کرتے ہیں : عن أبی ھریرۃ قال:قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وسلم:لوکان العلم منوطا بالثریا لتناوله رجال من أبناء فارس ۔
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر علم ثریا ستارے کے پاس بھی ہوتا تو فارس کے کچھ افراد اس کو وہاں سے بھی حاصل کرلیتے ۔

امام جلال الدین سیوطی نے اس طرح کی بہت سی روایتیں جمع کیں ہیں اور فرمایا کہ ان احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام اعظم کے بارے میں بشارت دی ہے۔اجلۂ محدثین کے نزدیک بھی اس حدیث کے مصداق امام اعظم ہیں ۔

آپ کی عقل مبارک : سید نا بکر بن جیش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل زمانہ کی عقلوں کو جمع کیا جائے ، تو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی عقل سب پر غالب آجائے۔((الخیرات الحسان صفحہ ٦٢،چشتی))

طریقۂ اجتہاد و استنباط

آپ رضی اللہ عنہ اپنا طریق اجتہاد و استنباط یوں بیان فرماتے ہیں : میں سب سے پہلے کسی مسئلے کا حکم کتاب اللہ سے اخذ کرتا ہوں، پھر اگر وہاں وہ مسئلہ نہ پاؤں تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لے لیتا ہوں ، جب وہاں بھی نہ پاؤں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال میں سے کسی کا قول مان لیتا ہوں اور ان کا قول چھوڑ کر دوسروں کا قول نہیں لیتا اور جب معاملہ ابراہیم شعبی، ابن سیرین اور عطاء پر آجائے تو یہ لوگ بھی مجتہد تھے اور اس وقت میں بھی ان لوگوں کی طرح اجتہاد کرتا ہوں ۔

وصال پر ملال : بغداد شریف میں ٢ شعبان المعظم ١٥٠ ہجری میں آپ کا انتقال ہوا ۔ مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ پہلی بار نمازِ جنازہ میں کم و بیش پچاس ہزار کا مجمع تھا، اس پر بھی آنے والوں کا سلسلہ قائم تھا یہاں تک کہ چھ بار نمازِ جنازہ پڑھائی گئی۔ ((الخیرات الحسان فصل ٣٢ صفحہ ١٥٣))

امامِ اعظم کانام نُعمان اور کُنْیَت ابُوحنیفہ ہے ۔ آپ نے ابتداء میں قرآن پاک حفظ کیا پھر 4000 علما و محدّثین کرام علیہم الرحمہ سے علمِ دین حاصل کرتے کرتے ایسے جلیل القدر فقیہ و محدِّث بن گئے کہ ہر طرف آپ رضی اللہ عنہ کے چرچے ہو گئے ۔ ((تھذیب الاسماء،2/501،چشتی)) ((المناقب للکردری، 1/37تا53،چشتی)(عقودالجمان، صفحہ 187))

آپ رضی اللہ عنہ نےصَحابۂ کِرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے مُلاقات کا شَرَف حاصل فرمایا ، جن میں سے حضرت سیّدنا انس بن مالک ، حضرت سیّدنا عبداللہ بن اوفیٰ ، حضرت سیّدنا سہل بن سعد ساعدی اور حضرت سیّدنا ابوالطفیل عامر بن واصلہ رضی اللہ عنہم کا نام سرفہرست ہے ۔ یوں آپ رضی اللہ عنہ کو تابعی ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔ ((شرح مسند ابی حنیفۃ لملاعلی قاری صفحہ 581))

القاب،امام اعظم ، امام الائمہ سراج الامہ ، رئیس الفقہاء والمجتہدین ، سیدالاولیاء والمحدثین ۔ آپ کے دادا اہل کابل سے تھے ۔ سلسلہ نسب یوں بیان کیا جاتا ہے ۔ نعمان بن ثابت بن مرزبان زوطی بن ثابت بن یزدگرد بن شہریاربن پرویز بن نوشیرواں ۔

شرح تحفہ نصائح کے بیان کے مطابق آپ کا سلسلہ نسب حضرت ابراہیم علی نبینا علیہ الصلوۃ والتسلیم تک پہونچتاہے اوریہاں آکر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آپ کا نسب مل جاتاہے ۔

خطیب بغدادی نے سیدنا حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت اسمعیل بن حماد سے نقل کیا ہے کہ میں اسمعیل بن حماد بن نعمان بن مرزبان ازاولاد فرس احرارہوں ۔ اللہ کی قسم ! ہم پر کبھی غلامی نہیں آئی ۔ میرے دادا حضرت ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی ولادت ۸۰ ھ میں ہوئی ، ان کے والد حضرت ثابت چھوٹی عمر میں حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی خدمت میں حاضر کئے گئے ، آپ نے ان کے اور ان کی اولاد کےلیے برکت کی دعا کی ۔ اور ہم اللہ سے امید رکھتے ہیں کہ حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی دعاہمارے حق میں قبول کرلی گئی ہے ۔ ((تاریخ بغداد للخطیب۔ ۱۲/۳۲۶،چشتی))

اس روایت سے ثابت کہ آپ کی ولا دت ۸۰ ھ میں ہوئی ۔ دوسری روایت جو حضرت امام ابویوسف سے ہے اس میں ۷۷ھ ہے ۔ علامہ کوثری نے ۷۰ھ کو دلائل و قرائن سے ترجیح دی ہے اور کہا ہے کہ ۸۷ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کو گئے اور وہاں حضرت عبداللہ بن الحارث رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی اور حدیث سنی ۔ اسی ۷۰ھ کو ابن حبان علیہ الرحمہ نے بھی صحیح بتایا ہے ۔

معتمد قول یہ ہی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ فارسی النسل ہیں اور غلامی کا دھبہ آپ کے آباء میں کسی پر نہیں لگا ، مورخوں نے غیر عرب پر موالی کا استعمال کیا ہے بلکہ عرب میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ پردیسی یا کمزور فرد کسی بااثر شخص یا قبیلہ کی حمایت و پناہ حاصل کرلیتا تھا ۔ لہٰذا جبکہ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ کے جد امجد جب عراق آئے توآپ نے بھی ایسا ہی کیا ۔

امام طحاوی علیہ الرحمہ شرح مشکل الآثار میں راوی کہ حضرت عبداللہ بن یزید کہتے ہیں ، میں امام اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا ، تم کون ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں ایسا شخص ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے جس پر اسلام کے ذریعہ احسان فرمایا ، یعنی نو مسلم ۔ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یوں نہ کہو ، بلکہ ان قبائل میں سے کسی سے تعلق پیدا کرلو پھر تمہاری نسبت بھی ان کی طرف ہوگی ، میں خود بھی ایساہی تھا ۔ ((مشکل الآثار للطحاوی ۔ ۴/۵۴،چشتی))

مولی صرف غلام ہی کو نہیں کہا جاتا ، بلکہ ولاء اسلام ، ولاء حلف ، اور ولاء لزوم کو بھی ولاء کہتے ہیں اور ان تعلق والوں کو بھی موالی کہاجاتاہے ۔ امام بخاری ولاء اسلام کی وجہ سے جعفی ہیں ۔امام مالک ولاء حلف کی وجہ سے تیمی ۔ اور مقسم کو ولاء لزوم یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ایک عرصہ تک رہنے کی وجہ سے مولی ابن عباس کہاجاتا ہے ۔ ((مقدمہ ابن صلاح))

کنیت کی وضاحت : آپ کی کنیت ابوحنیفہ کے سلسلہ میں متعدد اقوال ہیں ۔

چونکہ اہل عرب دوات کو حنیفہ کہتے ہیں اورکوفہ کی جامع مسجد میں وقف کی چار سو دواتیں طلبہ کےلیے ہمیشہ وقف رہتی تھیں ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ کا حلقۂ درس وسیع تھا اور آپ کے ہر شاگرد کے پاس علیحدہ دوات رہتی تھی ، لہذا آپ کو ابوحنیفہ کہا گیا ۔

صاحب ملت حنیفہ ، یعنی ادیان باطلہ سے اعراض کرکے حق کی طرف پورے طور پر مائل رہنے والا ۔

ماء مستعمل کو آپ نے طہارت میں استعمال کرنے کےلیے جائز قرار نہیں دیا تو آپ کے متبعین نے ٹوٹیوں کا استعمال شروع کیا ، چونکہ ٹوٹی کو حنیفہ کہتے ہیں لہذا آپ کا نام ابوحنیفہ پڑ گیا ۔ ((سوانح امام اعظم ابو حنیفہ مولانا ابو الحسن زید فاروقی صفحہ ۶۰،چشتی))

وجہ تسمیہ ۔ وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ نعمان لغت عرب میں خون کو کہتے ہیں جس پر مدارِ حیات ہے ۔ نیک فالی کے طور پر یہ نام رکھا گیا ۔ آپ نے شریعت اسلامیہ کے وہ اصول مرتب کیے جو مقبول خلائق ہو ئے اور شریعت مطہرہ کی ہمہ گیری کا ذریعہ بنے ۔ یہاں تک کہ امام شافعی قدس سرہ نے بھی آپ کی علمی شوکت وفقہی جلالت شان کو دیکھ کر فرمایا : الناس فی الفقہ عیال ابی حنیفۃ ۔
فقہ میں سب لوگ ابو حنیفہ کے محتاج ہیں ۔

نعمان گل لالہ کی ایک قسم کانام بھی ہے ۔ اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور خوشبو نہایت روح پرور ہوتی ہے ، چنانچہ آپ کے اجتہاد اور استنباط سے بھی فقہ اسلامی اطراف عالم میں مہک اٹھی۔۔۔ (مزید حصّہ دوم میں ان شاء اللہ)