علما و مشائخ

حضور شیخ طریقت اورخانوادۂ برکات! روابط وتعلقات

تحریر: محمد اسلم رضا قادری اشفاقی
رکن سنی تبلیغی جماعت باسنی ناگورشریف

اکابر علماء ومشائخ کے افکارو نظریات،تعلیمات وپیغامات،کی اہمیت وافادیت وضرورت ہردور میں مسلم رہی ہے جو نسل نوکے لئے یقیناً باعثِ فخر وسعادت اورقابل تقلید وکرامت ہوتے ہیں۔
عصرحاضرکےاختلاف زدہ ماحول میں ملت اسلامیہ کوایسے افکارو خیالات کی اشد ضرورت ہے جو دینی وملی ومذہبی خدمات کی امنگ پیدا کرنے کے تیٔں اخلاص وللہیت اور رواداری،دوسروں کی خدمات کے اعتراف کی جانب متوجہ کرتے ہوں،اورعصرحاضرکی قومی و مذہبی ومسلکی ضروریات کی طرف بھی رہنمائی کرتے ہوں۔تاکہ مستقبل میں اپنے عزائم ومقاصدکی طرف پیش قدمی کرنے میں آسانی پیدا ہوسکے۔
حضورشیخ طریقت علامہ الشاہ سیدمحمدنعیم اشرف اشرفی جیلانی جائسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی حیات وخدمات کادائرہ نہایت ہی وسیع  ترہے۔جسے اس مختصر تحریر میں پیش کرناازحدمشکل ہے۔
شیخ طریقت قدس سرہ العزیز نے اپنی حیات مبارکہ کودین وسنیت کی ترویج و اشاعت میں صرف فرمایا،اور حرص و جاہ طلبی سے ہمیشہ کنارہ کش رہ کرایک پرسکون اور قابل اطمینان زندگی بسرکی۔
*خانقاہ برکاتیہ*
خانقاہ  قادریہ برکاتیہ مارہرہ شریف سے آپ کے دیرینہ مراسم وتعلقات تھے،یہی وجہ ہے کہ جس وقت آپ کاسانحۂ ارتحال ہواتووہاں قرآن خوانی اور ایصال ثواب کااہتمام کیا گیا اور آپ کے عرس چہلم پرخانقاہ کے شاہزادگان نے شرکت بھی فرمائ۔
شہزادہ ٔ حضوراحسن العلماء حضرت الشاہ سیدنجیب حیدرصاحب قبلہ برکاتی قادری مارہروی مدظلہ العالی  "سالنامہ اہل سنت کی آواز”میں آپ کے خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف سے روابط وتعلقات کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اس سال دنیائے سنیت میں ایک اور نا قابل تلافی نقصان ہوا کہ خانوادۂ جائس کے چشم و چراغ و صاحب سجادہ حضرت علامہ سید شاه نعیم اشرف صاحب اشرفی جیلانی جائسی رحمۃ اللہ علیہ نے اس دار فانی کو الوداع کہا۔ حضرت والا شریعت و طریقت کا پیکر اور اپنے خاندان کے اعلی علمی ، ادبی اور روحانی وراثت کے لیے سچے امین تھے۔ وہ ایک عالم اور شیخ ہونے کے ساتھ ایک بہت ممتاز ادیب بھی تھے اور خدمت خلق کے شائق بھی ۔ ان کا یہ وصف ان کے صاحبز ادگان کو بھی اللہ تعالی نے ودیعت فرمایا۔ یہی بات ہے کہ جائس کے اس معزز خانوادہ کے علم وفضل اور خدمات کا شہرہ ہندوستان کی سرحدوں تک ہی محد ودنہیں بلکہ بیرون ہند بھی لوگ معترف اور معتقدہیں۔
ہمارا اس خانوادے سے بہت قدیم تعلق ہے ۔ میرے والد ماجد علیہ الرحمہ موجودہ سجادہ نشین حضرت سید شاہ کلیم اشرف صاحب کے خطاب کے بہت مداح تھے اور متعدد اجلاس میں ان کی تقریر سننے کے لئے ان کو مدعوکراتے تھے ۔ برادر محترم سید محمد اشرف قادری صاحب مد ظله العالی اور صاحبزادہ سید ندیم اشرف جائسی صاحب کے درمیان بہت عمیق دوستی کے مراسم ہیں اور زمانۂ تعلیم سے اب تک یہ تعلق ویسے ہی قائم ہے۔
برادر محترم سید علیم اشرف جائسی حضرت امین ملت سے لے کر خانوادے کے صاحبزادگان تک سب میں یکساں مقبول ہیں اور خانقاہ برکاتیہ کے بہت سارے پروگراموں میں ان کی شرکت اور ان کے مشورے شامل حال رہتے ہیں ۔
حضرت نعیم میاں صاحب قبلہ رحمتہ اللہ علیہ کے فاتحہ چہلم اور رسم سجادگی کے موقع پر برادر معظم شرف ملت جائس تشریف لے گئے اور وہاں خانوادے کے صاحبزادگان کی محبتوں میں سرشارلو ٹے ۔ برادر محترم نے سجادہ نشینی کے جلسے کو خطاب فرماتے ہوئے حضرت نعیم میاں صاحب قدس سرہ کی علمی ، روحانی اور ملی خدمات کا تذکرہ فرمایا اور اپنے خانوادے سے ان کے خانوادے کے قدیم مراسم کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت امین ملت سے حرم شریف میں ان سے ملاقات کے بہت سے واقعات بھی حاضرین کی سماعتوں کی نذر کیے ۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ حضرت والا کے در جات بلند فرمائے اور ان کے روحانی فیض سے خانوادۂ جائس کی بہاریں یوں ہی قائم رہیں”
(اہل سنت کی آواز،مارہرہ شریف”خصوصی شمارہ عشرۂ مبشرہ”نومبر2012،ص:19.20)
*اوصاف وکمالات*
حضورشیخ طریقت کے محاسن وکمالات،اخلاق وکردار کا ہرکوئی معترف ومداح نظرآتاہے،مریدین ومعتقدین ومتوسلین تواپنی جگہ،کہ وہ توان کی توجہات وعنایات کا خاص مرکز ہیں۔اورسچے مریدکے لئے تواس کاپیروشیخ ہی سب کچھ ہوتا ہے۔اگرمریدومعتقداپنے تمام معاملات میں اپنے شیخ کی طرف رجوع کرتاہے تویہ اس کے لئے ضروری بھی ہے۔
مگر ہم نے دیکھا اور پڑھا کہ حضور شیخ طریقت کی مقناطیسی شخصیت نہ صرف اہل ارادت میں مقبول ومحبوب تھی بلکہ ان کے حسن اخلاق سے اہل خانقاہ تک متاثر نظرآتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آپ جہاں بھی تشریف لے جاتے،اہل علم وعقیدت بڑے احترام سے پیش آتے،اورآپ کی خوش اخلاقی سے متاثر دکھائی دیتے۔کیوں کہ حسن اخلاق ہی سے دلوں پرقبضہ جمایا جاسکتا ہے،صوفیاۓ کرام نے ہمیشہ اسی طریقہ کواپنایااوردین متین کی نشرواشاعت فرمائ۔

*شیخ طریقت اورامین ملت*
حضرت شیخ طریقت  علیہ الرحمہ سے امین ملت حضرت ڈاکٹر سید امین میاں صاحب قبلہ برکاتی صاحب قبلہ مدظلہ العالی سجادہ نشین خانقاہ عالیہ قادریہ برکاتیہ مارہرہ شریف کے بھی دیرینہ تعلقات تھے۔
غالباً 2004میں جب دارالعلوم فیضان اشرف باسنی ناگورشریف کے سالانہ اجلاس میں آپ کی تشریف آوری ہوئی ،اس وقت آپ دارالعلوم اسحاقیہ جودھ پور کے سالانہ اجلاس میں شرکت فرماکر مفتی اعظم راجستھان حضرت علامہ مفتی محمد اشفاق حسین نعیمی علیہ الرحمہ کی گذارش پروالدماجدمفتی اعظم باسنی حضرت علامہ مولانا مفتی ولی محمد صاحب قبلہ رضوی سربراہ اعلیٰ سنی تبلیغی جماعت باسنی ناگورشریف کے ہمراہ باسنی تشریف لائے تھے۔
رات میں سالانہ اجلاس تھا،پورااسٹیج علماومشائخ سے  کچھا کھچ بھرا ہوا تھا حضورمفتی اعظم راجستھان اورحضورشیخ طریقت بھی بنفس نفیس اپنے وجود مسعود کے ساتھ رونق افروز تھے،حضرت ڈاکٹر سید امین میاں صاحب قبلہ برکاتی کی آمد ہوئی،شان داراستقبال ہوا،جب آپ مائک پر تشریف لائے تو بڑے ہی پروقار انداز میں فرمایا”*کہ آج امین برکاتی کوکسی چیزکاکوئ خوف وغم نہیں ہے کہ آج میرے ہاتھ میں یہ ڈنڈاحضوراشفاق العلماء مفتی اعظم راجستھان دامت برکاتہم العالیہ کاہے اورمیری پیٹھ پر میرے عم محترم حضرت سید نعیم اشرف صاحب قبلہ جائسی کادست شفقت ہے”۔*
اس طرح کی باتیں یقیناًباعث سکون قلب و نظر ہوتی ہیں
اللہ تعالیٰ ہمیں احترام شخصیت کاصحیح معنی میں جذبہ عطافرمائے۔
*احسن العلماء اورخطیب ایشیاویورپ*
شارح حدائق بخشش حضوراحسن العلماء سیدمصطفیٰ حیدرحسن میاں برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ خطیبِ ایشیا و یورپ ،شہزادۂ نعیم الاصفیاحضرت علامہ الشاہ سیدمحمداشرف کلیم صاحب قبلہ مدظلہ العالی اشرفی جائسی زیب سجادہ نشین آستانہ عالیہ احمدیہ اشرفیہ جائس شریف  کی شہرہ آفاق خطابت سے بڑے متاثر تھے جیسا کہ حضرت الشاہ سیدنجیب حیدرصاحب قبلہ برکاتی  مارہروی مدظلہ العالی نے تحریر فرمایا جوبڑا ہی مستندقول ہے۔
موجودہ حالات کے تناظر میں خانقاہوں سے ایسے متاثر کن نظریات کی اشاعت اشد ضروری ہے تاکہ دوریوں کادورختم ہواور قرب وتعلقات کاعہدشروع ہو،جواہل ارادت وعقیدت کے حق میں یقیناً باعثِ فخر وسعادت اورقابل تقلید وکرامت وعزت ہے۔
کیوں کہ مشائخ وعلماہی آئیڈیل ہواکرتے ہیں،اگرہماری خانقاہوں کا اتحاد قائم رہے گا توعوامی طبقہ خودبخود راہ راست پر قائم رہے گا،ان میں کسی طرح کی بدگمانی پیدانہ ہوسکے گی،اوراہل سنت ہی کی ترویج و ترقی اورحسن پذیرائی دوردورتک نظرآۓ گی۔
حضرت شیخ طریقت علیہ الرحمہ سادات کچھوچھہ وجائس کی قدآوراورمقبول ترین شخصیت  تھی جن کے وجودمسعودسے نہ صرف ہندوستان معطرومشک با رتھا بلکہ بیرون ہند بھی آپ کے ہزاروں مریدین و معتقدین و متوسلین پاۓ جاتے ہیں۔
صوفیانہ اوصاف وکمالات سے متصف آپ کی شخصیت کے کئی ایک ممتازونمایاں پہلو ہیں جن پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے لئے کئ ایک دفتردرکارہیں ،مجھے صرف اتنا بتانا ہے کہ آپ تمام خانقاہوں میں یکساں مقبول تھے،بریلی شریف ،مارہرہ شریف،سے آپ کے روابط وتعلقات بڑے گہرے اور مستحکم تھے۔جوآج بھی تاریخی روایات میں مشہورومحفوظ ہیں۔
*نعیمی فیضان*
اہل باسنی پرآپ کافیض خوب برسا اور آج بھی آپ کے خانوادہ کافیضان آپ کے شاہزادگان عالی مرتبت کے ذریعہ برس رہاہے ان شاءاللہ تعالیٰ برستارہے گا۔
خطیب اعظم حضرت سیدکلیم اشرف صاحب قبلہ،صوفی ملت حضرت سیدقسیم اشرف حسن میاں دامت برکاتہم العالیہ کی آمدورفت اور فیضان وتربیت سے اہل راجستھان  مخدومی ونعیمی فیوض و برکات سے مستفید ومستنیرہورہے ہیں ان شاءاللہ تعالیٰ یہ سلسلہ جاری وساری رہے گا اورشیخ طریقت کا روحانی فیضان ہماری دستگیری کرتا رہے گا۔
مولیٰ تعالیٰ حضورشیخ طریقت علیہ الرحمہ کی روحانیت سے تمام اہل محبت کو مالامال فرمادے۔آمین۔