علما و مشائخ

حضور نعیم المشائخ کے چندتبلیغی اسفار !

از : نازش مدنی مرادآبادی
استاد : جامعۃ المدینہ، ہبلی کرناٹک

نعیم العلماء والمشائخ، شیخ طریقت، رہبر ملت، غازی زماں، مرشد دوراں، عارف باللہ حضرت علامہ الشاہ سرکار سید نعیم اشرف الاشرفی الجیلانی مخدوم جائسی قدس سرہ العزیز خانوادہ اشرفیہ کی انتہائی عظیم المرتبت اور ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے جن کے دم سے ناصرف ہند بلکہ بیرون ہند بھی امت مسلمہ کو کافی رہنمائی حاصل ہوئی ہے۔
        آپ علیہ الرحمہ نے جائس میں حضرت علامہ مولانا عبد المصطفیٰ جائسی ،امین شریعت علامہ سید رفاقت علی مفتی اعظم کانپور  اور امام النحو، سند المحدثین حضرت علامہ الشاہ سید غلام جیلانی محدث میرٹھی علیہم الرحمہ سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں محدث اعظم ہند علامہ سید محمد الاشرفی الجیلانی محدثِ کچھوچھوی قدس سرہ سے سفر اور حضر میں تعلیم حاصل کی۔ اسی طرح آپ نے دوران سفر احمدآبادمیں لطائف اشرفی کا عمیق مطالعہ کیا اور  پھر  “محبوب یزدانی “کتاب تالیف فرمائی۔ اردو زبان میں یہ کتاب پہلی دفعہ  ستر سار پہلے طبع ہوئی اور سوانح اور تعلیمات مخدومی کی بڑے پیمانے پر اشاعت کی۔اب یہ کتاب مارشش میں کِریول زبان میں گجرات میں گجراتی اور بنگلادیش میں بنگلہ زبان میں شائع ہوچکی ہے۔   بنگلادیش موریشس، پاکستان ، انگلینڈ کینیڈا اور انڈیا میں حلقۂ ذکر میں اور وعظ وبیان میں شریک لوگ ،آج بھی ان کیفیات  کا ذکر کرتے نہیں تھکتے۔ اور آج بھی ان کے حلقے میں یہ محفلیں جاری ہیں۔
۱۹۴۳ سے لے کر اپنے  وصال سے دوسال پہلے تک لگا تار لگ بھگ ۶۵ سال آپ کی عمر عریز  کے سفر  میں گزرے۔ اوسطاً دس ماہ ہر سال سفر میں گزارتے اور باقی ایام خانقاہ میں قیام کرتے۔ رمضان شریف میں التزاماً خانقاہ جائس میں قیام فرماتے۔اسی طرح قرب و جوار کے مریدین کے ساتھ خانقاہ میں علمی وروحانی محافل انعقاد پذیر رہتیں جماعت کی پابندی اور حسن اخلاق کی ازحد تاکید فرماتے صوفیاء کا خاص عنوان ، احسان پر زور دیتے اور خود ان سب کی عملی تصویر تھے قناعت آپ کی نمایہ صفت تھی۔
        آمدم برسر مطلب بات ہو رہی تھی آپ علیہ الرحمہ کے تبلیغی اسفار کی  آپ علیہ الرحمہ  کی حیات مبارکہ کا بیشتر حصہ دین و سنت کی ترویج و اشاعت اور امت مسلمہ کی خیرخواہی کی خاطر سفر میں گزرا۔اور اب بعد وصال آپ کے شہزادگان بطریق احسن یہ مشن لے کر رواں دواں ہیں۔اس سلسلہ میں بندہ ناچیز کو جو معلومات آپ کے شہزادے صوفی ملت، یادگار اسلاف، مشفق وکرم فرما حضرت علامہ الشاہ سید قسیم اشرف المعروف حسن میاں دام اقبالہ نے فراہم کی قارئین کی نذر کرتا ہوں۔

سفر حجاج مقدس
۲۷/سال کی عمر میں آپ علیہ الرحمہ نے دیار مقدس حرمین طیبین کا مبارک و مسعود سفر اختیار فرمایا۔جب اس پہلے سفر حج سے آپ کی واپسی ہوئی تو بستی کے بڑے بزرگوں نے پوچھا کہ شہزادے!  کیا کیا مانگا  تو آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا علم اور عمل کی دعا مانگی۔ اس سفر کا اکثر ذکر اس تعلق سے بھی رہتا کہ ۲۸/محرم عرس مخدومی میں جائس خلاف توقع حاضری ہوگئی۔ ہوا یہ کہ قدوائی  صاحب سفیرِ ہند برائے سعودیہ جو قریب ہی بارہ بنکی کے تھے انہوں نے ملاقات میں کہا کہ عرس مخدومی میں آپ کی شرکت چاہتے ہیں تو ابھی حال ہی میں  ہندوستان کے لیے پروازیں شروع ہوئی ہیں۔ میں واپسی کا سفر بجائے بحری جہاز کے ہوائی جہاز سے کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ الحمد للّٰہ انتظام ہوگیا اس طرح صاحب سجادہ  کو عین عرس کے دن مریدین  اپنے درمیان پا کر ایک روحانی مسرت اور کیفیت سے سرشار ہوگیے۔ اور شیخ طریقت کی اپنے مشائخ سے نیازمندی اور ارادت کی قوت کا لوگوں کو ادراک ہوا۔

سفرِ پاکستان
سفر پاکستان کے بابت حضرت حسن میاں دام ظلہ فرماتے ہیں:  ۱۹۹۰ میں میرا پہلا سفرِِ پاکستان آپ کی مصاحبت میں ہوا۔ اس سفر میں بھی معمولاتِ صوفیاء کے مطابق بزرگوں سے ملاقاتیں مدارس اور آستانوں کی حاضریاں رہیں ملتان، اوچ ، لاہور اور پاک پٹن شریف جانا ہوا۔  کراچی میں ان دنوں امیر اہل سنت اور دعوت اسلامی کا فیض ہرسو محسوس کیا جارہا تھا۔حضرت والد گرامی سبزعمامہ چھوٹوں بڑوں کے سروں پر سجا دیکھتے تو مسرت کا اظہار کرتے اور کہتے کہ *جو سنت شریف اکثر لوگوں نے ترک کردی ہے مولانا نے اس کو زندہ کر دیا۔* اورنگی یا کورنگی سے کہیں جا رہے تھے تو ہم نے دیکھا کہ ایک بہت بڑا اجتماع ہرے عمامے میں صلاۃ وسلام پڑھ رہا ہے۔تو ہم نے دیکھا کہ حضرت اور ساتھ والے احباب سب اپنی اپنی گاڑیوں سے اُتر کر صلاۃ وسلام میں شریک ہوگیے۔ الحمد پیرو مرشد کے ساتھ پہلی دفعہ دعوت اسلامی کے اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ تب ٹرینوں کے طویل سفر عام بات تھی۔  کبھی بھی کسی سفر میں  آپ علیہ الرحمہ کی نماز قضا نہیں ہوئی۔ یہ ایک خاص بات میں نے ازخود نوٹ کی اور اکثر سفر میں ساتھ والوں کے درمیان یہ موضوع رہتا کہ ٹرین کسی نہ کسی اسٹیشن پر نماز کا وقت گزرنے سے پہلے رک جاتی اور نماز قضا نا ہوتی یہ اُن پر ایک اہم انعام تھا۔ پاکستان کے پہلے سفر میں سند الصوفیاء ابو المعین سیدنا محی الدین عرف اچھے میاں علیہ الرحمہ کے ساتھ واپسی پر حضرت سے سلسلۂ منوریہ معمریہ قادریہ کی خلافت و اجازت ملی۔حضرت اچھے میاں ،حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے مرشد اور برادر اکبر سیدنا اشرف حسین علیہ الرحمہ کے پوتے ، سرکار کلاں علیہ الرحمہ کے بہنوئی اور محدثِ کچھوچھوی علیہ الرحمہ اور مخدوم ثانی کے ہمزلف تھے۔کچھوچھہ شریف کے مشہور مجذوب بزرگ امیر ملت علیہ الرحمہ اور بےشمار اکابر علما و مشائخ أپ کے شاگرد اور مرید تھے۔

سفر بنگلہ دیش
۱۹۴۸ میں  آپ کا پہلا بیرون ملک کا سفر بنگلہ دیش کاہوا۔ اس سفر کے بابت حضرت حسن میاں دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
ساتویں دہائی کے آخر میں مشاہدین اورمریدین سے میں نے اس سفر کی روداد سُنی تھی اس سفر میں کئی کرامتوں کا ذکر بھی سُنا۔ آپ ہمراہیوں کو تعلیم وتعلم  کی نصیحت کرتے۔ اور خود بھی ہمیشہ سفر و حضر میں مطالعہ کرتے۔

راجستھان میں چند تبلیغی اسفار
راجستھان کے سفروں کے بابت حضرت حسن میاں فرماتے ہیں:
راجستھان کے تقریباً ہر سفرمیں اشفاق العلماء، بابائے قوم وملت، مفتئ اعظم راجستھان حضرت علامہ الشاہ مفتی محمد اشفاق حسین نعیمی اجملی علیہ الرحمہ سے حضرت کی ملاقاتیں رہتی خاص طور پر باسنی میں دارالعلوم فیضان اشرف کے سالانہ اجلاس میں تو ان دونوں بزرگوں کا اجتماع لازمی امرتھا۔ فیضان اشرف کی تاسیس سے لے کر وصال سے دوسال پہلے تک آپ علیہ الرحمہ برابر سالانہ جلسے میں شریک ہوتے رہے۔ مجھ کو کو ان دونوں بزرگوں کو ساتھ ساتھ سفر اور حضر، مصلیٰ اور دستر خوان پر ہی نہیں بلکہ حاجی انور حسن اشرفی علیہ الرحمہ کی خانقاہ میں ایک چھت کے نیچے رات گزارتے بھی دیکھنے کی سعادت ملی۔ دونوں بزرگوں کو ایک دوسرے کا بڑا پاس اور لحاظ  تھا۔ آپس  علمی ،عملی ، معاشی اور سیاسی زبوں حالی اور اس کے تدارک  کے کیا اسباب ہوں۔ کہاں کہاں اور کب کب اور کس عہد میں کیا ہوا اور کیا  ہونا چاہئے ان تمام معاملات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی۔ حضرت مرشد گرامی کو تاریخ اور سیر  پر  خاص دست رس تھی ، مفتی صاحب علیہ الرحمہ بغور عروج و زوال کی داستان ایک دل کو چھو لینے والی مسکراہٹ کے ساتھ سنتے۔ اور پھر کسی کے گھر دعا کے لیے ساتھ ساتھ روانہ ہو جاتے۔
یہ چند اسفار کی روداد تھی جس کو صاحبزادہ والا شان حضرت علامہ قسیم اشرف اشرفی جیلانی جائسی دام ظلہ النورانی نے بندہ ناچیز کو بیان کیا۔
اس کے علاوہ بھی آپ علیہ الرحمہ کے بیرون ممالک مثلاً  ماریشش،یورپ اور کینیڈا کے متعدد اسفار  ہوئے۔ اگر تمام  کا احاطہ کیا جائے تو ایک مستقل کتاب معرض وجود میں آ سکتی ہے۔
دعا ہے اللہ جل شانہ حضور نعیم المشائخ کا فیضان چرخ اہل سنّت پر ہمیشہ صدا جاری و ساری رکھے۔
آمین بجاہ طہ ویسین