مضامین و مقالات

کام ہمہ جہت ہے اپنی جہت متعین کیجیے اور شروع ہو جائیے

ازقلم: پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)

تنقید و تعاقب بھی ایک اہم اصلاحی شعبہ ہے جس کا سلسلہ لگ بھگ زندگی بھر جاری رہتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ آپ کا اپنا تعمیری شعبہ بھی جاری رہنا چاہیے. تنقید کے ذریعے علمی راہوں سے کانٹے دور کرنے کے ساتھ ساتھ؛ اُن راہوں پر اُسی تناسب سے یا اس سے زیادہ مقدار میں؛ تعمیری سرگرمیوں کے درخت لگانا بھی ناگزیر ہے. آپ نے کس قائد، کس عالم، کس غازی، کس شیخ، کس خطیب پر کتنی شدید اور کتنی کثیر تنقید کی ہے اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ کی اپنی ذات اور اپنی صلاحیت سے کتنی تعمیر وجود میں آئی ہے. پچاس تنقیدیں مل کر ایک تعمیر نہیں ہو سکتی البتہ کبھی کبھار ایک تعمیر اپنے اندر پچاسوں تنقیدوں کا حسن لیے ہوئے ضرور ہوتی ہے. پھر تنقید تنقید میں بھی فرق ہوتا ہے. محققین کی تنقید؛ تنقید ہوتے ہوئے بھی اپنے پہلو میں درجنوں علمی گوشے رکھتی ہے، جب کہ مبتدی یا نو وارد کی تنقید خود محتاج تنقید ہوتی ہے. ہمارا یعنی نوجوان علمی نسل کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم تنقید و تعاقب کے دائرے میں گھومتے ہوئے اتنا وقت گزار دیتے ہیں کہ اس دوران یا اس کے بعد؛ اپنی تعمیری سرگرمیوں کی طرف بے التفاتی یا بے رغبتی کا شکار ہو جاتے ہیں.

ہمارے دور میں جتنی تیزی سے کام کرنے کے وسائل پیدا ہوئے ہیں اتنی ہی تیزی سے وقت نے بھی اپنا دامن سمیٹنا شروع کر دیا ہے. وقت کی رفتار گرفت سے باہر ہے، موت یقینی ہے، قدم قدم پر بے سرو پا جذباتیت نے غفلت و انتشار کے جال بچھا رکھے ہیں. قحط الرجال کی مسموم فضا میں دور اندیشی، دماغ سوزی، عقل پروری اور دل جمعی جیسے مثبت رویّے مفقود ہوتے چلے جا رہے ہیں. ایسے میں علم نافع کی شمع لے کر تعمیر کی راہوں پر سرپٹ دوڑنا؛ یہی ایک واحد طریقہ ہے جو نوجوان علمی نسل کو تنقید در تنقید کے مایوس کن چکر سے نکال سکتا ہے. آج جب کہ بہت سے مستقل علمی شعبے؛ جدید ترتیب و تدوین کے خواہاں ہیں اور کثیر علمی مواد؛ تسہیل و تحشیہ کا متقاضی ہے، مزید یہ کہ کلّی فنون کے علاوہ مستقل جزئی اور شخصی میدانوں میں بھی نہ صرف یہ کہ کام کا امکان پیدا ہوا ہے بلکہ رضویات، خیرابادیات، مجددیات اور اقبالیات جیسے مستقل شخصی شعبے بھی وجود میں آ چکے ہیں. ایسے میں نوجوان نسل کے فارغین کو چاہیے کہ نشیمن پر نشیمن اِس طرح تعمیر کرتے چلے جائیں کہ غفلت، خیانت، خاندانی سطوت اور خانقاہی جمود کی بجلیاں گرتے گرتے آپ خود بے زار ہو جائیں.

کام ہمہ جہت ہے اپنی جہت متعین کیجیے اور شروع ہو جائیے. ضروری نہیں کہ مسلسل ہزاروں صفحات پڑھ دیے جائیں یا سینکڑوں صفحات رقم کر دیے جائیں. اگر نگاہ کسی تعمیری منزل پر جمی ہو تو زندگی کی بازی کچھوے کی چال سے بھی جیتی جا سکتی ہے. کام کا کوئی حساب نہیں ہوتا مگر حساب کا ایک دن ضرور ہوتا ہے. جب زندگی کی جمع پونجی کا حساب جوڑا جائے گا تو آپ کا روزانہ کا تھوڑا تھوڑا، معمولی اور بظاہر حقیر محسوس ہونے والا علمی کام بھی مجموعی طور پر قوم یا جماعت کے لیے سرمایہ افتخار سے کم نہ ہوگا۔