سیاست و حالات حاضرہ

یو۔پی۔ الیکشن نتائج اور مسلم روش لمحہ فکریہ

ازقلم: صابر رضا محب القادری نعیمی
القلم فاونڈیشن پٹنہ بہار

یو۔پی۔ کے بنام مسلم تقریباً تمام مکاتب فکر کے مراکز و مدارس سےاویسی صاحب کی حمایت ہوئی،کسی نے کھل کر تو کسی نے خاموش رہ کر رضا مندی دکھائی، اور یہ سبھی جانتے ہیں، تمام مکاتب فکر کے نمائندہ مراکز ومدارس بھی اس وقت یوپی ہی میں ہیں، باوجود اس کے کیا یہ سوچنے والی بات نہیں ہے، کہ ہماری قوم نے کسی ایک کی نہ مانا،
غور طلب امر یہ ہے کہ ہماری قوم اپنے اپنے علماء مراکز مدارس سے کتنا دور جاچکی ہے،
اور دوسرا یہ کہ اگر مسلمانوں کی اکثریت نے اکھلیش کو ووٹ بھی کیا تو پھر حکومت یوگی کی کیوں بن رہی ہے؟
مطلب صاف ہے کہ اکھلیش کو یادو اور سیکولرازم کے دعویدار غیرمسلموں نے ووٹ ہی نہیں کیا،
غیر مسلم اکثریت اور کچھ نام نہادمسلمانوں نے بی۔جے۔پی۔ کو ایک طرفہ ووٹ کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بھاری اکثریت کے ساتھ یوگی حکومت بننے جارہی ہے۔
اچھا کچھ لوگ کہتے ہیں اگر ہم اویسی کو ووٹ کر بھی دیتے تو وہ دو چار سیٹ جیت کر کیا کرلینگے؟ ایسا کہنے والے یہ بتائیں کہ جب حکومت ہی نہیں بن رہی ہےتو اکھلیش اتنی سیٹیں جیت کر کیا کرلےگا۔
کاش مسلمان متحد ہوکر اویسی صاحب کو ووٹ کرتے تو کم ازکم پچاس 50سیٹوں پر جیت یقینی تھی، اورکوئی بھی حکومت ان کو چھوڑ کر نہیں بن پاتی، فائدہ یہ ہوتا کہ حکومت سازی میں ہم ہوتے اور ہماری مضبوط نمائندگی حصہ داری ہوتی۔
دنیا کی تمام قوموں کا مزاج ہے کہ وہ مخلصانہ قیادت کرنے والے اپنے مذہبی سیاسی قائدین کے ساتھ وفا کرتی ہیں، حالیہ نتائج یہ بتانے کے لیے کافی ہے یوگی اکھلیش مایا سے وفا کرتے ہوئے ان کی قوم نے نوازا، اور ان سے بڑھ کر ہماری قوم نے نوازا، ہاں اگر کسی نے اپنے قائد سے بے وفائی کی اور اپنی کوتاہ نظری کج فکری اور بے وفائی کا کھلے بندوں اظہار کیا تو وہ قوم مسلم ہے۔
اگر سوچنے سمجھنے اور فیصلہ لینے کا یہی مزاج رہا اور بے وفائی کا یہ عملی سلسلہ جاری رہا،تو یاد رہے کہ ع تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں
جمن ٹولہ کچھ تو سوچے کہ ان کے تئیں کیا ہورہا ہے اور وہ کیا کررہے ہیں۔