رمضان المبارک

استقبال رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں

ازقلم: محمدشمیم احمدنوری مصباحی
ناظم تعلیمات:دارالعلوم انوارمصطفیٰ سہلاؤشریف،باڑمیر (راجستھان)

یقیناً ہم بہت ہی خوش قسمت ہیں کہ ایک بار پھر ماہ رمضان المبارک کی سعادت نصیب ہونے والی ہے، ہمارے بہت سے دوست احباب، اعزاء واقرباء ایسے ہیں جو آج ہمارے درمیان نہیں ہیں اور بعض ایسے بھی ہوں گے جنہیں اگلا رمضان دیکھنا نصیب نہ ہوگا،اللّٰہ تعالیٰ اگلارمضان بھی ہمیں دیکھنا اور اس کے فیوض وبرکات سے مستفیض ہونا نصیب کرے-
دنیا کا یہ اصول ہے کہ اگر مہمان اپنے آنے سے قبل آمد کی اطلاع دے دے تو سنجیدہ معاشرہ اس کا دل وجان سے استقبال کرتا ہے،رمضان المبارک بھی اللّٰہ کامہمان ہے اور اپنے آمد کی خبر ماہ رجب سے ہی دیناشروع کردیتا ہے،ماہ رمضان اخروی مہمان ہے، دنیوی مہمان کی آمدپراگربروقت تیاری نہ کی جائے تو جس قدر سبکی وشرمندگی ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ رب کے مہمان کی آمد پر اگر کماحقہ تیاری نہ کی جائے تو کس قدر افسوس اور خسارے کی بات ہے،اس لیے ہمیں چاہییے کہ رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے ہی اس کے استقبال اور طلب کے لیے دل سے آمادہ ہوکر ذوق و شوق کے ساتھ رمضان کے احکام ومسائل کا علم حاصل کرنے کا اہتمام کریں-

جس طرح ہم اپنے کسی محبوب ومحترم مہمان کی آمدپر اہتمام اور تگ ودو کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ رمضان کی آمدپر ہمارے لیے ظاہری وباطنی تیاری ضروری ہے تاکہ ہمارا روحانی رشتہ اپنے خالق ومالک [رب] سے جڑ جائے،کیونکہ یہ اشتیاق براہ راست رب کائنات کی رضامندیوں، رحمتوں اور مغفرتوں کے حصول کا ہی اشتیاق ہے-
اور ویسے بھی مہمان کی آمدہر تیاری کی جاتی ہے اور مہمان جتنابڑااور اہم ہوتا ہے تیاری بھی اسی لحاظ سے کی جاتی ہے مثلا گھر صاف کیاجاتاہے، فرش کی صفائی کی جاتی ہے، دروازوں اور دریچوں کے پردے تبدیل کیے جاتے ہیں،گلدستوں سے گھر کو آراستہ کرکے گھر کی رونق بڑھا دی جاتی ہے،رمضان بھی ایک مہمان ہے اس کی بھی تیاری ہونی چاہییے، گھر کی صفائی کی طرح دل کی صفائی ہو،فرش کی صفائی کی طرح عقائد واعمال کی درستگی اور اصلاح ہو،گھر کو آراستہ کرنے کی طرح اخلاق وکردار کو سنوارناچاہییے، رمضان ہمارا انتہائی معزز مہمان ہے ہمیں اپنے اس معزز مہمان کی خوب خوب قدر کرنی چاہییے اور اپنے اعضاء وجوارح کو اللہ کی معصیت و نافرمانی سے محفوظ رکھ کر اس ماہ کاتقدس باقی رکھنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہییے-

ماہ رمضان آنے سے پہلے اس کی تیاری اور استقبال خود حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی گرم جوشی سے اس ماہ کا استقبال کیا ہے بایں طور کہ دیگر مہینوں کے مقابل اس ماہ میں زیادہ عبادت وریاضت کے لیے مستعدی کا اظہار فرمایا ہے۔
اور اپنےاہل خانہ کو بھی اس ماہ کے استقبال کے لیے تیار فرمایاکرتے تھے-
جیسا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان فرماتی ہیں (ترجمہ) جب رمضان المبارک شروع ہوتاتو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کمربستہ ہوجاتے اور جب تک رمضان گزر نہ جاتا آپ بستر پر تشریف نہ لاتے (شعب الایمان)۔

اس کے علاوہ اور بھی احادیث مبارکہ اس امر پردال ہے کہ مالک کونین آقا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان بلکہ رجب سے ہی رمضان کےاستقبال کےساتھ اس کے برکات و حسنات حاصل کرنے کےلیے تیار ہوجاتےاور شدت سےاس کی آمد کا انتظار فرماتے۔
اوربارگاہ الہی میں دعائیں کرتے ”اَللّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِى رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَ بَلِّغْنَا رَمَضَان“ اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اورہمیں رمضان کا مبارک مہینہ نصیب فرما۔( مجمع الزوائد وغیرہ)

حاصل کلام یہ ہے کہ استقبالِ رمضان حدیث سے ثابت ہے اور اس کی حکمت بھی سمجھ میں آتی ہے کہ رمضان المبارک کی برکات کو اپنے دامنِ ایمان وعمل میں سمیٹنے کا ایک مزاج اور ماحول پیدا ہو، کیونکہ جب دل ودماغ کی زمیں زر خیز ہوگی، قبولِ حق کے لیے اس میں نرمی اور لطافت پیدا ہوگی تو ایمان دل میں جڑ پکڑے گا‘ اعمالِ خیر کی طرف رغبت ہوگی اور شجرِ ایمان ثمر آور اور بار آور ہوگا ـ

ویسے عام زندگی میں سفر شروع کرنے سے پہلے سفر کی تیاری کی جاتی ہے-چنانچہ رمضان المبارک بھی تقویٰ،تزکیۂ نفس اور اللہ کو راضی کرنے کے اہم ترین سفر پر مشتمل ایک بابرکت مہینہ ہے-لہٰذا رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے اس کی تیاری کریں-اپنے روزمرّہ مشاغل ابھی سے کم کرکے زیادہ وقت عبادت وریاضت، تلاوت قرآن،ذکر واذکار اور دعاؤں کے لیے فارغ کریں نیز عیدالفطر کی تیاری اور شاپنگ ابھی سے کرلیں تاکہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی قیمتی راتیں بازاروں کی نذر نہ ہوجائیں-

رمضان المبارک یہ بڑا عجیب مہمان ہے۔ اس کی آمد کا طریقہ تو عجیب تر ہے۔ دبے پاﺅں تحفوں، نعمتوں، برکتوں اور رحمتوں سے لدا پھندا چپ چاپ ہماری زندگی میں چند ساعتوں کے لیے آتا ہے۔ جس نے اس کو پہچان لیا اور آگے بڑھ کر اس کا پرجوش خیرمقدم کیا، اس پر تو وہ اتنی بے حساب نعمتیں برساتا اور تحفے نچھاور کرتا ہے کہ جل تھل کردیتا ہے اور جس نے تن آسانی، سستی اور غفلت سے اس کا نیم دلانہ استقبال کیا، تو یہ پیکرِ جود سخا، دو چار چھینٹیں اس پر بھی چھڑک ہی جاتا ہے۔ اسی لیے اس میخانے کا محروم بھی محروم نہیں کہلاتا۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے مہینے میں میری امت کو پانچ ایسی نعمتیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھیں۔ اول: رمضان کی پہلی رات میں اللہ ان پر نظر کرم کرتا ہے اور جس پر اللہ نظر کرم کرتا ہے، اسے کبھی عذاب سے دوچار نہیں کرتا۔ دوم: فرشتے ہر رات اور اور ہر دن اس کے لیے مغفرت کی دُعا کرتے ہیں۔ سوم: اللہ اس کے لیے جنت واجب کردیتا ہے اور جنت کو حکم دیا جاتا ہے کہ روزہ دار بندے کی خاطر خوب آراستہ وپیراستہ ہوجاﺅ تاکہ دنیا کی مشکلات اور تھکاوٹ کے بعد میرے گھر اور میری مہمان نوازی میں آرام ملے۔ چہارم: روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ پنجم: رمضان کی آخری رات روزہ دار کے سارے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔

رمضان کی یہ ساری نعمتیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو حقیقی معنوں میں روزے دار ہوں۔ حقیقی روزے دار کون ہوتا ہے؟ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، اللہ کو اس کے کھانے پینے چھوڑنے سے غرض نہیں۔ رمضان کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ انسان صبح سے شام تک کھانا پینا چھوڑدے اور باقی خرافات میں لگا رہے۔ روزہ اصل میں زبان کا بھی ہو، ہاتھ کابھی ہو اور پاﺅں کا بھی ہو۔ آپ نے فرمایا روزہ صرف کھانا پینا چھوڑنے کا نام نہیں، بلکہ گالی گلوچ اور فضول گوئی چھوڑنے کا نام ہے۔ اگر کوئی تمہیں گالی دے یا تمہارے ساتھ جھگڑنے لگے تو تم کہو میں روزے سے ہوں۔“
جھوٹ، چغل خوری، لغویات، غیبت، عیب جوئی، بدگوئی، بدکلامی اور جھگڑا وغیرہ سب چیزیں اس میں داخل ہیں۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ ڈھال ہے۔ روزہ دار کو چاہیے بے حیائی کے کاموں اور لڑائی جھگڑے سے بچے۔ روزہ معاشرے کے غربا اور فقرا سے تعلق پیدا کرنے اور ان کی ضروریات پوری کرکے معاشرے میں امیر وغریب کے درمیان بھائی چارہ پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں غریب امیر کے درمیان جو دوری پیدا ہوئی ہے، وہ معاشرے کے امن وامان اور بھائی چارے کے لیے زہر قاتل ہے۔

روزے کے احکام پر عملدرآمد کرتے ہوئے اجتماعی افطار وسحر اور مل جل کر کھانے پینے کی مجالس کا اہتمام کرنا چاہیے۔ رمضان میں نمازوں کا خوب اہتمام کرنا چاہیے۔ نماز محمود وایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح زکوٰة کی ادائیگی پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ سحری، افطاری اور تراویح مسلمانوں پر اللہ کی ایسی خاص عنایات ہیں جو مسلمان معاشرے کو ایک الگ ممتاز حیثیت دلاتی ہے۔ اسلام مسلمانوں کو یہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ لوگوں کے مسائل اور مشکلات میں ان کا ساتھ دیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ان کا استحصال ہو۔
رمضان المبارک کے استقبال کے لیے کچھ اہم ہدایات: (۱)رمضان المبارک میں راتوں کی عبادت (تراویح تہجد وغیرہ) کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اس لیےان عبادات کو اچھے انداز میں بلا تھکاوٹ سر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ ابھی سے شب بیداری اور نفلی عبادات کا اہتمام کریں اور اپنے بدن کو عبادات کی کثرت کا عادی بنائیں تاکہ رمضان کی راتوں میں مشکل پیش نہ آئے۔

(۲)رمضان المبارک میں اوقات کی قدردانی بڑی اہم ہے آج کل انٹرنیٹ و سوشل میڈیا وقت کے ضیاع کا بڑا سبب بن رہے ہیں لہذا رمضان المبارک سے قبل ان کے استعمال کو ختم یا محدود کرنے کی کوشش کریں۔

(۳)رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے لہذا ابھی سے اپنے آپ کو دعائیں مانگنے کا عادی بنائیں نیز یہ بھی ضروری ہے کہ رمضان المبارک سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں کو زبانی یاد کیا جائے کیونکہ مسنون الفاظ پر مشتمل دعاؤں میں تاثیر بھی زیادہ ہوتی ہے اور قبولیت کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔

(۴)رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے، خوش نصیب لوگ اس ماہ میں تلاوت کی کثرت کا معمول بناتے ہیں لہٰذا ابھی سے تلاوت قرآن کو زیادہ وقت دینا شروع کردیں قرآن پاک صحیح مخارج کے ساتھ آرام آرام سے غنہ مد وغیرہ کو اچھی طرح ادا کرکے پڑھیں تاکہ رمضان المبارک کی آمد تک آپ کثرت سے اور اچھی طرح تلاوت کرنے کے عادی بن جائیں اگر آپ حافظ قرآن ہیں تو ابھی سے قرآن پاک دہرانا شروع کردیں۔

(۵)چونکہ رمضان المبارک کا ایک اہم مقصد "گناہوں کی بخشش” ہے،اسی لیے اسے "شھرالمغفرة” کہا جاتاہے اور ایک مشہور حدیث میں اس انسان کے لیے بددعا کی گئی ہےجورمضان المبارک پائے اور اپنے گناہوں کی مغفرت نہ کراپائے-
چونکہ رمضان المبارک نیکیوں کا موسم بہار ہے اور اس سے وہی انسان لطف اٹھا سکتا ہے جو گناہوں سے تائب ہو اور اس نے اپنے آپ کو موسم بہار سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنایا ہو اس لیے رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے اپنے گناہوں کی مغفرت کرانی چاہییے اور اس کے لیے بارگاہ خداوندی میں حاضر ہوکر بصدق دل توبہ واستغفار کرنی چاہییے-

(۶)رمضان المبارک سے پہلے ایک اور اہم بلکہ سب سے اہم کام رمضان المبارک کے احکام ومسائل سیکھنا ہے-یعنی رمضان المبارک کی تمام عبادات کے فضائل واحکام،روزہ رکھنے کے لیے کون سی چیزیں ضروری ہیں؟روزہ کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کن چیزوں سے مکروہ ہوجاتاہے؟تراویح کا کیا حکم ہے اور تراویح کی ادائیگی کاصحیح طریقہ کیا ہے،تراویح میں ختم قرآن کی کیا اہمیت وفضیلت ہے اور تراویح میں کل کتنی رکعتیں ہیں؟اعتکاف کا طریقہ کیا ہے اور اس کے احکام کیا ہیں؟اعتکاف کے دوران مسجد سے نکلنا کن حالات میں جائز ہے؟اعتکاف کب اور کیسے فاسد ہوجاتاہے؟ان کے علاوہ اور بھی رمضان المبارک کے بہت سے ایسے احکام ومسائل ہیں جن کا علم نہایت ہی ضروری ہے،کیونکہ بہت سارے حضرات وہ چیزیں کر گذرتے ہیں جن سے روزہ،تراویح یا اعتکاف فاسد ہوجاتاہے اور پھر مسئلہ معلوم کرتے ہیں حالانکہ اب اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں،عقلمندی تو یہ ہے کہ ان عبادات کے آنے سے پہلے ان کے احکام ومسائل سیکھیں-

بارگاہ مولیٰ تعالیٰ میں دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ: ہم سبھی مسلمانوں کو بار بار ماہ رمضان المبارک نصیب کرے، اور اس کے فیضان سے مستفیض فرمائے-