مذہبی مضامین

نعت خواں یا نوٹ خواہ

ازقلم: سبطین رضا محشر، کشن گنج بہار

بلاشبھہ نعت خوانی ایک مبارک اور محبوب عمل ہے جو زمانۂ سالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک چلا آرہا ہے اولیاے کرام نے بھی نعت خوانی کو عشقِ رسول کے حصول کے لیے بہتر ذریعہ قرار دیا ہے-
نعت در اصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت تعریف و توصیف اور شمائل و خصائص کے نظمی انداز کو کہتے ہیں- نعت لکھنے والے کو شاعر اور نعت پڑھنے والے کو نعت خواں کہتے ہیں، تاہم آج سے قبل کی نعت خوانی اور آج کی نعت خوانی میں بہت فرق آچکا ہے ایک زمانہ تھا جب نعت پڑھنے والا شعر کہتا تھا تو سننے والے کی جبینِ نیاز عقیدت سے جھک جاتی تھی سامعین عشقِ رسالت میں مستغرق ہوجاتے تھے مگر آج کے نعت خوانوں کا حال; نعت سنتے ہی موسیقی کی دُھنیں یاد آنے لگتی ہیں- عالم یہ ہے دینی کلام کو گانوں کی طرز میں پڑھ کے حضور اکرم کی مدح سرائی، صحابۂ کرام اہلِ بیت اطہار، اور اولیاے کرام کی شان میں منقبت پڑھتے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جاے کم ہے_
بنیادی طور پر یاد رہے گفتگو یہاں مروجہ ماڈرن نعت خوانی سے ہے نفسِ نعت خوانی سے نہیں-
نعت خوانی عشقِ رسول کا جہاں بہتر ذریعہ ہے وہی حضورِ اکرم کے ساتھ محبت کا اظہار بھی- نیز نعت خوانی جتنی بڑی سعادت ہے اتنی ہی بڑے اس کے آداب ہیں، اگر آداب کی رعایت کیے بغیر نعت پڑھی جاے تو ثواب کے بجاے گناہ کا خدشہ ہے- نعت خوانی کا اصل حسن اچھے کلام اور طرز میں پنہاں ہے مگر نعت خوانی کے مروجہ طریقے نے نعت خوانی کے مفہوم ہی کو یکسر بدل کر رکھ دیا-
مروجہ نعت خوانی وجہ عشق رسول یا رسالت مآب کی تعریف نہیں بلکہ ایک ایسا مذہبی بزنس ہے جس میں ” نعت خواں ” نعت خوانی کے ساری حدیں پار کرنے کے لیے ہردم تیار بیٹھا ہوتا ہے – مروجہ نعت خوانی کا کلچر جب تک آپ لوگ نعرہ نہیں لگائیں گے میں اسی مصرع کو پڑھتا رہوں گا، میں چاہتا ہوں کہ پیچھے کی صفوں سے دو جوان کھڑے ہو اور نعرہ لگاے، میں اب دیکھنا چاہتا ہوں آگے کے صفوں میں ان دونوں کے ٹکر کا کون ہے- خود نعت پڑھنے والا بھی جانتا ہے نعت خوانی ساؤنڈ سسٹم روپیے پیسے واہ واہی اور نعروں جیسی چیزوں کا نام نہیں بلکہ نعت خوانی کا حسن ایک اچھے کلام اور خوب صورت طرز میں پنہاں ہے
تو سب سے پہلا سوال یہ ابھر بن سامنے آتا ہے مروجہ نعت خوانی کے قصور وار کون ہیں! اور اس کی شروعات کیسے ہوئی!!

مروجہ نعت خوانی کے قصور وار صرف نعت خواں ہی نہیں ہم سب برابر کے شریک ہیں- ہم نے محفلیں سجائی، ہزاروں روپے دے کر بلایا، واہ واہی کی، نوٹوں کی بارشیں کیں نتیجہ نعت خواں پیسوں کی لالچ میں آکر نُوٹ خواں بن گئے اور نعت خوانی ایک بزنس بن گئی- مروجہ نعت خواں کی بیشتر مجالس اور محافل میں آنے والے نعت خوانوں کی یہی صورتِ حال ہے- بس اب نوٹوں سے غرض-

موجودہ دور میں ہر چیز کی مارکیٹ میں قیمت ہے- ہر نظریہ کی ہر موقف کی قیمت ہے- افسوس کہ نُوٹ جیسے نعت خواں حضرات نے اس نعت خوانی جیسی فیلڈ کو ذریعۂ معاش بنا لیا جن کا پہلا سوال ہی یہ ہوتا ہے کہ لفافہ کتنا دوگے! فلائٹ کی ٹکٹ کے پیسے پہلے اکاؤنٹ میں آجانی چاہیے جب محفل میں آگئے تو جب تک سبحان اللہ نہیں بولیں گے، اپنے ہاتھوں کو فزا میں لہرا کر یا رسول اللہ نہیں بولیں گے میں اسی مصرع کو پڑھتا رہوں گا- مطلب صاف ہے نگاہیں جو لوگوں کی جیبوں پر ہیں کون پیسے دے رہا ہے کون پیسے اڑا رہا ہے کون واہ واہی کر رہا ہے جب تک آگے پیچھے 7 ہزار 8 ہزار روپے نہیں جمع ہو جاتا- ایسے نعت خواں سے یہی سوال ہے کہ یہ کون سا عشقِ رسول ہے جس رسول اکرم کی نعت سنانے کے لیے ایک ایک گھنٹہ کے بدولت ہزاروں روپے لیتے ہیں باقاعدہ طے کر کے بڑے بڑے معاوضہ لیتے ہیں- اس کو اگر یہ سمجھا جاے کہ یہ دین کی خدمت ہے تو یہ بالکل غلط ہے یہ دین کے نام پر کاروبار ہے کیوں کہ جہاں اظہارِ محبت کے بجاے بناوٹ ہو جہاں محبت میں ڈوب کر پڑھنے کے بجاے کسی اور فکر میں ڈوب کر پڑھنے کی فکر ہو تو جان لیجیے یہ عشقِ رسول سے محبت اور حضور اکرم سے اظہارِ محبت ہرگز نہیں محض نفس کے لذت شامل ہیں_

نعت خوانی ایک پیشہ نہیں ایک عبادت ہے جس سے دلوں میں عشقِ مصطفی شدت سے رچ بس جاے جو دل میں دبے حبِ رسول کی چنگاری میں آگ لگا دے مگر مروجہ نعت خوانی میں ایسی غلط تشریحات جو عقیدتا اور محبتا سامعین پر تھوپ دیا جاتا ہے جس کا حقیقت سے کچھ بھی تعلق نہیں- سیرتِ نبوی کے نام پر کوڑھا والی بڑھیا کا واقعہ ہو یا محبت رسول کے نام حضرتِ اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے دانتوں کو توڑنے والا من گھڑت واقعہ- اشعاروں کے ذریعے خود ساختہ انجام اور خود ساختہ واقعات کی ایسی بھرمار; سامعین کا ذہن اب بن رہا ہے کہ اب نماز روزوں کی کوئی ضرورت نہیں ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمادیں گے- یہ بھی خبر نہیں کہ اشعاروں کے ذریعے جو میسج لوگوں تک پہنچ رہا ہے صحیح ہے یا نہیں بس دیکھا دیکھی سنا سنی میں کام چل رہا ہے ذرا ھاتھ اٹھا کر ذرا ھاتھ لہرا کر ذرا مل کر زور سے بولیں ذرا جھوم کر بولیں یہی تربیت دی جارہی ہے سامعین کو- صرف داد حاصل کرنے کی کوششیں- اسی درمیان نظر پیسوں پر زیادہ ہوتی ہے اور پڑھے جانے والے کلام پر بہت ہی کم دھیان ہوتا ہے دائیں بائیں روپیے ایٹھ کر پھر بھی کہتے ہیں ان کا منگتا ہوں جو منگتا نہیں ہونے دیتے_

اس کام میں بانیان محافل اپنا کردار اچھی طرح سے کر سکتے ہیں کہ وہ محافل کو اشاعتِ دین کا پلیٹ فارم بنائیں ذریعۂ معاش بننے نہ دیں اور نعت خواں حضرات نعت خوانی میں محض شفاعت شفاعت کا ذکر زیادہ نہ کریں سیرتِ نبوی کے ساتھ نماز کی پابندی کا بھی پیغام لوگوں تک پہنچائیں، سبحان اللہ کے ساتھ عملی طور پر دین کی جانب رغبت والے میسجز بھی پہنچائیں- نعت خواں حضرات اگر اپنی ذمہ داری ایمان داری سے نہیں ادا کریں گے اور محض نُوٹ کے چکر میں رہیں گے تو ایسا ہی ہوگا

رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی!