رمضان المبارک مذہبی مضامین

استقبال رمضان

ازقلم: سید خادم رسول عینی

اس کا استقبال کیجیے مومنو سنت ہے یہ
تحفہء نیکی لیے پھر آگیا ماہ صیام

اس شعر میں کہا گیا ہے کہ اے مومنو ! ماہ رمضان کا استقبال کرو کیونکہ یہ نیکی کا تحفہ لےکر آیا ہے اور ماہ رمضان کا استقبال کرنا سنت مصطفی’ ہے ۔

استقبال کا مطلب کیا ہے اور ماہ رمضان کا استقبال کیوں اور کیسے کیا جائے، آئیے اس پر غور و فکر کرتے ہیں۔

کسی آنے والے کو خوش آمدید کہنا استقبال ہے ۔مہمان نوازی کو استقبال کہا جاتا ہے ۔استقبال ماہ رمضان ایک وجدانی، روحانی اور باطنی کیفیت کا نام ہے ۔ مشہور حدیث ہے کہ شعبان کے آخری دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت ہی جامع خطبہ ارشاد فرمایا جس میں آپ نے صحابہء کرام کو ماہ رمضان کی اہمیت اور فضیلت سے روشناس فرمایا۔الغرض استقبال ‌ماہ رمضان حدیث سے ثابت ہے۔

جب کوئی مہمان ہمارے گھر آتا ہے تو اس کے استقبال کے لئے ہم‌ انتظامات و انصرامات کرتے ہیں، گھر کے در و بام‌ کو سجاتے/ سنوارتے ہیں، صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہیں۔
چونکہ ماہ رمضان بہت قیمتی، معظم اور بابرکت مہمان ہے اس لیے اس کے استقبال کے لیے ہمیں اپنی روح کو سنوارنا ہے ، اپنے اعمال و کردار کو بہتر بنانا ہے ۔

ماہ رمضان کی آمد سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار صدق دل سے کرلیں تاکہ رمضان کی پہلی تاریخ سے ایک نئی اور صاف ستھری زندگی کا آغاز کر سکیں ۔ ماہ رمضان کی پہلی تاریخ کی شب میں پہلی تراویح، پھر دیر رات میں سحری اور آنے والے دن میں روزے اور پھر شام کو افطار، پھر دوسری شب میں نماز تراویح ۔یہ ایک معمول ہے ، روز مرہ کا کام ہے جو پورے مہینے چلتا ہے الحمد لللہ۔

ماہ رمضان اتنا اہم کیوں ہے؟ ہم اس کا استقبال کیوں کریں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ماہ مومنوں کے لئے تحفے لیکے آتا‌ ہے۔کون سا تحفہ؟ نیکیوں کا تحفہ۔ماہ رمضان صرف نیکی لےکر نہیں آتا ، بلکہ نیکیوں کی تعداد میں اضافہ کرتا ہوا آتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ اگر مومن ماہ رمضان میں نفل ادا کرتا ہے تو اس کو ثواب فرض کا ملتا ہے۔اگر مومن ایک فرض ادا کرتا ہے تو اس کو ستر فرض کا ثواب ملتا ہے۔

تو پھر ایسے خیر خواہ اور مہربان مہمان کا پرتپاک انداز سے ایک مومن استقبال نہ کرے؟بیشک ہر مومن ، ہر مسلمان بڑی بے صبری کے ساتھ اس ماہ کا منتظر رہتا ہے ۔

آئیے ہم سب مل کر اس ماہ کا استقبال کرتے ہیں جس کے بارے میں قرآن فرماتا ہے شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن۔
آئیے اس کا استقبال کرتے ہیں جس کو ایمان کا مہینہ کہا گیا۔
اس‌ کا استقبال کرتے ہیں جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے نازل کئے گئے۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی۔
اس ماہ کا استقبال کرتے ہیں جس میں حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور اتری۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل ہوئی۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جس میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اترا ۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جو ماہ انوار بھی ھے اور ماہ بخشش و مغفرت بھی۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جو درجات جنت کے حصول کا مہینہ ہے۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جو دوزخ کے طبقات کی نجات کا مہینہ ہے۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جو عابدوں کا مہینہ ہے۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جو توبہ کرنے والوں کا مہینہ ہے۔
اس‌ کا استقبال کرتے ہیں جو اہل معرفت کا مہینہ ہے۔
اس‌ کا استقبال کرتے ہیں جو عارفوں کا مہینہ ہے۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جو امن و اماں کا مہینہ ہے۔
اس کا استقبال کرتے ہیں جس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جسے قدر والی رات کہتے ہیں اور اس رات کے بارے میں قرآن فرماتا ہے:
انا انزلنا ہ فی لیلۃالقدر
وما ادراک ما لیلۃ القدر
لیلۃ القدر خیر من الف شھر

الحمد لللہ پھر سے ہماری زندگی کے باغ میں بہار دلکش بن کر ماہ رمضان آیا ہے ۔آئیے صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر اس کا استقبال کریں اور پورے انتیس / تیس دن اس کی قدر کریں ، اس مہینے کا کوئی بھی لمحہ ضائع ہونے نہ دیں ۔ پتہ نہیں کل ہو یا نہ ہو، آئندہ ماہ رمضان تک زندگی باقی رہے یا نہ رہے ۔

خیر ، اللہ سب کو امن و اماں میں رکھے ۔آمین

ماہ رمضان میں عبادت کئی انداز سے کی جاتی ہے ۔روزہ رکھنا خود ایک اہم عبادت ہے جس کا اجر اللہ تعالیٰ خود عطا فرمائیگا ۔
اس لیے راقم الحروف نے کہا ہے:

صائموں کی افضلیت عینی اس سے جان لو
اجر ان کو دیتا ہے خود کبریا ماہ صیام

پانچوں وقت کی نماز پڑھتے ہیں ، جس میں کل فرض نمازیں سترہ رکعتوں کی ہیں۔ایک فرض ادا کرینگے تو ستر فرائض کا ثواب ملےگا۔سترہ کو ستر میں ضرب دیجئے۔گیارہ سو نوے ہوئے۔۔پھر معراج کا واقعہ یاد کریں ۔ معراج کے واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ہم دن میں پانچ وقت کی نماز پڑھیں گے ، لیکن پچاس وقت کا ثواب ملےگا۔ لہذا اس کو اکاؤنٹنگ میں لاتے ہوئے گیارہ سو نوے کو دس پر ضرب دیں ۔کتنا ہوتا ہے ؟ گیارہ ہزار نو سو ہوتا ہے۔گویا ماہ رمضان میں ہم روزانہ سترہ رکعت فرض نماز ادا کرینگے ، لیکن ثواب گیارہ ہزار نو سو فرض نمازوں کا ملےگا۔ اس سے رمضان کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ، یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ خدا بڑا رحیم و کریم ہے ، خدا صرف رحیم نہیں بلکہ رحمان بھی ہے اور یہ بھی پتہ چلا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رحمت عالمیں ہیں کہ آپ کے صدقے آپ کی امت کو یہ شرف عظیم حاصل ہوا۔
سحری کرتے ہیں اور افطار کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔لیکن ہم ماہ رمضان کی شروعات کس عبادت سے کرتے ہیں ؟ اس عبادت کا نام کیا ہے؟ اس عبادت کا نام ہے نماز تراویح۔آئیے پہلے معلوم کرتے ہیں تراویح کی فضیلت کیا ہے۔

نماز تراویح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ تراویح بیس رکعات پر مشتمل ہے۔ یہ احادیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تراویح پڑھی ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نماز تراویح باجماعت قائم فرمائی۔وہ عمر جن کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔ وہ عمر جن کو فاروق کا لقب خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کا اہتمام کیا اور اسے سنت قرار دیا۔

ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس قدر اہتمام سے تراویح پڑھنے کی ہدایت کیوں دی؟ کجھ خاص وجہ تو ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سنی تھی کہ عرش الٰہی کے اردگرد ایک جگہ ہے جس کا نام ہے حضیرۃ القدس ، جس میں فرشتے عبادت الٰہی میں مشغول رہتے ہیں ۔ یہ فرشتے ماہ رمضان کی راتوں میں خدا سے اجازت لےکر زمین پر اترتے ہیں اور وہ بنی آدم کے ساتھ مل کر نماز پڑھتے ہیں ۔ امت محمدیہ میں جس نے ان کو چھوا یا انھوں نے جس کو چھوا تو وہ ایسا نیک بخت اور سعید بن جاتا ہے کہ وہ کبھی بد بخت و شقی نہیں بنتا ۔ یہی وہ حدیث رسول ہے جس سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ متأثر ہوئے اور آپ نے امت مسلمہ کو جماعت کے ساتھ نماز تراویح کا اہتمام کرنے کے لیے کہا۔

نماز تراویح کی خاصیت یہ ہے کہ نمازی قیام کے دوران پورا قرآن سنتے ہیں ۔قرآن سننا بھی ایک عبادت ہے اور قیام کی حالت میں سننا مزید باعث ثواب و برکت ہے۔
پورے رمضان میں تراویح کی نماز میں قرآن ختم اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ مسلمان قرآن کی بتائی ہوئی ہدایتوں کو از سر نو سن لیں ، سمجھ لیں اور پورے سال ان ہدایات پر عمل کرنے کی کوشش کریں ۔لیکن ہمارے ملک کے کتنے مسلمان قرآن کی آیات کو سن کے سمجھتے بھی ہیں ۔بہت کم تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو تراویح کے دوران قرآن سنتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں ۔
آخر اس کا حل کیا ہے ؟ قرآن کے نزول کا مقصد انسان کی ہدایت ہے ۔لیکن بیشتر مسلمان قرآن پڑھتے یا سنتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں۔اس مسءلہ کا حل یہ ہے ماہ رمضان میں جب بھی وقت ملے ، نماز سے پہلے یا نماز کے بعد قرآن کا ترجمہ پڑھیں ، ترجمہ کی تفسیر پڑھیں ۔کنز الایمان پڑھیں ، تفسیر نعیمی پڑھیں۔اپنے گھر میں ، اپنے سماج میں ، اپنی بستی میں ، اپنے شہر میں قرآنک کلچر قائم کریں ۔اگر ایسا ہوا ، اگر عوام قرآن پڑھنے کے ساتھ ساتھ ترجمہ و تفسیر بھی پڑھنے لگی تو پھر دنیا کی کوئی طاقت عوام کو گمراہ نہیں کرسکتی۔سلمان رشدی ہو یا ملعون وسیم ، ان کے لٹریچر سے عوام بہک نہیں سکتی، کیونکہ ان کے اعتراضات کے جوابات ترجمہء قرآن اور تفسیر میں مل جائیں گے۔

ہو سکتا ہے آگے چل کر ہمارے ملک میں یونیفارم سول کوڈ نافذ ہو ۔اگر ایسا ہوا تو بھی مسلمان جن کو قرآن کا علم ہے کبھی بہک نہیں سکتے کیونکہ مسءلوں کا حل قرآن میں ہے۔وہ نکاح، طلاق ، پروپرٹی کے مسائل کا حل قرآنی احکام کے ذریعہ آپس میں طے کرلیں گے یا اپنے شہر کے مفتی / مسجد کے عالم امام سے مسءلے کا حل کروالیں گے، وہ ملک کی عدالت کا دروازہ کبھی نہیں کھٹکھٹائیں گے ۔ اس طرح یونیفارم سیول کوڈ مسلم سماج کے لیے بے معنی رہ جائےگا۔

ہوسکتا ہے آئندہ سالوں میں گیتا کی پڑھائی کو اسکول میں لازمی قرار دے دیا جائے۔ایسی صورت میں اگر مسلم طلباء اپنے گھر / مسجد/ مدرسے میں قرآن ترجمہ و تفسیر کے ساتھ نہ پڑھے ہوں تو کیا ان کے بہکنے کا امکان نہیں ہوگا؟ اگر قرآن کی تعلیم ترجمہ و تفسیر کے ساتھ انہیں دیا گیا ہوگا تو انھیں یہ محسوس ہوگا کہ جو اخلاقی اقدار کے اسباق گیتا کے شلوک کے ذریعہ اسکول میں سکھائے جارہے ہیں وہ قرآن و حدیث میں بہتر انداز سے بتائے گئے ہیں ۔

ہمارے اکابرین سرکار اعلیٰ حضرت، حضرت صدر الافاضل ، مفتی احمد یار خان نعیمی علیہم الرحمہ وغیرہ نے اردو زبان میں اسلامی لٹریچر کا ایک ضخیم اثاثہ چھوڑا ہے تاکہ ہم پڑھیں اور راہ حق پر قائم رہیں ۔کیا یہ کتابیں صرف علماء کے استفادہ کے لیے ہیں ؟ ہرگز نہیں ۔عوام کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ یہ کتابیں پڑھیں تاکہ مختلف اقسام کی گمراہیوں کی حربوں سے بچ سکیں ۔مشہور حدیث ہے:
طلب العلم فریضۃ علی’ کل مسلم و مسلمۃ۔
یعنی علم دین حاصل کرنا ہر مسلم مرد و عورت پر فرض ہے۔ایک کالج میں پڑھا ہوا شخص / پڑھتا ہوا شخص بھی اگر چاہے تو علم دین سیکھ سکتا ہے اگر وہ ہمارے اکابرین کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔

بہر حال ، بات چل رہی تھی نماز تراویح کی فضیلت کی۔ چونکہ نماز تراویح مستحب ہے، سنت رسول ہے اس کا پڑھنے والا ، اس کا اہتمام کرنے والا بہت ثواب کا حقدار بن جاتا ہے الحمد لللہ ۔ اس کے ساتھ ساتھ نماز تراویح کے دنیاوی فوائد بھی ہیں ۔ہم نے ممبئی میں ڈاکٹروں کے ایک سیمینار میں شرکت کی تھی۔
سمینار کے سوال و جواب سیشن میں ایک سامع نے سوال کیا :

اگر کوئی شوگر کا مریض ہے کیا وہ ماہ رمضان میں روزہ رکھ سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب ایک غیر مسلم ڈاکٹر نے یوں دیا تھا:

ہاں ، ایک شوگر کا مریض ماہ رمضان میں روزے رکھ سکتا ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے جو ہدایتیں دی ہیں ان سب ہدایتوں پر عمل کرے :

سحری کرے لیکن کم مقدار میں کھانا کھائے،
سحری کے بعد‌ فورا” سو نہ جائے بلکہ پیدل مسجد جائے اور نماز فجر جماعت سے ادا کرے ،
پورا دن حسب معمول نارمل دن کی طرح گزارے اور ظہر و عصر کی نماز باجماعت ادا کرے،
افطار میں بسیار خوری نہ کرے ، افطار میں پھل ، سبزی ، ہائی فائبر فوڈ شامل کرے اور متوازن غذا کا استعمال کرے،
مغرب اور عشاء کی نماز باجماعت پڑھے ۔
بیس رکعت نماز تراویح مسجد میں باجماعت پڑھے۔
اگر کوئی شخص ان سب چیزوں کی پابندی کرے تو وہ اگرچہ شوگر کا مریض ہے ، روزہ رکھ سکتا ہے ۔ان شا ء اللہ ایک ماہ کے روزے کے بعد اس کے مرض میں بہتری آئیگی اور اس کے شوگر کی سطح بھی نارمل ہوتی ہوئی نظر آئیگی۔البتہ تجویز کردہ دوا اسے ترک نہیں کرنا ہے ۔

پتہ یہ چلا کہ نماز اور روزے کے دینی فوائد بھی ہیں اور دنیاوی فائدے بھی ۔ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ماہ رمضان کا روزہ ہم خود بھی رکھیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی رکھوائیں، نماز پنجگانہ اور تراویح جماعت کے ساتھ خود بھی ادا کریں اور اپنے اہل و عیال کو بھی تاکید کریں ۔

اس لیے راقم الحروف نے کہا ہے:

دے رہا ہے مسلموں کو ضابطہ ماہ صیام
نور ایماں اور تقویٰ کی ضیا ماہ صیام

اس کا استقبال کیجیے مومنو ، سنت ہے یہ
تحفہء نیکی لیے پھر آگیا ماہ صیام