مذہبی مضامین

حیات اولیاے کرام

ازقلم: مھدی حسن نظامی علیمی میرانی
جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم، اشرف نگر، کھمبات شریف، ضلع آنند، گجرات، انڈیا۔۔

اس خاکدان گیتی کی فیروز بختی ہی ہے کہ اس کے تن پر ایسے ایسے اہل الله کا ظہور مسعود ہوا کہ جنکی ذوات مقدسہ پر زمانہ آج بھی نازاں ہے ایک وقت تھا کہ جب انھیں بابرکت افراد کی روحانی وعرفانی موجیں
ا ٹھیں تو سارا عالم سیراب وفیضیاب ہوگیا اور ان شاءاللہ تاقیام قیامت سیرابی وفیضیابی کا یہ سلسلہ دراز رہے گا

یہاں پرہم حیات جاودانی سے مالا مال ہونے والے کچھ اہل الله کا ذکر خیر کریں گے تاکہ انکی کرامات و برکات سے خوب لطف اندوز ہوسکیں اور ترقی باطن بھی حاصل کرسکیں۔

سلطان المشائخ محبوب الہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رضی الله تعالٰی عنہ سے کسی نے استفسار کیا کہ بزرگوں کے احوال پڑھنے سے کیا ہوتا ہے تو آپ نے جوابا ارشاد فرمایا کہ خداوند قدوس کی محبت ملتی ہے اور رنج و غم سے نجات ملنے کے ساتھ کشایش ترقی باطن حاصل ہوتی ہے

سلطان العارفین حضرت خواجہ طیفور بن عیسیٰ المعروف بہ بایزید بسطامی رضی الله تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ اولیاء الرحمن کے حالات پڑھنا اور سننا عبادت ہے

عام بزرگوں کا ارشاد ہے کہ جو اہل الله کی ہمنشینی کا لطف وفیض حاصل کرنا چاہے وہ ان کے پاکیزہ احوال کو پڑھے یاسنے

سب سے پہلے یہ ذہن نشیں کرلینا چاہیئے کہ اہل الله چاہے زمین پر ہوں یا زمین میں بہر حال وہ زندہ وجاوید ہیں یہ موقف اہل سنت وجماعت کے تمام اکابر واصاغر کا ہے جس پر چند شواہد پیش خدمت ہے

1۔ حضرت ملا علی قاری حنفی رضی الله تعالٰی عنہ شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں,, اولیائ الله کی دونوں حالتیں (حیات وممات) میں اصلا فرق نہیں اسی لئے کہا گیا ہے کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر میں تشریف لے جاتے ہیں
(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلوۃ، باب الجمعة، الفصل الثالث ۴۵۸/۳۔۔ ۴۶۰ تحت الحدیث ۱۳۶۶ وفتاوی رضویہ ۴۳۳.۴۳۱/۹)

2۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رضی الله تعالٰی عنہ تذکرۃ الموتی میں لکھتے ہیں,, اولیاء اللہ کا فرمان ہے کہ ہماری روحیں ہمارے اجسام ہیں یعنی انکی ارواح جسموں کا کام دیا کرتی ہیں اور کبھی اجسام انتہائی لطافت کی وجہ سے ارواح کی طرح ظاہر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سایہ نہ تھا ان کی ارواح زمین، آسمان اور جنت میں جہاں بھی چاہیں آتی جا تی ہیں اس لئے قبروں کی مٹی ان کے جسموں کونہیں کھاتی ہے بلکہ کفن بھی سلامت رہتا ہے۔ ابن ابی الدنیا نے مالک سے روایت کی ہے کہ مومنین کی ارواح جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں اور مومنین سے مراد کاملین ہیں حق تعالٰی نے ان کے جسموں کو روحوں کی قوت عطا فرمایا ہے تو وہ قبروں میں نماز ادا کرتے ہیں اور ذکر کرتے ہیں اور قرآن کریم پڑھتے ہیں (تذکرۃ الموتی والقبور مترجم ص 75)

3۔ محقق علی الاطلاق حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رضی الله تعالٰی عنہ شرح مشکوۃ میں تحریر فرماتے ہیں
,, الله تعالٰی کے اولیاء اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے ہیں اور اپنے پروردگار کے پاس زندہ ہیں انھیں رزق دیا جاتا ہے وہ خوشحال ہیں اور لوگوں کو اس کا شعور نہیں (اشعتہ اللمعات، کتاب الجھاد، باب حکم الاسرائ ۴۲۴.۴۲۳/۳)

کشتگان خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جان دیگر است

یعنی خنجر تسلیم ورضا کے شہیدوں کو ہر گھڑی غیب سے ایک نئی زندگی عطا ہو تی ہے

اب اہل الله کی حیات جاودانی کے متعلق چند واقعات پڑ ھ کر اعتقاد کو مضبوط کیجیۓاور ایمان وایقان کو جلا بخشیئے

1۔ حضرت شیخ علی بن ابی نصر ہیتی رضی الله تعالٰی عنہ کا بیان ہے,, کہ میں سلطان الاولیاء، محبوب سبحانی حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم دستگیر رضی الله تعالٰی عنہ کے ہمراہ حضرت معروف کرخی رضی الله تعالٰی عنہ کے مزار مبارک پر گیا اور انھوں نے سلام کیا تو قبر انور سے آواز آئی ,,وعلیک السلام یا سید اھل الزمان،، (بہجتہ الاسرار ص ۵۳)

2۔ شیخ علی بن ابی نصر ہیتی اور شیخ بقا بن بطو یہ دونوں بزرگ حضور غوث اعظم دستگیررضی الله تعالٰی عنہ کے ساتھ حضرت امام احمد بن حنبل رضی الله تعالٰی عنہ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوئے تو
نا گہاں حضرت امام احمد بن حنبل رضی الله تعالٰی عنہ قبر شریف سے باہر آ ئے اور فرمایا اے عبدالقادر جیلانی میں علم شریعت وطریقت اور علم قال وحال میں تمہارا محتاج ہوں
(بہجتہ الاسرار ص )

3۔ مشہور ولی حضرت ابو سعید خراز رضی الله تعالٰی عنہ فرماتے ہیں ,, میں مکہ مکرمہ میں تھا باب بنی شیبہ پر ایک جوان مردہ پڑا پایا۔ جب میں نے اس کی طرف نظر کی تو مجھے دیکھ کر مسکرایا اور کہا اے ابو سعید کیا تم نہیں جانتے کہ الله تعالٰی کے پیارے زندہ ہیں اگر چہ مر جائیں وہ تو یہی ایک گھر سے دوسرے گھر میں منتقل کئے جاتے ہیں (شرح الصدور ص ۲۰۷)

4۔ حضرت ابو یعقوب سوی رضی الله تعالٰی عنہ فرماتے ہیں,, مکہ مکرمہ میں ایک مرید نے مجھ سے کہا کہ اے میرے پیر ومرشد میں کل ظہر کے وقت مر جاوں گا حضرت ایک اشرفی لیں آدھی میں میرا دفن آدھی میں میرا کفن کریں جب دوسرا دن ہوا اور ظہر کا وقت ہوا تو مذکورہ مرید نے آکر طواف کیا پھر کعبے سے ہٹ کر لیٹا اور انتقال کر گیا جب میں نے اسے قبر میں اتارا تو اس نے آنکھیں کھول دیں میں نے کہا کہ کیا موت کے بعد زندگی؟ اس نے کہا میں زندہ ہوں اور الله تعالٰی کا ہر ولی زندہ ہے (شرح الصدور ص۲۰۸)

5۔ محبوب الہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رضی الله تعالٰی عنہ فرماتے ہیں,,کہ میں نازنین آیت ربی، صدر نشین محفل مشاہدات غیبی، ذبیح خنجر رضا وتسلیم، جریح من اتی الله بہ قلب سلیم، مبعوث بکمال تنزیہہ وپاکی، محبوب حق حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی الله تعالٰی عنہ کی زیارت کیلئے جاتا تھا اثناءے راہ میرے دل میں گزرا کہ جو شخص ان بزرگوں کی مرقد کی زیارت کیلیے جاتا ہے انھیں اس شخص کی کچھ خبر بھی ہو تی ہے کہ نہیں؟
یہ بات میرے دل میں کھٹک رہی تھی اور میں شیخ کے مرقد کی طرف چلا جا رہا تھا جب میں روضہ مقدسہ کے قریب پہونچ کر مشغول ہوا تو اسی مشغولی کی اثناء میں روضہ متبرکہ سے یہ بیت میں نے سنی

مرا زندہ پندار چوں خویشتن
من آیم بجاں گرتو آئی بہ تن

یعنی تو مجھے اپنی طرح زندہ جان اگر تو میری قبر پر جسم کے ساتھ آتا ہے تو میں روح کے ساتھ آتا ہوں۔۔

6۔ حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ العزیز بیعت ہونے کیلئے جب سمرقند کے راستے اوچ شریف اور پھر دہلی سے ہوتے ہوئے قصبہ سلاو (بہار شریف) پہونچے تو بموجب وصیت مخدوم الملک حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رضی الله تعالٰی عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تو آپ کی خاطر شریف میں یہ خطرہ پیدا ہوا کہ بہار ولایت بنگال میں شامل ہے شاید میرے مرشد یہی تھے جو انتقال فر ماگئے اسی وقت روحانی پاک حضرت مخدوم الملک ظاہر
ہو ئی اور فرمایا کہ فرزند اشرف جمع خاطر رکھو کہ تمہارے پیر ومرشد بدولت وسعادت مسند ارشاد پر جلوس فرمارہے ہیں اور طالبان راہ خدا کو فیض پہونچا رہے ہیں ابھی زندہ وسلامت ہیں
خاطر شریف حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ العزیز کو تسکین حاصل ہوئی تھوڑی دیر کے بعد دست مبارک مخدوم الملک کا قبر سے باہر نکلا حضرت کے اصحاب کو حیرت ہوئی اور آپ کے ہاتھ نکلنے کا سبب کسی کے سمجھ میں نہیں آیا ایک دوسرے سے دریافت کرتے مگر کوئی بھی ہاتھ باہر نکلنے کا باعث بیان نہ کرسکا بالآخر حضور مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ العزیز کی خدمت میں سب نے عرض کیا کہ ہم میں سے کوئی شخص اس راز کو نہ سمجھا شاید حضور پر راز کھلا ہو تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت مخدوم الملک نے ایک تاج مردان غیب سے پایا تھا اور وصیت فرما ئی تھی کہ اس کو میرے ہمراہ قبر میں رکھ دینا غالباً تم لوگ اس تاج کو قبر میں رکھنا بھول گئے اب طلب فرمارہے ہیں سب نے بالاتفاق کہا کہ بیشک یہی بات ہے کسی صاحب نے وہ تاج لاکر آپ کے ہاتھ میں رکھ دیا تاج پاتے ہی آپ نے ہاتھ کھینچ لیا (صحائف اشرفی ص ۷۸.۷۹)

اس طرح کے بیشمار حکایات وواقعات ہیں جو اہل الله کی بے مثال زندگی پر دلالت کرتے ہیں
نیزاہل الله کو خصوصی تا ئید الہی حاصل ہوتا ہے اس سبب سے ہم ان کے ہروقت مفتقر ومحتاج رہتے ہیں

درویش وغنی بندہءایں خاک دراند
آنانکہ غنی تر اند محتاج تر اند

مولی تعالٰی ہمیں ہمیشہ اپنے محبوب بندوں کے در کا غلام
بنا ئے رکھے آمین یارب العالمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے