سیاست و حالات حاضرہ

قانون کے استعمال میں دوہرا معیار کیوں؟

اور میں دیکھتا چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔

ازقلم: عبدالخالق

میں نے دیکھا بی جے پی کی سابق ترجمان نو پور شرما نے ہمارے پیغمبر حضرت محمد کی شان میں گستاخانہ ریمارکس کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچائی تھی ۔ توہین رسالت پر ملک کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ رانچی میں مظاہرین پر فائز ئینگ میں کئی اموات ہوئے ۔ ایک درجن سے زیادہ مسلم ملکوں نے بھی ہندوستانی حکومت سے احتجاج درج کیا۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اس گستاخ رسول کے خلاف ایف آئی آر درج ہوۓ ۔ سپریم کورٹ نے بھی نو پورشرما کے ریمارکس کا تکلیف دہ قرار دے کر پھٹکارلگائی ہے۔ میں نے دیکھا گذشتہ دونوں راجستھان کے ادے پور میں کنہیالال نامی درزی نے سوشیل میڈ یا پرنو پورشرما کی حمایت میں ایک پوسٹ وائرل کیا۔اس پر دوافراد نے غصہ میں آ کر اس درزی کا قتل کر دیا۔ بید ایک غیر انسانی حرکت تھی ۔اس کی مذمت ہونی چاہئے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ۔ آل انڈیا ملی کونسل ۔ جمعیت العلماء ہند اور دیگر مسلم جماعتوں اور تنظیموں نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔ میں نے دیکھا اس درزی کے محل پر واویلا مچا کر ایک ہنگامہ کھڑے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قاتلوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ ۔ قاتلوں کے تعلقات دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ہونے کی جانچ کا مطالبہ ۔ مقتول کے گھر والوں سے حکومت کی ہمدردی اور گھر والوں کو لاکھوں روپے کا معاوضہ دینے کا اعلان ۔ غرض اس معاملہ میں حکومت ۔ قانون سب حرکت میں آ گئے ہیں۔ جبکہ اس واقعہ کی اصل وجہ نو پور شرما ہے ۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اس کے خلاف ایف آئی آر درج ہیں ۔اس کے باوجود اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ۔ایک صحافی محمد زبیر پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں آئی پی سی کی دفعہ 153-295 کے تحت گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ جبکہ یہی الزام نو پور شر ما پر ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں میں تاب لینچنگ کے نام پر کئی مسلم نو جوانوں کا قتل ہوا۔ نہ اس کی مذمت ۔ نہ معاوضہ نہ انصاف ۔حکومتوں اور قانون کا یہ دوہرا معیار نہیں تو کیا ہے۔؟

میں نے دیکھا کئی رپورٹوں کے مطابق ایکشن سے پہلے ملک میں انتشار پیدا کرنے کیلئے ہندومسلم کارڈ کھیلا جارہا ہے۔ کئی ایک حربے استعمال کیئے جارہے ہیں ۔ ایک حربہ یہ بھی ہے کہ غیر مسلم برادری کو بھڑکانے کیلئے آوارہ قسم کے مسلم نو جوانوں کو ڈرگس وغیرہ فراہم کر کے ان کو استعمال کیا جارہا ہے ۔ اور انجانے میں مینو جوان استعمال ہورہے ہیں ۔ اودے پور کے درزی کے قتل میں گرفتار ملزم ریاض کا تعلق بی جے پی مینارٹی مورچہ سے بتایا گیا ۔ ان حالات میں ہماری ذمہ داری ہے ۔ کہ آوارہ قسم کے ہمارے نوجوانوں کی حرکتوں پر نظر رکھیں ۔ان کے تعلقات کس کے ساتھ ہیں نظر رکھیں ۔ ان کو غلط کاموں سے روکیں ورندان کی غلط حرکتوں سے پوری قوم بد نام ہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے