علما و مشائخ

ختم نبوت کے تحفظ میں چند علماے راجستھان کا کردار

علماے راجستھان کی دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے…ان کی خدمات دینیہ شش جہات کو محیط ہے اور ہر جہت ایک دوسرے سے بڑھ کر تابندہ و درخشندہ ہے..-
دینی خدمات ہوں یا ملی,علماے راجستھان نے ہر مقام پر اپنی کارکردگی کا بہترین طور پر مظاہرہ کرکے اوراقِ تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش ثبت فرماۓ ہیں-
تحفظ ختم نبوت جو کہ ہم اہلسنت و الجماعت کا قطعی اور حتمی عقیدہ ہے اس حوالے سے بھی علماے راجستھان کی قابل ذکر وفخر خدمات ہیں-
ویسے تو راجستھان کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد ہے اور ہر ایک کی اپنی اپنی خدمات ہیں…مگر میں یہاں حصول سعادت کے لیے چند علماء کرام کی ان خدمات ہی کا ذکر کروں گا جو باب "تحفظ ختم نبوت "سے تعلق رکھتی ہیں-

ہمارے ان اکابر راجستھان میں سر فہرست نام آتا ہے باباے قوم و ملت,اشفاق العلما حضرت مولانا اشفاق حسین نعیمی علیہ الرحمۃ کا جنہوں نے اہلیان راجستھان کو اس مسئلہ کی حساسیت سے آگاہ کیا…سچ یہ ہے کہ آپ کے تشریف لانے سے پہلے راجستھان کے لوگ "عقیدۂ ختم نبوت”کو صحیح معنوں میں شاید و باید ہی جانتے ہوں الا ماشاء اللہ…-
مولانا ابوبکر صاحب اشرفی باسنوی نے راقم السطور کو بتایا کہ جب حضور حجة الاسلام علامہ حامد رضا خاں کی سرپرستی میں مرزا غلام قادیانی کے دعوے نبوت کے رد میں ” تحریک ختم نبوت "چلی تو ملک بھر کے لوگوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا,اہل راجستھان کو جس ہستی نے اس تحریک کا حصہ بننے کے لیے ابھارا اور اہلیان راجستھان کے دلوں میں اہلسنت کےاس متفقہ عقیدے پر مستحکم رہنے کا جو جذبہ پیدا کیا وہ مفتی اعظم راجستھان مفتی اشفاق حسین صاحب قبلہ علیہ الرحمۃ ہی کی ذات گرامی تھی…انہوں نے اپنی تقریر,تحریر اور فتاوی کے ذریعے اس عقیدہ کی خوب طریقے سے پاس داری کی اور مرزا قادیانی کے مشن کو یہاں بالکل ہی کام یاب نہیں ہونے دیا…-
آپ نے اپنے فتاوی میں اس عقیدے کے حوالے سے جا بجا دلائل کے انبار لگا کرثابت کردیا کہ دیوبندی,وہابی,قادیانی کچھ بھی ہفوات بکتے رہیں ہم سنیوں کا عقیدہ وہی ہے جو ہمارے رسولﷺ نے بیان فرمایا… آقاﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انا خاتم النبیین لانبی بعدی یعنی میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نیا نبی نہیں آۓ گا….آج اہل راجستھان کے اندر اگر فرقہاے باطلہ تٔیں نفرت کا غیر معمولی جذبہ پایا جاتا ہے تو یہ سب حضور اشفاق العلما کی محنتوں کا ثمرہ ہے-
آپ کے صاحب زادے حضرت مولانا معین الدین اشرفی صاحب نے فقیر کو بتایا کہ آپ نے ایک فتوی لکھا تھا جو بشکل کتاب شائع بھی ہوا اس میں آپ نے ختم نبوت کے حوالے سے کافی کچھ ذکر کیا تھا-اللہ تعالی ان کے مرقد انور پر انوار و تجلیات کی برکھا برساۓ-
آپ کے شاگرد رشید حضرت مولانا مفتی شیر محمد صاحب قبلہ,جو کہ ایک دینی و ملی شخصیت ہیں.. آپ کا شمار ہندوستان کے نمایاں علماء کرام میں ہوتا ہے…آپ کی ساری زندگی دینی خدمات سے عبارت ہے…
تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے بھی آپ کی کافی خدمات ہیں-
"تحفظ ناموس رسالت”اور تحفظ عقیدۂ ختم نبوت کے سلسلے میں گیا پن دینا ہو یا کوئی اورقانونی چارہ جوئی کرنی ہو آپ ہمہ وقت ان کاموں کے لیے تیار رہتے ہیں..
آپ کی ایک کتاب ہے” رحمت عالمﷺ "اس کتاب میں حضور ختمی المرتبت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سیرت پاک کے تابندہ نقوش کو بڑے اچھوتے انداز میں بیان کیا گیا ہے-
آپ نے اپنے خطابات کے ذریعے سنی عوام کو دیابنہ و وہابیہ کے مکرو فریب سے بچایا اور ان کے دلوں میں "تحفظ ناموس رسالتﷺ ” اور”عقیدہ ختم نبوت”کی پہریداری وپاسبانی کا جذبہ بیدار کیا…-
تحفظ ناموس رسالتﷺ پر صوبہ راجستھان میں جتنی بھی کانفرنسیں ہوتی ہیں ان سب کی صدارت و سرپرستی آپ ہی فرماتے ہیں…راجستھان کے کسی کونہ میں اگر کوئی شخص اپنی زبان خراب کرتا ہے تو آپ سب سے پہلے اس پر ایکشن لیتے ہیں اور اسے کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں-
حضرت مولانا مفتی شیر محمد صاحب قبلہ کے ہم عصر ہیں, حضرت مولانا مفتی ولی محمد صاحب قبلہ دامت فیوضھم العالیۃ -آپ بڑے متصلب اورمسلک اعلی حضرت پر بڑی سختی کے ساتھ گامزن ہیں… رد بدمذہباں پر ہمیشہ کچھ نا کچھ لکھتے اور بولتے ہی رہتے ہیں…آپ کی ایک درجن سے زیادہ کتابیں ہیں جن میں سے اکثر کتابیں رد فرقہاے باطلہ اور تحفظ عقائد مسلمین کے موضوع پر ہی ہیں-
تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے بھی آپ کی خدمات بہت ہیں…جن میں سے ایک بہت بڑی اور دیرپا خدمت یہ ہے کہ آپ نے لوگوں کو اپنی کتابوں میں جا بجا "عقیدۂ ختم نبوت” پر مستحکم رہنے کی تلقین کی اور بدمذہبوں کے کید و مکر کو طشت از بام کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی…-
آپ اپنے فتاوی”فتاوی رحمانیہ”میں لکھتے ہیں :مسلمان اسے اچھی طرح جانتا ہے کہ مسئلہ ختم نبوت ضروریات دین سے ہے اور اس کا منکر کافر ہے -اب آج کے دور میں یہ کوئی نظری مسئلہ نہیں رہ گیا ھے بلکہ فتنہ قادنیت کے حالیہ ہنگامے کے بعد سواد اعظم نے اس فرقہ کو اقلیت میں شمار کرکے ان کے تابوت میں اپنی حق گوئی اور انصاف پسندی کی آخری کیل ٹھوک دی ہے ( فتاوی رحمانیہ,صفحہ:92)
نیز "مقالات مفتی اعظم باسنی” میں آپ نے عقیدہ ختم نبوت کو واضح کرتے ہوۓ ایک طویل حدیث بھی ذکر کی اور ثابت کیا کہ یہ عقیدہ کوئی آج کا عقیدہ نہیں ہے بلکہ چودہ سو سال سے اسلاف کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ ہمارے آقاﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آۓ گا..-
اپنے مقالات میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ آپ کی نبوت و رسالت کے آفتاب کے طلوع ہونے کے بعد کوئی نیا ستارہ آسمان نبوت پر پھر کبھی نہیں چمک سکتا بلکہ آپ کی ختم نبوت کا عقیدہ اس قدر قطعی اور یقینی ہے کہ جو اس میں ادنی شک وشبہ کرے وہ اسلام سے خارج اور کافر ہے- (مقالات مفتی اعظم باسنی,صفحہ:178)
عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے یہ تو آپ کی تصنیفی اور قلمی خدمات ہیں اس کے سوا بھی آپ کی بہت ساری خدمات ہیں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے