علما و مشائخ

فرزندان علامہ حسنین رضا خان بریلوی: ایک تعارف

تحریر: نازش المدنی مرادآبادی

امام العلماء سند الفضلا حضرت علامہ رضا علی خان صاحب علیہ الرحمہ کا گھرانہ ایک علمی و روحانی گھرانہ ہے۔ اس خاندان میں ایسے ایسے نیر تاباں چمکتے رہے ہیں جن کی علمی و روحانی فیض سے خلائق مستفیض ومستنیر ہوتی رہی ہے انہیں میں سے ایک نابغہ روزگار شخصیت شہزادہ استاد زمن وخلیفہ وداماد وتلمیذ اعلی حضرت حکیم الاسلام علامہ حسنین رضا خان علیہ الرحمہ بھی ہیں آپ علیہ الرحمہ نے مکمل زندگی خدمت متین میں صرف کر دی پھر بعد وصال آپ کے شہزادگان نے بھی وہ نمایاں خدمات انجام دیں جو واقعی قابل صد تحسین اور لائق تقلید ہیں۔
ذیل میں آئیے آپ کے شہزادگان کے احوال و کوائف اور ان کی خدمات جلیلہ پہ ایک نظر ڈالتے ہیں۔

👈 ہم شبیہ مفتی اعظم ہند امین شریعت علامہ سبطین رضا خان قادری بریلوی قدس سرہ

🌹ولادت:

امین شریعت علامہ سبطین رضا خاں علیہ الرحمہ اعلیحضرت امام احمد رضا محدث بریلوی کے خاندان کی بلند و بالا شخصیت، برادر اعلیٰ حضرت استاذ زمن حسن رضا خاں صاحب کے پوتے تھے۔ نومبر1927ء کو محلہ سودا گران بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔

🌹تعلیم و تربیت:

آپ چونکہ ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جس خاندان کے علم وفضل کا شہرہ آج بھی چہار دانگ علم میں خوب ہوتا ہے اس لیے آپ کی تعلیم کی ابتدا آپ کے گھر سے ہی ہوئی، بریلی شریف میں ہی دار العلوم مظہر اسلام سے سند فضیلت حاصل کی اور جدید علوم مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے حاصل کیے۔

🌹مشہور اساتذہ کرام:

• حکیم الاسلام علامہ حسنین رضا خاں بریلوی
• صدر الشریعہ بد رالطریقہ امجد رضا اعظمی
• مصنف قانون شریعت شمس العلماء شمس الدین جعفری جونپوری
• ماہر رضویات جامع فتاوٰی رضویہ امام العلماء علامہ حضرت علامہ مفتی حافظ عبد الرؤف بلیاوی وغیرہ ہیں۔

🌹بیعت و خلافت:

آپ نے مفتی اعظم ہند علامہ مصطفیٰ رضا بریلوی سے بھی علمی و روحانی فیض حاصل فرمایا۔ آپ مفتی اعظم ہند کے مرید و خلیفہ تھے۔

🌹تدریسی خدمات:

حضور امین شریعت علیہ الرحمہ نے درس و تدریس کا آغاز دار العلوم مظہر اسلام بریلی شریف سے فرمایا۔پھر مدرسہ اشاعت الحق ہلدوانی ضلع نینی تال، جامعہ عربیہ اسلامیہ ناگ پور اور مدرسہ فیض الاسلام میں تدریسی خدمات انجام دیں۔

🌹دینی وملی خدمات:

کانکیر چھتیس گڑھ آپ نے اپنا دینی و تبلیغی مسکن بنایا اور آپ نے اس جگہ کو دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہ تو وہی جگہ ہے جس کو میں خواب میں دیکھ چکا ہوں وہاں آپ نے دین و سنیت کی خدمت کی اور جہالت کو دور کیا۔ جہالت کا اتنا غلبہ تھا کہ پڑھے لکھے لوگ آسانی سے دیکھنے کو نہیں ملتے تھے۔ نا خواندگی کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کے پاس ایک گوشت بیچنے والا آیا اور کہنے لگا کہ اس چھری پر پڑھ دیجیے اس کا مقصد یہ تھا کہ جب چھری پر پڑھ کر پھونک دیا جائے گا تو کبھی اس پر بسم اللہ پڑھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ حضرت نے وہاں ایسی محنت کی کہ کہا جاتا ہے کہ اب وہاں بکثرت علمائے کرام پائے جاتے ہیں۔ آپ نے وہاں مختلف علاقوں میں مساجد و مدارس اور دینی اداروں کو قائم فرمایا کیشکال میں آپ نے مدرسہ فیض الاسلام، رائے پور میں مدرسہ ادارہ شرعیہ دار العلوم انوار مصطفی قائم فرمایا اور کانکیر میں دار العلوم امین شریعت قائم فرمایا۔

🌹تبلیغی خدمات:

تبلیغ اسلام کی خاطر آپ نے اپنا چین و سکون عیش و آرام سب کچھ قربان فرمادیا تھا گھر گھر جاکر لوگوں میں تبلیغ فرماتے تھے ایک واقعہ میں نے حضرت کے بارے میں سنا کہ جب آپ صبح کو سائکل سے نکلتے تو سفید کپڑے زیب تن فرماتے وہاں کی مٹی ہلکی سرخ (اینٹوں کے رنگ کی) ہونے کی وجہ سے شام تک وہ کپڑے سرخ ہو جایا کرتے تھے۔
جی ہاں حضور امین شریعت قدس سرہ بلند اخلاق، پاکیزہ کردار، اسلاف کی امانتوں کے سچے وارث و جانشین، علم و عمل کا پیکر، صدق و صفا اور استقامت کے جبل عظیم تھے انہوں نے سادہ مکان کے اندر اپنی زندگی گزاردی اور لوگوں کے دلوں کو ایمان کی حلاوت اور چاشنی کا مزہ بخشا۔

🌹قلمی خدمات🌹

آپ ایک بے مثال فقیہ مفتی مدرس شاعر اور بہترین قلم کار اور مضمون نگار بھی تھے آپ کے مضامین جماعت اہلسنت کے مشہور ومعروف رسالوں کی زینت بنتے رہے جس کا مجموعہ بنام "مضامین امین شریعت” چھپ کے منظر عام پہ آ چکا ہے

وفات:

26 محرم الحرام 1437ھ بمطابق 9 نومبر 2015ء بروز پیر اس دار فانی سے کوچ فرما گئے۔ اور آپ کا مزار فائض الانوار شہر رضا بریلی شریف میں پرانا شہر کانکر ٹولہ میں جلوہ گاہ عام و خاص ہے (ملخصاً از: امین شریعت نمبر)

👈 سند المحدثین،استاد العلماء ،ماہر علم و فن، نبیرہ استاد زمن ،صدر العلماء حضرت علامہ مولانا الشاہ تحسین رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ العزیز

🌹ولادت ناسعادت :

صدر العلماء علیہ الرحمہ ۱۴ شعبان المعظم۱۳۴۸ھ/۱۹۳۰ء بریلی شریف میں پیدا ہوئے۔

🌹نام ونسب:

آپ علیہ الرحمہ کا نام نامی اسم گرامی تحسین رضا ہےآپ خلیفہ و داماد اعلی حضرت علامہ مولانا حکیم حسنین رضا خان علیہ الرحمہ کے منجھلے صاحبزادے اور استاذ زمن و برادر اعلی حضرت کے پوتے اور رئیس المتعلمين عمدة المحققين حضرت علامہ مفتی نقی علی خان قدس سرہ کے پر پوتے ہیں اس طرح تیسری پشت میں جاکر آپ کا سلسلہ نسب امام اہلسنت اعلی حضرت فاضل بریلوی نور اللہ مرقدہ سے جا ملتا ہے۔

🌹تعلیم و تربیت:

آپ علیہ الرحمہ نے ابتدا سے دورہ حدیث تک کے تمام مراحل تاجدار اھلسنت مفتی اعظم ہند مفتی مصطفٰی رضا خان بریلوی قدس سرہ کے زیر سایہ طے کئے اس کے بعد خصوصی درس حدیث کے لئے آپ تلمیذ حجة الإسلام سند المحدثین قبلہ محدث اعظم پاکستان مفتی سردار احمد قادری قدس سرہ العزیز کی درس گاہ جامعہ رضویہ مظہر الاسلام فیصل آباد (سردارآباد)کی طرف رخ کیا اور محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ سے خصوصی درس حدیث لیا اور حدیث دانی میں کمال حاصل کرکے سن۱۹۵۷ء میں مدینة المرشد بریلی شریف واپس ہوئے۔

🌹اساتذہ کرام:

آپ نے اپنے وقت کے جلیل القدر اور اجلہ علما سے کسبِ فیض فرمایا۔
• خلیفہ اعلحضرت صدرالشریعہ علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی، مصنفِ بہار شریعت سے تفسیر جلالین شریف پڑھی
• سرکارِ مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ سے فتویٰ نویسی سیکھی اور ان سے علمی و روحانی فیض حاصل فرمایا۔
• مولانا سردار احمد محدث اعظم پاکستان علیہ الرحمہ سے علمِ حدیث کی تکمیل فرمائی۔ ان کے علاوہ
• مولانا غلام جیلانی رضوی اعظمی،
• قاضی اہلسنّت شمس العلماء علامہ مفتی قاضی شمس الدین رضوی جعفری(مصنف قانونِ شریعت)
استاذ العلماء حضرت علامہ مفتی غلام یٰسین پورنوی ،مولانا سردار علی خاں اور
مفتی ِ اعظم پاکستان مفتی وقارالدین صاحب علیہم الرحمۃ والرضوان جیسے اساطینِ امّت اور اصحابِ فضل و کمال کے استفادے نے آپ کو علمی سطح پر خوب خوب نہال کیا۔

🌹تدریسی خدمات:

دورہ حدیث سے فراغت کے فوراً بعد سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے آپ کو جامعہ مظہر اسلام مسجد بی بی جی میں درس حدیث کے لئے منتخب فرمایا اور آپ علیہ الرحمہ مسلسل ۱۸ سال تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے اور صدرالمدرسین کے منصب جلیلہ پر فائز رہے پھر اسکے بعد ۷ برس تک مرکزی ادارہ جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف میں طالبان علوم نبویہ کو سیراب کرتے رہے اور یہاں بھی صدرالمدرسین کے منصب پر فائز رہے پھر اس کے بعد ۲۳ سال فقیر کی مادر علمی جامعہ نوریہ رضویہ محلہ باقر گنج بریلی شریف میں درس حدیث میں مصروف رہے اور یہاں بھی صدرالمدرسین کے منصب پر فائز رہے پھر تاج الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی اختر رضاخان الازہری علیہ الرحمہ کے قائم کردہ ادارہ جامعة الرضا میں قبلہ تاج الشریعہ کے پیہم اصرار پر تدریس شروع فرمائی اور یہاں دورہ حدیث اور تخصص فی الفقہ کے طلباء کو مستفیض کرتے رہے اور یہ سلسلہ وصال سے چند سال قبل تک جاری رہا اس طرح صدر العلماء کی تدریسی خدمات ۵۰ سال کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔

🌹بیعت وارادت:

حضور تحسین میاں علیہ الرحمہ کے والد گرامی مولانا حسنین رضا خاں علیہ الرحمہ نے آپ کو حضور مفتیِ اعظم سے بیعت کرایا۔ ۲۵؍ صفرالمظفر ۱۳۸۰ھ/۱۹۳۴ء میں عرس رضوی کے پُر بہار موقعے پر اجلۂ اکابر و مشائخ کی موجودگی میں صرف ۱۳؍سال کی عمر میں سرکار مفتیِ اعظم ہند نے آپ کو بیعت فرمایا۔ اسی وقت آپ کو خرقۂ اجازت و خلافت بھی عطا فرمایا۔ اور آپ کے سر پر اپنا عمامہ شریف بھی اپنے دستِ مبارک سے باندھا۔ سیدالعلما حضرت سیّد آل مصطفی مارہروی، مجاہدِ ملت حبیب الرحمن اڑیسوی، برہانِ ملت برہان الحق جبل پوری، اور حافظِ ملت شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی ثم مبارک پوری، علیہم الرحمۃ والرضوان جیسے برے بڑے مشائخ و علما نے آپ کی خرقہ پوشی فرمائی۔

🌹معاصرین:

• نبیرہ اعلی حضرت تاج الشریعہ بدر الطریقہ فخر ازھر علامہ مفتی اختر رضاخان الازہری علیہ الرحمہ
• نبیرہ اعلی حضرت قمر ملت علامہ قمر رضا خان بریلوی قدس سرہ
• نبیرہ اعلی حضرت فاتح افریقہ ریحان ملت علامہ ریحان رضا خان عرف رحمانی میاں علیہ الرحمہ
• نبیرہ استاذ زمن و نبیرہ اعلی حضرت و برادر صدر العلماء ہم شبیہ مفتی اعظم ہند امین شریعت علامہ سبطین رضا خان بریلوی
قدس سرہ
• نبیرہ استاذ زمن و نبیرہ اعلی حضرت و برادر صدر العلماء تاج الاصفیاء حبیب العلماء علامہ حبیبرضا خان قدس سرہ
• قاضی اہلسنت یادگار اسلاف علامہ مفتی قاضی عبد الرحیم بستوی علیہ الرحمہ
• خلیفہ مفتی اعظم ہند صوفی ملت علامہ مولانا صوفی اقبال نوری نور اللہ مرقدہ

🌹گل سرسبد کا خطاب کس نےاور کس وجہ سے دیا:
حضور صدر العلماء علیہ الرحمہ کے زیر لب مسکراہٹ دائمی تھی گویا لبہائے مبارکہ سے پھول چھڑ رہے ہوں آپ کے اسی وصف خاص کی وجہ سے سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ آپ کو فرماتے تحسین رضا گل سرسبد یعنی پھولوں کی ٹوکری میں خوشنما اور تر وتازہ پھول ہیں۔ (بروایت تاج الاصفیاء حبیب العلماء علامہ حبیب رضا خان قدس سرہ العزیز)

🌹تبلیغی خدمات:

درس و تدریس کی بے پناہ مصروفیات کی بنا پر آپ تصنیف و تالیف پر بالفعل توجہ مرکوز نہ رکھ سکے۔ تقریر سے بھی کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا بس تدریس ہی کے ذریعے مذہب و ملت کی تبلیغ فرماتے رہے۔ اور آپ نے ملاحظہ فرمالیا کہ صدرالعلما نے تقریباً ۵۰؍ سال تک تدریسی خدمات انجام دی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کی سب سے بڑی تبلیغ عوام کے لیے درسِ قرآن و حدیث ہے۔ جو تدریسی دعوتی مساعی اور اصلاحی تحریکات پر بھاری ہے۔ چند حضرات نے مل کر حضرت سے درسِ حدیث لینے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ درس حدیث نومبر ۱۹۸۲ء میں شروع کیا گیا۔ کچھ دنوں کے بعد اس کے ساتھ ساتھ درس قرآن میں ایک رکوع کا ترجمہ فرماتے پھر اس کی تفسیر، تشریح اور توضیح فرماتے اور پھر آدھے گھنٹے کے لیے درسِ حدیث ہوتا۔ اس مین مشکوٰۃ شریف سے سامعین کو احادیث سنائی جاتیں او ان کی تشریح کی جاتی۔ کہتے ہیں کہ ۲۵؍ سال تک یہ مبارک سلسلہ جاری رہا۔ ۱۴؍ سال میں درس قرآن مکمل ہوا۔ پہلے یہ دونوں درس آپ کی بیٹھک میں ہوتے تھے لیکن جلد ہی جگہ تنگ پڑگئی اور قریب کی نورانی مسجد میں درس کا انتظام کیا گیا۔ لیکن اژدحام کی وجہ سے وہ مسجد بھی تنگ دامنی کا شکوہ کرنے لگی۔ لہٰذا دوسری مسجد میں درس منتقل کرنا نا گزیر ہوگیا۔ قریب کی ایک چھ مینارہ مسجد کا انتخاب کیا گیا اور تاوصال آپ نے یہیں درس دیا۔ اور اب اس درس کے سلسلے کو استاد محترم فقیہ العصر محقق بے بدل استاذ العلماء مفتی قاضی شہید عالم رضوی مد ظلہ العالی جاری کئے ہوئے ہیں۔

وصال:
۱۸ رجب المرجب۱۴۲۸ھ مطابق۳ اگست۲۰۰۷ ناگپور انڈیس کے قریب ایک حادثہ میں آپ کا وصال ہوا انا للہ و انا الیہ راجعون

🌹مزار فائض الانوار:

آپ کا مزار پاک شہر رضا بریلی شریف میں محلہ کانکر ٹولہ میں جلوہ گاہ خاص و عام ہے

(ماخوذ: تجلیات رضا کا صدر العلماء محدث بریلوی نمبر، مولانا صادق رضا مصباحی صاحب کے مضمون سے مقتبس)

👈ہم نشین مفتی اعظم تاج الاصفیاء حبیب العلماء حضرت علامہ مولانا حبیب رضا خاں علیہ الرحمہ

🌹ولادت باسعادت:

حبیب العلماء کی ولادت مبارکہ آستانہ قطب بریلی حضرت شاہ دانا قدس سرہ سے متصل محلہ کانکرٹولہ پرابہ شہر بریلی شریف میں 11 اگست 1933 میں ہوئی اس کے مطابق عربی مہینہ ذی الحجہ ہے۔

🌹نام و نسب

آپ کا نام محمد رضا رکھا گیا اور عرفیت حبیب رضا قرار پائی محمد نام پر عقیقہ ہوا آپ عرفی نام سے متعارف ہوئے اور آپ کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے حبیب رضا بن حسنین رضا بن حسن رضا بن نقی علی خاں الی الفوق۔

🌹القاب وخطاب:

ہم نشین مفتی اعظم ، ہم شبہ حسنین ملت ، حبیب ملت ، حبیب العلماء ، تاج الاصفیاء

🌹تعلیم و تربیت:

خاندانی دستور کے مطابق 4 سال 4ماہ اور 4 دن کی عمر میں آپ کی رسم بسم اللہ خوانی ہوئی ابتدائی تعلیم والدہ ماجدہ اور والد ماجد حسنین ملت علیہما الرحمہ سےگھر پہ ہوئی
پھر آپ نے دینیات کی تعلیم مرزائی مسجد کہنہ شہر بریلی شریف میں قطب پورنیہ علامہ غلام یسین رشیدی پورنوی سے ہوئی باقی تعلیم دار العلوم منظر اسلام سے حاصل کی عصریات کی تعلیم بھی آپ نے اسکول سے مکمل کی ظاہری علوم کے ساتھ تصوف و سلوک اور، تزکیہ نفس میں والد ماجد حسنین ملت اور حضور مفتی اعظم ہند سے اکتساب فیض کیا اور پوری زندگی تصوف کی طرف مائل رہے۔

🌹اساتذہ کرام:
• والدہ ماجدہ علیہا الرحمہ
• والد محترم علامہ حسنین رضا خان علیہ الرحمہ (داماد و خلیفہ اعلی حضرت)
• سیدنا سرکار مفتی اعظم عالم مفتی مصطفٰی رضا خان علیہ الرحمہ
• شیخ العلماء علامہ غلام جیلانی اعظمی علیہ الرحمہ
• برادر اکبر صدر العلماء علامہ تحسین رضا خان محدث بریلوی قدس سرہ
• تاجدار مسند تدریس استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا مفتی غلام یسین رشیدی پورنوی
• حافظ محمد انعام اللہ رضوی استاد شعبہ فارسی منظر اسلام بریلی شریف
•حضرت مولانا سید احمد علی رامپور
وغیرہم

🌹بیعت و خلافت:

استاذ العلماء حکیم الاسلام حضرت علامہ مولانا حسنین رضا خان قدس سرہ جو کہ سیدنا سرکار مفتی اعظم ہند سے چھ ماہ بڑے تھے حضور مفتی اعظم ہند کا بڑا ادب کیا کرتے تھے آپ کی بزرگی اور تقویٰ شعاری کے مداح تھے اسی وجہ سے حسنین ملت نے اپنے تمام بچوں کو سرکار مفتی اعظم ہند کے دامن سے وابستہ کرایا تھا حکیم الاسلام علامہ حسنین رضا خان علیہ الرحمہ نے حبیب العلماء کو 25 صفر المظفر 1365ھ کو عرس اعلی حضرت کے مسعود موقع پر حضور مفتی اعظم ہند کے دست بابرکات پہ بیعت کرایا اور 15 صفر المظفر کو مفتی اعظم ہند نے آپ کو اجازت و خلافت سے بھی نوازا۔

🌹دینی خدمات:

جب حبیب العلماء عصریات اور دینیات سے فارغ ہو گیے تو آپ کسی اسکول میں اردو پڑھانے کے لیے مقرر ہوئے پھر چند ماہ بعد مستعفی ہوکر سیدنا سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی بارگاہ سے وابستہ ہو گیے اور سیدنا مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی حیات تک یہیں سے وابستہ رہے سرکار مفتی اعظم ہند نے آپ کے ذمہ تین اہم کام سپرد کیے 1۔نقل افتاء 2۔دارالعلوم مظہر اسلام کے دفتر کے کام 3۔خطوط نویسی اور تعویذ نویسی کا کام
پھر سیدنا سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان الازہری قدس سرہ کی طرف جب وہ تمام امور دینیہ متوجہ ہوئے جس کے لیے مفتی اعظم ہند مرجع عوام و خواص تھے تو آپ کی ان امور دینیہ کی وجہ سے مصروفیات بڑھ گئی اس لیے آپ نے فتویٰ نویسی کے امتیازی کام کے لیے مرکزی دارالافتاء کا اجرا کیا اور اس میں فتوی نویسی کے لیے ابتداء میں تو خود فتاوی دیے پھر بعد میں تاج الاصفیاء علامہ حبیب رضا خان اور قاضی اہل سنت علامہ قاضی عبد الرحیم بستوی قدس سرہ اور مفتی ناظم علی رضوی بارہ بنکوی کو منتخب فرمایا۔

🌹حبیب العلماء کا سفر آخرت:

معمولات زندگی کے مطابق جمعہ کی شب میں نماز فجر کے لیے اٹھے اور بڑے صاحبزادے سے فرمایا کہ طبیعت میں گرانی محسوس ہو رہی ہے ڈاکٹر کے یہاں لے چلو پھر تیار ہوئے اور عصائے مبارک ہاتھ میں لیا اور ہاسپٹل کے لیے چل پڑے ساتھ میں حسیب میاں اور خادم شہاب بیگ بھی تھے گنگا چرن اسپتال پہونچے ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور کہا کہ انہیں دوسرے ہاسپٹل میں لے جاو دوسرے ہاسپٹل لے جانے کے لیے جب روانہ ہوئے تو قطب بریلی شاہ دانا علیہ الرحمہ کے دروازے کے سامنے پہنچے تو وہیں آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی
انا للہ وانا الیہ رجعون
دیکھتے ہی دیکھے پورا کانکر ٹولہ کچھاکچ پھر گیا
دوسرے دن دوپہر 2 بجے حضور تاج الشریعۃ علیہ الرحمہ نے آپ کی نماز جنازہ پرانہ شہر کانکر ٹولہ میں پڑھائی اندازہ کے مطابق پچاس ہزار افراد نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی پھر آپ کے براد اکبر تحسین ملت علیہ الرحمہ کے قرب خانقاہ تحسینہ میں چار بجے آپ کی تدفین عمل میں آئی۔ (از:- تاج الاصفیاء نمبر،مولانا حسنین رضا حیات و خدمات)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے