حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے۔۔۔!

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)


تحریر: محمد افتخار حسین رضوی، ٹھاکر گنج کشن گنج بہار
9546756137

ہر ذی شعور اور صاحب عقل و فہم بخوبی واقف ہے کہ حقیقت پر لاکھوں پردے ڈال دیئے جائیں مگر حقیقت چھپ نہیں سکتی، سچائی سامنے آہی جاتی ہے، روئے حقیقت سے فریب اور دکھاوے کی مصلحت پسندی کی گرد جب اتر جاتی ہے تو نیچے سے اصلی اور حقیقی چہرہ نظر نواز ہو جاتا ہے، ہمارے اطراف میں بظاہر تقوی و پرہیزگاری،شرافت، اور مسلک و مشرب کے لبادے میں ملبوس بے شمار ہم مسلک و ہم مشرب افراد موجود ہیں، مگر جب شریعت مطہرہ کی روشنی میں ایسے ہمفکر اور ہم عقیدہ افراد کے عقائد و نظریات اور اعمال و افعال و کردار کا منصفانہ جائزہ لیا جاتا ہے تو انتہائی قابل اعتراض افسوس ناک اور تشویش ناک حقائق و نتائج سے روبرو ہونا پڑتا ہے جس سے ہمارے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچتی ہے، عہد حاضر کے اسلامی معاشرے میں ایسے بے اعتبار افراد کی افسوس ناک حد تک تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے، ہمارے اعتماد و اعتبار کا چمکدار آئینہ اس وقت مزید چکنا چور ہو جاتا ہے، جب جبہ و دستار میں ملبوس اہل علم اور روحانیت کے علمبردار کہلانے والے دینی و مذہبی رہنماؤں کا کردار مشکوک اور مشتبہ ہوجاتا ہے، جب ایسے معزز اور معتبر شخصیات کے عقائد و نظریات اور اعمال و افعال شریعت مطہرہ کی تعلیمات سے متصادم نظر آتے ہیں۔ تاریخ اسلام ایسے ایمان اور ضمیر فروش نام نہاد قائدین و رہنماؤں کی دلخراش داستانوں سے بھری پڑی ہے۔۔۔۔۔مگر ساتھ ہی جملہ ادوار و ازمنہ میں اللہ ربّ العزت جل جلالہ کی حکمت کاملہ اور اس کی عنایات سے ایسے پاکیزہ اوصاف وکمالات سے متصف عقائد و نظریات کے لحاظ سے انتہائی متصلب مجاہدانہ کردار کے حامل نفوس قدسیہ بھی موجود رہے ہیں کہ جن کی بدولت اور جن کے نورانی وجود کے اجالوں میں امت مسلمہ صراط مستقیم پر گامزن رہتی ہے، ایسے عظیم الشان اور عظیم المرتبت سچے رہنماؤں کے علمی و روحانی فیوض وبرکات سے مستفیض ہوکر بےشمار مسلمان بداعمالیوں، گمراہی و بدمذہبیت اور کفر وشرک کی خاردار و سنگلاخ، بھیانک و تاریک وادیوں میں بھٹکنے سے بچ جاتے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالی کے ایسے برگزیدہ اور محبوب و مقبول بندوں کی پاکیزہ اور ایمان افروز داستانوں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔
قیامت تک کے واقعات و حالات و حوادث اور فتنوں سے آگاہ فرمانے والے پیغمبر اسلام محبوب پروردگار احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم فرمان عبرت نشان کے مطابق اسلام کے ہر عہد میں مختلف ومتعدد فتنے اور اٹھے اور فرقے وجود میں آئے جنکی سرکوبی کے لئے مجاہدین ملت اسلامیہ، اہل حق و اہل علم صوفیائے کرام اور اولیائے کرام نے ہر ممکن جد وجہد فرمایا ہے اور اسلام کی شمع فروزاں کی فانوس بن کر حفاظت کیا ہے۔
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

بلاشبہ موجودہ دور بھی شروفساد اور فتنوں کا دور ہے، عہد حاضر میں آئے دن نئے رنگ و آہنگ میں مختلف بہروپئے اسلام کے مبلغ بن کر جدید فکر و نظریات کے لبادے میں منظر عام پر نمودار ہورہے ہیں اور نئے نئے فتنوں کی نشرواشاعت میں مصروف عمل نظر آتے ہیں، ظاہر ہے کہ دنیا پرستی و مادہ پرستی، جہالت و گمراہیت، الحاد و لادینیت، فکری آزادی اور عملی بے راہروی کے اس سنگین دور میں رخ حقائق پوشیدہ ہوجاتا ہے، نمائشی اور پرفریب چہروں کی عارضی چمک دمک کو دیکھ کر لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں اور حقیقی اسلامی تعلیمات اور حقیقی احکام شریعت کو فراموش کر دیتے ہیں،،،،،،برا ہو ان شیطانی اور نفسانی افکار و نظریات کا جن کے شور وغل میں حقیقی اور سچے مسلک کی پہچان بہت مشکل ہو جاتی ہے
لباس خضر میں یہاں سینکڑوں رہزن بھی پھرتے ہیں
اگر جینے کی تمنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر

حالانکہ قرآن و احادیث کی واضح اور شفاف تعلیمات اور علمائے حق کے ارشادات ہر وقت ہمارے سامنے موجود ہوتے ہیں۔ مگر ابلیس لعین کے مکر و فریب کے جال میں پھنس کر دنیا کی عیش و عشرت سے لطف اندوز ہونے کے لئے اپنے مفادات کی خاطر حب جاہ و منصب و شہرت کے شکار ہوکر اپنے مغرور انا کی تسکین کے لیے عوام سے لیکر خواص کہلانے والوں تک راہ حق سے منحرف ہوکر نفس وشیطان کو خوش کرنے میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گویا اصلاح معاشرہ کی آڑ میں دنیا کمانے کا اور عوام کو بیوقوف بنانے کا زور وشور سے کاروبار کیا جارہا ہے۔ ہر طرف سماج میں برتری حاصل کرنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔ ایسے پرآشوب وپرفتن، ہنگامہ خیز اور شرانگیز دور میں علمائے حق اور اہل ایمان کا سنجیدہ ذمےدار طبقہ حیران و پریشان ہے کہ کس طرح اجتماعی شیرازہ کو بکھرنے سے بچایا جائے اور کس طرح فتنہ و فساد کے سیلاب کو روکا جائے، تاریخ کا مطالعہ کرنے سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ فیض ربانی اور فیض نبوی سے محروم بعض نام نہاد حاملین علم و فن اور علم شریعت نے اپنے عجیب و غریب عقائد و نظریات، تاویلات و تعبیرات و تشریحات، اور افکار و خیالات کو پیش کرکے اسلام کے چہرے کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کیا ہے۔ باطل افکار و نظریات کا نہ ختم ہونے والا یہ ناپاک سلسلہ عہد حاضر میں بھی عروج پر ہے، اختلافات اور فتنوں کی ہنگامہ آرائی کے درمیان گویا اسلام اجنبی بن گیا ہے۔ چنانچہ رسول اکرم سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عبرت نشان ہے کہ ”اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے“ ۱؎۔
اس حدیث کی روشنی میں اگر غور وفکر کیا جائے تو اندازہ ہوجائے گا کہ دین اسلام الحاد و لادینیت اور کفر وشرک کے ایسے دور اور ماحول میں پھیلا جبکہ یہ تمام اقوام عالم کے لئے اجنبی تھا، جس کی وجہ سے ہر طرف دین اسلام کی مخالفت میں طوفان کھڑا ہوگیا، اہل کفر وشرک اور باطل پرستوں نے دین اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے اپنی تمام سیاسی، سماجی، اور عسکری قوتوں کو استعمال میں لایا، مگر یہ سچا اور خدائے تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین پیغمبر اسلام، نبی مکرم، رسول محتشم، محبوب رب العالمین، علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی رحمتوں کے صدقے میں دنیا کے کونے کونے میں پھیلا، جو دین لوگوں کے لئے اجنبی تھا، اسی دین کو دنیا کے بےشمار لوگوں نے گلے لگا لیا اور اسی دین کے دیوانے بن گئے، اسلام اور مسلمانوں کے عروج اور اسکے مختلف انقلابی زرین ادوار کو دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا،،،،،،پھر مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی زوال شروع ہوا جس کی وجہ سے مسلمانوں کا اجتماعی شیرازہ رفتہ رفتہ پوری طرح بکھر کر رہ گیا، مسلمان فاتح سے مفتوح اور حاکم سے محکوم بن گئے، یہاں تک کہ مسلمانوں کی اکثریت اہل باطل اور شیاطین کی سازشوں کا شکار ہو کر مغرب کی اندھی تقلید کرکے اسلامی غیرت و حمیت، فکرو شعور اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے محروم ہو گئی، مسلمان دینی اور اسلامی تعلیمات سے دور ہوئے تو دینی و مذہبی زوال بھی شروع ہوگیا، پہلے فکری اتحاد پارہ پارہ ہوا، پھر فکری آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر بہت سے منافقوں نے حقیقی اسلام کے بجائے غیر اسلامی فکر و نظریات اور گمراہ کن عقائد پیش کرنے لگے، ابلیس اور ابلیس کی اولاد مسلمانوں کے ہی بھیس اور رنگ و روپ میں اسلام کی شبیہ بگاڑنے اور اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کرنے لگے، جس کے سبب گمراہیت، بدمذہبیت اور کفر وشرک کے شکار متعدد باطل فرقے وجود میں آئے جو ظاہری طور پر اسلام کے نام لیوا اور پیروکار نظر آتے ہیں، مگر حقیقت میں اسلام سے ان کا تعلق منقطع ہوجاتا ہے، وہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو گمراہ اور بدمذہب بنا دیتے ہیں، انکی پیروی کرکے مسلمان اپنی آخرت تباہ کرلیتے ہیں، ویسے تو صحابہ کرام کے دور سے ہی باطل اور جہنمی فرقے وجود میں آنے لگے تھے مگر جب تک مسلمانوں کی اجتماعی سیاسی و سماجی اتحاد و قوت قائم رہی باطل فرقوں کو ابھرنے کا موقع نہیں ملتا تھا، لیکن جب مسلمانوں کی سیاسی قوت ختم ہو گئی، اسلامی نظام حکومت قائم نہ رہی تو باطل فرقے کیڑے مکوڑوں اور برساتی مینڈکوں کی طرح ہر طرف نمودار ہوگئے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے، آج ہر باطل فرقہ اسلام کی ترجمانی کا دعویٰ کرتا ہوا نظر آتا ہے، مگر دعویٰ کے لئے دلیل ضروری ہے، جو باطل فرقوں کے پاس مفقود ہے، کیوں کہ باطل فرقوں کے عقائد و نظریات قرآن و احادیث کے خلاف ہیں، جبکہ سواد اعظم اہل سنت وجماعت کے عقائد و نظریات اور تعلیمات قرآن و احادیث کے عین مطابق ہیں، اہلسنت ہی صحابہ کرام اور اہلبیت کے سچے جانشین اور پیروکار ہیں، سوادِ اعظم اہلسنت ہی مسلمانوں کی بڑی جماعت ہے، سرکار دوعالم حضور رحمۃ اللعٰلمین پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوادِ اعظم کی اطاعت و پیروی کا حکم دیا ہے سوادِ اعظم اہلسنت وجماعت اسلام کا ہی دوسرا نام ہے، اسلام کی سچی ترجمانی اہل سنت ہی کرتے ہیں، علمائے اہلسنت ہی اسلام کے حقیقی داعی اور مبلغ ہیں، ائمہ کرام اسی جماعت کے ترجمانی کرتے رہے، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ ہم سنیوں کے امام ہیں، سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ ہمارے روحانی پیشوا ہیں، امام غزالی اور امام جلال الدین سیوطی اہل سنت کے ہی عظیم الشان امام ہیں، دنیا کے تمام اولیائے کرام سنی ہیں، خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ بھی ہمارے ہیں، مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رض ا خان قادری برکاتی رحمۃ اللہ علیہ اہلسنّت کے عظیم الشان اور عبقری دینی ومذہبی رہنما ہیں جنکی پیروی تمام علمائے اہلسنت کرتے ہیں مارہرہ شریف، کچھوچھہ شریف، بریلی شریف، کالپی شریف اور بدایوں شریف اہلسنت کی مرکزی خانقاہیں ہیں، جنکی رہنمائی پر ہم فخر کرسکتے ہیں۔ الغرض اہلسنّت کے پاس تمام دینی و دنیاوی تعمیر وترقی کے عمدہ ذرائع موجود ہیں۔ بس ضرورت ہے ان ذرائع کو استعمال میں لانے کی۔ اگر ہم ان ذرائع کا استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو بدمذہبوں سے کئی گنا زیادہ ترقی کرسکتے ہیں۔ اس لئے تمام سنی مسلمانوں کو کسی بھی باطل اور گمراہ فرقے سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ہمیں کسی کی ضرورت ہے، ہمارے پاس سب کچھ ہے۔ ضرورت ہے صرف علماء و مشائخ اہلسنّت کو متحد ہونے اور عوام اہلسنت کا علمائے اہلسنت سے قریب ہونے اور انکی مکمل پیروی کرنے کی۔۔۔۔۔۔۔مگر افسوس الحاد و لادینیت اور شیطانیت کے اس دور میں باطل فرقوں کی ظاہری چمک دمک کو دیکھ کر عوام اہلسنت کی اکثریت تذبذب اور شکوک وشبہات کی شکار ہوگئی ہے، کچھ سنی دنیا کی محبت میں بدمذہبوں کے دوست بن جاتےہیں، بعض سنی بدمذہبوں کی صحبت میں رہ کر بدمذہبی اختیار کر چکے ہیں، بعض بدعملی، فسق وفجور اور گناہوں کی دلدل میں اس قدر پھنسے ہوئے ہیں کہ انہیں ایمان کو بچانے کی کوئی فکر ہی نہیں ہے، حد تو یہ ہے کہ علماء کہلانے والے بےشمار افراد بھی متصلب نہیں ہیں، صلح کلی بن جاتےہیں، تعلیمات سوادِ اعظم کی بڑھ چڑھ کر نشرواشاعت نہیں کرتے ہیں، ان سنگین حالات کے پیشِ نظر اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اہلسنت کی مذہبی رہنمائی کمزور ہوچکی ہے، سچے اور مخلص رہنماؤں کی تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔ عقل حیران ہے کہ ہمارے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے ہم سیاسی، معاشی اور تعلیمی میدان میں انتہائی پسماندہ ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ تمام باطل فرقوں کی مجموعی تعداد بھی اہلسنّت کے برابر نہیں ہے، پھر بھی ہمارے سنی عوام باطل فرقوں کی تعداد کیوں بڑھا رہے ہیں؟ جب ہم ہی زیادہ تھے اور ہیں تو پھر سنی عوام وہابیوں دیوبندیوں اور دیگر باطل فرقوں کو رشتے دار کیوں بنا رہے ہیں، اگر شروع سے ہی سنی وہابیوں اور دیوبندیوں کا شدت سے بائیکاٹ کرتے رہتے اور رشتے داری سے پرہیز کرتے تو ان بدمذہبوں کی تعداد ہرگز نہیں بڑھتی جبکہ حقیقت میں سنی ہی وہابی اور دیوبندی بنے ہیں، سنیوں کو ہی ان گستاخوں بےدینوں نے وہابی بنا دیا ہے،۔ ان گستاخوں کے دام فریب میں مبتلا ہو کر سنی ان ہی کی بولی بول رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ سنی بدمذہبوں سے متاثر ہوکر ان سے قریب ہونے کی کوشش کرتے ہیں، وہابیوں اور دیوبندیوں کے خلاف ہمارے پاس کتابوں کے انبار ہیں، ہمارے علمائے کرام ،خطباء اور واعظین نے اپنی خطابت کے ذریعے بدمذہبوں کا مکمل تعاقب اور شدت سے رد کیا ہے، اس کے باوجود ہم اپنے عوام کی حفاظت نہ کرسکے۔ آج نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سنی کہلانے والے ہی رد وہابیت کی تقریریں پسند نہیں کرتے، بدمذہبوں کے خلاف علمائے اہلسنت کی حمایت میں کھل کر سامنے نہیں آتے، اب تو ہمارے مقررین بھی کھل کر بدمذہبوں کا رد نہیں کرتے مذہب حق اہلسنت کے موقف کو مکمل طور پر بیان نہیں کرتے جس سے عوام حقیقت سے واقف نہیں ہوپاتی ہے، کہیں ایسا تو نہیں کہ بھولے بھالے سنی بدمذہبوں کو بہت ہی ہلکے میں لے رہے ہیں، مجھے ڈر ہے کہ بدمذہبوں کے معاملے میں ہماری خاموشی کہیں اہلسنّت اور بدمذہبوں کے درمیان کے فرق اور امتیاز کو ختم نہ کردے، سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر بدمذہبوں کی تعداد بڑھانے والے سنیوں کا ایمان پہلے سے ہی مضبوط ہوتا، سب متصلب ہوتے وہ سچے عاشق رسول ہوتے حقیقی اسلامی عقائد و نظریات اور تعلیمات سے آگاہ ہوتے اور اپنے عقائد و نظریات پر انکا یقین مضبوط ہوتا تو یہ ہرگز اہلسنّت کا دامن نہیں چھوڑتے، بدمذہبوں کو پہچان لیتے اور کبھی ان کے دھوکے میں نہیں آتے۔
حیرت تو مزید تب ہوتی ہے کہ بعض سنی اہل سنت کے پیران کرام کے مرید ہوکر بھی علمائے اہلسنت کی تقاریر کو بارہا سننے باوجود بدمذہبوں سے دوستی اور رشتے داری قائم کرلیتے ہیں۔
بہر کیف اگر اس موضوع پر لکھا جائے تو ایک طویل دفتر تیار ہو جائے گا مگر میں بخوف طوالت اس گفتگو کو یہیں ختم کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب داناۓ غیوب پیارے مصطفیٰ حضور رحمۃ اللعٰلمین خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے صدقے میں سوادِ اعظم اہلسنت وجماعت کو گمراہی اور بدمذہبی سے محفوظ رکھے اور گمراہوں کو ہدایت عطا فرمائے، اسلامی معاشرے کو بدمذہبوں سے پاک فرمائے،آمین۔

جو کچھ بیان ہوا وہ آغاز باب تھا
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لئے

الدال علیٰ خیر کفاعلہ (شیئر کریں)

About ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

Check Also

سوائے مسلمان

ازقلم: مدثر احمد، شیموگہ کرناٹک 9986437327 کرناٹکا حکومت کی جانب سے تشکیل شدہ نصابی ترمیمی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔