علما و مشائخ

حضرت قاضی شریعت مولانا محمد شفیع اعظمی مبارک پوری علیہ الرحمہ ایک مختصر تعارف

از قلم: محمد معاذ قادری مبارک پوری
متعلم: جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی

‌حضرت مولانا محمد شفیع صاحب ١٣٤٤ھ محلہ پورہ رانی قصبہ مبارک پور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوے۔آپ کے والد کا نام ولی محمد مرحوم تھا۔آپ نے ابتدائی تعلیم محلہ کے ایک حافظ صاحب سے حاصل کی۔پھر آپ نے دارالعلوم اشرفیہ میں داخلہ لے لیا اور یہاں پرائمری تک تعلیم مکمل کرنے بعد ١٢/جمادی الآخرہ ١٣٥٥ھ میں دارالعلوم اہل سنت جامعہ اشرفیہ میں داخل ہوۓ۔فارسی اور ابتدائی عربی کے بعد شوال ١٣٥٩ھ میں دارالعلوم مظہرالاسلام مسجد بی بی جی بریلی شریف میں داخل ہوۓ۔اس وقت وہاں صدر المدرسین اور شیخ الحدیث محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت سے فیض یافتہ ہوے۔یہاں آپ نے فاضل معقولات مفتی وقارالدین صاحب سے قطبی اور شیخ المفسرین حضرت علامہ مولانا عبدالمصطفی صاحب ازہری سے نفحتہ الیمن وغیرہ پڑھیں۔
‌سال بھر بعد ١٣٦٠ھ میں بریلی شریف سے دوبارہ اشرفیہ واپس آے۔اور یہیں سے ١٣٦٥ھ میں دستارفضیلت حاصل کی۔یہاں آپ کے اساتذہ میں جلالتہ العلم حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ،حضرت مولانا محمد سلیمان صاحب بھاگلپوری، مولانا عبدالمصطفی صاحب ازہری،مولانا عبدالمصطفی صاحب اعظمی،مولانا مفتی ثناء اللہ صاحب امجدی مئوی، مولانا شمس الحق صاحب علیہم الرحمہ والرضوان تھے۔فراغت کے بعد ١٩٤٦ء سے ١٩٥٣ء تک مدرسہ انوار العلوم تلسی پور میں مدرس رہے۔اور اس کو ابتدائ عربی سے درس نظامیہ کے متوسطات تک پہنچایا۔یکم مارچ ١٩٥٢ء سے ٥/اپریل ١٩٥٨ء تک مدرسہ شمس العلوم گھوسی ضلع اعظم گڑھ (موجودہ ضلع مئو) میں بحیثیت صدر المدرسین تدریسی خدمات پر مامور ہوۓ۔١٩٥٨ء سے ١٩٧١ء تک آپ دارالعلوم اشرفیہ میں مدرس رہے۔٢/جون ١٩٧١ء کو انتظامیہ میں لے گیے۔اور ناظم تعلیم اور نائب ناظم بنا دیۓ گۓ۔
‌بیعت و خلافت:اس کے چند سال قبل ٣/ذی القعدہ ١٣٧٨ھ کو حضور مفتی اعظم مولانا مصطفی رضا خاں بریلوی کے دست حق پرست پر بیعت ہوۓ اور خلعت خلافت سے نوازے گیے۔
‌آپ رحمتہ اللہ علیہ بہترین تدریسی صلاحیت کے مالک تھے اور درس نظامیہ کے جملہ فنون پر مہارت رکھتے تھے۔اور علم میراث و فرائض آپ کا خاص فن تھا۔پورے ہندوستان میں ہزاروں کی تعداد میں آپ کے شاگرد پھیلے ہوۓ ہیں اور دین و سنیت کا کام انجام دے رہے ہیں۔
اگست ١٩٧٨ء تک نائب ناظم رہے۔اور ایک ماہ بعد ہی انھیں ناظم اعلی کے عہدہ پر فائز ہوۓ اور ١٩٨٦ء تک اسی عہدہ پر رہے۔تحریری لیاقت بھی آپ میں خاصی تھی۔خطیب مشرق مولانا مشتاق احمد صاحب الہ آبادی نے جب شروع شروع الہ آباد سے پاسبان نکالا تو آپ بھی پابندی کے ساتھ اس میں مضمون لکھنے والوں میں تھے۔آپ کی ایک تصنیف جو خواص و عام میں بہت مقبول ہوئ جس کا نام "الوسیلۃ السنیه الی حضرۃ رب البریه آپ کی یادگار ہے۔ضرورت کے وقت تقریر بھی کرلیا کرتے تھے۔ہجوم معانی کا حال یہ تھا کہ بسا اوقات 3 اور 4 گھنٹہ تک آپ نے تقریر کی ہے۔
جس زمانے میں آپ تلشی پور میں تھے۔وہا‌ں لوگوں نے ایک مشاعرہ قائم کیا اس میں آپ نے کچھ دنوں پابندی سے غزلیں بھی کہیں۔
الجامعتہ الاشرفیہ کی پوری جدوجہد میں حضور حافظ ملت رحمتہ اللہ علیہ کے دست و بازو بنے رہے۔الجامتہ الاشرفیہ کی سنٹرل بلڈنگ ،دارالاقامہ کی عمارت،قصبہ میں نسواں اسکول کی تعمیر جدید،دارالاقامہ کی دوسری عظیم الشان عمارت،قصبہ میں اشرفیہ مارکیٹ کی شاندار دو منزلہ تعمیر،اور شعبہ تعلیم میں جدیدکاری سب انھیں کے عہد کی پیداوار ہے۔
دارالقضاء میں آے تو اس کی مرکزی عمارت اور قصبہ میں اس کے پرشکوہ آفس کی تعمیر میں بھی رات دن مصروف رہ کر اس کو پائہ تکمیل تک پہنچایا۔سنی دارالاشاعت کے یہ بنیادی رکن اور سرگرم مجاہد تھے۔اور پورے سفر میں قدم بقدم ساتھ رہے۔لیکن افسوس کہ جب کشتی کنارے پر لگی،تو انھوں خشکی پر اترنے کی پرواہ بھی نہیں کی کشتی میں ہی چادر تان کر ابدی نیند سو گیے۔گویا
نہ کی کچھ لذت افتادگی میں اعتناء میں نے
مجھے دیکھا کیا اٹھ کر غبار کارواں برسوں
آپ رحمتہ اللہ علیہ ‌کو دو بار حج بیت اللہ اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی سعادت نصیب ہوئی۔
پہلا حج1971ء اور دوسرا حج 1984ء
وصال:٧/جمادی الآخرہ ١٤١٠ھ بروز چہار شنبہ دن گزار کر تقریبا ١٢ بجے شب میں آپ نے اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گیے۔
(ماخوذ از:فتاوی رضویہ جلد ہشتم ۔ناشر سنی دارالاشاعت مبارک پور ،و حیات حافظ ملت)

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے