امت مسلمہ کے حالات تعلیم

مدارسِ اسلامیہ کی تنزلی کا ذمہ دار کون ؟

موجودہ دور میں مدارس اسلامیہ کی تشویش ناک صورتِ حالت سے کون واقف نہیں ؟ آئے دن ہمارے ادارے، مسجدیں اور خانقاہیں غیروں کی خباثت و بدنیتی کا شکار ہو رہی ہیں، شب و روز ہماری مذہبی آزادی کو ہم سے چھیننے اور من چاہے غیر مناسب قوانین ہم پر تھوپنے کی کوششیں جاری ہیں، فرضی اعتراضات و سوالات سے تعلیمی اداروں پر حملے کر کے اُنہیں بدنام کیا جا رہا ہے، آج قوم کے ذہن و فکر میں طرح طرح کے خلجان پیدا کرنے والے یہ بھول گئے کہ آج جن قوانین و ضوابط اور اصولوں پر ہندوستان کی بقا قائم ہے اُن قوانین کو ترتیب دینے اور نافذ کرنے میں انہیں مدارس سے فارغ شدہ افراد کی ناقابل فراموش کاوشیں بھی شامل ہیں، انہیں مدارس میں پڑھنے والے مجاہدینِ جنگ آزادی کہلائے، تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں گے تو ذہن و فکر کے بند دریچے خود بخود کھل جائیں گے اور مخالفین و معاندین کو یہ ماننے پر مجبور ہونا ہی پڑے گا کہ انگریزوں کے خلاف سب سے پہلے جہاد کا فتویٰ دے کر لوگوں کو خوابِ غفلت سے جگانے اور اُن کے جوش و جذبہ کو اُبھارے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ انہیں مدرسوں میں تدریسی فرائض انجام دینے والا ایک عالم تھا، جن کے فتویٰ دینے کے بعد ہر قوم کے دلوں میں جذبہ جہاد جاگ اٹھا اور ہمارا ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہو گیا مگر افسوس آج چند منفی سوچ رکھنے والے افراد کی وجہ سے اُنہیں مدرسوں کو آتنک واد کے اڈے سے تعبیر کیا جانے لگا، اور اُن پر ہر چہار جانب سے پابندیاں عائد ہونے لگیں، یہاں تک کہ اس قدر ان پاکیزہ اداروں کے صاف و شفاف چہروں کو داغدار کیا گیا کہ لوگ حکومت سے ان مدارس کو بند کرنے کا مطالبہ کرنے لگے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ آخر آج ہمیں یہ دن کیوں دیکھنا پڑ رہے ہیں، آج ہمارے ادارے بند ہونے کی کگار پر کیوں ہیں ؟ آخر اس انجام کا ذمّہ دار کون ہے ؟ یقیناً آپ اگر سوچیں گے تو جواب یہی آئے گا کہ ان تمام تر مشکلات کے اصلی ذمّہ دار ہم خود ہیں، کیوں کہ ہم اپنے اداروں کو اُن کے حال پر چھوڑ کر اپنی زندگی کے عیش و آرام میں ایسے مصروف ہو گئے کہ ہمیں کبھی یہ فکر لاحق ہی نہیں ہوئی کہ مدرسے کی ضروریات کیسے پوری ہو رہی ہوں گی، یا مدرسے کو کسی طرح کی کوئی ضرورت تو نہیں، مدرسے میں رہنے والے طلبہ و مدرسین کیا کھا رہے ہیں اور کہاں سو رہے ہیں، مدرسے میں پڑھانے والے اساتذہ کی ماہانہ تنخواہ کا انتظام ہوا کہ نہیں، مدارس میں بجلی و پانی کا اہتمام اور بیٹھنے اور لیٹنے کے لیے چٹائیاں دستیاب ہیں کہ نہیں۔ افسوس کبھی ہمارے ذہن و فکر میں یہ سوالات نہیں اٹھے، یہاں تک کہ مدرسے کے لیے چندہ لینے آنے والے لوگوں کو ایک الگ نگاہ سے دیکھنے لگے، اُن کو ذلیل و کمتر سمجھنے لگے، ہم نے اُن کی کبھی کما حقہ مدد نہیں کی، بلکہ طرح طرح کے بہانے بنا کر اُنہیں اگلی تاریخ دے کر واپس کر دیا جاتا ہے۔

انہیں ذلتوں سے بچنے کے لیے ارباب مدارس نے ان اداروں کو سرکاری کرا دیا تاکہ ہماری روزآنہ کی نوک جھوک اور آوارگی و بدمعاشی سے چھٹکارا مل سکے، ہمارے آگے دس دس روپے کے لیے چکر لگانے اور طرح طرح کی باتیں سننے سے بچ سکیں، طلبہ کے گذر بسر کے اخراجات باآسانی پورے ہو سکیں، بعض مقامات پر علماء و حفاظ اور مدارس کے ذمّہ داران ماہِ رمضان میں روزے کی حالت میں صرف اور صرف دین اسلام کے فروغ اور مدارس اسلامیہ کی ترقی و خوشحالی کی خاطر سیٹھوں اور امیروں کے دروازوں پر لائن میں لگے ہوتے ہیں، وہاں بھی انہیں کوئی خاص رقم نہیں ملتی، لینے والوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کے ہاتھ بھی وہی پانچ سو سے ہزار تک ہی رقم ہاتھ لگتی ہے، اور یہ سیٹھ بڑے ہی تکبرانہ لہجہ میں سب سے پیش آتے ہیں۔
محترم قارئین! ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں، کہ کیا آپ اس طرح کی ذلت برداشت کر سکیں گے ؟ ہرگز نہیں کیونکہ آپ کو اپنی عزت و وقار کو چند روپے کے عوض ہرگز مجروح نہیں ہونے دیں گے، پھر ان علماء و حفاظ کی عزت کی فکر ہمیں کیوں نہیں ؟ یہ اپنے فائدے کے لیے نہیں بلکہ دین و سنیت کی بقا کی خاطر وہاں لائن میں لگے ہوتے ہیں، گاؤں گاؤں جا کر ایک ایک بوری آٹا، چاول، گیہوں، دھان جمع کر کے لاتے ہیں تاکہ طلبہ کھانا کھا سکیں، انہیں تمام ذلتوں اور رسوائیوں سے بچنے کی خاطر علماء نے مدارس کا رجسٹریشن کروا کر اُنہیں سرکاری کروا دیا، جس کا نتیجہ آج ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔
اگر ہم نے کما حقہ ان کی مدد کی ہوتی، اور ہر مہینہ خود جا کر ان کی پوچھ تاچھ کرتے اور ان کی ضرورت کا سامان بروقت ان کو پہنچتا رہتا تو یہ سرکاری کرانے کی نوبت ہی نہ آتی، ہم بھول گئے کہ ہم پر مساجد و مدارس کا بھی کوئی حق ہے، دنیا بھر کی تمام تر اخراجات ہم خوب کھل کر پوری کرتے ہیں، شادی و بیاہ، پارٹی وغیرہ میں لاکھوں روپے اڑا دیتے ہیں لیکن جب بات دینی معاملات میں خرچ کرنے کی آتی ہے تو ہم بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ ہمارے اسی رویہ کا نتیجہ ہے کہ ہماری بروقت صحیح مدد نہ پہنچنے کی وجہ سے یہ مدرسے سرکاری ہوئے، اب جب ہم نے اپنے مدرسے کا نظام سرکار کے ہاتھوں میں سونپ دیا تو حکومت نے مدارس اسلامیہ میں اپنے منمانے احکامات جاری کر دیے جو کہ آئین ہند اور اسلامی نظریہ کے خلاف تھے۔ ہندوستان کا آئین یہ ہرگز اجازت نہیں دیتا کہ کسی بھی دھرم کو جور و زبردستی وہ کام کرنے کو کہا جائے جو اس دھرم کے موافق نہ ہو، لیکن پھر بھی جب ہم نے اُن احکامات پر عمل کرنے سے منع کیا تو ہماری حب الوطنی کو نشانہ بنا کر اداروں کو آتانکواد کا اڈا قرار دے دیا گیا۔
آج جب مدارس بند ہونے کی بات اٹھائی گئی تب ہمارے سوئے ہوئے ضمیر جاگے، اور ہم سڑکوں پر اترے، ہمارے احتجاج اور دعاؤں کا اثر یہ ہوا کہ عدالت نے فی الوقت مدرسوں کو بند کرنے سے منع کر دیا، لیکن خطرہ ابھی بھی ٹلا نہیں ہے، آنے واحد میں یہ مدہ پھر زور پکڑے گا اور مدارس اسلامیہ کو نشانہ بنایا جائے گا، کیوں کہ مسلمانوں کو پسپا کرنے کے لیے سب سے طاقتور وار یہی ہے کہ نئی نسل کو دین اسلام سے دور کر دیا جائے، اور یہ کب ممکن ہوگا جب مدارس نہیں ہوں گے اور جو ہوں گے بھی اُن میں اُن کی مرضی کا نصاب شامل ہوگا، جس سے بچے کے ایمان و عقیدہ کو باآسانی بدلا جا سکتا ہے۔
لہٰذا ابھی وقت ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم مدارس اسلامیہ کی دیکھ بھال کی ذمّہ داری اپنے سر لیں، ہر شخص اپنے آپ کو ذمّہ دار سمجھے کہ اسے مہینہ میں کچھ رقم مدرسے پہنچانی ہے، علماء و طلبہ کا مکمل خیال رکھنا ہے، اپنے علاقے کے مدرسے کو خوب مضبوط بنانا ہے، جو ادارے ابھی زیرِ تعمیر ہیں اُنہیں تعمیر کرنے میں مدد کرنی ہے، یقین جانیں اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ مزید بڑھتا ہے، راہِ خدا میں خرچ کرنے سے ہمارا دینی و دنیاوی دونوں فائدے ہیں، مثلاً ہم نے مدرسے میں مدد کی جس سے ہمیں راہِ خدا میں خرچ کرنے سے رب کی جانب سے اضافی طور پر انعام ملے گا یعنی رب تبارک وتعالیٰ ہمارے مال میں برکت عطا فرمائے گا، اور جب تک اس ادارے میں طلبہ دینی تعلیم حاصل کرتے رہیں گے ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیاں بڑھتی رہیں گی، اور اسی طرح اگر ہم نے کسی طالب علم کو کتابیں وغیرہ ہدیتاً پیش کر دیں تو جب تک وہ اُسے پڑھے گا اور اُن کتابوں سے حاصل ہونے والے علم سے لوگوں کو دین سکھائے گا تب تک ہمیں اس کا ثواب ملتا رہے گا، اس طرح سے ہمیں دینی و دنیاوی دونوں فائدے حاصل ہوئے۔
لہٰذا میری جملہ مسلمانان ہند سے گذارش ہے کہ مدارس اسلامیہ کو جتنا ہو سکے مضبوط بنائیں اور وقت پر اُن کی مدد کرتے رہیں، طلبہ کے مابین کتابیں، کاپیاں اور اُن کی ضروریات کی دیگر اشیاء اُنہیں دیتے رہیں اور ثوابِ دارین کے حقدار بنتے رہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور مدارس اسلامیہ کی حفاظت فرمائے، دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین ﷺ

تحریر: محمد تحسین رضا نوری
شیرپور کلاں پورن پور پیلی بھیت

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے