عربی کتابوں کی صحیح عبارت خوانی میں وجوہ اعراب کا بڑا دخل ہے۔ طلبہ اور زیادتر طالبات کو دیکھا گیا ہے کہ کتب متداولہ اور درس نظامی کے رائج طریقے کے مطابق بیشتر نحوی اور صرفی کتابیں پڑھ کر بھی درست عبارت خوانی نہیں کرپاتے۔ دراصل صحیح عبارت خوانی کے لیے کئی چیزیں درکار ہیں۔ اول یہ: کہ تمام نحوی وصرفی اصول وضوابط ازبر ہوں۔ ثانی یہ: کہ لغت پر بھی کسی حد تک استحضارہو۔ ثالث یہ : کہ صرفی ابواب اور واحد وجمع کی بھی تحقیق ہو۔ اور رابع یہ: کہ صرفی قواعد کے اجرا کے باوجود وجوہ اعراب کا انحصار ہو۔
نحوی کتابوں کے مطالعے سے عیاں ہوتا ہے کہ استقرائی طور پر تمام وجوہ اعراب کہیں بھی بیان نہیں کی گئی۔ "نحومیر” میں وجوہ اعراب کی ١٦ قسمیں جو اصل میں نو بنتی ہیں جب کہ "ہدایۃ النحو” میں انھیں کو ٩ اور "کافیۃ ابن حاجب” میں بھی ٩/ قسموں کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ "کافیۃ النحو” کچھ صورتوں کا اضافہ کیا گیا۔ ہم اکثر کتب نحو کی مدد سے ان شاء اللہ! تمام وجوہ اعراب بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔
١۔ مفرد منصرف صحیح: جیسے: زید، یہاں مفرد سے مراد وہ اسم ہے جو تثنیہ اور جمع نہ ہو۔ منصرف سے مراد وہ اسم ہے جو غیر منصرف نہ ہو۔ یعنی اس میں اسباب منع صرف میں سے دو سبب یا ایک سبب جو دو کے قائم مقام ہو، نہ ہو۔ صحیح نحویوں کی اصطلاح میں وہ کلمہ ہے: جس کے آخر میں حرف علت نہ ہو، جیسے زید۔ اور صرفیوں کی اصطلاح میں وہ کلمہ ہے جس کے حروف اصلیہ میں کوئی حرف ہمزہ، حرف علت اور دو حرف ایک جنس کے نہ ہوں۔ جیسے: رجل۔ لہذا زید نحویوں کی اصطلاح میں صحیح ہے اور صرفیوں کی اصطلاح میں معتل عین ہے۔
(قواعد النحو، ص: ١٢/ مجلس برکات)
٢۔ مفرد منصرف قائم مقام صحیح: یہ وہ اسم ہے جس کے آخر میں حرف علت "واو” یا "یاء” ہو اور اس کا ماقبل ساکن ہو۔ جیسے: دلو اور ظبی۔
٣۔ جمع مکسر منصرف یہ وہ جمع ہے جس کے واحد کا وزن سلامت نہ ہو۔ جیسے: رجال،
ان تینوں قسموں کا اعراب ایک ہوگا۔ حالت رفع میں ضمہ کے ساتھ حالت نصب میں فتحہ کے ساتھ اور حالت جر میں کسرہ کے ساتھ۔ جیسے: جاءنی زید ودلو وظبی ورجال، ورءیت زیدا ودلوا وظبیا ورجالا، ومررت بزید ودلو وظبی ورجال۔
"ہدایۃ النحو” میں ہے:
"ان یکون الرفع بالضمۃ والنصب بالفتحۃ والجر بالکسرۃ ویختص بالمفرد المنصرف الصحیح وھو عند النحاۃ مالایکون فی آخرہ حرف علۃ کزید، وبالجاری مجری الصحیح وھو ما یکون فی آخرہ واو أو یاء ماقبلھا ساکن کدلو وظبی وبالجمع المکسر المنصرف کرجال، تقول: "جاءنی زید ودلو وظبی ورجال، ورءیت زیدا ودلوا وظبیا ورجالا، ومررت بزید ودلو وظبی ورجال”۔
(ہدایۃ النحو، ص:١٠/مجلس برکات)
٤۔ جمع مؤنث سالم: اس سے مراد وہ جمع ہے جو واحد کے آخر میں الف اور تاے مطولہ زیادہ کرکے بنائی گئی ہو۔ خواہ اس کا واحد مؤنث ہو۔ جیسے مسلمۃ کی جمع مسلمات، خواہ مذکر ہو۔ جیسے: مرفوع کی جمع مرفوعات۔ (قواعد النحو، ص: ١٢/ مجلس برکات)
اس کا اعراب حالت رفع میں ضمہ کے ساتھ ،حالت نصب اور جر میں کسرہ کے ساتھ ہوگا۔ جیسے: ھن مسلمات، ورءیت مسلمات، ومررت بمسلمات۔
"ہدایۃ النحو” میں ہے:
"أن یکون الرفع بالضمۃ والنصب والجر بالکسرۃ ویختص بجمع المؤنث السالم، تقول: ھن مسلمات ورءیت مسلمات ومررت بمسلمات۔”
(ہدایۃ النحو، ص:١٠/ مجلس برکات)
٥۔ ملحق بجمع المؤنث السالم: اس سے مراد ہر وہ کلمہ ہے جو اپنے آخر میں الف اور تاء کے ساتھ جمع مؤنث سالم کے وزن پر آۓ لیکن اس کے لفظ سے اس کا کوئی واحد نہ ہو۔ جیسے: "أولات” صاحبات کے معنی میں ہے۔ اور اس کا واحد "ذات” ہے جو غیر لفظ سے ہے۔ تو اسے جمع مؤنث سالم کا اعراب دیا جاتا ہے۔ یعنی حالت رفع میں ضمہ کے ساتھ اور حالت نصب اور جر میں کسرہ کے ساتھ۔ حالت رفع میں جیسے:”أؤلات الأحمال أجلھن أن یضعن حملھن "۔ حالت نصب میں”وان کن أؤلات حمل”۔ اور حالت نصب میں جیسے: "أرج الخیر من أولات الحیاء والصلاح والعلم”۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
اعراب الملحق بجمع المؤنث السالم:
"تعرب "أولات” کجمع المؤنث السالم بالضمۃ رفعا وبالکسرۃ نصبا وجرا۔ قال تعالی: "وان کن أولات حمل” (الطلاق:٦) وتقول اؤلات الاخلاق الطیبۃ محبوبات، وارج الخیر من اؤلات الحیاء والصلاح والعلم۔”
(کافیۃ النحو، الباب الأول: الأسماء المعربۃ، ص: ٣٦)
٦۔ مسمی بجمع المؤنث السالم: اس سے مراد یہ ہے: کہ جمع مؤنث سالم کے ساتھ کسی کا نام رکھ دیا جاۓ۔ تواس کا اعراب جمع مؤنث سالم کا ہی اعراب ہوگا۔
جیسے: ھذہ اذرعات وعرفات، ورءیت اذرعات وعرفات، وسافرت الی اذرعات وعرفات۔
قرآن پاک میں ہے:
"فاذا افضتم من عرفات۔”
ترجمہ: تو جب تم عرفات سے واپس لوٹو۔
اور یہی فصیح ہے۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"ویعرب ما سمی بہ من ھذا الجمع اعرابہ فتقول: "ھذہ أذرعات وعرفات، ورءیت أذرعات وعرفات، وسافرت بأذرعات وعرفات”۔ ھذا ھو الفصیح، قال تعالی: ” فاذا أفضتم من عرفات”۔ (البقرۃ: ١٩٨)”
(کافیۃ النحو، الباب الأول: الأسماء المعربۃ، ص: ٣٧)
٧۔غیر منصرف: اس کا اعراب حالت رفع میں ضمہ کے ساتھ، حالت نصب اور جر میں فتح کے ساتھ ہوگا۔ جیسے: جاءنی عمر، ورءیت عمر، ومررت بعمر۔
"کافیہ” میں ہے:
"أن یکون الرفع بالضمۃ والنصب والجر بالفتحۃ ویختص بغیر المنصرف، کعمر، تقول: جاءنی عمر، ورءیت عمر، ومررت بعمر”۔
(کافیہ، ص: ١٠/ مجلس برکات)
٨۔ تثنیہ: اس سے مراد ہر وہ اسم ہے جو دو پر دلالت کرے اس وجہ سے کہ اس کے مفرد کے آخر میں "الف” یا "یاء ماقبل مفتوح” اور "نون مکسور” لاحق ہو
"ہدایۃ النحو” میں ہے:
المثنی: اسم الحق بآخرہ ألف أو یاء مفتوح ماقبلھا ونون مکسورۃ لیدل علی أن معہ آخر مثلہ۔ نحو: رجلان۔
(ہدایۃ النحو، ص: ٩٤)
٩۔کلا اور کلتا جب ضمیر کی طرف مضاف ہوں۔ یہ دونوں تثنیہ نہیں ہیں۔ بلکہ ملحق بتثنیہ ہیں۔ اس لیے کہ ان کا واحد ان کے لفظ سے نہیں آتا۔ان میں پہلا مذکر کی تاکید کے لیے ہے اور دوسرا مؤنث کی تاکید کے لیے ہے۔
١٠۔ اثنان اور اثنتان: یہ بھی تثنیہ نہیں ہیں بلکہ ملحق بتثنیہ ہیں کیوں کہ ان کا واحد ان کے لفظ سے نہیں ہے۔ ان میں بھی پہلا مذکر اور دوسرا مؤنث کے لیے ہے۔
(قواعد النحو،ص: ١٣)
ان تینوں قسموں کا اعراب حالت رفع میں الف، حالت نصب اور جر میں یاء ماقبل مفتوح ہوگا۔ جیسے: جاءنی الرجلان کلاھما واثنان واثنتان، ورءیت الرجلین کلیھما واثنین واثنتین، ومررت بالرجلین کلیھما واثنین واثنتین۔
"ہدایۃ النحو” میں ہے:
"أن یکون الرفع بالألف والنصب والجر بالیاء المفتوح ماقبلھا، ویختص بالمثنی وکلا مضافا الی مضمر واثنان واثنتان، تقول: جاءنی الرجلان کلاھما واثنان واثنتان، ورءیت الرجلین کلیھما واثنین واثنتین، ومررت بالرجلین کلیھما واثنین واثنتین”۔
(ہدایۃ النحو، ص: ١١/ مجلس برکات)
١١۔ کلا اور کلتا جب غیر ضمیر کی طرف مضاف ہوں: انھیں اسم مقصور کی طرح رفع ،نصب اور جر کی حالت میں الف پر تقدیری حرکتوں کے ساتھ اعراب دیا جاۓ گا۔ جیسے: جاء کلا الرجلین وکلتا المرأتین، ورءیت کلا الرجلین وکلتا المرأتین، ومررت بکلا الرجلین وکلتا المرأتین۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"فان اضیفا الی غیر الضمیر أعربا اعراب الاسم المقصور بحرکات مقدرۃ علی الألف رفعا ونصبا وجرا، مثل: جاء کلا الرجلین وکلتا المرءتین، ورءیت کلا الرجلین وکلتا المرءتین، ومررت بکلا الرجلین وکلتا المرءتین”۔
(کافیۃ النحو، ص: ٣٥/ مجلسِ برکات)
١٢۔ اسماے ستہ مکبرہ مفردہ جب یاے متکلم کے علاوہ کی طرف مضاف ہوں: ان کا اعراب حالت رفع میں واو کے ساتھ، حالت نصب میں الف کے ساتھ اور حالت جر میں یاء کے ساتھ ہوگا۔ اسماے ستہ مکبرہ یہ ہیں: ” أخوک، ابوک، ھنوک، حموک، فوک اور ذومال”۔ جیسے: جاءنی أخوک، ورءیت أخاک، ومررت بأخیک۔
"ہدایۃ النحو” میں ہے:
"أن یکون الرفع بالواو، والنصب بالألف، والجر بالیاء، ویختص بالأسماء الستۃ مکبرۃ موحدۃ مضافۃ الی غیر یاء المتکلم، وھی أخوک، وأبوک، وھنوک، وحموک، وفوک، وذومال، تقول: جاءنی أخوک،ورءیت أخاک، ومررت بأخیک”۔ (ہدایۃ النحو، ص:١١/ مجلسِ برکات)
١٣۔ اسماے ستہ مکبرہ جب مصغرہ ہوں: ان کا اعراب حرکتوں (حالت رفع میں ضمہ، حالت نصب میں فتحہ اور حالت جر میں کسرہ) کے ساتھ مفرد منصرف قائم مقام صحیح کا اعراب ہوگا۔ جیسے: جاءنی أخیک، ورءیت أخیک، ومررت بأخیک۔
"شرح جامی” میں ہے:
"اذ مصغراتھا معربۃ بالحرکات، نحو: جاءنی أخیک ورءیت أخیک ومررت بأخیک”۔
(شرح جامی، ص: ٧٥/ مطبوعہ: شفا،استنبول)
١٤۔ اسماے ستہ مکبرہ جب تثنیہ یا جمع تکسیر ہوں: انھیں تثنیہ یا جمع کا اعراب دیا جاۓ گا۔ جیسے: جاءنی ابواک، ورءیت ابویک، ومررت بابویک۔ اور جاءنی أباءک، ورءیت آباءک، ومررت بآبائک۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"فان کانت مثناۃ أو مجموعۃ تعرب اعراب المثنی أو الجمع”۔ (کافیۃ النحو، ص: ٣٥/ مجلس برکات)
١٥۔ اسماے ستہ مکبرہ جب اضافت سے منقطع ہوں: ان کو ظاہری حرکتوں کے ساتھ اعراب دیا جاۓ گا۔ (یعنی حالت رفع میں ضمہ کے ساتھ حالت نصب میں فتحہ کے ساتھ اور حالت جر میں کسرہ کے ساتھ) جیسے: ھذا اب صالح، وأکرم الفم عن بذیء الکلام، وتمسک بالأخ الصادق۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"وان قطعت عن الاضافۃ کانت معربۃ بحرکات ظاھرۃ، مثل: ھذا أب صالح، وأکرم الفم عن بذیء الکلام، وتمسک بالأخ الصادق”۔
(کافیۃ النحو، ص: ٣٥/ مجلس برکات)
١٦۔ اسماے ستہ مکبرہ جب یاے متکلم کی طرف مضاف ہوں: "اسماے ستہ مکبرہ” اگر یاے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو آخری حرف پر تقدیری حرکتوں کے ساتھ اعراب دیا جاۓ گا۔ جس کے ظہور سے مناسبت کا کسرہ مانع ہوگا۔ جیسے: أبی رجل صالح، أکرمت أبی، لزمت طاعۃ أبی۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"وان اضیفت الی یاء المتکلم کانت معربۃ بحرکات مقدرۃ علی آخرھا یمنع من ظھورھا کسرۃ المناسبۃ۔، مثل: أبی رجل صالح، واکرمت أبی، ولزمت طاعۃ أبی”۔
(کافیۃ النحو، ص: ٣٥/ مجلس برکات)
١٧ جمع مذکر سالم اس سے مراد وہ جمع ہے جو دو سے زیادہ پر دلالت کرے اور اس کے آخر میں واو ماقبل مضموم یا یاء ماقبل مکسور ہو اور آخر میں نون مفتوح ملا ہوا ہو۔ جیسے: مسلمون اور مسلمین۔
"ہدایۃ النحو” میں ہے:
وھو ما ألحق بآخرہ واو مضموم ماقبلھا ونون مفتوحۃ ک” مسلمون” أو یاء مکسور ماقبلھا و نون کذالک لیدل علی أن معہ أکثر منہ نحو: مسلمین”۔
(ہدایۃ النحو، ص:٩٨)
١٨۔ أولو یہ ذو کی جمع ہے دوسرے لفظ سے۔ یعنی اس کا واحد اپنے لفظ سے نہیں ہے۔ لہذا یہ جمع مذکر سالم کے ساتھ ملحق ہے۔
(قواعد النحو، ص: ١٣)
١٩۔ عشرون تا تسعون یہ آٹھ اعداد ہیں: عشرون، ثلثون، اربعون، خمسون، ستون، سبعون، ثمانون، تسعون۔ یہ بھی جمع مذکر کے ساتھ ملحق ہیں۔ کیوں کہ ان سب کے آخر میں بھی واو اور نون لاحق ہے۔ البتہ عشرون کو عشر کی جمع نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے کہ عشر کا معنی دس ہے ۔ تو اس سے لازم آۓ گا کہ عشرون کا معنی تیس ہو۔ کیوں کہ عربی زبان میں جمع کا اطلاق واحد کے کم از کم تین افراد پرہوتا ہے۔
(قواعد النحو، ص:١٤)
ان تینوں قسموں کا اعراب ایک ہے: یعنی حالت رفع میں واو ماقبل مضموم اور حالت نصب اور جر میں یاء ماقبل مکسور۔ جیسے: جاء مسلمون والو مال وعشرون رجلا، رءیت مسلمین واولی مال وعشرین رجلا، مررت بمسلمین واولی مال وعشرین رجلا۔
"نحومیر” میں ہے:
"دہم جمع مذکر سالم، چوں مسلمون، یازدہم اولو، دوازدہم عشرون تا تسعون۔ رفع شاں واو ماقبل مضموم باشد، ونصب وجر بیاے ماقبل مکسور۔ چوں جاء مسلمون والو مال وعشرون رجلا، رءیت مسلمین واولی مال وعشرین رجلا، مررت بمسلمین واولی مال وعشرین رجلا۔
(نحومیر، ص: ٣٤)
٢٠۔ ملحق بجمع المذکر السالم: اسے جمع مذکر سالم کا اعراب دیا جاۓ گا۔ ملحق بجمع المذکر السالم وہ ہے: جس کی یہ جمع خلاف قیاس بنائی گئی ہو۔ تو "بنین، سنین، عضین، ثبین، اور اس جیسے الفاظ میں جمع مذکر سالم کا اعراب دینا جائز ہے۔ اور یہی زیادہ فصیح ہے۔ جیسے: مرت علی سنون، واغتربت سنین، وانجزت ھذا العمل فی سنین۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"فاستفتھم ألربک البنات ولھم البنون”۔
(س: الصفت، آیت: ١٤٩)
ترجمہ: تو ان سے پوچھو کیا تمھارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے؟
نیز فرمایا: "اصطفی البنات علی البنین”۔
(الصفت، آیت: ١٥٣)
ترجمہ: کیا اللہ نے بیٹے چھوڑ کر بیٹیاں پسند کیں؟
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"یعرب الملحق بجمع المذکر السالم اعراب جمع المذکر السالم، وھو ماجمع ھذا الجمع علی غیر قیاس۔ فیجوز فی نحو :”بنین وسنین وعضین، وثبین”وما اشبھھا أن یعرب اعراب ھذا الجمع ،وھو الافصح، فیقال: مرت علی سنون، واغتربت سنین، وأنجزت ھذا العمل فی سنین”۔ قال تعالیٰ: "ألربک البنات ولھم البنون”۔
(کافیۃ النحو، ص:٣٦/ مجلس برکات)
ملحق بجمع المذکر السالم میں جوازی صورت:
٢١۔ مسمی بجمع المذکر السالم جمع المذکر السالم کے ذریعہ جب کسی کا نام رکھ دیا جاۓ تواسے جمع مذکر سالم کا اعراب دینا بھی جائز ہے۔ جیسے: جاء عابدوں وزیدون، ورءیت عابدین وزیدین، ومررت بعابدین وزیدین۔ اور یہی فصیح ہے۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"ویجوز فی ھذا الجمع اذا سمی بہ أحد أن یعرب اعرابہ ، فنقول: "جاء عابدوں وزیدون، ورءیت عابدین وزیدین، ومررت بعابدین وزیدین، وھو الأفصح”۔
(کافیۃ النحو، ص:٣٦/ مجلس برکات)
٢٢۔ مضاف الی یاء المتکلم جب جمع مذکر سالم کے علاوہ ہو اور اسم مقصور
اسم مقصور (جس کے آخر میں الف مقصورہ ہو۔ جیسے: عصا) اور مضاف الی یاء المتکلم جو جمع مذکر سالم کے علاوہ ہو، جیسے: غلامی، تو اس کا اعراب حالت رفع میں تقدیری ضمہ، نصب میں تقدیری فتحہ اور جر میں تقدیری کسرے کے ساتھ ہوگا۔ جیسے: جاءنی عصا وغلامی، ورءیت عصا وغلامی، ومررت بعصا وغلامی۔
"ہدایۃ النحو” میں ہے:
"أن یکون الرفع بتقدیر الضمۃ والنصب بتقدیر الفتحۃ والجر بتقدیر الکسرۃ، ویختص بالمقصور وھو ما فی آخرہ ألف مقصورۃ کعصا وبالمضاف الی یاء المتکلم غیر جمع المذکر السالم، کغلامی، تقول: جاءنی عصا وغلامی، ورءیت عصا وغلامی، ومررت بعصا وغلامی”۔
(ہدایۃ النحو، ص: ١٢، مجلسِ برکات)
٢٣۔ مضاف الی یاء المتکلم اگرخود اسم مقصور ہو
اگرمضاف الی یاء المتکلم اسم مقصور ہو تو اس کا الف اپنی حالت پر باقی رہے گا اور اس کو الف پر تقدیری حرکتوں کے ساتھ اعراب دیا جاۓ گا جیساکہ یاے متکلم سے متصل ہونے سے پہلے اسے تقدیری اعراب دیا جاتا تھا۔ تم کہوگے: ھذہ عصای، أمسکت عصای، وتوکأت علی عصای”۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"فان کان المضاف الی یاء المتکلم مقصورا، فان الفہ تبقی علی حالھا، ویعرب بحرکات مقدرۃ علی الألف، کما کان یعرب قبل اتصالہ بیاء المتکلم، فتقول: "ھذہ عصای، أمسکت عصای، وتوکأت علی عصای”۔
(کافیۃ النحو، ص:٣٨/مجلس برکات)
٢٤۔ مضاف الی یاء المتکلم اگر اسم منقوص ہو
مضاف الی یاء المتکلم اگر اسم منقوص ہو تو اس کی یاء کا یاے متکلم میں ادغام کردیا جاۓ گا اور حالت نصب میں یاے منقوص کے اوپر تقدیری فتحہ کا اعراب دیا جاۓ گا جس کے ظہور سے ادغام کا سکون مانع ہوگا۔ تم کہوگے: حمدت اللہ معطیی الرزق، اور حالت رفع اور جر میں یاے منقوص کے اوپر تقدیری ضمہ اور کسرہ کا اعراب دیا جاۓ گا۔ جس کے ظہور سے اولا ثقالت مانع ہوگی پھر ادغام کا سکون۔ تو تم کہوگے: اللہ معطیی الرزق، وشکرت لمعطیی الرزق۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"وان کان منقوصا تدغم یاءہ فی یاء المتکلم۔ ویعرب فی حالت النصب بفتحۃ مقدرۃ علی یاءہ یمنع من ظھورھا سکون الادغام، فتقول: حمدت اللہ معطیی الرزق”۔
ویعرب فی حالتی الرفع والجر بضمۃ وکسرۃ مقدرتین علی یاءہ، یمنع من ظھورھما الثقل اولا وسکون الادغام ثاںیا، فتقول: "اللہ معطیی الرزق”و”شکرت لمعطی الرزق”۔ (کافیۃ النحو، ص:٣٨/مجلس برکات)
٢٥۔ مضاف الی یاء المتکلم اگر تثنیہ ہو مضاف الی یاء المتکلم اگر تثنیہ ہو تو اس کا الف اپنی حالت پر باقی رہے گا۔ جیسے: "ھذان کتابای” لیکن حالت نصب اور جر میں اس کی یاء کا یاے متکلم میں ادغام کردیا جاۓ گا۔ جیسے: "علم الأستاذ ولدیی بین یدیی”۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
وان کان مثنی، تبقی الفہ علی حالھا، مثل: "ھذان کتابای”۔ وأما یاءہ فی حالتی النصب والجر فتدغم فی یاء المتکلم، مثل: "علم الأستاذ ولدیی بین یدیی”۔
(کافیۃ النحو، ص:٣٩/ مجلس برکات)
٢٦۔ مضاف الی یاء المتکلم اگر جمع مذکر سالم ہو مضاف الی یاء المتکلم اگر جمع مذکر سالم ہو تو اس کا واو یاء سے بدل جاۓ گا اور اس کا یاء میں ادغام کردیا جاۓ گا۔ جیسے: معلمیی یحبون أدبی، اور حالت نصب اور جر میں جمع مذکر سالم کی یاء کا یاے متکلم میں ادغام کردیا جاۓ گا۔ جیسے: أکرمت معلمیی، قرأت علی معلمیی۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
وان کان جمع مذکر سالما تنقلب واوہ یاء وتدغم فی یاء المتکلم، مثل: "معلمیی یحبون أدبی”۔ وأما یاءہ فتدغم فی یاء المتکلم أیضا، مثل: "أکرمت معلمیی”۔
(کافیۃ النحو، ص:٣٩/ جلس برکات)
٢٧۔ محکی کا اعراب: حکایت: لفظ کا اس کے مطابق پیش کرنا ہے جو تم سن رہے ہو،
اس کی دو قسمیں ہیں:
١۔ حکایت کلمہ ٢۔ حکایت جملہ
دونوں کو ان کے لفظ کے مطابق بیان کیا جاتاہے۔ سواے یہ کہ وہ غلط ہوں تو پھر غلطی پر تنبیہ کرتے ہوۓ حکایت بالمعنی متعین ہے۔
حکایت کلمہ یہ ہے: گویا کہ کہا جاۓ: کتبت "یعلم” یعنی میں نے یہ کلمہ لکھا۔ تو دراصل "یعلم” فعل مضارع ہے جو عامل ناصب وجازم سے خالی ہونے کے باعث مرفوع ہے، لیکن وہ یہاں محکی ہے تو یہ "کتبت” کا مفعول بہ ہوگا اور اس کا اعراب تقدیری ہوگا جس کے ظہور سے حکایت کی حرکت مانع ہوگی۔
اور جب تم کہو "کتب” فعل ماض۔ تو "کتب” یہاں محکی ہے اور وہ مبتدا مرفوع ہے تقدیری ضمہ کے ساتھ جس کے ظاہر ہونے سے حکایت کی حرکت روکے گی۔
جب تم سے کہا کہ اپنے قول ” رءیت سعیدا” میں "سعیدا” کا اعراب بیان کر، تو تم کہوگے: "سعیدا” مفعول بہ ہے۔ تو تم لفظ "سعیدا” کی حکایت کررہے ہو اور اسے منصوب لا رہے ہو باوجودے کہ "سعیدا” تمھارے کلام میں مبتدا ہے۔ اور اس کی خبر تمھارا قول "مفعول بہ” ہے۔ مگر یہ اپنے آخری حرف پر تقدیری ضمہ کے ساتھ مرفوع ہے جس کے ظاہر ہونے سے حکایت کی حرکت مانع ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حکایت نام ہے لفظ کو اسی کے مطابق بیان کرنا جیسا تم نے سنا ہے۔
حکایت جملہ یہ ہے: گویا تم کہو: قلت "لاالہ الا اللہ”۔ سمعت "حی علی الصلاۃ”، قراءت "قل ھو اللہ احد”، کتبت "استقم کما امرت”
تو یہ سب جملہ محکی ہیں۔ اور محلا منصوب ہیں اپنے سے پہلے فعل کی وجہ سے۔ تو ان کا اعراب محکی کا اعراب ہوگا۔
اور جملہ کا حکم یہ ہے کہ مبنی ہو پس اگر جملے پر کوئی عامل مسلط کردیا جاۓ تو وہ عامل کے مطابق محلا مرفوع یا منصوب یا مجرور ہوگا۔ ورنہ اس کے لیے کوئی محل اعراب نہیں ہوگا۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
الحكاية: إيراد اللفظ على ما تسمعه۔
وهي، إما حكاية كلمة، أو حكاية جملة، وكلاهما يحكى على لفظه، إلا أن يكون لحنا، فتعین الحکایۃ بالمعنی، مع التنبیہ علی اللحن۔
فحكاية الكلمة كان يقال: كتبت: "يعلم”، أي كتبت هذه الكلمة، فـ ” يعلم” – في الأصل – فعل مضارع، مرفوع لتجرده من الناصب والجازم، وهو هنا محكي، فيكون مفعولا به ل”كتبت”، ويكون إعرابه تقديرياً منع من ظهوره حركة الحكاية۔
وإذا قلت: "كتب” فعل ماض، ف "كتب” هنا محكية، وهي مبتدأ مرفوع بضمة مقدرة منع من ظهورها حركة الحكاية”۔
وإذا قيل لك: أعرب سعيداً” من قولك: "رأيت سعيداً”، فتقول: "سعيداً” مفعول به، تحكي اللفظ وتأتي به منصوباً، مع أن "سعيداً” في كلامك مبتدأ، وخبره قولك: "مفعول به” إلا أنه مرفوع بضمة مقدرة على آخره، منع من ظهورها حركة الحكاية، أي حكايتك اللفظ الواقع في الكلام كما هو واقع۔
وحکایۃ الجملۃ کأن تقول: "قلت "لاالہ الا اللہ”، سمعت "حی علی الصلاۃ”، قرات "قُل هو الله أحد”، كتبت "اسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ، فهذه الجُمَل محكية، ومحلها النصب بالفعل قبلھا فاعرابھا اعراب محکی۔
وحکم الجملۃ أن تکون مبنیۃ، فان سلط علیھا عامل کان محلھا الرفع او النصب او الجر علی حسب العامل۔ والا کانت لا محل لھا من الاعراب۔
(کافیۃ النحو، ص: ٤٠ مجلس برکات)
٢٨۔ مبنی کلمے کے ذریعہ اگرکسی کا نام رکھا جاۓ اگر تم کسی کا نام مبنی کلمے کے ساتھ رکھ دو تو اسے اس کی حالت پر باقی رکھوگے اور اس کا اعراب تینوں حالتوں میں تقدیری ہوگا۔ تو اگر تم کسی آدمی کا نام "رب” یا "حیث” یا "من” رکھ دو تو یہ کہوگے: "جاء رب، أکرمت حیث، أحسنت ألی من”۔ لہذا اعراب کی حرکتیں آخری حرفوں پر تقدیری ہوں گی جس کے ظاہر ہونے سے بناے اصلی کی حالت مانع ہوگی۔
اسی طرح اگر کسی جملہ کے ذریعے نام رکھ دو۔ جیسے: "تأبط شرا، جاد الحق، تو تم اسے اعراب طاری کے لیے بدلوگے نہیں، لہذا کہوگے: جاء "تأبط شرا، أکرمت جاد الحق”۔ اور اعراب طاری مقدر ہوگا جس کی حرکت کے ظہور سے اعراب اصلی کی حرکت مانع ہوگی۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"ان سمیت أحدا بکلمۃ المبنیۃ ابقیتھا علی حالھا وکان اعرابھا مقدرۃ فی الأحوال الثلثۃ۔ فلو سمیت رجلا "رب”، أو "حیث”، أو "من”، قلت: "جاء رب، أکرمت حیث، أحسنت الی من”۔ فحرکات الأعراب مقدرۃ علی أواخرھا، منع من ظھورھا حالۃ البناء الأصلی۔
وکذا ان سمیت بجملۃ-ک” تأبط شرا، وجاد الحق-لم تغیرھا للاعراب الطاریء، فتقول: جاء "تأبط شرا، أکرمت جاد الحق”۔ ویکون الأعراب الطاریء مقدرا، منع من ظھورحرکتہ حرکۃ الأعراب الأصلی”۔
(کافیۃ النحو، ص: ٤٠/ مجلس برکات)
٢٩۔ فعال کے ہم وزن کلمات جب کسی مؤنث کا نام ہوں فعال کے وزن پر کلمات کسی مؤنث کا علم ہوں، جیسے:حذام، قطام، رقاش، سجاح، وبار، سفار، حضار، تو اہل عرب کی ان اسما کے بابت تین لغتیں ہیں۔
جن میں سے ایک اہل حجاز کی ہے۔ وہ اسے اس کی تمام حالتوں میں کسرے پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ جیسے: قالت حزام، سمعت حزام، وعیت قول حزام۔
دوسری بعض بنی تمیم کی ہے۔ وہ اسے علمیت اور تانیث معنوی کی وجہ سے مطلقا غیر منصرف مانتے ہیں۔ جیسے: "طلعت حضار، رءیت حضار، اھتدیت فی السفر بحضار”۔
تیسری جمہور نحویوں کی ہے۔ وہ اس کے درمیان تفصیل کرتے ہیں۔ یہ ان میں سے ذوات الراء کو کسرے پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں: "ھذہ سفار، ورءیت سفار، ومررت بسفار”۔
اور غیر ذوات الراء کو علمیت اور تانیث کی وجہ سے غیر منصرف قرار دیتے ہیں۔
اور اس میں عدل کا اعتبار صرف حمل علی النظائر کے طور پر کرتے ہیں۔ نہ کہ غیر منصرف اور بنا کے سبب کی تحصیل کے لیے۔
"کافیۃ النحو” میں ہے:
"وما کان علی وزن فعال علما لمؤنث، کحذام وقطام ورقاش وسجاح و وبار و سفار و حضار۔ فللعرب فی ھذہ الأسماء ثلث لغات: احداھا: لغۃ اھل الحجاز، فھم یبنونھا علی الکسر فی جمیع احوالہ فیقولون: قالت حذام، وسمعت حذام، ووعیت قول حذام”۔
والثانیۃ: لغۃ بعض بنی تمیم، فھم یمنعونھا من الصرف مطلقا للعلمیۃ والتانیث، فیقولون: ھذہ سفار، رءیت سفار، ومررت بسفار۔
والثالثۃ: لغۃ جمھورهم، فھم یفصلون بینھا فیبنون ذوات الراء منھا علی الکسر فیقولون: ھذہ سفار، ورءیت سفار، ومررت بسفار، ویمنعون غیر ذوات الراء منھا من الصرف للعلمیۃ والتانیث، ویعتبرون فیہ العدل للحمل علی نظاہرہ، لالمنع الصرف، ولا لتحصیل سبب البناء”۔
(کافیۃ النحو، ص: ٤٣)
ازقلم: محمد ایوب مصباحی ، صدر المدرسین دارالعلوم گلشن مصطفی بہادرگنج، ٹھاکردوارہ، مراداباد، یو۔پی۔
رابطہ: 8279422079