تحریر: محمد کاشف رضا
باب الاسلام سندھ کو عہد رسالت میں صحابہ کرام نے اپنی تبلیغ کا مرکز بنایا۔ مبلغ صحابہ تاجر نہیں تھے۔ وہ صرف اسلام کی نشرو اشاعت کے لئے سندھ آئے۔ ایک ’’مرسل‘‘ روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ
’’وہ وفد ایک سندھ سے دوسرا افریقہ سے ایک ہی دن میرے پاس پہنچا جنہوں نے اپنی خوشی سے اسلام قبول کیا‘‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ صحابہ کا وفد اپنے مکتوب مبارک کے ساتھ سندھ کے لوگوں کے پاس بھیجا۔ دو صحابہ کرام واپس چلے گئے اور تین نے سندھ کو مرکز رشد و ہدایت بنا دیا۔ بے پناہ سندھیوں نے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، ان کا وصال بھی سندھ میں ہوا۔ قدیم شہر ٹھٹھہ کے مکلی قبرستان میں آسودئہ خاک ہوئے۔
ٹھٹھہ ایک قدیم تاریخی شہر ہے۔ مورخین کا خیال ہے کہ سکندر اعظم نے یونان واپسی پر مکران داخلے سے پہلے ٹھٹھہ میں پڑائو ڈالا تھا۔ کبھی ٹھٹھہ شہر سندھ کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔ دریائے سندھ کے راستے لاہور، ملتان ، بھکر سے کشتیوں پر تجارتی قافلے ٹھٹھہ پہنچتے، سترھویں صدی میں پاک و ہند کا کوئی شہر تجارت میں ٹھٹھہ کا مقابل نہیں تھا۔ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنے دور میں شاہجہانی مسجد تعمیر کروائی۔ مسجد میں 93گنبد ہیں جو اس کے وسیع مستطیل احاطے کے گردراہ داریوں کے اوپر بنے ہیں، حیرت انگیز طرز تعمیر اس کا یوں ہے کہ منبر پر خطیب جو کچھ بیان کرتا ہے وہ گنبد در گنبد ہوتا ہوا پُوری مسجد میں سنائی دیتا ہے۔
شہر ٹھٹھہ سے چند کلو میٹر دور مکلی کا وسیع و عریض قبرستان ہے جو پندرہ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ کہتے ہیں یہ دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔ یہاں چودھویں صدی سے اٹھارویں صدی کے حکمران، صوفیہ، علماء، مفکرین، مورخین مدفون ہیں۔ یہاں مغل، ازبک، ارغون اور سمہ خاندان کے مقبرے بھی ہیں۔
ٹھٹھہ کے عظیم فرزند شیخ ہاشم وہ بزرگ عالم و عارف ہیں جن کی کتب عالم عرب میں شائع ہو کر شہرت دوام حاصل کر چکی ہیں۔ عرب کے لوگ شیخ ہاشم کی وجہ سے ٹھٹھہ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کراچی کے ہمارے ایک علم دوست ڈاکٹر مولا بخش سکندری نے شیخ ہاشم کے ایک مخطوطہ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ عربی میں لکھا ہے جو کئی سو صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔
ہمارے ملک کے قدیم قبرستان جہاں عبرت سرائے دہر کی کہانیاں ہیں وہاں بنتی بگڑتی تہذیبوں، جاہ و جلال کے زوال اور انسانی تکبر کے میناروں کے پیوند خاک ہونے کی لازوال داستانیں بھی ہیں۔ کیسے کیسے گوہر نایاب، خفتگانِ خاک ہوئے۔ محقق و مورخ قبرستان کی خاک چھان کر ان کی وفیات نگاری پر کئی کتب لکھ چکے ہیں۔ پروفیسر محمد اسلم نے بھی وفیات نگاری پہ کافی کام کیا ہے مگر اکثر وہ تعصب اور فرقہ بندی کا شکار نظر آئے ہیں۔ ڈاکٹر منیر احمد سلیچ نے اس موضوع پہ کئی کتب تحریر کیں جو نہایت معلوماتی ہیں۔