غزل

غزل: ورنہ رشتے سبھی کاغذی سے رہے

خیال آرائی: گل گلشن، ممبئی

ہے بڑا تو وہی عاجزی سے رہے
سارے شکوے بھلا کر خوشی سے رہے

موت جب آئے گی تنہا لے جاۓ گی
ہم یہی سوچ کر سادگی سے رہے

جب تلک ان کو ہم سے یوں مطلب رہا
تب تلک مہرباں چاشنی سے رہے

تیرے ہر ایک ستم کو گنوارا کیا
ہم نے کچھ نہ کہا خامشی سے رہے

ایک رشتہ تمہارا ہی مضبوط تھا
ورنہ رشتے سبھی کاغذی سے رہے

اب کے اہل سیاست کا فرمان ہے
صحن مقتل میں گل تازگی سے رہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے