نبی کریمﷺ

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرت (قسط 3)

رشحات قلم: خبیب القادری مدناپوری
بانی غریب نواز اکیڈمی مدناپور بریلی شریف یوپی بھارت

حلیہ مبارک رسول اللہﷺ

پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و عادات
آپ کا قد مبارک خوبصورت تھا نہ ناٹے تھے نہ لمبے تڑنگے
لیکن لمبائی سے زیادہ قریب تھے کوئی لمبا آدمی آپ کے ساتھ چلتا تو آپ اس سے لمبے معلوم ہوتے ہیں
آپ کا جسم اقدس معتدل تھا
نہ زادہ موٹے نہ دبلے پتلے
بدن گٹھا ہوا تھا
آپ کے جسم اقدس سے خوشبو نکلتی تھی حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
” کہ آپ کسی راستے سے تشریف لے جاتے تو آپ کے بعد کوئی آتا تو خوشبو کی وجہ سے جان جاتا تھا کہ آپ ادھر سے گزرے ہیں”
اسی کی ترجمانی امام عشق و محبت سیدی سرکار اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس طرح کرتے ہیں
ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلادیئے ہیں
جس راہ چل دیئے ہیں کونچے بسادئیے ہیں
آپ کا پسینہ مبارک اس قدر خوشبو دار تھا کہ دنیا کی خوشبو اس کے سامنے ہیچ تھی
حدیث پاک میں ہے” حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا نے آپ کا پسینہ مبارکہ ایک شیشی میں محفوظ کر لیا تھا اور اسے خوشبو میں ڈالا کرتی تھیں اس لیے کہ وہ سب سے عمدہ خوشبو تھی "
آپ کا چہرہ مبارک گورا ؛ کشش والا ؛ گول ؛ روشن ؛ سرخی ملا ؛ چودھویں کے چاند کی طرح جگمگاتا ہوا تھا
آپ کی آنکھیں مبارک کشادہ تھیں ان کی سفیدی میں سرخی کی ملاوٹ تھی
پتلی بہت سیاہ تھی پلکوں کے بال لمبے اور گھنے تھے دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا کہ سرمہ لگا رکھا ہے
آپ کی مبارک پیشانی کشادہ اور اور چھوڑی تھی
آپ کے رخسار مبارک ہلکے
اور ابرو کماندار ہلکے اور کامل تھے اور باہم ملے نہ تھے
آپ کی بینی (ناک) مبارک اونچی اور خم دار تھی بانسہ پرنورسا بلند ہوتا محسوس ہوتا اور آپکے دونوں کان مکمل تھے
آپ کا دہن اقدس ( منہ مبارک) خوبصورت اور بڑا تھا
اور دندان مبارک (دانت شریف)چمکدار تھے مسکراتے وقت اولوں کی طرح لگتے دانتوں کے درمیان فاصلے تھے

آپ کا مبارک سر بڑا اور گردن لمبی تھی
آپ کے سر مبارک کے بال مبارک معمولی گھونگریالے تھے آپ کے بال کبھی کانوں کے آدھے حصہ تک یا لوتک ہوتے کبھی اس سے نیچے بھی اور کبھی دونوں کندھوں تک آپ کے صرف پیشانی کے چند بال سفید تھے

آپ کی ( ریش مبارک) داڑھی مبارک گھنی ؛ بھرپور اور سخت کالی تھی
آپ بہت تیز چلتے تھے کوئی آپ کا ساتھ نہ پکڑپاتا تھا آپ جب قدم اٹھاتے تو پورا قدم اٹھاتے اور یوں چلتے جیسے ڈھلوان سے اتر رہے ہیں
آپ کی آواز مبارک میں قدرے بھاری پن تھا مگر مٹھاس اور وقار لیے ہوۓ
آپ کی گفتگو مختصر مگر واضح ہوتی تھی ٹھہر ٹھہر کر بولتے کہ سننے والے کو ایک ایک بات سمجھ میں آجاتی ؛ بولتے تو ایسا محسوس ہوتا جیسے موتی جھڑ رہے ہیں
آپ صرف مسکرایا کرتے تھے
اور آپ کا رونا بھی آپ کی مسکراہٹ کی طرح ہوتا یعنی زور زور سے نہ روتے صرف آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے اور سینے سے ہلکی ہلکی آواز سنائی دیتی

یا رب العالمین تیرے محبوب میرے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صدقہ و طفیل اس تحریر میں جہاں کہیں بھی بھول ؛ چوک ہوئی اس کو معاف فرما۔

آگے کی تفصیل کے لیے چوتھی قسط کا انتظار کریں!

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button