سماج و معاشرہمذہبی مضامین

ویلنٹائن ڈے: دنیاے محبت کا ایک بد ترین فسانہ!

تحریر: شاہ خالد مصباحی، سدھارتھ نگر

زمانے کو جب سے ایک موسوم ترقیاتی ڈھانچے سے سنوارا جانے لگا تب سے نت نئے طریقے سے بے راہ رویاں ، ضلالت ، فحاشی و عریانیت کے ایک بدترین باب کا تاریخ انسانی میں انضمام ہوتا ہوا چلا جارہا ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شرافت و انسانیت اور شرم و حیا ایک آن تک قائم رہی ۔۔۔ پھر بے حیائی و بے شرمی کا نقشہ جو شہد چٹا کر کھینچا جانے لگا/ اور جا رہا ہے۔۔ تاریخ صداقت کو اس پر ملال! اور حواس شرفاء اس پر ماتم کناں ہیں ۔
برسوں سے حقیقت انسانی پر بلحاظ قیل و قال بات کریں تو ذات انسان کا ، ہمیشہ سے محبت و مودت کی طرف ننانوے فیصد رجحان قائم رہا ہے صرف ایک فیصد باعتبار نیچر نفرت کے سوداگری ٹیلے کا لاج ، کچھ افراد رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر یہ بھی اپنے اصل کی طرف مرجع ہے جیسے کہ شاعر بیان کرتا ہے:
محبت کرنا فطرت ہے ، میرا اظہار کیسے ہو
کبھی نفرت کے پردے میں محبت کا دکھا دینا

یہاں تک تو بات مسلم ہے لیکن پھر آخر ایسی کون سی وجہیں انسانی زندگیوں کے مابین قائم ہوئیں کہ محبت ، مقصد و بے حیائی کے سفید چادر پر قائم رہنے لگی ۔۔۔۔اور ایک آواز اٹھی کہ محبت جھوٹ ہے جس نے محبوبوں کی داستان محبت کو داغدار کیا ۔
اور یہ سچ بھی ہے کہ عزت کی سر عام نیلامی کو محبت کی تعبیر بتائے جانے لگی ، حالات بے ڈھنگی کو مجنوں کے با اصول و ڈھنگ ، تصدیق محبت پر زنگ چڑھانے لگا ۔۔۔۔۔اور آج معاملہ یہاں تک پہونچ گیا کہ اظہار محبت کرنا ، زندگی کی بربادی ، عزت و ناموس کا تارہ تارہ کرنا اور ایک پرسکون لمحات زندگی کو زندیق نما مجروح حال دل فرد کے مماثل بنانا ہے۔

آخر محبت کس چیز کا نام ہے ، اور کیا ہے؟

سچ کہیں تو محبت ایک انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ کھڑا رہنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کی تکلیفوں کو آسودگیوں میں بدل دینے یا بدلنے کی کوشش کا نام ہے۔ جس سے فطرت کے لستگے برقرار رہیں اور خوشیوں کی رمز میں اضافہ ہو ، جس سے زندگی جینے میں لطف پیدا ہو۔

بالآخر لکھنے والوں نے یہاں تک لکھا کہ محبت زندگی کا جزو لازم ہے۔ محبت وہ جذبہ ہے جو خالص ہوتا جس میں کذب ، دروغ گوئی ، دھوکہ دھڑی نہیں ہوتی ۔
لیکن عوامی طور پر جو سننے کو ملتا ہے کہ وہ فلاں سے سچی محبت نہیں کرتا اس کی محبت دکھاوا ہے۔ اور اس سوچ نے ضرور عام آدمی کے ذہن کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے کہ محبت سچی بھی ہوتی ہے اور جھوٹی بھی!
احساسات و ادارک جھوٹ ثابت ہوئے ، جب محبت کا مطلب صرف جنس مخالف سے عشق کا دعویٰ یا اس کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھانے والے ماحول سے ہونے لگی۔
میں ایک بار پھر حالات کے بدلتے رخ کے تئیں یہ عرض گزار ہوں کہ محبت فلموں یا ڈراموں کے جذباتی ڈائیلاگز کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ محبت تو احساس کا نام ہے، حوصلہ دینے کا نام ہے۔ محبت محبوب اور محب کے درمیان ایسا تعلق ہے جو دونوں فریقین کو جینے کاحوصلہ بخشتا ہے اور اعتماد فراہم کرتا ہے۔
اور واضح رہے کہ محبت کوئی عام چیز نہیں ہے جو موسیقیوں کے بیچ ناچنے والے ان بادہ پرستوں کو حاصل ہو جائے جنہوں نے طوائفوں کے کوٹھوں کا نام بدل کر شرافت خانہ رکھ لیا اور اپنے آپ کو شریف النسل گردوانے لگے۔۔۔۔۔
مخصوص دِلوں کو عِشق کہ الہام ہوتے ہيں
محبت معجزه ہے اور معجزے کب عام ہوتے ہيں

البتہ یہ نئی چیزوں کا زمانہ ہے ۔ نئے جوتے ، نئے کرتے ، نئے قانون، نئے جرائم ، نئی اظہار محبت کا طریقہ اور ان نئے دو شخص کے مابین جو الفت کی نئی راہ ، رانجھا کے باہوں میں صرف تلاش کرتے ہیں ۔

خوابگاہوں سے جدا اپنے خوابیدہ تقدیر پر خود ترس سماج سے لاکھ پھنٹے جوتے کھانے والے ، صد بار آواز ڈھڑاھٹ پیش کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ، لیکن افسوس ان کی محبت نے تاریخ میں انقلابی کرن کھینچ نہیں سکی ۔۔۔ شاید ان شکوہ پرست لوگوں کا ادراک ایسی محبت میں بدلی ہوئی تھی جسے خریدی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ ویلنٹائن ڈے سے مرسوم محبت ہماری نظروں کے سامنے ہے ۔

موجودہ محبت ہی طرح ویلنٹائن کی بھی محبت تھی، تبھی تو مارکیٹ میں بکنے والی ایک معمولی شئ کا نام محبت ہوگیا ۔ اور اب اس ڈے کا اتنا اثر پڑا کہ اتنا ترقی کیا کہ ایک لفظ آگے کہ محبت بس کلیدی لفظ کی طرح ہوگیا ہے. جس کی وجہ سے اس بے حسی کا امکان خود شک ، گمراہی کا گہرا خوف تو ضرور پیدا کررہا ہے ، لیکن اس نفس پرست دور میں اس معمولی سودے کا سوداگر کون نفس پرست نا بنے!!

اتنے جلدی اتنی ترقی کیسے حاصل کی!

یقینا یہ بے حد افسوسناک مرحلہ ہے کہ ایک معاشرہ اتنے جلدی برائیوں کا اثر کیوں کر قبول کرتے ہوئے چلا جارہا ہے ؟!

اس کا جواب ہمارے ہی ارد گرد کا ما حول دے رہا ہے کہ اسی محلے میں ، جس میں آپ رہتے ہیں نظر ڈالیں کہ دس سال قبل کی پاکیزگی کا کیا عالم تھا اور اب کیا ہے؟
تو اس کی حقیقت سامنے آجائےگی۔
کچھ جھلک :
جیسے مارکیٹنگ کی شو بازی ، غیر محرم کو اچھا دکھنے والی وہ قیمتی میکپ ، بازاروں میں مرد کے بالمقابل کھڑی ہونے والی وہ عورت ، یقینا شہوت کے ابھارنے اور مغربی منصوبوں پر عاریتا کام کرنے والی ہے اور حسین خوبصورت بدن پر تنگ باریک لباس ، ہو بہو اس پر فاخر!
بطور تفہیم یورپ کی ایک مثال پیش ہے کہ2019/ میں بی بی سی نیوز ، جرمنی سے شائع شدہ ایک رپورٹ ، جس میں عورتوں کو روزگار دینے کے سلسلے میں ایک حیرت انگیز بات لکھی تھی ، کہ عورت کی جسم کا ساخت عربین طرز پر ہو ۔ تاکہ ہمارے سوداگروں کا مزاج اس کی طرف راغب ہوں۔
ایک لمحہ تک میں یہ سوچتا رہا کہ عربین ساخت کس طرز و طریقے سے ہوتا ہے ، پہلے مرحلے میں تو خوشی ہوئی کہ عربی لفظ ہے ، تو ضرور شریعت کی رو روایت کے پاسداری کی اس عورت کے کردار و بیاں میں دیکھا جائےگا اور پرکھا جائےگا کہ یہ عورت دائرہ اسلام میں رہ کر کس طریقے سے معاشرے کو ترقی کا ایک الگ رنگ دیتی ہے۔
لیکن اکتساب علم کے بعد اس کے برخلاف معلومات حاصل ہونے پر خود اپنی پاکیزہ سوچ و فکر پر شرمندہ ہوا ، کہ مغرب پرست ذہنوں نے کس قدر ہماری ہی ناموں ، ملکوں اور القابات سے جہاں ہماری تہذیبوں کو شرمسار کررہے ہیں وہی ناموں کے سننے کے متعلق غیروں قوموں کے ذہن میں جو پاکیزگی رائے ہمارے متعلق قائم ہوتی ہے اس کو بھی غلاظت کی بھٹی میں جھونکنا چاہتے ہیں۔
بس سارے مقاصد آئین محبت کے اسی پیرائے میں سموتے ہوئے چلے جارہے ہیں ۔ جس سے یہ صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ پاکیزہ خیالی کے ساتھ محبت کے عناصر کی سچی ترتیب پر ، ویلنٹائن ڈے کبھی کھرا نہیں اتر سکا!
محبت کی زنجیر سے الجھا رہا میں بھی
تو بھی نہ بڑھا جسم کے آداب سے آگے ۔

جسم کے آداب، روح کی پاکیزگی ، عزت و ناموس کی حفاظت ویلنٹائن ڈے کے موقع پر کتنا قائم رہتی ہے وہ ہم سبھی کے نظروں کے سامنے ہے ۔
اس لیے میری مودبانہ اپیل ملت کے نام یہ ہے کہ 19/ صدی کی بہتی ہوئی اس بے حیائی کے دن سے دور رہیں ۔
اور والدین پر ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو سماج میں پھیلتے ہوئے اس بد ترین برائی سے دور رہنے کی تنبیہ کریں ۔
محبت کا دعوی سبق ظلمتوں کا
یہ کیسی سیاست یہ کیسا سکھانا
یہی آرزو تھی محبت کریں ہم
ملی نہ محبت بنا اک فسانہ
یاد رکھیں آپ کی محبت کے سب سے زیادہ حقدار آپ کے والدیں ہیں جنہوں نے مذہبی رو روایت سے آپ کے جنم /جسم کی حفاظت کی ، آپ کو پالا پوشا، اور ہر لحظہ آپ کو کھڑا کرنے کی کوششیں کرتے ر ہیں۔ جنہوں نے آپ کو ترقی دینے کے خواب کو لے کر اور اپنی نیندوں کو قربان کرکے ، آپ کی زندگی کے ہر پہلو پر اب بھی مختلف نظریے سے نظر ڈال رہے ہیں۔
کہ کاش! میرا پیارا مکمل طور سے ایک کامیاب انسان بن جائے ۔
خدارا!
آپنی محبت کا حقدار اپنے ان محسنوں کو بنائیں اور عیسائیوں کی اس مروجہ بے حیائی سے دور رہ کر عند اللہ محبوب و پیارا بنیں۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

اسے بھی ملاحظہ کریں
Close
Back to top button