اصلاح معاشرہ مذہبی مضامین

ہندی فلموں کے وہ پانچ جھوٹ، جس نے معاشرہ تباہ کر دیا

تحریر: انصار احمد مصباحی
رکن: جماعت رضاے مصطفٰی، شاخ اتر دیناج پور، بنگال

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ”فلمیں“ صرف اور صرف پیسوں کے لئے بنائی جاتی ہیں۔ فلم سازی کی ساری ترجیحات، بزنس پر فوکس کرتی ہیں۔ بد قسمتی سے فلمی دنیا کی سحر، عوام میں اس طرح رچ بس گئی ہے کہ فلموں کے ایک ایک ڈائیلاگ کو لوگ پتھر کی لکیر سمجھتے ہیں۔ ہندی فلمیں ایک مکمل ذہنیت ، ایک فکر ہے، جس نے ذہن انسانیت کو ایک الگ سمت دینے کی کوشش کی ہے۔ پیش ہیں ہندی فلموں کے وہ پانچ مشہور و معروف جھوٹ ، جنھوں نے معاشرے بہت ہی تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں:

1: ہم ساری زندگی اس آدمی کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں، جس سے ہم پیار نہیں کرتے؟
اس ایک سوچ نے نہ جانے کتنے والدین کو خود کشی پر مجبور کیا؛ کتنی بہنوں اور بیٹیوں کی خوشیاں کچل دی؛ کتنے بھائیوں کو ذلیل و رسوا کیا؛ نہ جانے کتنے والدین کو خون کے آنسو رلا دیے۔ یہ ایک زہریلی سوچ ہے، ایک مکمل فریب ہے۔ پیار تو ہم دنیا کے ہر انسان سے کرتے ہیں، بلکہ جانوروں سے بھی کرتے ہیں۔ جس پیار کی بات مندرجہ بالا ڈائیلاگ میں کیا گیا ہے، وہ ایک دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے کلام مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاء وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِي تَسَاءلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيا (النساء: 1)
اے لوگو اپنے رب سے ڈرو ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت پھیلا دیئے۔ اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو! بیشک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔

2: ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا، انسان کا بچہ ہے انسان بنے گا
اس سوچ کو مختلف جملوں سے، الگ الگ رنگ و آہنگ کے ساتھ پردے پر فلمانے کی کوشش کی گئی ہے۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ فلمیں اگر نیک نیتی کے ساتھ بنائی جاتیں تو وہ مذہب کو بالکل نہیں چھیڑتی، نہ ہندوؤں کو نشانہ بناتی نہ مسلمانوں کو؛ پر فلموں کے ذریعے کس طرح مذہبی جذبات کو برانگیختہ کیا جا تا ہے، سب جانتے ہیں۔

3: انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا
خدمت خلق کو دنیا کے ہر بڑے مذہب میں بنیادی تعلیم کی حیثیت دی گئی ہے، باطل مذاہب کی تعلیمات بھی انسانیت کی فلاح و بہبود کے ہتھکنڈوں کے اردگرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ اسلام سراسر انسانیت کا مذہب ہے۔ اس لئے کہا جاتا ہے، انسانیت اور مذہب اسلام کی تاریخ ولادت ایک ہی ہے۔
اس میں افراط ہے نہ تفریط، نہ ظالم کی حمایت ہے نہ مظلوم سے بے اعتنائی، غلو ہے نہ کمی۔ اسلام کی بنیادی دعاؤں میں دنیا و آخرت کو جمع کیا گیا ہے۔ اسلام میں زکات کا نظام، شادی بیاہ کے قواعد، خرید و فروخت کے تفصیلی احکام، طہارت و صفائی کا عمدہ اہتمام یہ ساری چیزیں انسانیت کے فلاح و بہبود کے بنیادی عناصر ہیں۔ اسلام کی یہی خوبیاں اس دعوے کی اجازت دیتی ہیں کہ:
مَن يَبْتَغِ غَيْرَ ٱلْإِسلام دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِى الآخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ (آل عمران: 85)
جو اسلام کے سوا دوسرا دین اختیار کرے گا، اس سے وہ ہر گز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والا ہوگا۔

4: عشق کا کوئی مذہب نہیں ہوتا
فلمی دنیا میں بین مذاہب شادی اور عشق و محبت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ بظاہر اتحاد کے نام پر انجام پانے والے اس نظریے نے ، ملک و ملت میں انتشار و افتراق کے بڑے بڑے طومار کھڑے کیے ہیں۔ عشق ہر مذہب میں ہوتا ہے، ہر مذہب کے ماننے والے کرتے ہیں؛ لیکن مصیبت تب کھڑی ہوتی ہے، جب دو مختلف مذہبوں پر یقین رکھنے والے جھوٹی محبت کے دام فریب میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور اسے سچ ثابت کرنے کے لئے ”عشق کا کوئی مذہب نہیں ہوتا“ کا حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔

دوسرے مذاہب کا احترام یہ ہے کہ ہر مذہب کو ، اس کے اصول پر عمل کرنے کی کھلی آزاد دی جائے؛ ناکہ کہ دو مختلف مذہبوں کی تعلیمات میں جوڑ توڑ کر مساوات ثابت کرنے کی کوشش کی جائے، اللہ تعالی کو بھگوان اور دیوی دیوتاؤں کو معبود ثابت کیا جائے ۔ یہ بھی اسلامی اعتقادیات میں کجی لانے کی ایک گہری شازش ہے، جو کہ عالمی پیمانے پر بڑے اہتمام سے انجام دیے جاتے ہیں۔ دو الگ الگ مذہب کے ماننے والوں میں شادی بیاہ سے کئی طرح کی مصیبتیں کھڑی ہوجاتی ہیں۔ لڑکی کی ساری عمر ریت رواج سمجھنے میں گزر جاتی ہے، وہ ہمیشہ خود کو اجنبی ، تنہا اور حالات سے مایوس محسوس کرتی ہے، جب کہ میاں بیچارہ وہ کڑیاں نہیں تلاش پاتا جس سے ان کی بیوی ان سے خوش رہ سکے۔
ایسے جوڑے دو فیمیلی کے افراد کی نظر میں رشتہ دار نہیں؛ بلکہ کانٹوں کی طرح چھبتے رہتے ہیں۔ اسلام نے بڑا خوب صورت نظریہ دیا ہے۔ نکاح کے لئے دین میں اشتراک ضروری قرار دیا گیا ہے۔

5: ہم آزاد پیدا ہوئے ہیں
یوں تو پوری فلم انڈسٹری کسی نہ کسی طرح اسلامی تعلیمات کو نشانہ بناتے رہتی ہے؛ لیکن وہ عوروتوں کے پردے کے پیچھے ہاتھ دھوکے پڑی ہے۔ اسلامی پردے پر خاص طور پر حملہ ہوتا ہے۔ پردے میں رہنے والیوں پر طنز کیا جاتا ہے، انھیں ذلیل، روایت پسند اور پرانے خیالات کی سمجھا جاتا ہے۔ سینیما ہمیں برسوں سے بے وقوف بناتے آیا ہے۔ کہتے ہیں اب دنیا نے بڑی ترقی کرلی ہے۔ لیکن ترقی یافتہ دنیا بھی آج ان فلمی ڈوریوں میں بندھی معلوم ہوتی ہے۔

فلمی دنیا کی شازشوں سے بچنے کا یہ حل نہیں کہ اس میں اصلاح کا عنصر تلاش کی جائے؛ بلکہ اس کے چنگل سے بچنے کا واحد راستہ فلمی دنیا سے دوری ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ایک صاف ستھرے ماحول میں پرورش پائے تو خود کو، اپنی اولاد اور رشتے داروں کو فلمی دنیا کی پہنچ سے دور رکھیے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے