سماج و معاشرہ

کیا محبت کسی کی جان لینے کی اجازت دیتی ہے؟

از قلم: محمد احمد حسن سعدی امجدی
ریسرچ اسکالر: البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ

آج بتاریخ 18 فروری2021ء بروز جمعرات ناشتے سے فارغ ہوکر البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ علی گڑھ کی لائبریری میں حسب معمول اخبار پڑھنے کی نیت سے داخل ہوا ، جیسے ہی اخبار کے پہلے صفحے پر نظر پڑی ، ایک خبر جس نے مجھے حیرانی و پریشانی میں ڈال دیا وہ حیران کن خبر تھی کہ ؛اب بھارت میں پہلی بار کسی خاتون کو ہوگی پھانسی کی سزا؛ ظاہر ہے اب تک ملک میں قانونی طور پر بے شمار مجرم مردوں کو پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے، لیکن ایک عورت کے پھانسی کے حوالے سے ایسی خبر ! یہ مجھے اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک کو ورطۂ حیرت میں ڈال دینے والی بات ہے، پھر اچانک دل میں اس خاتون کے حوالے سے جاننے اور سمجھنے کا اشتیاق پیدا ہوا ، اور جب پوری خبر پڑھی تو میری زبان میرے گلے میں محبوس ہو کر رہ گئی، میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ایک منٹ کے لئے ایسا لگا کہ جیسے میرے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی ہو کہ اترپردیش کے ضلع امروہہ کے باون کھیڑی گاؤں میں 15 اپریل 2008ء کو شبنم نامی خاتون جو کہ ایک سلیم نامی شخص سے محبت کرتی تھی ، اس نے اپنے گھر والوں سے کئی دفعہ اپنے عاشق کے ساتھ شادی کرانے کے لیے کہا،لیکن کسی وجہ سے گھر والے اس شادی پر راضی نہیں تھے، جس کہ وجہ سے اس نے اپنے عاشق سلیم کے ساتھ مل کر ایک ساتھ اپنے گھر کے سات لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ،جس میں اس کے والدین، دو بھائی، ایک بھابھی، ایک بہن اور ایک بھتیجا بھی شامل تھا، ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ یہ کون سے محبت تھی جس نے ایک بیٹی کو والدین پر چھری چلانے کی اجازت دے دی ، یقینا ایسا شرم ناک منظر تو آج تک چشم فلک نے دیکھا نہ سنا ہوگا، کیا کسی غیر کی محبت میں انسان اس قدر اندھا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے والدین اور بھائی تک کی جان لینے میں دریغ نہ کرے؟ کیا محبت کسی کی جان لینے کی اجازت دیتی ہے؟ نہیں بلکہ محبت تو رشتوں کو مضبوط کرنے کا نام ہے، جب انسان کسی سے سچی محبت کرتا ہے تو اس محبت کی وجہ سے اس کے اندر اپنوں کی عزت کا جذبہ مزید بڑھ جاتا ہے، لیکن محبت کے اس واقعہ نے پوری انسانیت کو شرمسار کردیا بلکہ یہ محبت کے نام پر ایک بدنما داغ ہے۔ تمام قارئین سے میں کہنا چاہتا ہوں، کہ کسی انسان کی محبت اگر آپ کو اپنے اہل و عیال سے دور کرنا چاہے تو کبھی بھی اس محبت کے دام فریب میں نہ آئیں اور اس کے باعث اپنے گھر خاندان والوں سے دور ہونے کے حوالے سے ہرگز نہ سوچیں ، کیونکہ جو محبت آپ کو اپنے والدین سے دور کردے یا وہ آپ کی محبت میں کسی اپنے کو نقصان پہنچا دے تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ کیسی محبت ہے؟جو اپنوں کا نہیں ہوا تو وہ آپ کا کیسے ہو سکتا ہے۔

ہماری آواز

ہماری آواز ایک غیر جانب دار نیوز ویب سائٹ ہے جس پر آپ سچی خبروں کے ساتھ ساتھ مذہبی، ملی،قومی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین اور شعر وشاعری پڑھ سکتے ہیں۔ یہی نہیں آپ خود بھی ہمیں اپنے پاس پڑوس کی خبریں اور مضامین وغیرہ بھیج سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین و خبریں

جواب دیں

Back to top button