تحریر :خلیل احمد فیضانی، جودھپور راجستھان
جس ہستی کو ایک عالم غریب نواز کے لقب سے ہی جانتا و مانتا ہو اس داتا کی غریب نوازی کا بھلا اندازہ کوئی کیا لگا سکتا ہے؟ – آپ کی غریب نوازی کے قصے بچپن سے ہی معروف و مشہور تھے _ آپ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ معین الدین کی عمر مشکل سےچودہ , پندرہ برس کی تھی کہ آپ محلے کے غریب ویتیم بچوں کو گھر بلالاتے اور انہیں اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے –
خدمت خلق کے تیٔیں بچپنے سے ہی یہ ذوق وشوق غریب نواز رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا مزاج بتلاتی ہے کہ واقعی بچپن سے ہی آپ کے اندر ،غریب نوازی کا یہ جذبہ موجود تھا-
غریبوں کی دیکھ بھالی،یتیموں کی پرسان حالی و مظلوموں کی فریاد رسی جیسے اوصاف آپ کی سرشت میں داخل تھے،جب بھی کسی مظلوم کو دیکھتے تو بلاتامل اس کی حمایت میں کھڑے ہوجاتے، نہ کسی لومۂ لائم کی پرواہ کرتے اور نہ ہی کسی ظالم و جابر کو خاطر میں لاتے,آپ کی سیرت میں ملتا ہے کہ آپ ایک مرتبہ ایک مظلوم کسان کو اس کا حق دلانے کے لیے اجمیر شریف سے دہلی تشریف لے گئے حالاں کہ آپ اگر بادشاہ کو صرف خط ہی لکھ دیتے تو کسان کا کام بن جاتا مگر ایک غریب کی تالیف قلب کے لیے آپ نے اتنے طویل سفر کی مشقتوں کو برداشت کیا اور اس کا حق دلوایا-
صوفیائے کرام کے اسی طرح کے ہی حسن خلق و خدمت خلق نے لوگوں کے دلوں کی دنیا بدل ڈالی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کثیر تعداد میں خلق خداان بزرگوں کے ہاتھوں پر مشرف بہ اسلام ہوئی-
خدمت خلق کا مفہوم بہت وسیع ہے ،اس لیے اس میں ہر نوعیت کی خدمت داخل ہے ،غریب کی مدد کرنا ،یتیم کی دیکھ بھال کرنا،مظلوم کو ظالم سے چھٹکارا دلوانا،کمزور کا سہارا بننا یہ سب چیزیں خدمت خلق کے دائرے میں آتی ہیں-
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اندر خدمت خلق کا جذبہ اس قدر پایا جاتا تھا کہ اغیار بھی آپ سے مدد کی توقعات وابستہ کیے رہتے جیساکہ آپ ہی کا قول ہے کہ "عاجزوں کی فریادرسی،حاجت مندوں کی حاجت روائی اوربھوکوں کو کھاناکھلانا،اس سے بڑھ کرکوئی نیک کام نہیں”-
(دلیل العارفین)
خواجہ غریب نواز رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے اس قول کا عملی نمونہ تھے،آپ ہمیشہ اس پیغام پر عامل رہے اور آپ کے محبین و معتقدین نے بھی اس مبارک قول کو حرز جاں بنایا،
آپ فرمایا کرتے تھے کہ قیامت کے دن حق تعالی فرشتوں کو حکم دے گا کہ دوزخ کو سلگاؤ جب وہ سلگانا شروع کردیں گے تو دوزخ ایک ایسا سانس لے گا جس سے تمام میدان محشر غبار آلود اور دھواں دہار ہوجاۓ گا لوگوں کا دم گھٹنے لگےگا اور سخت مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا -جو شخص اس روز کی مصیبت سے محفوظ رہنا چاہے وہ خدا کی ایسی بندگی بجالاۓجو اس کے نزدیک تمام طاعتوں سے بہتر و افضل ہو حاضرین نے دریافت کیا کہ حضرت !وہ کون سی طاعت ہے فرمایا مظلوموں اور عاجزوں کی فریاد فریاد کو پوچھنا ضعیفوں اور بیچاروں کی حاجت روائی کرنا -بھوکوں کا پیٹ بھرنا اور فرماتے تھے جس شخص میں یہ تین خصلتیں جمع ہوجأیں گی تو یوں سمجھنا چاہیے کہ حقیقت میں خدا اسے دوست رکھتا ہے -ایک دریا جیسی سخاوت, دوسرے آفتاب کی سی شفقت تیسرے زمین کی مانند تواضع – (سیر الاولیاء ,ص:۱۰۳)
آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی ساری زندگی اسی قول کے مطابق گزاری کہ جہاں یتیم نظر آیا اس کی مدد کی ,جہاں مظلوم روتا ہوا دکھا اس کی حمایت میں کھڑے ہوگئے جہاں کویٔی غریب سسکتا دکھائی دیا تو اس کو اپنی عطاؤں سے نواز دیا
غرض یہ کہ آپ نے جہاں لوگوں کو اسلام کا شیدائی بنایا وہیں ان کی دنیاوی ضرورتوں کا بھی خیال فرمایا،جس کی بدولت آج ایک عالم آپ کو غریب نواز رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے لقب سے جانتا و مانتا ہے-