ازقلم: محمد شعیب رضا نظامی فیضی
چیف ایڈیٹر: ہماری آواز(اردو،ہندی) ویب پورٹل ومیگزین، گورکھپور
استاذ ومفتی: دارالعلوم امام احمد رضا بندیشرپور، سدھارتھ نگر یو۔پی۔
بے شمار پاک باز ہستیوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے سر زمین ہندوستان میں صدیوں سے جس شہنشاہ کی حکومت جاری و ساری ہے اسے خواجۂ خواجگاں راجۂ ہندوستاں عطاے رسول غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین حسن سنجری چشتی اجمیری علیہ الرحمۃ والرضوان کے نام سے جانا جاتا ہے حضرت خوا جہ نے بھارت کی سرزمین پر اس وقت قدم رکھا جب بھارت میں ہر طرف ظلم و دہشت کا دور دوراں تھا بیہودہ رسم و رواج نے سماج و معاشرہ کو مفلوج کر رکھا تھا، بالخصوص حقوق نسواں سے متعلق کوئی حسین ضابطہ حیات نہ تھا مگر جب آپ نے تبلیغ و ترویج کا کام شروع کیا تو سب سے پہلے اخلاقیات کو مضبوطی فراہم کی، اخلاق کا وہ بہترین نمونہ پیش کیا کہ لوگ حیرت زدہ ہوگئے گویا اس سرزمین کے لوگوں نے پہلی بار انسانیت کی بہاریں دیکھی، جس کا فائدہ یہ رہا کہ لوگ خوشی بہ خوشی دامن اسلام سے وابسطہ ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے بھارت کی سرزمین پر اللہ کے نام لیواؤں کی تعداد کثیر ہوگئی، آپ نے تاحین حیات ایمان و اسلام کی ضیا باریوں سے اس سرزمین کو سینچتے رہے اور کبھی بھی حسن اخلاق کے دامن کو ترک نہ کیا اور نہ ہی مریدین و متوسلین کو حسن اخلاق کے ضابطہ اسلام سے ہٹنے دیا، یہی وجہ رہی کہ وہ کام جو کئی ایک مسلم حکمراں اور بڑے بڑے جگنجو کئی ایک جنگ و جہاد میں نہ کرسکے وہ کام تن تنہا حضرت خواجہ نے اپنی مختصر سی زندگی میں کردکھایا اور جب دنیا سے تشریف لے گئے تو یہ اعزاز آپ کے نام درج ہوچکا تھا کہ آپ کے مقدس ہاتھوں پر تقریباً نوے(90) لاکھ سے زائد افراد کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرچکے تھے۔
ایسی پاک باز ہستی کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کرنا یقیناً عشق و ایمان کی تجلیات سے قلب و روح کا منور ہونا ہے اور ایسی ہستی جس نے ماضی میں نہ صرف مذہبی روح پھونکی تھی بلکہ سماج و معاشرہ کو جینے کا سلیقہ سکھایا تھا اور اپنے اخلاق کریمانہ سے لوگوں کے دلوں پر حکومت کی تھی ایسی شخصیت کی سیرت طیبہ سے آج کے داعیان کو روشناس کرانا بھی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیوں کہ اس سے آج کے پریشان حال بکھرے ہوئے معاشرے کو ایک نیا حوصلہ فراہم ہوگا کہ آج بھی ہم اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ دلوں پر فتح و نصرت حاصل کرسکتے ہیں جو سروں پہ فتح یاب ہونے سے کہیں زیادہ سود مند ثابت ہوگا۔
ماشاءاللہ، سبحان اللہ
بہت ہی عمدہ خاکوں کی نشاندہی،
لاجواب تحریر۔۔
اللہ تعالیٰ محترم فخر صحافت ماہر زبان وقلم علامہ شعیب رضانظامی فیضی صاحب قبلہ مدظلہ العالی کو مزید کامیابی عطا فرمائے