تحریر: محمد یوسف رضا رضوی امجدی، ناگپور
حضرت مولانا سید شاہ ابوالحسین احمد نوری مارہروی رحمۃ اللّٰه علیہ
نام و نسب: سراج العارفین سید شاہ ابو الحسین احمد نوری بن شاہ ظہور حسن بن حضرت شاہ آل رسول (علیہم الرحمہ)
تاریخِ ولادت: 19/شوال 1255ھ، مطابق 26/دسمبر 1839ء بروز جمعرات پیدا ہوئے۔
تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم و تربیت اور پرورش دادی صاحبہ اور دادا بزرگوار (شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ) کے آغوشِ رحمت میں ہوئی۔
مدرسین خانقاہ برکاتیہ سے مختلف علوم و فنون کی تحصیل و تکمیل ہوئی۔ جن میں بالخصوص مولانا شاہ محمد سعید بدایونی المتوفی 1277ھ۔
مولانا فضل اللہ جالیسری المتوفی 1283ھ۔
مولانا نور احمد بدایونی المتوفی 1302ھ۔
اور مولانا ہدایت علی بریلوی المتوفی 1322ھ (علیہم الرحمہ) ہیں۔
بیعت و خلافت: 12/ربیع الاوّل 1267ھ میں دادا بزرگوار خاتم الاکابر شاہ آلِ رسول مارہروی علیہ الرحمہ سے 12 سال کی عمر میں بیعت ہوئے اور اجازتِ مطلقہ سے مشرف کیے گئے۔
سیرت و خصائص: حضرت جلیل البرکات نورالعارفین مولانا سید شاہ ابولحسین احمد نوری مارہروی علیہ الرحمہ بالخصوص خاندانِ برکات اور بالعموم عالمِ اسلام کے لئے اللّٰه تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت تھے۔ آپ وہ شخصیت ہیں جنکی تربیت ،وقت کے ایک ولیِ کامل کے ذریعے ہوئی۔ چھوٹی سی عمر میں آپکی تربیت، ریاضت و مجاہدہ کی کثرت دیکھ کر آپکی دادی صاحبہ، شاہ آلِ رسول علیہ الرحمہ سے فرماتیں!
"کیا اس بچے کو بھی اپنی طرح فقیر کردو گے؟”
حضور فرماتے، ہاں! فقیر کردونگا! "اور ایسا فقیر ہوگا کہ بڑے بڑے بادشاہ اور امراء اس کے آگے سر جھکا دیں گے”۔
آپ نے اپنے پوتے کو تمام علوم ظاہری و باطنی کی تعلیم دیکر جملہ رموز و اسرار اور اپنے اسلاف ِ کرام کا سچا جانشین اور خانوادہ برکاتیہ کی تمام روحانی نعمتوں کا وارثِ کامل بنادیا۔
آپ علیہ الرحمہ سرورِ عالمﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا پرتو تھے۔ میراثِ مصطفیٰﷺ (علوم ِ نبویہ) کے سچے وارث تھے۔عقیدے میں حد درجہ تصلب تھا۔ شریعت کی پوری پابندی تھی۔ محرمات تو دور مکروہات سے بھی حد درجہ احتیاط فرماتے تھے۔ ریاضت و مجاہدہ، سخاوت و کرم، مخلوقِ خدا کی حاجت روائی ،غرباء و مساکین کی مشکل کشائی ،اور ان سے انس و محبت، بالخصوص سنی مسلمانوں کی خیر خواہی، اور ہر وقت انکے لئے دست بَدُعا رہنا، بد مذہبوں سے دوری ،فساق و فجار سے وحشت ،اور اہلِ سلسلہ کی خیر خواہی سرکار نور کے اخلاقِ نورانی کے صرف چند گوشے ہیں۔
میلا لگا ہے، شانِ مسیحا کی دید ہے
مردے جلا رہا ہے خرام ِ ابوالحسین
ذرّہ کو مہر ،قطرہ کو دریا کرے ابھی
گر جوش زن ہو بخشش عامِ ابوالحسین
وصال: 11 رجب/1324ھ میں آفتابِ طریقت غروب ہوگیا۔ مارہرہ مطہرہ میں آپکا مزار منبعِ فیوض و برکات ہے۔