علما و مشائخ

قائدِ ملت حضرت مولانا محمد حفیظ اللہ اشرفی داغِ جدائی دے گئے

ازقلم: مبارک حسین مصباحی
ایڈیٹر: ماہ نامہ اشرفیہ و استاذ الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور اعظم گڑھ

قائدِ ملت حضرت مولانا محمد حفیظ اللہ اشرفی بانی دار العلوم اہلِ سنت غریب نواز بیدولہ چوراہا، ڈومریا گنج ضلع سدھارتھ نگر (یوپی) ایک عظیم علمی اور عملی شخصیت تھے۔ فکر و فن، دعوت و تبلیغ اور حالات پر کنٹرول ان کی زندگی کے یادگار نقوش تھے ۔

”حضرت مولانا الحاج محمد حفیظ اللہ اشرفی بن حبیب اللہ بن حاجی سلیمان صاحب مئی ۱۹۵۹ء میں بمقام پرسا پوسٹ کٹھوتیا عالم بلور ضلع بستی (سدھارتھ نگر) پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں مولوی عبد الحی رسول پوری مرحوم سے حاصل کی، اس کے بعد مدرسہ عربیہ تدریس الاسلام بسڈیلہ میں داخلہ لیا جہاں مولانا سبیل احمد صاحب کی نگرانی میں ہدایۃ النحو تک پڑھا ، مگر وہاں کی فضا راس نہ آئی جس کی وجہ سے دار العلوم تنویر الاسلام امر ڈوبھا چلے گئے۔ خطیب البراہین حضرت علامہ مفتی صوفی محمد نظام الدین کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کیا اور باضابطہ عربی کی منتہی کتابوں تک پڑھا ، دورۂ حدیث کے لیے شیخ القرآن علامہ عبد اللہ خان عزیزی (جو ان دنوں اشرفیہ مبارک پور سے ایک سال کے لیے آئے ہوئے تھے) کی شاگردی اختیار کی اور ۱۹۷۷ء میں سالانہ تقریب کے موقع پر علما و مشائخ کی جھرمٹ میں سند و دستار سے سرفراز ہوئے۔“(تذکرہ علماے بستی، ص:۹۷)
آپ کے اساتذہ کی فہرست بہت طویل ہے، مگر چند شخصیات بڑی اہم ہیں۔ شیخ القرآن حضرت علامہ عبد اللہ خان عزیزی شیخ الحدیث دار العلوم تنویر الاسلام امرڈوبھا سنت کبیر نگر، خطیب البراہین حضرت علامہ صوفی محمد نظام الدین محدث بستوی ، حضرت مولانا مفتی حکیم محمد نعیم الدین قادری استاذ دار العلوم تنویر الاسلام امرڈوبھا، حضرت مولانا مفتی عنایت احمد نعیمی گونڈوی ، حضرت مولانا غلام حسین مصباحی مبارک پوری۔
فکر و تدبر کے ساتھ آپ کو تمام درسی علوم و فنون پر دسترس حاصل تھی، مگر تفسیر و حدیث سے خاصا شغف تھا، آپ خطابات خود فرماتے یا دیگر خطبا کے خطابات سنتے تھے، اصل ماخذ سے ان کی تحقیق فرما لیتے تھے، بد مذہبوں کی تردید بھی خوب فرماتے تھے۔ اصل مراجع پر نظر رہتی تھی، مطالعہ و تحقیق کے بھی خوگر بھی تھے۔
فراغت کے بعد تعلیم و تربیت سے شغف رکھا ، اپنے بزرگوں کے فیضان اور اپنی جد و جہد سے وطنِ مالوف میں ایک مدرسہ بنام ”اجمل العلوم“قائم کیا۔ ۱۹۷۸ء سے ۱۹۸۱ء تک یہاں تدریسی اور تعمیری خدمات انجام دیں۔ شیخ طریقت حضرت صوفی محمد صدیق (خلیفہ صاحب) کے حکم پر بحیثیت صدر المدرسین مدرسہ عربیہ اہلِ سنت مظہر الاسلام ڈومریا گنج تشریف لے گئے۔ ایک عرصہ تک وہاں تعلیم و تربیت اور دعوت و تبلیغ کی خدمات انجام دیں۔
آخر میں آپ نے بیدولہ چوراہے پر دار العلوم اہلِ سنت غریب نواز کی شکل میں ایک عظیم الشان مدرسہ تعمیر فرمایا۔ تعلیم و تربیت کے ساتھ اس ادارے سے اہلِ سنت و جماعت کے عقائد و معمولات کی حفاظت و صیانت کا فریضہ انجام دیا۔
آپ نے وسیع و عریض زمین پر دار العلوم اہلِ سنت غریب نواز کی شکل میں ایک تعلیمی قلعہ تعمیر کیا ، اس تاریخی دار العلوم سے سیکڑوں طالبانِ علومِ نبویہ فارغ ہوئے جو ملک اور بیرون ملک تدریسی، تبلیغی اور قلمی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بلا شبہہ کسی دار العلوم کا سنگ بنیاد تو آسان ہوتاہے مگر اسے باوقار انداز سے باقی رکھنا، تعلیمی اور تربیتی سرگرمیاں جاری رکھنا اور پر شکوہ تعمیری مراحل سے گزارنا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ سچ ہے کہ مدارس قومی عطیات سے چلتے ہیں، مگر کسی بندۂ خدا سے زکاۃ اور صدقات حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ ممبئی عظمیٰ سے بڑے بڑے تعاون ہوتے ہیں، مگر انھیں حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ حضرت مولانا محمد حفیظ اللہ اشرفی بیان فرماتے ہیں کہ جب ہم ابتدا میں ممبئی پہنچے تو مسجد میں سوتے تھے، ایک شب سو رہے تھے کہ سردی کا احساس ہواساتھ میں بستر وغیرہ تو تھا نہیں، سخت مجبوری میں مسجد کی چٹائی لپیٹ لی ، پھر کسی طرح رات بسر کی ۔ چندہ کرنے والوں سے آپ دریافت کریں کہ دورانِ سفر کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے ، تعلقات تو بنتے بنتے بنتے ہیں۔ ہزارتعلقات کے باوجود اچھی رقم تو مل جاتی ہے، کھانے پینے کا اہتمام بھی ہو جاتا ہے مگر رات گزارنے کے لیے جگہوں کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔ عام طور پر چندہ کرنے والے حضرات ائمہ سے اپنے تعلقات کی بنیاد پر مسجدوں میں قیام کرتے ہیں۔ ہاں! مقبول ترین شخصیات ہوتی ہیں یا بڑے مرشدانِ طریقت ہوتے ہیں، ان کے لیے بڑے بڑے سیٹھوں کے روم مل جاتے ہیں، قیام و طعام کا اہتمام بھی عقیدت و محبت سے بھر پور ہوتا ہے۔
آپ پستہ قد، گندمی رنگت، متوسط بدن، حساس دل، مدبرانہ خاموشی اور محققانہ اور مفکرانہ گفتگو فرماتے۔ حضرت قائدِ ملت نہ کسی دولت مند خاندان کے فرد تھے اور نہ کسی شیخ طریقت کے شہزادے تھے، انھوں نے جو کچھ کیا بفضلہٖ تعالیٰ خود محنت کر کے کیا، رسولِ کریم ﷺ کا عظیم الشان گھر دار العلوم غریب نواز بیدولہ متعدد عظیم عمارتوں پر مشتمل ہے،ناظرین کا بیان ہے کہ اس میں ۵۰ سے زیادہ کمرے ہیں جو انتہائی نفاست کے ساتھ انتہائی دیدہ زیب ہیں۔، خاص بات یہ ہے کہ کہ دار العلوم غریب نواز کی ایک لائبریری ہے جس میں حضرت قائدِ ملت نے گراں قدر کتابیں جمع فرمائی ہیں۔ تاریخ، سیر، حدیث ، تفسیر وغیرہ کتب تو ہیں دیگر مذاہب کی معروف کتب بھی اس میں موجود ہیں۔
دار العلوم کے ہاسٹل میں بڑی تعداد میں طلبہ مفت قیام کرتے ہیں ۔ادارہ کی جانب سے کھانے پینےکی سہولیات اور دیگر ضروریات بخوشی حاصل کرتے ہیں۔اس ادارہ میں پرائمری تعلیم کے ساتھ حفظ، قراءت، مولویت، عالمیت اور فضیلت تک کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ہوتا ہے ۔ کسی بھی دار العلوم کو کامیاب تعلیم و تربیت کے لیے صرف بانیِ ادارہ ہی سب کچھ نہیں کرتا بلکہ مدرسین اور ماہرینِ تعلیم و تربیت کی گراں قدر خدمات اور مسلسل کوششیں ہوتی ہیں۔ اس موقع پر ہم ا دارہ کے پرنسپل اور دیگر مدرسین کو بھ ی ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہیں، جنھوں نے حد درجہ محنت فرمائی ، تعلیم و تربیت کے اعلیٰ نظام کو جاری رکھا اور مختلف شعبوں میں کامیاب اور باکمال افراد پیدا فرمائے جو آج ملک و ملت اور دین و دانش کی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
شیخ طریقت اجمل العلما حضرت سید اجمل حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی دامت برکاتہم العالیہ سے بیعت ہوئے۔انھیں بزرگ نے آپ کو خلافت و اجازت بھی عطا فرمائی، فقیہِ ملت حضرت مفتی جلال الدین احمد امجدی نے بھی آپ کوخلافت سے سرفراز فرمایا۔
قائدِ ملت حضرت علامہ الحاج محمد حفیظ اللہ قادری اشرفی نور اللہ مرقدہ ۷ جمادی الاولیٰ ۱۴۴۲ھ /۲۱ جنوری ۲۰۲۱ء صبح ۹ بج کر ۴۵ منٹ پر رحلت فرما گئے۔ یہ الم ناک خبر پڑھ کر انتہائی غم ہوا، کلماتِ استرجاع دہرائے اور انھیں ایصالِ ثواب کیا۔ ۲۲ جنوری ۲۰۲۱ء نمازِ جمعہ کے بعد دار العلوم غریب نواز بیدولہ میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ امامت کے فرائض اجمل العلما حضرت سید محمد اجمل حسین اشرفی جیلانی کچھوچھوی نے انجام دیے ۔ جنازہ کی نماز میں بڑی تعداد میں علماے کرام اور طالبانِ علومِ نبویہ نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔ عوام و خواص نے بھی بڑی تعداد میں نمازِ جنازہ میں حاضر رہے۔ حضرت اجمل العلما کے انتظار میں چند علماے کرام کے مختصر تعزیتی خطابات ہوئے، نمازِ جنازہ سے پہلے کا منظر ویڈیو میں دکھایا گیا، حزن و غم میں ڈوبا ہوا ٹھاٹھیں مارتا ہوا مجمع نظر آرہا ہے۔ ادارہ کی وسیع دو منزلہ عمارتیں بھی جدائی کا احساس کرتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ عام طور پر بانیان کے مزارات اداروں کے احاطے میں بنتے ہیں، مگر حضرت قائدِ ملت کی تدفین کے لیے ایک بھٹے والے صاحبِ خیر نے اپنی جگہ عنایت فرمائی، یہ جگہ ادارہ کی سنٹرل بلڈنگ سے متصل ہے۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ ایک عالمِ ربانی اور مقبول ترین شخصیت کی آخری آرام گاہ کے لیے جگہ عنایت فرما کر آخرت سنوارنے کا اہتمام فرما لیا، اللہ تعالیٰ موصوف کو جزاے خیر سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔
آپ کی رحلت بلا شبہہ اہلِ سنت و جماعت کا بڑا خسارہ ہے، ضلع سدھارتھ نگر اور دور دور تک آپ کے دیوانے موجود ہیں، جس نے سنا غم میں ڈوب گیا، آپ کے شہزادگان خاص طور پر آپ کے فرزند ارجمند حافظ و قاری مسعود اکرم اور دیگر عزیز و اقارب ، آپ کے تلامذہ اور معتقدین بھی آپ کی جدائی سے نڈھال ہیں۔
ہم دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو صبر و شکر کی توفیق عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ اپنے محبوب شافع، یوم النشور کے طفیل آپ کے صغائر و کبائر معاف فرمائے، آپ کو جنت الفردوس میں بلند ترین مقام عطا فرمائے۔آمین یا رب العالین بجاہ حبیبہ سید المرسلین علیہ الصلاۃ والتسلیم۔٭٭٭٭٭
(ص:۲۴ کا بقیہ) سال ،زمانہ کچھ نہیں اصل ذمہ دار اور مجرم انسان خود ہے، انسان اچھا ہو جائے زمانہ بھی اچھا لگنے لگے گا ،انسان جب تک برا رہے گا زمانہ اسے برا محسوس ہوگا، اس لیےکہ زمانہ حقیقتاً برا نہیں ہوتا لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے اور سمجھتے کی یہ ساری خرابیاں ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں ۔
جب کہ قرآن عظیم نے فرمایا:﴿وَمَاۤ اَصَابَكُمۡ مِّنۡ مُّصِيۡبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ﴾(سورہ شوریٰ 42،آیت 30)
ترجمہ: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے ۔
لہٰذا ہم عہد کریں کی کہ اب ہم نیک بنیں گے، کسی پر ظلم نہ کریں گے ،بہنوں اور بھائیوں کا حق نہ ماریں گے، اپنی بہو بیٹیوں کو بے پردہ نہیں نچائیں گے ،کھانے پینے میں کیا حلال ہے یا حرام ہے اس کا لحاظ کریں گے،ناپ تول میں کمی نہیں کریں گے ،بچوں کو اچھی تعلیم دلائیں گے اور انہیں اچھا ادب سکھائیں گے ،عورتیں شوہروں کا حق اور مرد عورتوں کا حق ادا کریں گے،رشوتوں کی گرم بازاری پر قدغن لگائیں گے نہ لیں گے نہ دیں گے، اپنے مالوں میں جو غریبوں کا حق ہے اسے ادا کریں گے،جھوٹے الزامات کسی پر نہ لگائیں گے، زنا ،بدکاری کے قریب بھی نہ جائیں گے،مساجد کے آداب کا خیال کریں گے۔ قبرستانوں کو بے حرمتی سے بچائیں گے،اپنا حق لینے کے لیے تو سب مستعد رہتے ہیں ہم دوسروں کا حق خوشی سے دینے کو تیار رہیں گے ، محض مال اور دنیا کمانے اور عیش و آرام کی زندگی گزارنے کے لیے شادی کرکے بیویوں کو دوسروں پر چھوڑ کر کئی کئی سال تک غائب نہ رہیں گے۔ سعودیہ یا دوسرے خوشحال ممالک میں جا کر ماں باپ بھائیوں بہنوں کو بھلانے کی رسم بد کا اعادہ نہیں کریں گے، غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کریں گے،حاجت مندوں مفلوک الحال انسانوں کی حتی الامکان مدد کریں گے ،علما، ائمہ اور طالبان علوم دینیہ کی تعظیم و عزت کریں گے ،بڑوں کا ادب کریں گے ، قرآن جو کتاب خداوندی ہے اس کی روزانہ تلاوت کرکے ڈھیروں ثواب کمائیں گے اور اس کو پڑھ کر سمجھنے کی بھی کوشش کریں گے پھر اس پر عمل کر کے اپنی زندگی کو خوشگوار بنائیں گے اور ساتھ ہی اپنی عاقبت بھی سنواریں گے اور اللہ کے محبوب و مقدس بندوں کے زمرے میں شامل ہونے کی کوشش کریں گے کہ یہی بڑی کامیابی ہے ۔
تو ہے کوئی ان باتوں پر عمل کرنے کے لیے تیار ؟ہےکوئی اپنی عاقبت کی فکر کرنے والا ؟ہے کوئی اپنے رب کو راضی کرنے والا ؟جو رحمان و رحیم بھی ہے تو قہار و جبار بھی ہے اور ذوا البطش الشدید (سخت پکڑنے والا ) بھی وہی ہے۔

تازہ ترین مضامین اور خبروں کے لیے ہمارا وہاٹس ایپ گروپ جوائن کریں!

آسان ہندی زبان میں اسلامی، اصلاحی، ادبی، فکری اور حالات حاضرہ پر بہترین مضامین سے مزین سہ ماہی میگزین نور حق گھر بیٹھے منگوا کر پڑھیں!

ہماری آواز
ہماری آواز؛ قومی، ملی، سیاسی، سماجی، ادبی، فکری و اصلاحی مضامین کا حسین سنگم ہیں۔ جہاں آپ مختلف موضوعات پر ماہر قلم کاروں کے مضامین و مقالات اور ادبی و شعری تخلیقات پڑھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اپنا مضمون پبلش کروانا چاہتے ہیں تو بھی بلا تامل ہمیں وہاٹس ایپ 6388037123 یا ای میل hamariaawazurdu@gmail.com کرسکتے ہیں۔ شکریہ
http://Hamariaawazurdu@gmail.com

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے