ازقلم: جمال احمد صدیقی اشرفی القادری فیضی
سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ ۔ سیدنا امام باقر رضی اللہ تعالی عنہ کے لختِ جگر اور حضرتِ سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے اور شہزادہ گلگوں قبا راکب دوش مصطفیٰ حضرتِ سیدنا امامِ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے پڑپوتے ہیں ۔
آپ کے وصال مبارک کی کئی ایک روایات ہیں ۔ لیکن مجموعی طور پر امت میں آپ کے ایصالِ ثواب اور ختم ونیاز حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کی تاریخ بائیس رجب المرجب ہی معروف ہے ۔ اور اس تاریخ کو آپ کے عقیدت مند اور عشاق ختم ونیاز شریف کا خصوصی اہتمام کیا کرتے ہیں ۔ تاہم ختم ونیاز اور کنڈے قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا حیثیت رکھتے ہیں ۔
ایصالِ ثواب کا اہتمام کرناقرآن وسنت سے ثابت ہے ۔ جیسا کہ حضور نبی اکرم ﷺ مینڈھا ذبح کرتے ہوئے اسے اپنی اور امت کی طرف سے قبولیت کی دعا فرمایا کرتے تھے ۔
( صحیح مسلم وسنن ابو داؤد )
حضرتِ سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کے ختم ونیاز کی وہی حیثیت ہے جو کہ دس محرم الحرام کو نواسہ رسول سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ۔ گیارہویں شریف کو حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ ۔ رجب کی چھٹی تاریخ کو خواجۂ خواجگان حضرت سیدنا خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالی عنہ کے ایصالِ ثواب اور دیگر بزرگانِ دین کے اعراس مبارک کی ہے ۔
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کی شخصیت کو کسی ایک گروہ کی طرف منسوب کرنا اصل میں آپ کی شخصیت کو محدود کرنا ہے ۔ جبکہ درحقیقت حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ ساری امت مسلمہ کے امام ہیں ۔ اور جمله عاشقانِ اھلبیت آپ کو خلوص ومحبت وعقیدت سے سلام پیش کرتے ہیں ۔