سیاست و حالات حاضرہ

ہندوستانی مسلمانوں کو کرنے کا کام

تحریر: ابومعاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی
جامعہ نعمانیہ ویکوٹہ آندھرا پردیش

ہمارا پیارا اور نیارا دیش بھارت جمہوری ملک ہے، یہاں کے ہر فرد ہر طرح سے آزاد ہے، یہ ملک دارالاسلام اور نہ دارالحرب بلکہ دارالمعاہدہ و دارالامن ہے جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ ہے:
ہندوستان اس وقت موجودہ حالات کے تحت دارالمعاہدہ و دارالامن ہے۔ (فتویٰ نمبر:3852)
ہمارا ملک 1947/میں فرنگیوں کی چنگل سے آزاد ہوا، اس کے بعد یہ جمہوری ملک قرار دیا گیا، دنیا میں جو بھی جمہوری ملک ہے شاید ہی کسی کو دارالحرب کہا جاسکتا ہو، ہمارا ملک بھی جمہوری ہے اس لئے یہ بھی دارالحرب نہیں بلکہ دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ کے مطابق دارالمعاہدہ و دارالامن ہے۔
یہ اور بات ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک (موجودہ دور میں کچھ زیادہ ہی) یہاں کی اکثریت نے ہمیشہ اقلیت کو ہراساں کیا، ہر طرح سے نشانہ بنایا، اس کو ہر طرح سے کمزور کیا، ہر میدان میں اس کو پیچھے دھکیلا، سیاسی و معاشی ہر اعتبار سے اس کو بے دست و پا کیا۔
اس میں جہاں بعض تنظیموں اور اداروں کی کارستانیاں شامل ہیں وہیں اس میں حکومتیں بھی پیش پیش رہی ہیں، اور آج یہاں کی اقلیت خصوصا ہم مسلمان اس پوزیشن یا اس درجہ نیچے آگئے ہیں کہ اب ہمیں اٹھنا اور اپنے آپ کو مضبوط کرنا ناممکن معلوم ہورہا ہے، اس جان کاری کے لئےملکی سطح پر جو رپورٹیں ہیں جیسے سچر کمیٹی یا اس کے علاوہ جو رپورٹیں ہیں اس کو دیکھا جاسکتا ہے۔
دھیان رہے اس ملک میں ہم مسلمانوں کو گرانے میں جہاں اکثریت کا اہم رول رہا ہے وہیں ہم مسلمان خود بھی اس کے سبب بنے ہیں، ہم خود بھی اس کے ذمہ دار ہیں، کیونکہ آزادی کے بعد سے ہم اگر اپنی شناخت اور ساکھ کو اچھا بنائے ہوئے ہوتے تو آج ہم اس مقام پر نہیں ہوتے جہاں ہم پہنچ چکے ہیں۔
اس صورت میں بھی ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں مستقبل کے لئے کوئی ٹھوس اور مضبوط لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اس کے لئے جہاں بہت سارے کام کی ضرورت ہے ان میں مندرجہ ذیل تین کاموں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
(1) یہاں کے عوام اکثریت میں ابھی بھی ہم مسلمانوں کے معاملے میں غیر جانبدار ہے وہ مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں سے تعلقات مستحکم کئے جائیں اور انہیں اسلام سے قریب لانے اور دین کے پیغام سے متعارف کرانے کی کوشش کی جائے۔
(2)ہم اپنی تعلیمی اداروں کو سب کے لئے عام کریں، ہمارے ہاں جو بھی عصری ادارے ہیں وہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف مسلمانوں کے لئے مختص ہیں، اس کو عام کریں، ان اداروں میں غیر مسلموں کو مزید حسن سلوک یہ کریں کہ ان کو فیس وغیرہ کی رعایت دیں۔
(3)ہمارے ہاں جو ملکی سطح پر تنظیمیں ہیں وہ مسلم وغیر مسلم(پچھڑی ذات سے تعلق رکھنے والے) بچوں کو حصول تعلیم میں مدد کریں، ان کا پورا بایوڈاٹا رکھیں اس میں انہیں طلبہ کا خصوصا انتخاب کریں جو پڑھنے لکھنے میں دلچسپی رکھتا ہو تاکہ وہ ملک کے اعلی عہدے تک پہنچ سکے، اور ملک و ملت کے لئے اچھا کام کرسکے۔
اگر ان باتوں پر عمل کرلیا جائے تو ملک میں دوبارہ گنگا جمنا تہذیب دوبارہ عود کرے گی۔ ان شاءاللہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے