سیاست و حالات حاضرہ

اہل علم کے نام: ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں

تحریر:حافظ میر ابراھیم سلفی
مدرس :سلفیہ مسلم انسٹچوٹ پرے پورہ
رابطہ نمبر :6005465614

اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

مبتلائے درد ہو کوئی عضو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

صاف ممدوحہ میں رفق و لین ایک عظیم صفت ہے۔ رب کائنات نے وحی جلی اور وحی خفی میں متعدد مقامات پر اس صفت کی مدح کی ہے۔ خصوصاً اسلام کے آفاقی نظام کے عروج کے پیچھے بھی اس صفت عظمیٰ کا بڑا کردار ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ تعالٰی نے اپنی الصحیح اور امام غزالی رحمہ اللہ کے الاحیاء میں اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ، "یہود کا ایک چھوٹا سا گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا: آپ پر موت ہو (نعوذ ببالمن ذالک) اُم المؤمنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں سمجھ گئی ۔ چنانچہ میں نے کہا: تم پر موت واقع ہو اور لعنت بھی۔ فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ٹھہرو تو اے عائشہ! یقینا اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بے شک میں نے کہا تھا ”اور تم پر بھی ہو (موت)۔”(رقم الحدیث، 6024) تاجدار حرم نبی کریم ﷺ اپنے عدو سے اس طرح کا رویہ اختیار کررہے ہیں اور ہم اپنے ہی دینی بھائیوں کی دنیا اجاڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔ علماء، خطباء، واعظین معمولی فقہی اختلافات اور اجتہادی مسائل کے اوپر اتنا برستے ہیں کہ جیسے سوسال کا بھوکا دسترخوان پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ فرمان نبوی ﷺ ہے کہ، "بے شک اللہ تعالیٰ نرم ہے اور نرمی کو پسند کرتا ہے اور نرمی پر جو دیتا ہے وہ سختی اور دیگر اشیاء پر نہیں دیتا”.(صحیح مسلم) سلف و صالحین کے ہاں فروعی اختلافات ہونے کے باوجود محبت و الفت تھی اور یقیناً وہ ہم سے لاکھ درجہ علم و عمل میں افضل تھے، ہم سلف میں سے کسی ایک امام کے جوتوں کی خاک کے برابر بھی نہیں۔ پیغام اسلام کی نشرو اشاعت میں رفق و لین کا اہم کردار رہا ہے۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارہ

داعی کا بااخلاق ہونا لازمی و واجبی ہے۔ ایک شفیق ماں کی طرح امت کے مسائل کا حل پیش کرنا ہے۔ شفیق و رحیم مربی کی طرح ملت کی تربیت اور پرورش کرنی ہے۔ خصوصیات نبوی ﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے رب تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لئے نرم دل ہوئے اور اگر تند مزاج سخت دل ہوتےتو وہ ضرور تمہارے گِرد (آس پاس)سے پریشان ہو جاتے”.(القرآن) حسن اخلاق حقیقی خوبصورتی کی ترجمان ہے۔ درس و تدریس، وعظ و نصیحت، تبلیغ و اشاعت دین میں حسن اخلاق بے مثال رول ادا کرتا ہے۔ تعصب، عصبیت، عداوت، بغض و تکبر، مسلکی منافرت، فرقہ واریت ایسے زہر آلود کیڑے ہیں جو حصول ثمرات میں منافی رجحان پیش کرتے ہیں۔نرمی اسلام میں نہایت پسندیدہ اخلاقی وصف ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اس وصف کو مؤمنوں کے ساتھ خاص کیا ہے۔ یہ مسلمان کی انفرادی زندگی کو بھی مزیّن بناتی ہے اور اجتماعی زندگی پر بہت مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ جس کو نرم خوئی حاصل ہوئی اسے اللہ تعالی کی نعمتوں میں سے بڑی نعمت مل گئی، جو اس کی دنیا اور آخرت دونوں کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔نرمی کے لیے عربی زبان میں ’’الرفق‘‘ اور ’’اللین‘‘ اور ’’ھین‘‘ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں، جس کے معنی نرمی اور ایک جانب جھکاؤ کے ہیں، کام کو آسان بنانا اور دشواری سے بچانا بھی اس کے مفہوم میں داخل ہے۔ ’’العنف‘‘ کا لفظ اس کا عکس اور متضاد ہے، جس کے معنی درشتی اور سخت روی کے ہیں۔ ( فتح الباری، لابن الحجر،۴۴۹۔۱۰) طاغوت اکبر فرعون کے پاس جب موسی کو بھیجا گیا تب بھی اصول دعوت میں رفق و لین کو واجب قرار دیا گیا۔ فرمان ربانی ہے کہ، "جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔‘‘(القرآن) مناظرہ بازی کے نام پر جو بھی اسماء سامنے آئیے ان میں سے اکثر اس صفت سے محروم ہے۔

ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوئے تاروں سے کیا کام بنے

سلف و صالحین کے یہاں بھی علمی و فقہی مذاکرات ہوتے آئے ہیں لیکن ان میں اختلافات کے باوجود وسعت نظر ہوتی تھی جس سے ان کے حسن اخلاق پر کبھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ علمی اختلاف خواہ کتنا شدید ہو، مگر دنیا کے امن وامان کو بحال رکھنا ازبس ضروری ہے، جس طرح مسلم وغیرمسلم انسانیت کے اصول پر مل جل کر زندگی گزارتے ہیں اور قوانین ومعاہدے کی رو سے ملک کو پُرامن بنائے رکھتے ہیں، ملت اسلامیہ بھی اپنے تمام تر اختلاف کے باوجود امن وامان کے ساتھ ملک کے شہری بن سکتے ہیں، دونوں ہی جماعت کے قائدین و پیشوا کو اس سلسلہ میں پیش قدمی کرنے کی ضرورت ہے، ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی اگر تمام راہیں مسدود بھی ہوں تو کم از کم ”کلمہ“ پر اتحاد واتفاق کیا ہی جاسکتا ہے۔ اعتقادی ونظریاتی موشگافیوں کے لیے مذاکرات ومناظرہ کی محافل کافی ہیں، اس کے لیے اللہ کی زمین کو جنگ کا میدان بنانا اور قتل وخون کرکے امن وامان کو غارت کرنا اور آج کے مسلم معاشرہ کے اندرونی کھوکھلاپن کو آشکارا کرنا دانش مندی نہیں ہے۔ ویسے ہی دشمن تاک میں ہیں، کب مسلمان آپس میں الجھیں اور ہم لقمہ تر بناکر نگل لیں؛ بلکہ ان اختلافات کو وہ بھانپ بھی چکے ہیں اور مجاہد قوم کی بہادری اور جوش وخروش کا اندازہ بھی کرچکے ہیں اب تو وہ آپس میں لڑاکر تالیاں بجارہے ہیں۔ فقہی مباحث میں جو کچھ اختلاف پایا جاتا ہے اس کا اکثر حصہ افضلیت و اولیت پر مبنی ہے اِکا دُکا مسئلہ جواز وعدم جواز سے بھی متعلق ہے؛ مگر یہ سارے مسائل مجتہد فیہ ہیں جن میں خطا وصواب دونوں کا احتمال ہے، کسی بھی فریق کومورد الزام ٹھہرانا غلو وتشدد ہوگا، ائمہ کے مسالک ترجیح کی خاطر ہیں اور بلا ضرورت ایک امام کے مسلک سے عدول نہیں کرنا چاہیے؛ لیکن یہ احکام تبلیغی نہیں ہیں لہٰذا دوسروں کو اپنے فکر وخیال کا ہم نوا بنانا اعتدال کے باب کو مجروح کرتا ہے۔ اختلاف کی نوعیت خواہ کیسی بھی ہو، اس میں سنجیدگی، متانت اور وقار کے دامن سے وابستہ رہنا ضروری ہے، لڑائی، جھگڑا، گالم و گلوج اور طعنہ زنی سے بچنا لازمی ہے، یہاں تک کہ کفر و شرک اور بدعت و ضلالت کے حامیوں سے اعلان برأت تو ضروری ہے لیکن ان کے ساتھ بحث و مباحثے میں تیز و تند او ر تکلیف دہ الفاظ کے استعمال سے پرہیز کرنا لازمی ہے۔ فرمان ربانی ہے کہ، "اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائو او ر لوگوں سے بہتر طریقے سے گفتگو کرو”.(القرآن)

یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ اہل فتویٰ کے درمیان ہمیشہ بعض چیزوں کے جائز و ناجائز ہونے میں اختلاف رہا ہے لیکن جائز یا ناجائز قرار دینے والوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے متعلق یہ خیال نہیں کرتا کہ جسے وہ جائز یا ناجائز سمجھ رہا ہے دوسرا اس کے برخلاف سمجھنے کی وجہ سے ہلاک ہوگیا۔ (جامع بیان العلم)امام شافعی لکھتے ہیں کہ جو آدمی کسی علمی و فقہی مسئلے میں مجھ سے اختلاف رکھتا ہے میں اس سے یہ نہیں کہتا کہ وہ اللہ سے توبہ کرے، کیونکہ توبہ گناہوں سے ہوتی ہے اور ایسا آدمی گنہگار نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک یا دو ثواب کاحقدار ہو تا ہے۔ (اختلاف رائے آداب واحکام، از ڈاکٹر سلمان فہد عودہ :۱۰۳) رعلامہ ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ جو لوگ اجتہاد کرتے ہیں، اہل سنت ان کو گنہگار نہیں مانتے ہیں، وہ ا س معاملے میں اصول و فروع کے درمیان کسی فرق کے قائل نہیں ہیں، لہٰذا جوشخص اللہ عز و جل کی مراد کو سمجھنے کی پوری کوشش کر ے اور وہ اس کا اہل ہوتو وہ اس اجتہاد کی وجہ سے گنہگار نہیں ہوگا بلکہ وہ ایک یا دو اجر کا مستحق ہوگا، حاصل یہ ہے کہ اجتہادی مسائل میں کسی کو گنہگار قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ اس کی وجہ سے مسلمانوں سے قطع تعلق صحیح ہوگا۔ (مجموع الفتاوی)امام احمد بن حنبلؒ اور امام بخاریؒ وغیرہ کے مایہ ناز استاذعلی بن مدینی میں ایک مسئلے میں اختلاف ہوا اور بحث وتکرارکی نوبت آگئی، اندیشہ تھا کہ اس کی وجہ سے بد مزگی پیدا ہوجائے گی، لیکن جب ابن مدینی واپس جانے کے لیے سواری پر بیٹھے تو امام احمد بن حنبل نے اس درجہ احترام کا معاملہ کیا کہ سواری کی رکاب تھام لی۔ (جامع بیان العلم :۲/۱۰۷)امام شافعی اور ان کے شاگرد یونس حلافی کے درمیان ایک مسئلے کولے کر خوب بحث و تکرار ہوئی، لیکن جب دوبارہ ملاقات ہوئی تو امام شافعی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا، اگرچہ ہم ایک مسئلے میں متفق نہ ہوسکے تو کیا آپس میں بھائی بن کر نہیں رہ سکتے۔(سیر اعلام النبلاء:۱۰/۱۶)

منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی ، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو ، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

عصر حاضر میں ملت اسلامیہ جن جدید اور ھلاک کن فتنوں کا سامنا کررہی ہے انہیں نظر انداز کرکے اکثریت کی تعداد اپنی دال گرم کرنے کے لئے انہیں گنے چنے مسائل میں پڑے ہوۓ ہیں۔ اسلام کا نام لے کر اسلام کو ڈَسنا، اسے تحریفی نشتر لگانا جدید مستشرقین کا شیوہ بن گیا ہے۔ الحاد و ارتداد کے فتنے تیز رفتاری کے ساتھ شبخون کا میلا گرم کر رہے ہیں۔ہماری خواب خرگوش کی نیند امت کو ڈبا رہی ہے۔ ختم نبوت پر ڈاکے ڈالے جارہے ہیں، تعلیمی دانشگاہیں اپنی فکر کے مطابق مسیحت و عریانی کو فن و کلاکاری کے نام پر پروان چڑھا رہے ہیں۔علماء حالت سکوت میں ہیں۔یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ ایک قلیل تعداد حسب استطاعت ان فتنوں کا تعاقب کررہی ہے۔شرک و بدعات کے افعال اپنی شکل تبدیل کرکے طلوع ہوچکے ہیں۔ افکار کی جنگ چھڑ چکی ہے۔ اِن افکار کا یقینی نتیجہ مذہب بیزاری، دینی تشکیک وتذبذب، تمام امت اسلامیہ کی تجہیل اور تحمیق اور قدیم علماء امت اور حاملین دین کو ناقابل اعتماد مجرم قرار دینا اور اسلام کی پوری تاریخ تاریک در تاریک دِکھلانا ہے۔ اور خطباء آپس میں دست و گریباں ہیں۔ دوسروں کو اخلاقیات کی تلقین کرنے والے، اخلاق جمیلہ کا جنازہ نکالتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

ہم تو سمجھے تھے کہ لائے گی فراخی تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

لادینیت، الحاد، سیکولرازم، لامذہبیت اور دین سے دُوری کی جتنی ممکنہ صورتیں ہیں، کفار نے وہ سب اختیار کر رکھی ہیں۔ میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگا کر ملت کی بیٹیاں آج علانیہ اسلام کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
تم مسلماں ہو جن کو دیکھ کر شرمائیں یہود

اہل اسلام! بے کار کی بحث و تمحیص سے نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ امت کا شیرازہ بکھر چکا ہے، اسے پیار و الفت سے سمیٹنے کی ضرورت ہے۔ اہل علم کی جماعت! وسعت نظر، دور اندیشی، منصفانہ کردار، قوت سماعت و بصارت کو خود میں پیدا کریں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ، "ان کے دلوں میں باہمی الفت بھی اسی نے ڈالی ہے، زمین میں جو کچھ ہے اگر آپ سارے کا سارا بھی خرچ کر ڈالتے تو بھی ان کے دل آپس میں نہ ملا سکتے تھے۔ یہ تو اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ہے وہ غالب حکمت والا ہے”.(القرآن)

We are all equal in the fact that we are all different. We are all the same in the fact that we will never be the same. We are united by the reality that all colours and all cultures are distinct & individual. We are harmonious in the reality that we are all held to this earth by the same gravity. We don’t share blood, but we share the air that keeps us alive. I will not blind myself and say that my black brother is not different from me. I will not blind myself and say that my brown sister is not different from me. But my black brother is he as much as I am me. But my brown sister is she as much as I am me.

اللہ سے دعا ہے کہ علماء وقت کو اس فکر کی آشنائی عطا کرے تاکہ تنگ نظریہ سے نکل کر وسعت نظر کا مظاہرہ کرکے ملت کو جدید و عصری فتنوں سے نکلنے کے لئے رہنمائی فرمائیں۔۔۔۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے