عقائد و نظریات فقہ و فتاویٰ

قطعیات میں ایک قول حق:دیگر اقوال باطل (قسط اول)

تحریر: طارق انور مصباحی، کیرالہ

قطعیات میں صرف ایک قول حق ہوگا،اس کے علاوہ سب باطل۔باب اعتقادیات میں ایسے امور ہیں کہ صرف ان کے حق ہونے کایقین واعتقادرکھنا ہے۔
عمل سے ان امور کا تعلق نہیں،جیسے توحیدورسالت،قیامت وحشر،جنت ودوزخ، حضرات انبیائے کرام وملائکہ عظام علیہم الصلوٰۃوالسلام سے متعلق بہت سے اعتقاد ی احکام،وغیرہ۔

باب عملیات میں بعض ایسے امور جن کی حقانیت کا بھی یقین واعتقادرکھنا ہے، اور ان پر عمل بھی کرنا ہے،جیسے فرائض اربعہ:نماز،روزہ،حج،زکات وغیرہ۔
فرائض اربعہ ودیگرامور کے تفصیلی احکام فقہیات میں بیان ہوتے ہیں،کیوں کہ ان امور سے عمل کا تعلق ہے، اورعلم فقہ میں عملی احکام کے مسائل واحکام بیان کیے جاتے ہیں۔

جب کہا جاتا ہے کہ باب فقہیات میں اختلاف کی اجازت ہے تو اس سے باب فقہ کے ظنی و اجتہادی امور مراد ہوتے ہیں جو حضرات ائمہ مجتہدین کے درمیان اجماعی نہ ہوں۔

فقہیات واعتقادیات کے قطعی امور میں اجتہادواختلاف کی گنجائش نہیں۔باب فقہیات کی طرح باب اعتقادیات کے ظنی غیر اجماعی مسائل میں علمائے کرام کا اختلاف ہوتا ہے،جیسے بعض فرعی وظنی مسائل میں امام ابوالحسن اشعری وامام ابومنصور ماتریدی کا اختلاف۔

اعتقادیات کوعقلیات سے بھی تعبیر کیا جاتاہے،کیوں کہ اس کے مباحث میں علوم عقلیہ کے مباحث بھی شامل ہوچکے ہیں۔دوسرا سبب یہ ہے کہ باب اعتقادیات میں عقل صحیح ایک قوی دلیل ہے۔

اعتقادیات کے چار دلائل ہیں:(1)قرآن مقدس کی قطعی الدلالت آیات مبارکہ (2)قطعی الدلالت احادیث متواترہ (3)اجماع متصل (4)عقل صحیح۔

فقہیات کے بھی چار دلائل ہیں:(1)قرآن مجید (2)احادیث نبویہ (3) اجماع (اجماع شرعی)(4)قیاس۔عملی احکام میں عقل صحیح دلیل نہیں۔

قطعیات میں دوقول حق نہیں ہوسکتے۔لاعلمی کے سبب بعض صورتوں میں قول باطل کرنے والا معذور ہوتا ہے۔علم کے بعد قول باطل ماننے کے سبب حکم شرعی وارد ہوگا۔

ظنیات میں احتمال خطا کے ساتھ حقانیت کا اعتقاد:

امام ابن نجیم مصری نے رقم فرمایا:(اذا سُءِلنَا عن مذہبنا ومذہب مخالفینا فی الفروع-یجب علینا ان نجیب:بان مذہبنا صواب،یحتمل الخطأ۔
ومذہب مخالفینا خطأ یحتمل الصواب

لانک لوقطعت القول لما صح قولنا:ان المجتہد یخطئ ویصیب۔

واذا سُءِلنَا عن معتقدنا ومعتقد خصومنا فی العقائد-یَجِبُ علینا ان نقول:الحق ما نحن علیہ-والباطل ما علیہ خصومنا-ہکذا نقل عن المشائخ رحمہم اللّٰہ تعالٰی)(الاشباہ والنظائر:جلد اول:ص381-مکتبہ شاملہ)

ترجمہ:جب باب فروعیات میں ہم سے ہمارے مذہب اور ہمارے مخالف کے مذہب کے بارے میں سوال ہوتوہم پریہ جواب دینا ضروری ہے کہ ہمارا مذہب صحیح ہے جو خطا کا احتمال رکھتا ہے، اور ہمارے مخالف کا مذہب خطا ہے جو صحت ودرستگی کا احتمال رکھتا ہے۔

اس لیے کہ اگر تم نے(اپنے مذہب کی حقانیت کے) قول کو قطعی کردیا تو ہمارا یہ قول درست نہیں ہوگا کہ مجتہدمصیب ومخطی ہوتا ہے۔

اور جب ہم سے ہمارے عقائد اور عقائد میں ہمارے مخالف کے بارے میں سوال کیا جائے تو ضروری ہے ہم پر کہ ہم کہیں:حق وہی ہے جس پرہم ہیں اور جس پر ہمارے مخالف ہیں،وہ باطل ہے۔اسی طرح حضرات مشائخ علیہم الرحمۃوالرضوان سے منقول ہے۔

باب فقہیات میں ضروریات دین،ضروریات اہل سنت اور ظنی مسائل:

کسی کو ایسا وہم گزرسکتا ہے کہ صرف اعتقادی مسائل قطعی ہوتے ہیں،حالاں کہ اعتقادی مسائل اور فقہی وعملی مسائل کی بھی درج ذیل تین قسمیں ہیں۔

(1)قطعی بالمعنی الاخص (2)قطعی بالمعنی الاعم (3)ظنی۔
قال الغزالی:(واما الفقہیۃ:فالقطعیۃ منہا وجوب الصلوات الخمس والزکاۃ والحج والصوم وتحریم الزنا والقتل والسرقۃ والشرب وکل ما علم قطعا من دین اللّٰہ فالحق فیہا واحد وہو المعلوم-والمخالف فیہا آثم۔

ثم ینظر:فان انکرما علم ضرورۃً من مقصود الشارع کانکار تحریم الخمر والسرقۃ ووجوب الصلٰوۃ والصوم فہوکافر-لان ہذا الانکار لا یصدر الا عن مکذب بالشرع۔
وان علم قطعًا بطریق النظر،لا بالضرورۃ ککون الاجماع حجۃ وکون القیاس وخبرالواحد حجۃ وکذلک الفقہیات المعلومۃ بالاجماع فہی قطعیۃ فمنکرہا لیس بکافر-لکنہ آثم مخطئ۔
فان قیل:کیف حکمتم بان وجوب الصلاۃ والصوم ضروری-ولا یعرف ذلک الا بصدق الرسول و صدق الرسول نظری؟

قلنا:نعنی بہ ان ایجاب الشارع لہ معلوم تواترًا او ضرورۃً۔

اما ان ما اوجبہ فذلک نظری یعرف بالنظر فی المعجزۃ المصدقۃ ومن ثبت عندہ صدقہ فلا بد ان یعترف بہ-فان انکرہ فذلک لتکذیبہ الشارع ومکذبہ کافر فلذلک کفرناہ بہ۔

اما ما عدا من الفقہیات الظنیۃ التی لیس علیہا دلیل قاطع فہو فی محل الاجتہاد فلیس فیہا عندنا حق معین-ولا اثم علی المجتہد اذا تمم اجتہادہ وکان من اہلہ۔

فخرج من ہذا ان النظریات قسمان:قطعیۃ وظنیۃ-فالمخطئ فی القطعیات آثم ولا اثم فی الظنیات اصلا -لا عند من قال:المصیب فیہا واحد ولا عند من قال:کل مجتہد مصیب-ہذا ہو مذہب الجماہیر)
(المستصفٰی جلددوم:ص407-مؤسسۃ الرسالہ بیروت)

توضیح:منقولہ بالا اقتباس میں فقہی مسائل کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں۔

منقولہ عبارت میں قطعی بالمعنی الاخص کو ضروری سے تعبیر کیا گیا ہے۔قطعی بالمعنی الاعم کو نظری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ظنی کو ظنی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

مذکورہ بالا عبارت میں ضروری دینی کے ضروری وبدیہی ہونے کا مفہوم بھی بیان کیا گیا ہے کہ جب کو ئی حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کوتسلیم کرلیا تو اس کے لیے ضروریات دین بدیہی ہیں، کیوں کہ ضروریات دین تواتر کے ساتھ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے مروی ہیں،جن میں شک وشبہہ کی گنجائش نہیں اور جونبی ہوں گے، ان کی ہر بات سچی ہوگی،کیوں کہ نبی سچے ہوتے ہیں،پس ان کی کسی متواتر بات کا انکار نبی کی تکذیب ہوگی،اور یہ کفر ہے۔

سوال اول:

سوال اول: کیا قطعیات میں دوقول حق ہو سکتے ہیں؟ یا ایک حق ہوگا اور دیگر تمام باطل؟

جواب:قطعیات ہو یا ظنیات، دونوں میں عنداللہ ایک ہی حق ہوتا ہے۔

ظنیات میں یہ اجازت ہے کہ باب عمل میں مختلف اقوال پر عمل کر لیا جائے۔

قطعیات میں حصول یقین ضروری ہے،اورصرف ایک ہی قول یعنی قول صحیح کوماننے کا حکم ہے۔ ظنیات میں حصول ظن کافی ہے،اور متعدد اقوال پر عمل کی اجازت ہے۔

باب قطعیات میں قول صحیح کے علاوہ دیگر تمام باطل اقوال کوماننے والا کافر یا گمراہ ہو گا،یعنی ضروریات دین کے باب میں قول صحیح کے علاوہ دوسرے قول کوماننے والا کافر ہے۔

قطعی بالمعنی الاعم یعنی ضروریات اہل سنت کے باب میں قول صحیح کے علاوہ دوسرے قول کوماننے والا گمراہ ہے۔اسی طرح جو ضروریات دین کے باب میں دو قول کے حق ہونے کا عقیدہ رکھے،وہ بھی کافر ہے۔۔

ضروریات اہل سنت کے باب میں دوقول کے حق ہونے کا اعتقادرکھنے والا گمراہ ہے۔

قطعی بالمعنی الاخص یعنی ضروریات دین میں ایک حق:

(1)قال التفتازانی:(لان المخطئ فی الاصول والعقائد یعاقب،بل یُضَلَّلُ اَو یُکَفَّرُ-لان الحق فیہا واحد اجماعًا-والمطلوب ہو الیقین الحاصل بالادلۃ القطعیۃ-اذ لا یعقل حدوث العالم وقدمہ-وجواز رویۃ الصانع وعدمہ-فالمخطئ فیہا مخطئ ابتداءً وانتہاءً) (التلویح جلدوم:ص121)

ترجمہ:اس لیے کہ اصول(قطعی مسائل) اور عقائد میں خطا کرنے والا قابل سزا ہے، بلکہ گمراہ یا کافر ہے،کیوں کہ اس میں بالاجماع ایک ہی حق ہے،اور (ان میں)وہ یقین مطلوب ہوتا ہے جو قطعی دلیلوں سے حاصل ہو،اس لیے کہ دنیا کا قدیم اور حادث ہونا غیر معقول ہے،اور اللہ تعالیٰ کی رویت کا جواز اور عدم جواز غیر معقول ہے، پس اس میں خطا کرنے والا ابتداء ً اور انتہاء ً خطا کرنے والا ہے۔

توضیح:قطعیات میں صرف ایک قول حق ہوگا۔چوں کہ وہاں اجتہادکی اجازت نہیں،اس لیے جو عقلاً غلط ہو، اسے غلط تسلیم کیا جائے گا،پس دنیا کا قدیم اور حادث ہونا عقلاً غلط ہے،کیوں کہ یہ اجتماع متضادین ہے،پس یہاں ایک قول حق ہوگا،اور باطل قول یعنی قدم عالم کا قول اختیار کرنے والاکافرہوگا،کیوں کہ دنیا کا حادث ہونا ضروریات دین سے ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ کا آخر ت میں دید ار یا تو جائز ہوگا،یا ناجائز۔جواز وعدم جواز دونوں ہوتواجتماع متضادین ہوگا،اور اجتماع متضادین عقلاً محال اور غلط ہے، پس اس مسئلہ میں باطل قول کرنے والا گمراہ ہوگا،کیوں کہ رویت الٰہی کا جوازضروریات دین سے نہیں۔

واضح رہے کہ یہاں قطعی سے قطعی بالمعنی الاخص اور قطعی بالمعنی الاعم مراد ہے۔
ایک قطعی خاص ہے جو بعض مجتہدین کو قرائن کے سبب کسی امرمیں حاصل ہوتا ہے اوروہ اس امر کوفرض عملی قراردیتے ہیں،وہ متکلمین کی بحث سے خارج ہے،کیوں کہ اس قطعیت کی بنیاد عام دلیل پر نہیں،بلکہ مجتہدکے حاصل شدہ خاص قرائن پر ہے۔وہ قرائن دیگر مجتہدین کوحاصل نہ ہوسکیں توان کے حق میں وہ ظنی رہے گا۔

جیسے صحابی نے خود حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کوئی امر دینی سماعت کی،اور دوسروں کوخبرواحدکے ذیعہ وہی بات معلوم ہوئی تواس خاص صحابی کے حق میں وہ امر قطعی بالمعنی الاخص اورضروری دینی ہے اور دیگر حضرات کے لیے ظنی اور غیر ضروری دینی ہے۔

قطعیات میں جو قطعی بالمعنی الاخص(ضروریات دین) ہے،اس کے برخلاف جتنے اقوال ہوں گے،سب باطل محض ہوں گے، اور قائل کافر کلامی ہوگا۔
قطعیات میں جو قطعی بالمعنی الاعم (ضروریات اہل سنت)ہے،اس کا منکر متکلمین کے یہاں گمراہ ہے۔ فقہائے احناف اوران کے مؤیدین کے یہاں وہ کافر فقہی ہے۔

(2)قال الملا احمد جیون:((وہذا الاختلاف فی النقلیات دون العقلیات)ای فی الاحکام الفقہیۃ دون العقائد الدینیۃ-فان المخطئ فیہا کافرکالیہود والنصارٰی او مُضَلَّلٌ کالروافض والخوارج والمعتزلۃ ونحوہم) (نورالانوار:ص247-طبع ہندی)

ترجمہ:یہ اختلاف نقلیات میں ہے،نہ کہ عقلیات میں،یعنی احکام فقہیہ میں ہے، نہ کہ عقائد دینیہ میں،اس لیے کہ عقائددینیہ میں خطا کرنے والا کافر ہے،جیسے یہودونصاریٰ۔
یا گمراہ ہے،جیسے روافض،خوارج،معتزلہ وغیرہ۔
توضیح:منقولہ بالاعبارت میں نقلیات سے ظنی فقہیات مرادہیں اورعقلیات سے قطعی اعتقادیات۔قطعی فقہیات اور اجماعی فقہی مسائل میں اجتہاد جاری نہیں ہوتا۔اسی طرح قطعی اعتقادیات اور ظنی اجماعی اعتقادیات میں اجتہاد جاری نہیں ہوتا۔

ظنی غیر اجماعی عقائد وفقہی مسائل میں اجتہاد جاری ہوتا ہے۔الحاصل قطعیات اورظنی اجماعی امورمیں اجتہادنہیں ہوتا،خواہ وہ فقہیات میں سے ہو، یا اعتقادیات میں سے۔صرف ظنی غیر اجماعی میں اجتہادہوتا ہے۔

(3) قال بحر العلوم الفرنجی محلی:((المصیب)من المجتہدین ای الباذلین جہدہم(فی العقلیات واحد -والا اجتمع النقیضان)لکون کل من القدم والحدوث مثلًا مطابقًا للواقع(وخلاف العنبری)المعتزلی فیہ (بظاہرہ غیرمعقول)بل بتاویل کما سیجئ ان شاء اللّٰہ تعالٰی

(وَالمُخطِئُ فِیہَا)ای فی العقلیات(اِن کَانَ نَافِیًا لِمِلَّۃِ الاسلام فکافرٌ واٰثِمٌ علٰی اختلاف فی شرائطہ کَمَا مَرَّ)من بلوغ الدعوۃ عند الاشعریۃ ومختارالمصنف-وَمضیء مُدَّۃِ التَّأمُّل والتمییز عند اکثرالماتریدیۃ۔

(وَاِن لَم یکن)نافیًا لِمِلَّۃِ الاسلام(کخَلقِ القراٰن)ای القول بہ ونفی الرویۃ والمیزان وامثال ذلک (فَاٰثِمٌ لَاکَافِرٌ) ………………
(وَالشَّرعیات القطعیات کذلک)ای مثل العقلیات(فمنکر الضروریات)الدینیۃ(مِنہَا کَالاَرکَانِ)الاربعۃ الَّتِی بُنِیَ الاسلامُ عَلَیہَا- الصَّلٰوۃِ والزَّکَاۃِ وَالصَّومِ وَ الحَجِّ (وحجیۃ القراٰن ونَحوِ ہِ مَاکافرٌ اٰثِمٌ- وَمُنکِرُ النَّظریات)منہا(کحجیۃ الاجماع وخبرالواحد)وَعَدُّوا مِنہَا حجیۃَ القیاس اَیضًا(اٰثِمٌ فقط)غَیرُ کَافِرٍ-والمراد بالقطع المعنی الاخص-وہومَا لَا یَحتَمِلُ النَّقیض وَلَو اِحتَمَالًا بعیدًا-وَلَوغَیرَ نَاشٍ عن الدلیل)
(فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت: جلددوم:ص377)

توضیح:مذکورہ بالاتینوں اقتباسات سے ظاہر ہوگیا کہ قطعیات میں دوقول حق نہیں ہو سکتے۔ کفرکلامی کفر قطعی بالمعنی الاخص ہے۔اس کے انکاراور اس میں اختلاف کا حکم وہی ہے،جو ضروریات دین کے انکار اور ضروریات دین میں اختلاف کا حکم ہے۔

قطعی بالمعنی الا عم یعنی ضروریات اہل سنت میں صرف ایک حق:

ضروریات اہل سنت کا ثبوت ان دلیلوں سے ہوتا ہے،جن میں احتمال بلادلیل (احتمال بعید) ہوتا ہے،یعنی قطعی بالمعنی الاعم دلیل سے ہوتا ہے۔ ضروریات اہل سنت کے منکر پربہت سے فقہا حکم کفر جاری کرتے ہیں اور متکلمین حکم ضلالت نافذکرتے ہیں۔

مندرجہ ذیل عبارت میں ”عرضۃ للتاویل“سے قطعی بالمعنی الاعم امور مراد ہیں،جن میں احتمال بعید کی گنجائش ہوتی ہے۔عبارت ذیلیہ میں قطعی بالمعنی الاعم (ضروریات اہل سنت)میں اختلاف کرنے والے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔

قال القاضی عیاض:(ذہب عبید اللّٰہ بن الحسن العنبری الٰی تصویب اقوال المجتہدین فی اصول الدین فِیمَا کَانَ عُرضَۃً لِلتَّاوِیلِ- وَفَارَقَ فی ذٰلک فرق الامۃ اِذ اَجمَعُوا سواہ علٰی ان الحق فی اصول الدین فی واحد والمخطیء فیہ اٰ ثمٌ عاصٍِ فاسقٌ-وانما الخلاف فی تکفیرہ)
(کتاب الشفا: جلددوم:ص281)

توضیح:قطعی بالمعنی الاعم اموریعنی ضروریات اہل سنت میں بھی ایک ہی حق ہے۔اس کے علاوہ سب باطل۔اس میں اختلاف وانکار پر تکفیرہوگی یانہیں؟اس میں اختلاف ہے۔
فقہائے احناف اور ان کے مؤیدین تمام قطعیات کے انکار پر حکم کفر عائد کرتے ہیں،خواہ وہ قطعی بالمعنی الاخص ہو، یا قطعی بالمعنی الاعم۔متکلمین صرف قطعی بالمعنی الاخص کے انکار پر حکم کفر نافذکرتے ہیں۔ بہت سے فقہا باب تکفیر میں متکلمین کے مذہب پر ہیں۔

قال القاری:(قد ذہب(الی تصویب اقوال المجتہدین)اجمعین(فی اصول الدین)ولوکانوا من المبتدعین(فیما کان عرضۃ للتاویل)ای قابلا لہ مما لم یرد فیہ نص صریح کتاویل المعتزلۃ انہ تعالٰی متکلم بخلقہ الکلام فی جسم متمسکین بشجرۃ موسی علیہ الصلٰوۃ والسلام۔
(وفارق) العنبری(فی ذلک)القول(فرق الامۃ)ای طوائفہا من الناجیۃ وغیرہا(اذ اجمعوا سواہ علی ان الحق فی اصول الدین واحد والمخطئ فیہ آثم عاص فاسق -وانما الخلاف فی تکفیرہ)علی ما سبق بعض تحریرہ-واما فروع الدین فالمخطئ فیہا معذور بل ماجور باجر واحد والمصیب لہ اجران کما فی حدیث ورد بذلک{
(شرح الشفاللقاری جلددوم:ص507-دار الکتب العلمیہ بیرو ت)

توضیح:فروع دین سے یہاں امورظنیہ اجتہادیہ مراد ہیں،جن میں مجتہد کو اجتہادکی اجازت ہے۔امور ظنیہ میں اجتہادی خطا پر بھی مجتہد کو ثواب ملتا ہے۔
قال الخفاجی:(وذہب(الی تصویب اقوال المجتہدین)ای القول بانہا صواب(فی اصول الدین)مما یتعلق بالاعتقاد کالاجتہاد فی الفروع (فیما کان عرضۃ)ای قابلا(للتاویل)وفی الاساس:فرس عرضۃ للسباق ای قویۃ علیہ مطیقۃ لہ،انتہی-کانہ لقابلیتہ تعرض لہ

(وفارق)ای خالف العنبری(فی ذلک)القول الذی قالہ فی تجویزہ الاجتہاد فی اصول الدین وفارق(فرق الامۃ)من علماء الشرع والسنۃ والمتکلمین،فانہا امور سمعیۃ لابد فیہا من نقل صحیح(اذ اجمعوا)ای علماء الامۃ(سواہ)ای غیر العنبری(علی ان الحق فی اصول الدین) والعقائد(فی واحد)لا یقبل التعدد لبراہینہ القطعیۃ-فلیس کالفروع التی ہی محل الاجتہاد-وذہب بعضہم الی ان کل مجتہد فیہا مصیب-وفی نسخۃ ”فی الواحد“

(والمخطئ فیہ)الذی لم یصادف الحق الواحد(آثم عاص فاسق) لعدولہ عن الحق برأیہ(وانما الخلاف فی تکفیرہ)باجتہادہ المخطئ فیما لیس محل الاجتہاد-وانما محلہ الفروع العملیۃ فہو مثاب فی اجتہادہ سواء قلنا:المصیب واحد ام لا؟ علی ما اشتہر فی الاصول-اما فی اصول الدین فالمصیب واحد قطعًا فلا وجہ للاجتہاد فیہا،وان بذل وسعہ وجہدہ)
(نسیم الریاض جلدششم:ص338-دار الکتب العلمیہ بیروت)

توضیح:اصول دین میں قابل تاویل امور سے مراد ضروریات دین کی قسم دوم یعنی ضروریات اہل سنت مرادہیں جو قطعی بالمعنی الاعم دلائل سے ثابت ہوتی ہیں۔

اس کے منکر کی تکفیر میں اختلاف ہے۔متکلمین اس کے منکر کوضال وگمراہ کہتے ہیں اور فقہائے احناف اوراس کے مؤیدین کافر کہتے ہیں۔کفر فقہی قطعی کے انکار واختلاف کا بھی وہی حکم ہے جو ضروریات اہل سنت کے انکار واختلاف کا حکم ہے،کیوں کہ دونوں میں صرف احتمال بعید ہے،اور دونوں قطعی بالمعنی الاعم ہیں،پس دونوں کا حکم ایک ہے۔

سوال دوم:

سوال دوم:ایک دلیل سے ظاہر ہوکہ کوئی مسئلہ قطعی ہے،دوسری دلیل سے ظاہر ہوکہ وہ مسئلہ ظنی ہے تو اس کو ظنی مانا جائے گا یاقطعی؟

جواب:دلیل قوی پر عمل ہوگا۔ظنی سے قوی قطعی بالمعنی الاعم ہے،اورقطعی بالمعنی الاعم سے قوی قطعی بالمعنی الاخص ہے۔قطعی بالمعنی الاخص دلیل سے کسی امر دینی کا ثبوت ہو تووہ امر ضروری دینی ہے۔گرچہ اس کا ذکر دلیل ظنی میں بھی ہو۔

نماز پنج گانہ سے متعلق مروی حدیث خبر واحد ہے اور پانچ نمازیں خبر متواتر سے بھی ثابت ہیں۔وہ مسلمانوں کے درمیان عہد رسالت سے آج تک متواتر ہیں۔

اب اگر کوئی کہے کہ پانچ نمازوں کا ثبوت قرآن مجیدیاحدیث متواتر میں نہیں،بلکہ احادیث آحاد میں ہے،لہٰذا پانچ وقت کی نمازیں ضروریا ت دین میں سے نہیں۔اگرکوئی پانچ نمازوں کا انکار کر دے تووہ کافر نہیں تو ایسا عقیدہ رکھنے والا خود کافر ہے۔

دراصل قطعیات میں حکم یہ ہے کہ شریعت کے حکم اصلی کوماناجائے۔وہاں اجتہاد کی اجازت نہیں،بلکہ تلاش وتتبع اورحصول یقین کا حکم ہے۔
جب کوئی امر دینی تواتر کے ساتھ مروی ہو، اور خبرواحد سے بھی مروی ہوتو وہ امر ضروری دینی ہوتا ہے،گر چہ اس کی روایت خبر واحد کے ذریعہ بھی ہو۔

خبرمتواتردلیل قوی ہے۔دلیل قوی کے مطابق فیصلہ ہوگا،اور اس کی حیثیت کا تعین ہو گا۔کسی کے پاس ایک عالی شان اور بہت بڑامحل ہے اور ایک ٹوٹا پھوٹا گھر ہے تو اس آدمی کو مالدار مانا جائے گا۔اس کے ٹوٹے گھر کو دیکھ کر غریب نہیں مانا جا سکتا۔ دنیاوی قانون سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔نماز پنج گانہ ورکعات نماز وغیرہ کا ذکر مندرجہ ذیل ہے۔

قال القاضی عیاض رحمہ اللّٰہ تعالٰی:(وکذلک نقطع بتکفیر کل من کَذَّبَ وَاَنکَرَقَاعِدَۃً من قواعد الشرع ومَا عُرِفَ یَقِینًا بالنقل المتواتر من فعل الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم وَوَقَعَ الاجماعُ المُتَّصِلُ عَلَیہِ- کَمَن اَنکَرَ وُجُوبَ الصَّلٰوۃِ الخَمسِ وَعَدَدَ رَکعَاتِہَا وَسَجدَاتِہَا-وَیَقُولُ اِنَّمَا اَوجَبَ اللّٰہُ عَلَینَا فی کتابہ الصَّلَاۃَ عَلَی الجملۃ-وکونہا خَمسًا وَعَلٰی ہذ ہ الصفات والشُّرُوطِ-لَا اَعلَمُہٗ اِذ لَم یُرِد فِیہِ فِی القُراٰنُ نَصٌّ جَلِیٌّ- والخبر بہ عن الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم خبرٌ واحدٌ-وکذلک اَجمَعَ عَلٰی تکفیر مَن قَالَ مِنَ الخَوَارِجِ اَنَّ الصَّلَاۃَ طَرفَیِ النَّہَار)(الشفا جلدوم: ص288)

توضیح:نما ز پنج گانہ،تعداد رکعات اور نما زکی ادائیگی کا طریقہ قرآن مجید یا حدیث متواتر میں مذکور نہیں،بلکہ خبرواحد میں ان کا ذکر آیا ہے اور عہد رسالت سے تاامروز مسلمانوں کے درمیان تواتر کے ساتھ مروی ہے۔اس پر امت مسلمہ کا اجماع متصل ہے۔

کوئی یہ کہے کہ پانچ نمازوں کا ذکر خبرواحدمیں ہے۔ہم اسے نہیں مانتے ہیں تووہ کافر ہے۔

بعض خوارج دووقت کی نماز کے قائل تھے، ان کی تکفیرکی گئی۔یہاں پر اجماع متصل دلیل قوی ہے۔اس کے اعتبارسے فیصلہ ہوگا،خبر واحد کے اعتبارسے نہیں۔

سوال سوم:

سوال سوم:اگر کسی کو پانچ نمازوں کا علم خبر متواتر سے نہ ہوسکا۔اس کوصرف اتنا معلوم ہواکہ پانچ وقت کی نمازوں کا ذکر خبر واحد میں ہے۔اس بنیاد پر اس نے کہاکہ پانچ وقت کی نمازیں ضروریات دین میں سے نہیں،اس کامنکر کافر نہیں،تب کیا حکم ہے؟

جواب:لاعلمی کے سبب وہ معذور ہوگا، لیکن جیسے ہی اسے معلوم ہوجائے کہ پانچ وقت کی نمازیں ضروریات دین میں سے ہیں تو اسے فوراً اپنے قول کو غلط سمجھنا لازم ہے۔

اگر ابھی ظنی علم ہواکہ نمازپنج گانہ ضروریات دین میں سے ہے تو نماز پنج گانہ کے ضروریات دین میں سے ہونے کا انکارکرنے پر ضلالت وگمرہی کا حکم ہے۔

اگرقطعی علم ہوگیا کہ نماز پنچ گانہ ضروریات دین میں سے ہے،تب اسے اپنے قول سے رجوع کرنا فرض قطعی ہے،اور عدم رجوع کی صورت میں وہ کافر کلامی ہے۔

بہت سے فقہائے کرام ضروریات دین سے لاعلمی کی حالت میں بھی ضروریات دین کے انکار پر حکم کفر عائد کر تے ہیں۔

متکلمین ضروری دینی کے علم قطعی کے بعدانکار پر حکم کفر عائدکرتے ہیں۔

قال الشامی:(ثم قال فی البحر:والحاصل ان من تَکَلَّمَ الکُفرَ ہَازِلًا اَولاَعِبًا کَفَرَ عِندَ الکُلِّ وَلَا اِعتِبَارَ بِاِعتِقَادِہ کَمَا صَرَّحَ بہ فی الخا نیۃ-وَمَن تَکَلَّمَ بِہَا مُخطِءًا اَو مُکرَہًا،لَا یَکفُرُ عِندَ الکُلِّ-وَمَن تَکَلَّمَ بِہَا عَامِدًا عالمًا کَفَرَ عِندَ الکُلِّ-وَمَن تَکَلَّمَ بِہَا اِختِیَارًا جَاہِلًا بِاَنَّہَا کُفرٌ-ففیہ اختلافٌ)
(رد المحتار:جلدچہارم:ص408-مکتبہ شاملہ)

توضیح:امام احمدرضا قادری نے بھی ایساہی رقم فرمایا۔
(فتاویٰ رضویہ جلد ششم:ص 113-رضااکیڈمی ممبئ)

قال اخی یوسف:(لکن فی الدرر:وَاِن لَم یَعتَقِد اَو لَم یَعلَم اَنَّہَا لَفظَۃُ الکُفرِ وَلٰکِن اَتٰی بِہَا عَن اِختِیَارٍ-فَقَد کَفَرَ عند عامۃ العلماء ولا یعذر بالجہل-وَاِن لَم یقصد فی ذلک بِاَن اَرَادَ اَن یَتَلَفَّظَ بِلَفظٍ اٰخَرَ فَجَرٰی عَلٰی لِسَانِہ لَفظُ الکُفرِ فَلَا یَکفُرُ-لکن القاضی لا یصدقہ)
(مجمع الا نہرشرح ملتقی الابحر:جلددوم:ص ص502-مکتبہ شاملہ)

توضیح:بعض فقہاکے یہاں جہل عذرنہیں ہے،اور بعض کے یہاں عذر ہے،جیساکہ ماقبل میں علامہ شامی کی عبارت میں ہے کہ اس کے کفر ہونے میں اختلاف ہے۔متکلمین کے یہاں جہالت عذر ہے۔جب فقہا کے یہاں اختلاف ہے تومتکلمین کے یہاں کفر نہیں ہوگا۔اختلاف کے سبب یہ کفر اختلافی ہوگیا۔
کفرکلامی،کفر اتفاقی کا نام ہے۔

قال فی الفتاوی الہندیۃ:(ومن اتی بلفظۃ الکفر وہو لم یعلم انہا کفر-الا انہ اتی بہا عن اختیار یکفر عند عامۃ العلماء خلافا للبعض،ولا یعذر بالجہل-کذا فی الخلاصۃ)(فتاویٰ عالمگیری جلددوم:ص276-مکتبہ شاملہ)

قال ابن نجیم المصری:(فی الخلاصۃ:اذا تکلم بکلمۃ الکفر جاہلا-قال بعضہم:لا یکفر-وعامتہم علی انہ یکفر-ولا یعذر(انتہی))
(الاشباہ والنظائرجلداول:ص304-مکتبہ شاملہ)

قال القاری:(ثم اعلم انہ اذا تکلم بکلمۃ الکفرعالما بمعناہا-ولا یعتقد معناہا لکن صدرت عنہ من غیر اکراہ بل مع طواعیۃ فی تأدیتہ-فانہ یحکم علیہ بالکفر بناء علی القول المختار عند بعضہم من ان الایمان ہو مجموع التصدیق والاقرار-فباجراۂا یتبدل الاقرار بالانکار۔

اما اذا تکلم بکلمۃ ولم یدر انہا کلمۃ کفر-ففی فتاوی قاضی خاں حکایۃ خلاف من غیر ترجیح- حیث قال:قیل-لا یکفر لعذرہ بالجہل- وقیل:یکفر ولا یعذر بالجہل-اقول:والاظہر الاول-الا اذا کان من قبیل ما یعلم من الدین بالضرورۃ فانہ حینئذ یکفر-ولا یعذر بالجہل)
(منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبرص451-دار البشائر الاسلامیہ بیروت)

توضیح:فتاویٰ قاضی خاں میں بھی حالت جہالت میں کلمہ کفر بولنے والے کے کفرکو مختلف فیہ بتایا گیا،یعنی لاعلمی کی حالت میں ضروری دینی کے انکارپربھی بہت سے فقہاحکم کفر عائدکرتے ہیں۔ متکلمین کا مذہب وہی ہے کہ علم قطعی کے بعد انکارپرحکم کفر عائد ہوگا۔

متکلمین کے یہاں علم قطعی کی شرط:

کوئی شخص نومسلم ہے،اس نے لاعلمی کے سبب کسی ضروری دینی کا انکار کیا تواسے بتایا جائے گا۔ جب وہ امر دینی اس کے حق میں متواتر ہوجائے،تب بھی انکار کرے توحکم کفر ہو گا، کیوں کہ اب اس کے انکار سے تکذیب ہورہی ہے۔یہی حکم متکلمین کے یہاں اس شخص کا ہے جو مسلمانوں کی آبادی سے دور ہو، او ر اسے اس ضروری دینی کا علم نہ ہو۔

اگرکوئی مسلم، مسلمانوں کی آبادی میں رہتا ہو،اور اس کے لیے علم دین حاصل کرنے کے وسائل بھی موجود تھے،پھر بھی اپنی سستی وغفلت کے سبب حاصل نہ کیا اورضروری علم سے غافل رہا،جب کہ اس کے لیے کوئی شرعی مانع بھی موجود نہیں تھا تو اس ترک واجب کے سبب وہ گنہ گار ضرور ہے،لیکن متکلمین کے یہاں حکم کفر کے لیے ضروری دینی کاعلم لازم ہے۔

قال الہیتمی:(واعلم ان التردد فی المعلوم من الدین بالضرورۃ کالانکار-وان الکلام فی مخالط لِلمُسلِمِینَ بخلاف غیرالمخالط لہم- فانہ لایکفر بانکار ذلک ولابالتردد فیہ-مَا دَامَ لَم یَتَوَاتَر عندہ کَمَا صَرَّحَ بہ بعض ائمتنا-وبہ یعلم انہ لا یکفی فی الکفر بالانکاران یقول شخص او اشخاص لم یبلغوا عَدَدَ التَّوَاتُرِ -ہذا واجبٌ او حلالٌ اوحرامٌ-بل لَابد اَن یَتَوَاتَرَ عندہ ذلک-فاذا تَوَاتَرَ عندہ،کَفَرَ بِالشَّکِّ اَوِ الاِنکَارِ-لِاَنَّہٗ مُکَذِّبٌ لِلنَّبِیِّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم-وہذا اَدَلُّ دَلِیلٍ عَلٰی ان تفاصیل المعلوم من الدین بالضرورۃ غیر شرط فی صحۃ الایمان ابتداءً)
(الفتاوی الحدیثیہ ص142-دارالفکر بیروت)

قال الہیتمی بعد ایراد اَمثِلَۃٍ لِاِنکَارِ الضَّرُورِیِّ:(ومحل ہذا کلہ فی غیر من قرب عہدہ بالاسلام- اَو نَشَأَ ببادیۃ بعیدۃ-وَاِلَّا عُرِّفَ الصَّوَابَ- فان انکر بعد ذلک،کَفَرَ فِیمَا یَظہَرُ-لان انکارہ حینئذ فیہ تَضلِیلُ الاُمَّۃِ- وَ سَیَأتی عن الروضۃ عن القاضی عیاض-ان کل ما کان فیہ تضلیل الامۃ یکون کُفرًا)(الاعلام بقواطع الاسلام:ص353)

قال الہیتمی:(ان المعلوم من الدین بالضرورۃ لایشترط التصدیق بہ اوببعضہ تفصیلًا اِلَّا مِمَّن عَلِمَہٗ تَفصِیلًا بِاَن تَوَاتَرَ عندہ-فَلَا بُدَّ من التصدیق لہ والا کان کافرًا-وَاَمَّا مَن لَم یَتَوَاتَر شَیءٌ منہ فیکفیہ التصدیق الاجمالی -کَمَا عَلِمتَ مِن اَنَّ اِنکَارَہٗ قبل التواتر غیرکفر)
(الفتاوی الحدیثیہ ص143-دارالفکربیروت)

توضیح:عبارت منقولہ بالا میں (بان تواتر عندہ)سے مخالط مسلمین اور غیرمخالط دونوں کا حکم بیان کیا گیا ہے کہ جب ضروری دینی اس کے نزدیک متواتر ہوجائے،تب انکارپر حکم کفر ہوگا۔لاعلمی کے سبب متکلمین کے یہاں حکم کفر نہیں۔فقہا کا مسلک ماقبل میں مذکور ہوا۔

سوال چہارم:

سوال چہارم: کفر کلامی کا مسئلہ قطعیات میں سے ہے یا ظنیات میں سے؟

جواب:کفر کلامی کا مسئلہ اعلیٰ درجہ کی قطعیات میں سے ہے۔اگر کسی ضروری دینی کا انکار مفسر ومتعین وقطعی بالمعنی الاخص ہو،تب کفر کلامی کا حکم عائد ہوتاہے۔کافر کلامی کو کافر ماننا ضروریات دین سے ہے۔اس کے انکار اوراس میں اختلاف کا وہی حکم ہے جو ضروریا ت دین کے انکاراوراس میں اختلاف کا حکم ہے۔

اگر انکار مفسر وقطعی بالمعنی الاخص نہ ہو، بلکہ انکار قطعی بالمعنی الاعم یاظنی ہوتو کفر فقہی کا حکم عائد ہوتا ہے۔کفر فقہی میں جوقطعی بالمعنی الاعم ہو۔اس کے انکار اوراس میں اختلاف کا وہی حکم ہے جو ضروریات اہل سنت کے انکاراوراس میں اختلاف کا حکم ہے۔

متکلمین کفرفقہی قطعی کو ضلالت سے تعبیر کرتے ہیں۔یہ تعبیرواصطلاح کا فرق ہے۔ وہ کفر فقہی قطعی کا انکار نہیں کرتے،بلکہ فقہا کی طرف نسبت کرتے ہوئے اس کے لیے کفر ہی کا نام دیتے ہیں،مثلاً یہ کفرفقہی ہے۔ملزم بحکم فقہا کافرہے۔فقہا کے یہاں کافر ہے۔

متکلمین اپنی اصطلاح کے مطابق کافرفقہی قطعی کو گمراہ کہتے ہیں۔ متکلمین لفظ کافر کا اطلاق صرف کافر کلامی پرکرتے ہیں۔فقہائے کرام کافرفقہی وکافرکلامی دونوں کوکافرو مرتد کہتے ہیں،لیکن احکام میں کافرفقہی کوکافرکلامی سے ایک درجہ نیچے رکھتے ہیں اور اس درجہ والے کو متکلمین گمراہ کا نام دیتے ہیں،پس یہ اصطلاح وتعبیرکا فرق ہے۔

کفر فقہی کی دو قسمیں ہیں:(۱) کفر فقہی قطعی (۲)کفر فقہی ظنی۔

(۱)کفرفقہی قطعی (قطعی بالمعنی الاعم)

کفر فقہی قطعی یہ ہے کہ ضروری دینی کے انکار میں عدم انکار کااحتمال بعید ہے۔اس کو صریح متبین کہا جاتا ہے،یعنی ضروری دینی کا انکار مفسر نہ ہو،بلکہ نص کے طریقے پر ہو۔یہ کفر قطعی بالمعنی الاعم ہوتا ہے،جیسے ضروریات اہل سنت قطعی بالمعنی الاعم ہوتی ہیں۔فقہا کے یہاں کفر التزامی ہے۔

فقہا کبھی اس قطعی کفر کی شدت کو ظاہرکرنے کے واسطے ”من شک فی کفرہ فقد کفر“کا قاعدہ کلیہ اپنے اصول کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔

اس کفرفقہی قطعی کے انکاراوراس میں اختلاف کا حکم وہی ہے جو حکم ضروریات ہل سنت کے انکار اور اس میں اختلاف کا ہے۔ایسا منکر، متکلمین کے یہاں گمراہ اورفقہائے احناف اور ان کے مؤیدین کے یہاں کافرفقہی ہے۔دیگر فقہا جوباب تکفیر میں متکلمین کے مذہب پر ہیں،وہ بھی اس کافر فقہی کوگمراہ کہتے ہیں۔

کفرفقہی کی قسم دوم:کفرفقہی لزومی ظنی:

کفر فقہی لزومی ظنی وہ ہے جوترتیب مقدمات کے بعدکسی ضروری دینی کے انکار تک منجر ہو۔ اس کفر لزومی ظنی میں فقہا کے درمیان بھی اختلاف ہوتا ہے۔بعض فقہا کے یہاں بعض امر میں کفر لزومی ثابت ہوتا ہے،اور بعض کے یہاں ثابت نہیں ہوتا ہے۔

کفرلزومی کی ایک شکل یہ ہے کہ وہاں لزوم بین ہوتا ہے۔اس کا حکم الگ ہے۔ دراصل لزوم کفر کا التزام بھی کفر التزامی شمار ہوتا ہے۔وہ صورت یہاں مراد نہیں۔

فقہا ئے اسلام کفرفقہی کی دونوں قسموں کا ایک ہی حکم بیان فرماتے ہیں کہ توبہ، تجدید ایمان وتجدیدنکاح کا حکم ہے،لیکن کفرفقہی قطعی ایک شدید صورت ہے۔وہ فقہا کے یہاں کفر التزامی ہے،گر چہ متکلمین احتمال بعیدکے سبب اس کوکفر لزومی قراردیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے