علما و مشائخ

شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی

ازقلم: محمد سلیم انصاری ادروی

ولادت: شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت سنہ ٩۵٨ھ/ ١۵۵١ء کو دہلی میں ہوئی۔ آپ کے آبا و اجداد کا تعلق بخارا سے تھا جو دہلی میں آکر سکونت پزید ہو گئے تھے۔ آپ کے والد شیخ سیف الدین دہلوی علیہ الرحمہ شعر و سخن کا ذوق رکھنے والے عالم اور صاحب حال بزرگ تھے، سلسلۂ عالیہ قادریہ میں شیخ امان الله پانی پتی علیہ الرحمہ کے مرید اور خلیفہ مجاز تھے۔

تحصیل علم: محدث دہلوی نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے والد شیخ سیف الدین دہلوی کی آغوث شفقت میں کیا۔ صرف تین ماہ میں قرآن شریف ختم کر لیا اور ایک ماہ کی قلیل مدت میں لکھنا سیکھ لیا۔ پھر فارسی ادبیات اور عربی کتابیں پڑھنی شروع کیں۔ فارسی میں گلستاں، بوستاں، دیوان حافظ، ابتدائی عربی، میزان، مصباح، کافیہ کا درس والد صاحب سے لیا۔ منطق اور کلام کی کتابوں پر مکمل عبور حاصل ہو جانے کے بعد آپ نے ماوراء النہر (نہر سے نہر جیحوں مراد ہے، ماوراء النہر سے مراد وہ شہر ہیں جو اس شہر کے شمال میں واقع ہیں، مثلاً بخارا، سمرقند، خوارزم اور کاشغر وغیرہ۔) کے علما و دانشورں سے تقریبا آٹھ سال تک دن رات محنت کرکے علوم دینیہ حاصل کیے اور ١٧ سال کی عمر میں اس وقت کے مروجہ علوم سے فارغ ہو گئے، بعد ازاں ایک سال میں قرآن پاک حفظ کر لیا، فارغ التحصیل ہونے کے بعد کچھ عرصہ تک درس و تدریس میں مشغول رہے۔ پھر سنہ ٩٩٦ھ میں حجاز مقدس پہنچے اور سنہ ٩٩٩ھ تک وہاں قیام کیا، اس دوران حج و زیارت کے علاوہ مکہ مکرمہ میں شیخ عبد الوہاب متقی علیہ الرحمه (خلیفہ و جانشین شیخ علی متقی علیہ الرحمه) کی خدمت میں حاضر ہو کر علمی اور روحانی استفادہ کیا، مشکوة شریف کے علاوہ تصوف کی کچھ کتابیں پڑھیں اور شیخ سے اجازت لے کر مدینه منورہ روانہ ہو گئے، آپ نے حبیب خدا ﷺ کے شہر مدینه منورہ میں قیام کے دوران امام مالک رحمه الله کی طرح کبھی بھی جوتياں نہیں پہنیں، علاوہ ازیں آپ کو خواب میں چار بار زیارت رسول ﷺ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

بیعت و خلافت: محدث دہلوی علیہ الرحمه ابتداءً والد ماجد کے دست مبارک پر بیعت ہوئے، پھر ان کے ایما پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں حضرت موسیٰ پاک شہید ملتان علیہ الرحمه (م ١٠٠١ھ) کے دست اقدس پر بیعت ہو گئے، مکہ مکرمہ میں شیخ عبد الوہاب متقی علیہ الرحمه نے آپ کو چار سلسلوں (قادریہ، چشتیہ، شاذلیہ اور مدنیہ) کی اجازت عطا فرمائی۔ محدث دہلوی جب ہندوستان واپس آئے تو سلسلۂ نقشبنديه میں شیخ باقی باللہ علیہ الرحمه کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔

دینی خدمات: جب سنہ ١٠٠٠ھ میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی ہندوستان تشریف لائے تو اس وقت اکبر نے ایک مشرکانہ مذہب دین الٰہی قائم کر لیا تھا۔ بانی فرقۂ مہدویہ سید محمد جون پوری کا دعویٰ تھا کہ ہر وہ کمال جو حضرت محمد ﷺ کو حاصل تھا وہ مجھے بھی حاصل ہو گیا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہ كمالات وہاں اصالتہً تھے اور یہاں تبعاً ہیں۔ (العیاذ باللہ‎‎‎‎) تصور امام، عقیدہ مہدویت، نظریہ الفی (دین اسلام کی عمر صرف ایک ہزار سال ہے) دین الٰہی (اکبری فتنہ) یہ سب تحریکیں پیغمبر اسلام ﷺ کے مخصوص مقام اور مرتبہ پر کسی نہ کسی طرح ضرب لگاتی تھیں۔ محدث دہلوی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے اعلیٰ و ارفع مقام کی پوری طرح وضاحت کر دی اور اس سلسلہ کی ہر ہر گمراہی پر شدت سے تنقید کی۔

تدریسی خدمات: اکبر کے زیر اثر علماے سو اور مفاد پرست صوفیوں کا ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا تھا جو دین کی حقیقی روح کو ختم کر دینے کے لیے آمادہ تھا، ایسے نازک اور پُر آشوب ماحول میں محدث دہلوی نے ایسا مدرسہ قائم کیا جس نے صرف شریعت و سنت کی حقیقی روح کو اجاگر ہی نہیں کیا بلکہ باطل پرستوں کی ایسی سرکوبی کی کہ دوبارہ پنپنے کا موقع بھی نہ ملا، دوسری درس گاہوں کے برخلاف اس مدرسہ میں قرآن و حدیث کو تمام علوم دینی کا مرکزی نقطۂ نظر قرار دے کر تعلیم دی جاتی تھی، آپ زندگی بھر کتاب و سنت کی تعلیم دیتے رہے اور پورے ہندوستان میں آپ کی درس گاہ امتیازی شان کی مالک تھی جہاں صدہا طالب علم بیک وقت تعلیم پاتے اور محدث دہلوی کے علاوہ متعدد باصلاحیت علما مدرس تھے، اس طرح محدث دہلوی کے ہزاروں ایسے باکمال مخلص تلامذہ پیدا ہو گئے جنہوں نے آپ کی تحریک احیاے شریعت و سنت کو آگے بڑھایا۔ محدث دہلوی کے چند اہم تلامذہ کے نام درج یہ ہیں:

● شیخ نور الحق محدث دہلوی ، ● رضی الدین ابوالمناقب، ● شیخ علی محمد، ● شیخ ابو البرکات، ● مولانا عبد الحکیم، ● خواجہ حیدر بن خواجہ فیروز کشمیری، ● شاہ طیب ظفر آبادی، ● دیوان محمد رشید بن مصطفیٰ جون پوری، ● مولانا شاہ عبد الجلیل الہ آبادی، ● شیخ عبد القادر مفتی، ● شیخ شاکر محمد بن وجیہ الدین حنفی دہلوی۔

کتب خانہ: جس طرح آپ کا مدرسہ اور آپ کی خانقاہ قادریہ عظمت و شان کی حامل تھی اسی طرح آپ کا کتب خانہ بھی ہندوستان کا نہایت ہی اہم کتب خانہ تھا، جس میں اسلامی علوم و فنون، ادب و لغت، سیر و تاریخ، معقولات کے علاوہ حدیث اور علوم حدیث سے متعلق کتابیں بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ یہ کتب خانہ آپ کے بعد بھی کئی صدیوں تک محفوظ رہا مگر دہلی کی تباہی و بربادی کے دوران اس کتب خانہ کے نوادر ضائع ہو گئے۔

خدمت علم حدیث: محدث دہلوی اپنے وقت کے بے مثال محدث و مفسر تھے۔ فن حدیث میں محدث دہلوی کی خدمات و كمالات کا دائرہ کافی وسیع ہے، ان کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے برصغیر میں علم حدیث کو غیر معمولی فروغ دیا۔ نیز علم حدیث کے موضوع پر آپ نے ایک درجن سے زائد کتابیں بھی تصنیف فرمائیں، جن میں مشکوة شریف کی فارسی زبان میں شرح "اشعۃ اللمعات فی شرح المشکوۃ” اور عربی زبان میں شرح "لمعات التنقیح فی شرح مشکوۃ المصابیح” قابل ذکر ہیں۔ اشعۃ اللمعات کا سات جلدوں میں اردو ترجمہ مولانا سعید احمد نقشبندی اور علامہ عبد الحکیم شرف قادری علیہما الرحمه وغیرہ نے مل کر کر دیا ہے۔

تصانیف: شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے تفسیر، حدیث، فقہ، عقائد، تاریخ، تصوف و اخلاق، اعمال و اوراد، منطق و فلسفہ، سیر و تذکرہ ، نحو و ادب وغیرہ کے تعلق سے کئی درجن کتابیں قلم بند فرمائیں، جن میں سے چند کے نام یہ ہیں۔

● اشعۃ اللمعات فی شرح المشکوۃ، ● لمعات التنقیح فی شرح مشکوۃ المصابیح، ● ترجمة الاحادیث الاربعین فی نصیحة الملوک والسلاطین، ● جامع البرکات منتخب شرح المشکوۃ، ● رسالة اقسام الحدیث، ● اخبار الاخیار، ● زبدۃ الآثار، ● مطلع الانوار، ● جواب بعض کلمات شیخ احمد سرہندی، ● شرح فتوح الغیب، ● تحصیل التعرف فی معرفة الفقہ و التصوف، ● رسالة شب برأت، ● فتح المنان فی تائید النعمان، ● تعلیق الحاوی علی تفسیر البیضاوی، ● آداب الصالحین، ● شرح شمسیہ، ● حاشیة الفوائد الضائیة، ● ترجمة غنیة الطالبین، ● مدارج النبوة۔

وصال: عشق رسول ﷺ اور خدمت علم حدیث میں اپنی زندگی گزارنے کے بعد آخر کار یہ آفتاب علم و ہدایت ٩۴ سال کی عمر میں ٢١ ربیع الاول سنہ ١٠۵٢ھ کو ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ شیخ نور الدین دہلوی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور وصیت کے مطابق دہلی میں حوض شمسی کے قریب مقبرہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔

(مدارج النبوت/ص:٩-١١، محدثین عظام کی حیات و خدمات/ص: ٦٢١-٦٣۵، شرح مشکوة/[مقدمہ]، شیخ عبد الحق محدث دہلوی اور عقائد و معلومات اہلسنت/ص: ٣٠-۴٦ ، بابائے فارسی مولانا منشی سیف الدین شمسی__حیات و افکار/ص:۴٢)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے